photo

Book

book cover

The Trouble With Islam Today: A Muslim's Call for Reform in Her Faith. Published in more than 30 countries and languages.

Learn More

Buy the US paperback
Amazon | Barnes & Noble

Audio Book

Audio Book

The Trouble With Islam Today, narrated in English by Irshad Manji, with music by Deeyah and Gary Justice.

Buy Now

Free Translations

For where the book is banned, censored, or difficult to access:

button
button
button_lang button button

Reformist Quran

2.jpeg

A progressive, 21st-century translation -- in English. The U.S. publisher bailed on it after the Prophet Muhammad cartoon riots. But fear didn't stop the translators.

Read and interpret for yourself.

Urdu Edition

اجتہاد کا عمل





یہ شاید مضحکہ خیز لگے کہ کوئی جو مذہب دان بھی نہ ہو،سیاستدان یا سفارتکار بھی نہ ہو (کسی بھی اعتبار سے کچھ بھی نہ ہو) ، یہ کہنے کی گستاخی کرے کہ اسلام میں کس طرح کی اصلاحات ہونا چاہئیں۔ ایک بار پر تو میں اِس بارے سوچتے ہوئے خود کو بہت متکبر محسوس کر رہی تھی، مگر صرف ایک بار ۔ مجھے ’اپنا مقام جاننے‘ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ تبدیلی کہیں سے تو آنی ہے۔ پھر کیوں ایک نوجوان مسلمان عورت سے نہیںجس نے(اسلام کی) ساکت حالت کی دفاع کےلئے جذباتی یا کسی بھی قسم کی وابستگی پال نہیں رکھی۔

میں نے اَب تک جو کچھ اکٹھا کیا ہے، آپ کے سامنے رکھتی ہوں۔ مسلمان مسلسل اقلیتوں اور عورتوں کی تذلیل کے طرزِ عمل کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ کیا اِن دونوں مسئلوںپر ایک ہی وقت میں قابوپایا جا سکتا ہے؟ میںنے قرآن سے کافی امید کی ڈوریاں نکالیں، اس کے ساتھ ساتھ تاریخ سے بھی، تاکہ اصلاحات کے امکان کو دیکھ سکوں۔ مثال کے طور پر، مسلمانوں کا تجارت کے ساتھ صدیوں پرانا محبت کا رشتہ ہے، اِس بات نے میری دلچسپی کودو وجوہات کی بناءپر بڑھایا۔ پہلی، تجارت نے ہمیشہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین اچھے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری، قرآن میںعورتوں کے کاروباری شخصیات بننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ میرا فی الفور تجزیہ یہ تھا: خدا شناسی اور عورت کو کاروبار میں لگا دینے سے ممکن ہے کہ اسلام میں روشن خیال اصلاحات کا آغاز کیا جا سکے۔ مگر کیا کوئی اور بھی سمجھتا ہے کہ یہ خیال کارآمد ہو سکتا ہے؟

اکتوبر ۲۰۰۲ءکی ایک دوپہر کو، میں نے’ اوپرہ وِنفری شو‘ کی ایک قسط دیکھی جس میں ہمشیرگان ملت اسلامیہ کی ایک افسوسناک ریاست کی داستان سنی۔ اوپرہ نے ایک ایسی عورت کو نشر کیا جس کو سنگساری کی سزا کا حکم ہواتھا۔ایک دوسری عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک کر چہرے کو بدشکل کر دیا گیا تھا اور تیسری نے بتایا کہ اپنے معاشرے میں اُس کی حیثیت جوتی کے برابر ہے، نہ کم نہ زیادہ۔ ’میں کیا کر سکتی ہوں؟‘اوپرہ نے بیباک ہو کر کیمرہ سے پوچھا۔

پروگرام کے ڈائریکٹر نے کٹ کر کے زینب صلبی کو پیش کیا، جو اوپرہ کے مہمانوں میں سے ایک تھیں۔ ’مجھے ایک افغان عورت ملی جس نے کہا کہ اگر اُس کے پاس ایک سو ڈالر ہوں تو وہ ایک آمدن دینے والا کاروبار شروع کر سکتی ہے۔۔۔‘ صلبی جو گلوبل ایڈووکیسی گروپ فار وومین کی سربراہ ہے، نے ٹی وی ناظرین سے اپیل کی، وہ افغان کاروباری خواتین کی مدد کےلئے بولتی رہتی ہیں، ’اُس افغان عورت کے پڑھنا لکھنا سیکھنے میں اُس کی مدد کیجئے تاکہ وہ کہیں اُن کاغذوں پر دستخط نہ کر دے(جو اُس کے بچوں کو اُس کی تحویل سے جدا کر دے)، اُس کی مدد کیجئے کہ وہ اپنے حقوق جانے تاکہ اپنے شوہر یا قبیلے کے سردار کو کہہ سکے ، ”نہیں،تم میرے ساتھ یوں نہیں کر سکتے“۔ اُسے اپنی جنگ خود لڑنے میں مدد کیجئے(۱)۔ صلبی نے تجویز پیش کی کہ مغرب کی عورتیں مسلمان دنیا کی عورتوں کے کاروباروںمیں سرمایہ کاری کریں۔ جب عورتوں کے پاس پیسہ ہو گا، جسے انہوں نے خود کمایا ہو گا، تو وہ مشکلات کے بارے بہت سارے سوالات اٹھائیں گی۔

میرے لئے اِس ٹاک شو کی حیثیت ’میری مدد کرو“ جیسی تھی، مگر یہ شو عزتِ نفس کے حوالے سے بھی تھا اور آخرِکار مذہبی اصلاحات کے حوالے سے اہم تھا۔ جب مسلمان عورتیں سوال کرنا شروع کریں تو وہ وہ خاندان کی ’عزت‘ کا بیچ لگا کر معزز انسانوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔ ’عزت‘ کا تقاضہ ہے کہ آپ اپنی شخصیت کو قربان کر کے اپنے شوہر، باپ یا بھائیوں کی ساکھ، مقام اور خوشحالی کو بحال رکھیں۔ اور سوال اٹھانا اس بات کی نشاندہی ہے کہ آپ سانجھا اثاثہ نہیں ہے۔ آپ خود اپنی ذات کی ترجمانی کرنا چاہتی ہیں، اپنے نام سے ظاہر ہونا چاہتی ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتی ہیں اور اُن کو اپنی آواز میں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ آپ کا وقار ہے۔ اچھائی اسی میں ہے جو پیغمبر محمد نے تمام مسلمانوں سے چاہی ہے کہ ہم قبیلوں میں سے اُس کو لائق سمجھتے ہیں، جو اپنے اندر جھانک سکیں، مسلسل اپنے آپ کو ٹہوکے دیں، شدید کچوکے جو ساتویں صدی کے عرب قبیلے کی غیر مساوات، عداوت اور تشدد کی سرزمین کو اجاڑ دیں۔ مسلمان عورتوں کی کاروباری صلاحیتوں کو آزاد کرنے سے، ہم اکیسویں صدی میں عزت کو وقار کو بدل سکتے ہیں جس کے نتیجہ میں یہ اصلاح لا سکتے ہیں کہ اسلام اس طرح کا ہے۔

کاروباری خواتین کی مدد آپریشن اجتہاد کا نمبر ایک گول ہو سکتا ہے، ایک ایسی مہم جو اسلام کی تبدیلی میں’اسٹارٹ کِک‘ ہو۔

میں خود کو ابھی پیدا ہونے والی جدوجہد کا رہنما مقرر نہیں کر رہی۔ درحقیقت میرا نہیں خیال کہ اِس کا کوئی ایک رہنما ہونا چاہئے۔ مسلمان دنیا کو بیڑیوں سے آزاد کرنا ایک بلند حوصلے والا کام ہے جس کےلئے اتحادیوں کی ایک قطار درکار ہے، اگر قبائلیت کو اُڑانے کا کام کرنا ہو تو اُن میں مغربی دنیا کے لوگ بھی چاہئیں۔ اِن کاوشوں کےلئے باہم تہذیبوں کی بصیرت چاہئے۔ جلتی ہوئی گیارہ ستمبرواضح طور پر یاد دلاتی ہے کہ ایسا کچھ پھر ہو سکتا ہے اگر ہم خود کو ’دوسروں‘ کے مسائل سے دور نہ لے جائیں، سبق یہ ہے کہ دنیا کے اچھے شہری گھر کی حفاظت کرنے سے بڑے فوائد کو نہیں کھوتے۔ اس بات سے قطع نظر کہ مغربی لوگ اِس حقیقت کو نہیں مانتے مگر مغربی لوگوں کو یہ حقیقت ماننا پڑے گی۔

اور ہمیں اَب یہ ماننا ہو گا کہ عرب مسلمان اَب ترقی کا آغاز کر رہے ہیں۔ عرب ممالک میں ساٹھ فیصد کے قریب لوگ بیس سال سے کم عمر کے ہیں(۲)، جو کہ امریکہ میں انتیس فیصد ہیں۔ بہت سارے نوجوان عرب مسلمانوں کے پاس کالج کی ڈگریاں ہیں، مگر اِن میں سے اکثریت کو نوکریاں ملنے کا امکان نہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ ایک طرح سے اچھی خبر ہے۔ بیکار ماش اکثر انتہا پسند جماعتوں میں جا گھستے ہیں جو مفت کھانے، بامقصد سرگرمی اور غصے کو نکالنے کی جگہ فراہم کرنے کا وعدہ دیتی ہیں۔ آپ اِن کو ایک اور نسل کا وقت گزارنے دیں، اُن کی تعداد بڑھ کر چالیس فیصد تک پہنچ جائے گی۔۔قریب آج کے تیس سو ملین سے بڑھ کو ۰۲۰۲ءمیں چار سو تیس ملین ہو جائے گی(۳)۔ جو بھی اِن بچوں کو اقتصادی اور سماجی سطح پر حصہ لینے سے روکے گا وہ اِن کو انتہا پسندی کی افراتفری کی دعوت دے گا جواس کرہ ارض کے بیشتر حصہ کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ عرب میں بچوں کی یہ بڑھتی تعداد مغرب کا بھی اُتنا ہی مسئلہ ہے جتنا مشرق وسطیٰ کا۔

۱۰۰۲ءمیں اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق آدھے عرب نوجوانوںنے کہا کہ وہ یہاں سے چلے جانا چاہتے ہیںاور وہ بے چینی کے ساتھ مغرب کی جانب دیکھ رہے ہیں(۴)۔ یہ بے چینی کافی ہو چکی، ۰۰۰۲ءمیں آسٹریلیا نے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا سے ممکنہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو متنبہ کیا کہ اُن کی آمد پر انہیں مگرمچھوں، سانپوں اور کیڑوں مکوڑوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے(۵)۔مگر اِس کے ساتھ ساتھ مغرب امیگرینٹس (تارکینِ وطن) کے بغیر آگے بھی نہیں جا سکتا۔ یورپی یونین، امریکہ، جاپان ، کینیڈا اور آسڑیلیا کے لوگ تیزی سے بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیںاور نئے پیدا ہونے والے بہت کم ہیں۔ اِن خطوں کو نئے ورکروں کی ضرورت ہے جو کھپت سازی کو برقرار رکھ سکیں، ٹیکسوں کے نظام کو بحال رکھ سکیں جن کے نتیجے میں سماجی بہبود کے اخراجات برقرار رہ سکتے ہیں، خاص طور پر بوڑھوں کی سماجی بہبود کے ضمن میں۔ قصہ مختصر، مغرب کو مسلمانوں کی ضرورت ہے۔

مغرب کو محمد عطاﺅں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہیمبرگ کے طالبعلم اور گیارہ ستمبر کے ہائی جیکر نے قرآن کو چمچے کے ساتھ حلق سے اِس طرح اتارا ہوا تھاجس طرح وہ کمپیوٹر پروگرامنگ میں آگے بڑھا ہوا تھا۔ اُس کی معتدل سیکولر تربیت کے باجود، اُس کی مصر سے انجینئرنگ کی ڈگری اور جرمنی سے پوسٹ گریجوئشن کے باوجود، عطا میں یہ اہلیت پیدا نہ ہو سکی (یا پھر اُس کو اِس بات کی پرواہ ہی نہ تھی) کہ وہ اسلام کے ٹھیکیدا مفسروں سے کچھ سوالات کر سکتا۔

مغرب کو اُن مسلمانوں کی ضرورت ہے جو کھرے سوالات کر سکیں، اور باہر کی دنیا میں آپریشن اجتہاد شروع کرنے کا مقصد ہی یہ ہے۔ کیوں تب تک انتظار کیا جائے جب لاکھوں مسلمان آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور شمالی امریکہ کی سرحدوں تک پہنچ جائیں؟ کیا یہ اُس تحفظ کے احساس کی وجہ سے نہیں ہے کہ مسلمان اِن ممالک کو اِس لئے بھی رخ کرنا چاہتے ہیں کہ اُنہیں پہلے ہی علم ہے کہ اِن روادار ہمہ جہت معاشروں میں گھٹے ہوئے اسلام کی بجائے رواداری والا اسلام ہے؟ پھر کیسے ہم اصلاحات کو مسلم دنیا میں اپنی تہذیب کو ثبت کئے بغیربوئیں گے؟

آپریشن اجتہاد زیادہ سے زیادہ مسلمان عورتوںکو کاروباری خواتین کی توانائی دے کر شروع کیا جا سکتا ہے۔ ۰۸۹۱ءکی دہائی سے محمد یونس نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ مسلم دنیا میں خواتین کو آغاز کےلئے تھوڑا سا سرمایہ فراہم کر کے کاروباری بنایا جا سکتا ہے۔ ایک بنگلہ دیشی ماہر معاشیات، محمد یونس نے گرامین بینک کی بنیاد رکھی تھی۔ ’گرامین‘ بنگالی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں’دیہاتی‘، اور یہ بینک معمولی رقوم کے قرضے اُن لوگوں کو فراہم کرتا ہے جن کو عام مالیاتی ادارے ہاتھ لگانا پسند نہیں کرتے خاص طور پر اُن کو جن کے پاس اپنی زمین نہ ہو، جو کہ اکثر خواتین ہی ہوتی ہیں۔ بمطابق ’نو۔نان سینس گائیڈ ٹو انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ‘ اکتیس ملین افراد جن میں ایک تہائی عورتیں ہیں اور دوتہائی دنیا کے ”غریب ترین لوگ“ ہیں ، کو چالیس ممالک کے اندرگرامین بینک نے اپنے آغاز سے آج تک چھوٹی رقوم کے قرضے دئیے ہیں(۶)۔ بینک نے اُن کاروباروں کو قرض دئیے جو سولہ سنگھار کا سامان سے لے کر موم بتیاں، چھتریاں، مچھروں کی جالیاں اور حتکہ موبائل فون تک بناتے تھے۔ اور قرضوں کی واپس کی شرح؟ اٹھانوے فیصد، ہمیں دیہاتوں میں موجود سماجی دباﺅ کا شکرگزار ہونا چاہئے جنہوں نے شہرت خراب نہیں ہونے دی۔ قبائلی اقدار کو اس طرح برتنا ایک صحتمند انداز ہے نہ کہ اس طرح جس طرح اکثر مسلمان عورتوں کے ساتھ برتاﺅ ہوتا ہے۔قرضوں کی واپسی کی اس شرح کے مقابلے میں بنگلہ دیش انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بینک کو دیکھئے جس کے ہاں قرضوں کی واپسی کی شرح دس فیصد ہے(۷) جو صرف اُن لوگوں کو قرضے دیتا ہے جو جائیدادوں کے مالک ہوتے ہیں۔ کوئی مقابلہ نہیں۔

سو یہاں پرآپریشن اجتہاد کابیڑا اٹھانے کا تصور کرتے ہیں: فرض کیجئے، اگر امریکہ ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور دیگر امیر اتحادی اپنی قومی سلامتی کے بجٹ میں سے کچھ رقم لیتے ہیں اور اُس کو ایک جگہ پوری دنیا کی مسلمان عورتوں کو چھوٹے قرضے دینے والے ادارے کی صورت میں اکٹھا کر دیتے ہیں۔

یہ بات استعماریت کی علامت نہیں ہو گی۔ یہ قرضے کسی کو ناجائز طور پر نہ دئیے جائیں، یہ اُن عورتوں کو دئیے جائیںجو اپنے معاشروں میںکسی پوری نہ ہونے والی ضرورت کو دیکھیں اور محسوس کریں کہ وہ صحیح طور پر اِس کمی کو پورا کر لیں گی۔ مثال کے طور پر اُس دیہاتی کو دیکھئے جس نے یونس کو گرامین بینک بنانے کی ترغیب دی ۔ بانس کی کرسیاں بننے والی ایک عورت نے یونس سے کہا کہ خام مال خریدنے کےلئے اُسے تاجر سے ادھار لینا پڑتا ہے جو اُس کا تیار مال خریدتا ہے۔ کیونکہ وہ اُس کے ادھار پر منحصر کرتی ہے، وہ اُس کے مال کی خود قیمت مقرر کرتا ہے جس میں سے اُس کو دن میں گھر لے جانے کےلئے دو پیسے بچتے ہیں۔ اَب اس میں کیا استعماریت ہو گی اگر اُس عورت کو اپنی بیچارگی ختم کرنے کےلئے تھوڑے سے وسائل مل جائیں؟ یہ بھی یاد رکھئے کہ اسلامی روایات تو کاروبار کے ساتھ سرگرم رہی ہیں(۸)۔ ایک پرانا مقولہ ہے، ’خدا تمہارا حج قبول کرے، تمہارے گناہ معاف کرے اور تمہارا سارا مال بک جائے‘۔ تجارت اور مذہب کا چولی دامن کا ساتھ ہے حتکہ قرآن کی ایک تھیوری اس کے متعلق ہے کہ قرض خواہ اپنے پیسے کی وصولی کے خاطر تب آ سکتے ہیں جب وہ جنہیں قرض دیا گیا ، منافع بنانا شروع کر دیں، اِس سے ایک لمحہ پہلے نہیں۔

خوش قسمتی سے چھوٹے قرضوں کی ادائیگی کا اچھا ریکارڈ ہے اور اِس بات کا امریکہ کو کم از کم علم ہے۔ بل کلنٹن کی صدارت کے دوران امریکہ نے ہر سال آئندہ کچھ سالوں کےلئے اس نوعیت کے قرضے دو ملین ڈالر کی صورت میں رکھے۔ جیسا کہ کلنٹن نے ۲۰۰۲ءکے شمارہ ”نیو پرسپیکٹو کوارٹلی“ میں لکھا، ’وہ دو ملین بڑھ کر پچاس ملین ہو جانے چاہئیں(۹)‘۔ انہوں نے چھوٹے قرضوں کی اہمیت کےلئے ساتھ دیا کیونکہ وہ اِن قرضوں کے آرکینساس کے دیہی بیوٹی پارلر سے لے کر افریقہ کے مویشی فارموں پر اثرات کے خود گواہ ہیں۔ ۰۸۹۱ءکی دہائی کے وسط میںکلنٹن نے یونس کو گرامین بینک کی طرز پر پائن بفلو آرکینساس کے لوگوں کے لئے ایک اچھی شہرت والے ادارے کو قائم کرنے کےلئے نامزد کیا۔ کچھ سالوں بعد اور سینکڑوں کامیاب واقعات کے تذکرے پر مشتمل ایک کتاب ’ہمیں قرضہ دو: کیسے محمد یونس کے چھوٹے قرضوں کے انقلاب نے بنگلہ دیش سے شکاگو تک عورتوں کی کایا پلٹ دی‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔

مگر افسوس، کیا مسلمان ممالک کو اِن باتوں کی طلب ہے یا پھر کلنٹن ضرورت سے زیادہ توقع کر رہے ہیں؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اُن کی نوبل انعام کے لئے نامزد ماہر معاشیات ہرنیندو ڈی سوٹو سے گفت و شنید ہوئی ہے جن سے انڈونیشیا، پاکستان، الجیریا اور مصر کی حکومتوں نے رجوع کیا ہے(۰۱)۔ یہ حکومتیں ڈی سوٹو کی مہارت سے متاثر ہوئیں۔۔ قریب المرگ معاشی صورتحال کو کس طرح زندہ کیا جائے۔ کسی بھی مردہ معاشیات کی دو مثالیں ہوتی ہیں۔ ایک بلیک مارکیٹ کے حوالے سے ہے جس میں کاروبار بہی کھاتوں اور ٹیکس کے نظام سے بالا بالا ہوتے ہیں اور دوسرا قبضہ گروہوں کی جائیدادیں جن کا اُس زمین اور جائیداد پر کوئی قانونی حق نہیں ہوتا جو اُن کے قبضے میں ہوتی ہیں۔ہم بات کر رہے تھے اُن اثاثوں کی جن کو غریب لوگ قانونی طور پر رجسٹرکروانے کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ یوں گورنمنٹ کےلئے کاغذی کارروائی کرنے کے واسطے اچھا خاصہ وقت اور فیس درکار ہوتی ہے۔ سرخ فیتے کو نرم کیجئے، ڈی سوٹو نے تجویز پیش کی اور کہا کہ پھر دیکھئے کس طرح نچلے درجے کے کاروبار حقیقی تعمیری شکل اختیار کرتے ہیں۔ قبضہ گروہ رہن رکھ کر مورٹگیج کا پیسہ حاصل کر لیتے ہیں اور فوری ضرورت کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ فقط نقد کا کاروبار قانونی اور نامور کمپنیوں کےلئے آسان ہے۔ حکومت قابل ادا ٹیکس کاروباروں کو تحویل میں لیتی ہے۔ ہر کسی کا کام بن جاتا ہے، خاص طور پر عورتوں اور بچوں کا۔ عورتیں اور بچے ہی ہوتے ہیں جو غیر قانونی جائیداد کی حفاظت کےلئے گھر میں ہوتے ہیں۔ مردوں کو کام کےلئے باہر جانا ہی ہوتا ہے۔ جب جائیداد کی کاغذی کارروائی ہوتی ہے،تب اگرچہ عورتیںاشیاءکی فروخت کےلئے گھر سے باہر نکل سکتی ہیں اور بچے اسکول جا سکتے ہیں۔ جب پیرو نے ڈی سوٹو کی حکمتِ عملی کو اپنایا تو اسکولوں کی حاضری چھبیس فیصد بڑھ گئی(۱۱)۔ اِس میںحیرت کی کوئی بات نہیں کہ مٹھی بھر مسلمان حکومتیںڈی سوٹو کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہی ہیں تاکہ وہ اُن کا معاشی تجزیہ کر سکیں۔ ایک ہزار سے زائد لوگوں نے انہیں دبئی میں سنا۔ مگر اُن کا پیغام حکام سے بالا زیادہ دل کو لگتا ہے۔

سن ۲۰۰۲ءکے موسم گرما میں اقوام متحدہ نے اپنی پہلی عرب ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ جاری کی، جس کی تحقیق و تحریر عربوں کی اپنی تھی، جس میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی حکومتیں اپنی آدھی آبادی کی توانائیوں کو نظر انداز کر رہی ہے یعنی عورتوں کی۔ دراصل ’عورتوں کوچھوٹ‘ اُن تین کم مائیگیوں میں سے ایک تھی جن کو رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا ، دوسری دو کم مائیگیوں کا تعلق ’تعلیم‘ اور ’آزادی‘ سے متعلق ہے۔ پہلی غلطی کے ازالہ کر دینے سے تعلیم اور آزادی میں اضافہ ہو جاتاہے۔ عورتوں کی مدد کر دینے سے سب کو ایک ساتھ مالی آزادی کا سہارا ملتا ہے جو سب کو اندر ہی اندر پڑھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ اُن کو بڑے لوگوں کی غیبی ہدایتوں پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اگر وہ خود سے نتائج اخذ کر سکیں کہ قرآن میں کیا کیا ہے۔ میں یہ کیسے جانتی ہوں کہ عورتوں میں اپنی تفہیم کےلئے دلچسپی ہے؟ مہاجرین میں سے ایک بوڑھی افغان عورت آج کل ایک ایسے اسکول میں پڑھتی ہے جس کو نوجوان عورتیں چلا رہی ہیں اور وہ اُس کو طالبان کے زمانے میں خفیہ طور پر چلا رہی تھیں۔ ’میں یہ خود جاننا چاہتی تھی کہ کیا یہ قرآن میں موجود ہے جو ملا ہم کو بتاتے ہیں(۲۱)، اُس بوڑھی عورت نے ایک امریکی کو اپنے پڑھنے کی وجہ بتائی۔

فرض کیجئے کہ بطور کاروباری شخصیت کے، اُس عورت کے پاس پس پشت کر کے رکھ دینے کےلئے وسائل ہوتے۔ تب اُس کے پاس پڑھنے کےلئے ٹھوس وجہ ہوتی۔ ایک واضح آیت، جو امام شاذ ہی نچلے اور درمیانے طبقے میں پیش کرتے ہیں، میں قرآن نے عورتوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنے نکاح نامے کی شرائط کا اپنی ذاتی ضرورت کے مطابق تعین کریں۔ ’اگر عورت کو برے سلوک کا خدشہ ہو۔۔۔اپنے شوہر کی طرف سے‘، پارہ چار کی آیت کہتی ہے ’اُن کےلئے کوئی بُرا نہیں ہو گا کہ وہ باہم معاہدہ بنائیں، جو اُن کےلئے اچھا ہو۔ لوگ حرص میں اوندھے منہ لیٹے ہوئے ہیں(۳۱)‘۔ آج عورت کی طرف سے شادی کی ذاتی شرائط میںیہ کچھ شامل ہو سکتا ہے: ’میرا شوہر میری جانب یا میرے بُندوں کی جانب ناپسندیدہ انگلی بھی نہ اٹھائے، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو میں اِسے برا سلوک تصور کروں گی اور میرے پاس اُس کو طلاق دینے کا حق ہو گا‘۔ اُس چھوٹے قرضے کو ایک سنجیدہ کامیابی میں ڈھالنے کی کیا کامیاب ترغیب ہے۔ جو مرداِس حق کو چھیننے کی کوشش کریں، اُن کو ایسا کرنے کےلئے قرآن سے حقیقی تاویل لانا ہو اور شادی سے پہلے معاہدہ کرنا ہوجسے شریعہ جج پاس کریں۔

آدمیوں کو بھی آپریشن اجتہاد سے فائدہ پہنچے گا، جیسے جیسے کاروباروں کو غیر ملکی امداد ملے گی۔ مقامی سرگرمیوں میں باہر کا پیسہ یقینی طور سے فوج، تحفظ کے اداروں اور نوکر شاہی پرانحصار کر کم کرے گا، یہ وہ تین بڑے شعبے ہیں جن کو اپنانے کےلئے فی الحال مسلمان مرد اپنا پورا زور لگاتے ہیں۔ امریکہ کے اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ کے پالیسی ڈائریکٹر، رچرڈ حاس نے اِس بات کے ادراک کا اظہار کیا کہ کس طرح مردوں کی عزت عورتوں سے وابستہ ہے۔ دسمبر ۲۰۰۲ءمیں حاس نے واشنگٹن کی ایک تقریب میں حاضرین کو بتایا ، ’پدری معاشرے، جہاں عورتیں مردوں کی طابع ہوتی ہیں ، ایسے معاشرے ہوتے ہیں جہاں مرد مردوں کے بھی طابع ہوتے ہیں(۴۱)‘۔ گلوریا سٹینم بھی اِس سے بہتر نہیں کہہ سکی۔ عورتوں کو کاروبار کی طرف مائل کرنے پر خرچ کرناشاید سب کےلئے سنہری موقع ہے کہ پیسے والے علماے کرام کی باقاعدہ اجارہ داری کو ختم کیا جائے اور عام لوگوں پر حاوی اِن علماءکو پیسہ فراہم کرنے والے آقاﺅں کے اثر کو بھی۔

اسلام کو آزاد خیال بنانے کے نقطہ نظر سے آپریشن اجتہاد ایک اُمید افزا بات دکھائی دیتی ہے۔ مگر یہ وعدہ اُکھڑ سکتا ہے اور آخرکاربیکار ہو سکتا ہے جب تک اسلام کے ’انسانی حقوق‘ کے بارے احکام یہی تقدیس پاتے رہے کہ مرد ہی اپنے خاندانوں کے کفیل ہیں اور عورتوں کے کمانے پر پابندی ہے۔ اور میرا ابھی تک ا،س بات پر بھی ایمان ہے کہ خوشحالی یا خوشحالی کا امکان اِس عزم کو توڑ سکتا ہے کہ صرف آدمیوں کو ہی گھر حلال کمائی لانا ہے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس بات کی وضاحت کروں کہ کیسے جینے کی ضرورت نئی سوچ کو جنم دیتی ہے۔

میں ایک غصہ دلانے والی بات سے آغاز کروں گی۔ ۷۹۹۱ءمیں اسلام پسندوں نے اوپری مصر کے علاقہ لکسر سے اٹھاون سیاحوں کو مار دیا۔ یہ قتلِ عام نچلے سطح پر قتل و غارت کی لہر جو کچھ برس پہلے شروع ہو گئی تھی ، کے بعد ہوا۔ اُس قتل وغارت میں چند برطانوی سیاحوں کو ایک مقام پر مارا گیا تھا، چند جرمن سیاحوں کو دوسرے مقام پر اور ایک اور جگہ پر ایک یا دو تائیوانی قتل کر دیے گئے۔ لکسر کے قتل عام نے اونٹ کی کمر توڑ کر رکھ دی کیونکہ اِس قتل عام کے نتیجہ میں مصر کی سیاحت کودو بلین ڈالر تک کا نقصان ہوا۔ اِس کے بعد مصر کی عوام دہشت گردی کے خلاف ہو گئی اور انہوں نے سولہ سال پرانے ایمرجنسی کے قانون کی حمایت شروع کر دی جس کا مذہبی جہادیوں کی بیخ کنی کےلئے بے رحمدلانہ طور سے اجراءکر دیا گیا۔ یہ شرمناک بات ہے کہ ایمرجنسی قانون سیاسی اقتدار کے حریصوں کے پاس ایک ڈنڈے کی صورت میں آ گیا، خیر یہ میرا اِس وقت نقطہ نہیں ہے۔ نقطہ یہ ہے کہ جس گھڑی دہشت گردی اقتصادیات کےلئے خطرہ بن گئی، مصری حکام دہشت گردوں کےلئے خطرہ بن گئے۔

جب ہر ایک کوبہتر زندگی کے امکان کی پیشکش خواتین کے کاروباروں کے ذریعے کی جائے تو لوگوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔۔قبائلیت سے تجارت تک، شوہر کی عزت بطور واحد کفیل کے طور پر سے لے کر عورت اور مرد کے مابین مساوی وقار تک کےلئے۔ ممکن ہے کہ میں بہت رجعت پسند ہوں مگر سیاحت کا کاروبار ہمیں بتاتا ہے کہ ہم سینائی جزیرے میں کس طرح اسرائیلیوں اور مصریوں کے درمیان باہم تعلق کی صورتیں دیکھتے ہیں۔ مصریوں نے کاروبار دینے کو سراہا۔ وہاں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کافی بہتر تعلقات پائے جاتے ہیں جو کسی حد تک اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تجارت سماجی تعلقات کو بہت بہتر طور سے آگے لے جا سکتی ہے۔

پھر بھی میں صحرائی اسلام کی پوجا کرنے والوں کی طاقت کے استعمال کو کمتر نہیں گردانتی۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ بنیاد کی گھڑی پڑنے کے ورثاءدلوں کو ’خواتین کا طرزحیات مسلم قوانین کے تحت ‘ نامی ویب سائٹ میں ہلاتے ہیں، یہ ویب سائٹ اسلام کے ہیومن رائٹس کارکنوں کی ہے۔ بنیاد کی گھڑی پڑنے کے ورثاءکا اِس ویب سائٹ پر کہنا ہے، ’ ہم نے ابلاغ کی ٹیکنالوجی کے سب سے زیادہ اثر پذیر ہونے والے ذریعے کو اپنا لیا ہے ۔۔۔جس میں تبلیغ کےلئے سادہ اور سستی آڈیو کیسٹس کو استعمال کر رہے ہیںجو عورتوںا ور مغربی اقدار کی طے شدہ برابری اور شخصی آزادی کے خلاف مذمتی تقاریر پر مشتمل ہیں، اوریہ چیزیں لوگوں کو تشدد پر اکساتی ہیں اور حتکہ مخالفین کو قتل کرنے پر بھی۔ ایسی کیسٹوں کی مسلمان ممالک کی گلیوں اور بازاروں میں بھرمار ہے۔ اِن کو عوامی اجتماعات میں نشر کیا جاتا ہے، مسجدوں کے لاﺅڈ اسپیکرز پر اور ریڈیو پر(۵۱)۔‘

یہاں تک کہ سب سے زیادہ مقبول ذریعہ ابلاغ ٹی وی پر بھی، جیسا کہ لبنان میں المنار کا چینل جو حزب اللہ سے منسلک ہے اور جسے لبنانی حکومت نے ۷۹۹۱ءسے لائسنس دے رکھا ہے۔ المنار کا منشور، ’عرب اور اسلامی برادری کے تہذیبی کردار کو بڑھانا‘ درحقیقت یہودیوں کی مذمت کرنے کا ایک حربہ ہے۔ اس ٹی وی اسٹیشن کی ویب سائٹ پر ایک پروگرام ’انقلاب ال سورہ‘ کے نام سے پیش کیا جاتا ہے جس کا اگر مفہومی ترجمہ کیا جائے تو ’تاثر کی تبدیلی ‘ بنتا ہے۔ یہ میڈیا شناسی کے حوالے سے ہے یا پھر یہ تب واضح ہوتا ہے جب آپ بمشکل اِس شو کو پورا دیکھ سکیں تو اِس کی وضاحت سامنے آتی ہے۔ ’انقلاب ال سورہ‘ یہودیوں کی ہیبرو زبان کے تمام سمعی و بصری ذرائع ابلاغ اور اخبارات کا جائزہ لیتا ہے تاکہ صورتحال کو آشکار کرے اور صیہونیوں کی جنگ و جدل کے خفیہ مقاصد کو عریاں کرے(۶۱)‘۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پروگرام کے میزبان و پیش کار اسرائیلی جیلوں میں اسیر رہ چکنے والے ایک صاحب ہیں۔ کیا بات ہے، صیہونی تشددکے بعد زندگی تو واپس آئی۔ آخری بار جب میں نے ویب سائٹ دیکھی تب یہ بھی وعدہ تھا کہ جلد شاپنگ سیکشن کا اجراءہو گا۔ یہ صاف ہے کہ تجارت’فاﺅنڈامینٹلزم‘ کا اکیلی مقابلہ نہیں کر سکتی۔

میڈیاآپریشن اجتہاد کا ایک دوسرا محاذ ہو گا۔ مگر امریکہ کی کہانی بہتر رخ کے ساتھ بیان کرنے کی بجائے ، جو کہ خودنمائی اور غیرمتعلقیت کا ایک ساتھ بھڑک اٹھنے والا آمیزہ ہے، اگر مغرب کی امداد سے چلنے والا میڈیا جو مسلمان ناظرین کو اپنی کاروباری خواتین کے واقعات سنائے؟ ڈیوڈ ہوف مین انٹرنیوز نیٹ ورک کے صدر ہیں، یہ تنظیم دنیا بھر میں آزاد میڈیا کو امداد دیتی ہے۔ وہ سابق سوویت یونین کے مقامی ذرائع ابلاغ کو اعانت دینے کی تائید کرتے ہیں۔ ’مجھے جو بتایا گیا ہے کہ سولہ سو براڈ کاسٹروں اور تیس ہزار صحافیوں وماہرین ابلاغیات کو امریکہ کی امداد سے ملنے والی ٹریننگ اور تکنیکی معاونت کا فائدہ ہوا ہے‘، ہوف مین نے مارچ ۲۰۰۲ءکے شمارہ ’فارن افئیرز میگزین‘میں لکھا، ’ایک درجن سے زائد قومی ٹیلیویژن نیٹ ورک اِن کوششوں کے نتیجہ میں معرضِ وجود میں آئے جن کو دوسو ملین ناظرین دیکھتے ہیں۔ اَب سابق سوویت یونین کے ہر شہر میں چینلوں کی ایک ورائٹی دستیاب ہے(۷۱) جس میں سے ہر کوئی اپنا انتخاب کر سکتا ہے‘۔

کیا اچھا ہو اگر مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے مغربی اتحاد کے نتیجہ میں اسلامی دنیا کے اندرعورتوں کو ٹی وی اسٹیشن قائم کرنے اور چلانے کا موقع دیا جائے؟ کیا مناسب بات ہو اگر اوپرہ ونفری اس اتحاد کی رہنما ہوں؟ اوپرہ کو اندازہ ہے کہ ایک باہر کی شخصیت ہونے سے کیا محسوس ہوتا ہے، کیا ’شکار بننے کے علم‘ نے اُنہیں مفلوج کر دیا اور اِن سب سے علاوہ کیا وہ بچوں اور عورتوں کی تعلیم کی سرگرم حامی نہیں ہیں؟ اوپرہ کی بھرپور موجودگی آپ مردوں کو دفن کر دینے کے مترادف ہو گی جو اسلامی ممالک کی ہر شے کے سیاہ وسفید کے مالک ہونا چاہتے ہیں۔ ایک سمجھدار شخص نے اوپرہ کو مسلمان عورتوں کے ایک شو کے دوران کہا، ’چاہے آپ اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں، آپ ایک چنگاری ہو‘اوپرہ نے اُس کی بات کو رد نہ کیا۔ سیٹلائٹ چینلز ہر اعتبار سے اسلامی دنیا کے اندر گھستے چلے جا رہے ہیں۔ چھاپہ خانہ نے پروٹسٹنٹ اصلاحات کے سلسلہ میں جو کردار ادا کیا تھا۔۔ علم پر بلا شرکت غیرے قابو کو ختم کر دیا تھا۔۔وہی کردار آزاد ٹی وی چینلز اسلام کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔

ہم اعتدال کے ساتھ آزمانے اور درست نتائج لینے کی خاطر ریڈیو نشریات کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ایک اور چیز بھی ہے کہ ریڈیو آپریش اجتہاد کے ابتدائی مشکل دنوں میں کام کرنے والوں کی شناخت کو چھپا سکتا ہے۔ ہر کوئی نہیں چاہے گا کہ اُسے سڑکوں پر اس طور پہچان لیا جائے (اور اٹھا لیا جائے) کہ اِس شخص نے کہا تھا کہ پیغمبر محمد نے عورتوں کو اُن کا مطیع ہونے کی بجائے اُن کا ساتھی قرار دیا تھا۔ کچھ مسلمان اپنی شناخت اس حوالے سے بھی نہیں کروانا چاہیں گے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ کے واقعات سنائے تھے، جو پیغمبر کی پہلی چہیتی بیوی تھیں، اُن سے پندرہ برس بڑی تھیں اور انتہائی امیر تھیں جو کہ اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے والی تاجر تھیں اور انہوں نے حضور سے خود شادی کرنے کی تمنا کا اظہار کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدا کی بندگی قبول کر لینے میں بھی زیادہ ترخدیجہ کی مشاورت شامل تھی اور اس کے بعد بھی محمد اُن سے مشاورت لیتے رہے۔ یہ واقعات ممکن ہے غلط ہوںجو تاریخی طور پر درست ہونے کی بجائے قیاس آرائی ہو یا ایک بڑے آدمی کے پیچھے رہ جانے والی باتوں کا حصہ ہو۔مگر مجھے یقین ہے کہ میں اکیلی مسلمان نہیں جو لگی لپٹی کے بغیر آزاد خیالی پر مبنی مباحث کو اپنی سچائی اور موزونیت کے ساتھ نشریاتی رابطوں پر سننے کی تڑپ میں ہوں۔ نائجیریا میں انسانی حقوق کی وکیل ڈاکٹر عائشہ امام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مباحث کو عام کرنا بیحد مشکل ہے، ’لہذاٰ وہ لوگ جو نئے شریعہ قانون کی قدامت پسند نوعیت کے حوالے سے بہت نامطمئن ہیں، کو بنیاد بنا کر یہ جانے بغیرتنقید کرنا حق سمجھتے ہیں کہ اُن کے پاس بولنے کےلئے کافی علم نہیں ہے(۸۱)‘۔ دوسرے لفظوں میں، شبہات کو کھولنے سے اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ شبہات کو بیان کرنا اس امکان کی تائید کرتا ہے کہ آپ قبیلے کے ساتھ بھڑ سکتے ہیں۔ اگر کوئی ’اصلاح ساز‘ شبے سے بچنے کی کوشش کرے تو اسلام کے بطور مذہب ہونے کی تصدیق ہو گی صرف سخت دل ہونے کےلئے نہیں بلکہ نرم دل ہونے کےلئے بھی۔۔ وہ لوگ جن کے پاس سوال کرنے کی جرات نہیں ہوتی اُن کے پاس کچھ اور کرنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا۔

صرف اسلام سے ہی یہ اپیل کیوں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جسے تسلیمہ نسرین نے اٹھایا ہے جو اٹل طور پر سمجھتی ہیںکہ اصلاح تبھی ہوگی جب مذہب میں تبدیلی کی جائے گی۔ جہاں تک اُن کی تشویش کا معاملہ ہے، مسلمانوں کو مذہبی قوانین کی جگہ سماجی قوانین لانا ہوں گے، مسجد اور ریاست کو مکمل طور پر الگ الگ کرنا ہوگا۔ مگر کیا اسلامی ممالک کو یہودی عیسائی معاشروں کی طرح انسانی معاشرے بنانے کےلئے تقلید کرنا ہو گی؟ میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ جو اِس سوال کا جواب ہاں میں دیتے ہیں، اُن کو اگلا مرحلہ درپیش ہے: حقیقت یہ ہے کہ اسلام کروڑوں عورتوں کی شناخت کا ستون کھڑا کرتا ہے۔ اِس موقع پر مذہب کو عوامی زندگی سے مکمل باہر کر دینا بھی غیر حقیقی ہو گا، اور یہ غیر تعمیری بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف لوئیس ول میں شعبہ مذہبیات کی پروفیسر رفعت حسن کا ایک براہ راست تجربہ ہے۔ جس کی وہ یوں وضاحت کرتی ہیں، ’اگر آپ کسی افغان عورت سے پوچھیں، ”کیا تم انسانی حقوق کے بین الاقوامی موقف پر اعتبار کرتی ہو؟“، وہ آپ کو خالی نظروں سے دیکھے گی۔ اگر آپ اُس سے پوچھیں ، ”کیا تم خدا کو مانتی ہو؟“ وہ کہے گی، ”بالکل“ اگر آپ اُس سے پوچھیں کہ ”کیا تم اُس خدا پر ایمان لاتی ہو جو فقط مہربان اور رحم کرنے والا ہے؟“ وہ کہے گی، ”بالکل“اگر آپ اُس سے پوچھیں ، ”کیا تم اُس خدا کو مانتی ہوجو تمہاری مارپیٹ اور تم پر تشدد چاہتا ہے(۹۱)؟“ وہ فوری طور پر آپ کی بات سمجھ جائے گی اور کہے گی، ”نہیں“۔ لہذاٰ آئیے عملی بات کریں۔ کیا ہم مسلمان عورت کو کم از کم چند بنیادی انسانی حقوق کےلئے کھڑا کرنے میں مددگار ہوناچاہتے ہیںیا پھر اُس کو غیر مذہبی قوانین کے تحت زندگی گزارنے کے اعتبار سے، کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ الگ تھلگ ہو کر زندگی گزاریں؟ یا عداوت مول لے کر؟ یا پھر بہکاوے میں آ کر؟

اور ضروری نہیں کہ کوئی پڑھی لکھی عورت بھی نسرین کے کٹر سیکولرزم سے اتفاق کرے۔ میں حال ہی میں ایک جوان مسلمان عورت سے آٹوا میں منعقد ایک آئینی کانفرنس میں ملی۔ یہ عورت محکمہ انصاف میں وکیل ہے، جو مغربی دنیا میں اپنے مذہب پر بامعنی طور سے عمل کرنے کی خاطر منتقل ہوئی تھی۔ اُس کےلئے، حجاب پہننا شمالی امریکہ میں ایک انتخاب کا معاملہ ہے لیکن اُس کے آبائی ملک تیونس میں نہیں جس نے ’ماڈرن‘ ہونے کے چکر میں حجاب کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

میری اس وکیل کے ساتھ ملاقات نے مجھے یہ سوچنے پر آمادہ کیا کہ مسلم دنیا کو جمہوری بنانے کی غرض سے ایک اعتدال درکار ہے۔ جس پر عمل کرنا ایک سیکولر ذہن کےلئے دشوار ہے۔ ہمیں اُس کے سر کےلئے ووٹ ڈالنا ہے، پاﺅں کےلئے نہیں۔ وکیل نے ثابت کیا کہ نوجوان پڑھے لکھے مسلمانوں میںعقیدے کو سرعام بیان کرنے کی آزادی جمہوریت کی بنیادی کنجی سمجھی جاتی ہے۔ اسلام کو ’ترقی‘ کی خاطر دبانا استحصال کے ہی مشابہہ ہے۔ جس طرح تیونس اور ترکی مذہبی زندگی اور مادی دائرہ میں دیوار کھینچتے ہیں(۰۲)تو وہ سیکولر جمہوریت کاکمتر نام رکھتے ہوئے بات کو ختم کر دیتے ہیں۔ ’فاﺅنڈامینٹلسٹ‘ تب احتجاج کر سکتے ہیںکہ اصل مقصد کشادگی نہیں ہے بلکہ مغرب زدگی ہے۔ اور یہاں پر ایک خاص رمز ہے: فاﺅندامینٹلسٹ ماہرانہ طور پر اُن لوگوں کی مایوسی کو استعمال کرتے ہیں جن کی زندگیاں سیکولر حکومتوں نے پریشان حال کی ہوئی ہوتی ہیں۔ اِس فضا میں انتخابات منعقد کروانے سے اکثر اوقات صحرائی اسلام کی قوتوں کو نمائندگی کا موقع مل جاتا ہے۔ بائی بائی جمہوریت۔

اس سے پہلے کہ عرب مسلمان ملکوں میں جمہوریت داخل ہو، اِن ممالک کو نت نئے خیالات سے آشنا کیا جائے۔ جیسا کہ میں کہتی چلی آرہی ہوں، اسلام کی متبادل تشریحات صحرا کے مقابلے میں اپنی جگہ پر ڈٹ سکتی ہیں حتکہ تمام علامتی سطحوں پر بھی۔ یہ تبھی ممکن ہو گا اگر ہم متبادل تفاسیرکو اختلاف رائے کے ساتھ پیش کریں، اُن پر بحث کریں ، نشر کریں، دوبارہ نشر کریں اور مقبول عام بنا دیں۔

میں جانتی ہوں کیوں تسلیمہ نسرین زور دیتی ہیں کہ سیکولرزم ہی واحد امید ہے۔ وہ نہیں سمجھتیں کہ آپ اسلام کی اقدار کا اثبات اس کی بالا دستی کی تیکھی فضا کو نافذ کئے بغیر کر سکتے ہیں۔ میں اُن کی بات سمجھتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ماہر بشریات، ماہر سماجیات، نفسیات دانوں، مذہبی دانشوروں اور خدا بچائے۔۔ خدا کے منکروں تک سے رابطہ کیاکہ کیسے انسان مل جل کر رہنے کی بجائے غالب آنے کی فطرت کی طرف مائل رہتا ہے۔ ۲۰۰۲ءکے اوائل میں میں نے ایک تجربہ کیا۔ میں نے یاسر عرفات کی نقل اتارتے ہوئے ایک مضمون لکھا جو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا، میں نے وہان کی زمین مل بانٹنے کا ایک نقطہ نظر پیش کیا جس کے مطابق مسلمان فلسطینی اپنی عزت نفس، شناخت اور وقار کو بحال رکھ سکیں۔ میں نے پیغمبر محمد کی مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی اِس بات سے تعبیر کی، ’اپنی جگہ سے دور آباد ہونے سے تحفظ کی تلاش کی ایک شکل تھی(۱۲)‘۔ یہودی قبیلے مدینہ میں ایک عرصہ سے رہ رہے تھے اگرچہ اِن میں سے اکثر اپنی عداوتیں پیغمبر اور اُن کے لوگوں کے ساتھ رکھتے تھے۔ یاسر، میں نے التجا کی کہ تاریخ سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ کیا یہ ادلے کا بدلہ کی صورت نہیں کہ فلسطین کو یہودیوں کے ساتھ تقسیم کر لیں جو کہ اوائل کے مسلمانوں کی طرح قتل کی بے انصافی سے بھاگ کر حفاظت کی تلاش میں پہنچے ہیں؟ میں نے اندازہ کیا کہ میں نے برف توڑنے کا آغاز کر دیا ہے۔

اگلے روز اخبار میں ٹورنٹو کی ایک معروف مسلمان شخصیت کا خط شائع ہوا۔ اُس نے لکھا، ’ہجرہ کے معنی اپنی سلامتی کی خاطر اپنی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ پر آباد ہونے کے ہیں اور اس میں نئی جگہ کے باسیوں کی دعوت شامل ہوتی ہے یعنی اپنے زور کے ساتھ نہیں۔ مس مانجی نے اپنی دلیل پیش کرتے وقت اہلیت کی آخری شرط بیان نہیں کی تھی(۲۲)‘۔اُس نے اس بات کی طرف نشاندہی کی کہ مدینہ کے قبائل نے پیغمبر کو اپنے جھگڑوں کی ثالثی کےلئے آنے کی دعوت دی تھی اور مدینہ کو اُن کی حفاظت کی جگہ بنانا چاہا تھا جب پیغمبر مکہ کی سختیوں سے باہر نکل رہے تھے ۔ اُس کا عیارانہ نقطہ یہ تھا کہ عربوں نے یہودیوں کو اپنے ساتھ فلسطین میں رہنے کےلئے دعوت نہیں دی تھی، لہذاٰ ہجرہ کی مثال یہاں پر لاگو نہیں ہوتی۔

اِس سے اگلے روز ایک یہودی نے مسلمان کو جواب دیا۔ ’اُن مسلمانوں کےلئے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اُس خطے میں یہودیوں سے پہلے آباد تھے، میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ابراہیم اور سارہ ہیبرون میں تب آباد تھے اور محمد کے وجود سے بہت پہلے سارہ کا انتقال ہوا تھا۔(۳۲)‘۔ ایک طرح سے یا دوسری طرح سے، ہم سب کو درست ہونا ہے، کیا ایسا نہیں؟ میں اُس گروہ کی طرف سست روی سے چل پڑتی ہوں۔

لیکن اگر آپ درست ہیں تو مجھے غلط ہونا چاہئے؟

میں نے اسرائیل کے ایک بااثر ربی ڈیوڈ ھارٹ مین سے یہ سوال پوچھا۔ اُس نے ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”کیا میری شان وشوکت یا میری زندگی آپ کےلئے خطرہ ہے؟“اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتی، ربی ھارٹ مین نے خود اپنا جواب دیا۔ ’میرا مطلب ہے مجھے مسلمانوں کو نماز پڑھتے دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے، ہمہ جہتی کو دیکھنے کی خاطر میں صبح چار بجے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں، میں اپنی نیند تباہ کر دیتا ہوں۔ اتوار کو گرجاگھر کی گھنٹیاں بجتی ہیں ۔ میں کہتا ہوں، ”بہت خوب، بچے ذرا دور ہو کر بجاﺅ(۴۲)“۔

اور یہ بات مجھے تب سوجھی۔۔ مذہب ایک وجہ ہے جس کی بناءپر اسرائیل کثیر المذہبی جمہوریت عربوں کے گراں ڈیل اور ہیجان خیز خاندانی سلسلوں کے درمیان قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہودیت نے، اسلام اور عیسائیت کے برعکس لوگوں کو اپنے اندر ڈھالنے کا نظام وضع نہیں کیا ہوا۔ اِس کا آفاقیت اپنانے کا کوئی دعویٰ نہیں۔ اِس کے اپنے قوانین کے تحت یہودیت کی تعلیم (غیر یہودیوں کو) نہیں دی جاتی۔’یہی وجہ ہے کہ یہودی ”منتخب شدہ“لوگ ہیں، مسلمان حقارت کا اظہار رکھنے کی طبع رکھنے والے لوگ ہیں۔ منتخب شدہ لوگوں کو اپنا آپ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوزخ ہویا اونچے پانی، اُن کی نجات تھیلے میں پنہاں ہے‘۔ میں اس کو المیے پر مبنی سوءفہم سمجھتی ہوں۔ یہودی سمجھتے ہیںکہ وہ منتخب شدہ لوگ ہیں مگر جنت کے میووں کی وجہ سے نہیں۔اُن کو زمین پر بوجھ کے حوالے سے اور تمام انسانیت کی نمائندگی کے حوالے سے بھی چنا گیا ہے۔ کیا یہودی خود کو اُس بوجھ کو سہارنے کے لائق ثابت کر پاتے ہیں، اِس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ نجات دہندگی کے مستحق سمجھے جاتے ہیں ۔ ’ تھیلے کے اندر‘ ہونے سے بہت پہلے، نجات کا دارومدار ذمہ دار ہونے پر ہے۔ مگر اس کے معنی کیا ہیں؟ میں تو فقط یہودیوں کے مرکزی عقیدے کا اظہار کر رہی ہوں: ذمہ دار ہونے کا مطلب قبائلی گھمنڈ کی مزاحمت کرنا ہے۔

انسان ہونے کے ناطے، یہودی بعض اوقات تکبر کو ارفع فن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔۔ یا کم از کم بھدے انداز کے ساتھ۔ میں ویسٹ بینک کے جنونیوں کی طرف واپس جاتی ہوںجو پہاڑی کے اوپر اپنی آبادکاریوں پرڈیوڈ کے چمکتے ستاروں کو لہراتے ہیں۔ میں شیرون حکومت کی جانب سے اُن مجرموں کی گرفتاری کے مسلسل انکار پربہت دکھی ہوں جو مسلسل اپنی غیر قانونی آبادکاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں اُن یہودیوں کے دفاع کی آڑ نہیں لینا چاہتی جو زیتون کے درختوں کی شاخوں سے آگ سلگاتے ہیں جنہیں عرب کسانوں نے عشروں سے پروان چڑھایا ہے اور وہ خود کو یشیوا کی چار دیواریوںمیں بند کر لیتے ہیں جہاں وہ علوم ، فلکیات سے لے کر فلسفے تک، پڑھنے کی پابندی لاگو کر لیتے ہیں ، جسے وہ میمونائیڈز کا مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ ذہن میں رکھئے، یہ لوگ عصری یہودیت میں کم وزن کے لوگ ہیں۔ یہ لوگ جوش میں بھرے ہوئے ہیں اور اِن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر یقینی طور پر یہ مرکزی دھارے کے لوگ نہیں ہیں۔

وہ یہودی، جو مرکزی دھارے کے سمجھے جاتے ہیں، بہت نمایاں ہیں اور بعض اوقات ذمہ داری کی حد سے بھی آگے نکلے ہوتے ہیں۔۔ جن کی ہم مسلمانوں کو پہچان نہیں ہوتی۔ اپریل ۲۰۰۲ءمیں اسرائیل کے حق میں ایک ریلی کے دوران، امریکہ کے نائب سیکرٹری دفاع پال ولف وٹز نے زیتون کی شاخ علامتی طور پر فلسطینیوں کے حوالے کی۔ یہاں پر قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ولف وٹز نے اعتراف کیا کہ ’معصوم فلسطینی ایک بڑی تعداد میں مر رہے ہیں اور مصائب کا بھی شکار ہیں‘۔ مجمع تمسخر کے ساتھ ہنس پڑا۔ لیکن ورلڈ جیوش کانگریس کے صدر ایڈگرڈ ایم برونف مین نے کیا کیا؟ اُس نے نیویارک ٹائمز کو تضحیک کے اعتراف کے ساتھ لکھا۔ ’وہ جو تمسخر اُڑاتے ہیں، اُن کو اپنے اوپر شرمندہ ہونا چاہئے اور اُن کو تورات کی قصص المثال سے ایک آیت یاد رکھنی چاہئے۔۔ خدا اپنے فرشتوں کی سرزنش کرتا ہے جو مصریوں کے ڈوبنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، یہ مصری اسرائیلیوں کا پیچھا کرنے والے تھے جو سرخ سمندر کو پار کرتے ہیں۔ خدا اُن فرشتوں سے کہتا ہے، یہ بھی میرے لوگ ہیں۔ فلسطینی مشرق وسطیٰ کی اِس جنگ میں مر رہے ہیں۔ میری ہمدردیاں یقینی طور پر اسرائیل اور اُس کے لوگوں کےلئے ہیں مگر ہم سب کو آگاہ رہنا ہے کہ فلسطینی بھی انسان ہیں(۵۲)‘۔

’دوسروں‘ کو تسلیم کرنے کا ویسا ہی اقرار برطانیہ کے چیف آرتھوڈوکس ربی ، جوناتھن سیکس ، نے ’فرق کے وقار‘ کے عنوان سے لکھ کر کیا۔ سیکس نے اپنی تحریر میں لکھا، ’خدا فرق کو پیدا کرتا ہے، لہذاٰ وہ جو مختلف ہے اُس سے ملنا ایسا ہی ہے جیسے خدا سے ملنا(۶۲)‘۔ ربی سیکس کے مطابق، ’خدا کی شبیہہ کو کسی دوسرے میں دیکھنا جو ہم میں سے نہ ہو، ارفعٰ مذہبی چیلنج ہے(۷۲)‘۔ میں مانتی ہوں کہ سیکس کو الٹرا آرتھوڈوکس ربیوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو گا، خاص طور پر اِس نقطہ کے حوالے سے کہ یہودیت سچائی کا آخری حرف نہیں ہے۔ تنقید کے زیرِ بار سیکس کو اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرنا پڑی، تاہم تمام پر نہیں۔ فرق کی تقدیس کے حوالے سے بھی نہیں۔ اصل میں سالوں سے ربی سیکس یہودیوں کی ذمہ داری کو دوسروں کے لئے فروغ دے رہے تھے، اُس تمام عرصہ کے دوران جتنا عرصہ وہ برطانیہ کے آرتھو ڈوکس یہودیوں کے عہدے کے سربراہ رہے۔

کیوں میں انسانیت کے واسطے زور دے رہی ہوں کہ یہودیت مددگار ہو سکتی ہے؟ کیونکہ جیسا کہ میں توقع کرتی ہوں کہ آپریشن اجتہاد تینوں اہل کتاب لوگوں کے درمیان مکالمے کو مہمیز کرے گا، یہ سہ فریقی مکالمہ اُسی وقت اہم ہو گا اگر تلمودی طرز کی کشادگی میسر ہو گی۔ میری مراد بذاتِ خود تلمود سے نہیں ہے بلکہ وہ رویہ ہے جسے ربی ہارٹ مین نے کیا شاندار طریقے سے بیان کیا ہے کہ ابراہیم کا خدا ”حیرت کدے اور انوکھے پن کے خدا‘ ‘جیسا ہے۔ ایسا خدا جس کی مرضی کا آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔

بہت سارے عرب مسلمانوں کےلئے یہ خیال بہت لغو تو نہیں؟ ملائشیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ کوالالمپور میں ۲۰۰۲ءکی بین الاقوامی مسلمان اسمبلی میں مہاتیر محمد نے یہ بات کہنے دی کہ اسلام کی لیڈرشپ عربوں سے اَب نہیں آ سکتی کیونکہ توازن قائم رکھنے کی خاطر عرب نہیں جانتے کہ غیر مسلمانوں سے کس طرح مکالمہ کرنا ہوتا ہے(۸۲)۔ تاہم اُنہوںنے کہا کہ ایشیا کے مسلمان اِس کے اہل ہیں۔ مہاتیر عربوں کی اثر پذیری کے حوالے سے خود ہی یہ کہہ کر مکر گئے جب انہوں نے ملائشیا کے کرنسی کے بحران کی ذمہ داری یہودیوں کے سر ڈال دی اور اپنے ملک میں شریعہ کے قانون کے بڑھتے رجحان کی حمایت کر دی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ملائشیا مہاتیر کا نہیں ہے اور نہ ہمسایہ ملک انڈونیشیا، جو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مسلمان ملک ہے، جہاں کروڑون لوگوں نے بالی کی نائٹ کلب کے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ درحقیقت جنوب مشرقی ایشائیوں نے ہمیشہ اسلام کو ایک ایسی درآمد وبرآمد کی بندرگاہ پر اپنایا ہے جو کثیر النسل ہے (چینی، انڈین، ملائی) اور کثیر المذہب ہے (بدھ مت، عیسائی، ہندو اور مسلمان)۔

بالکل وسط ایشیا کے لوگوں کی طرح۔ قزاقستان جو مسلمان اکثریت کا ملک ہے اور سابق سوویت یونین سے نکلاجہاں پر آمرانہ نظام کی حکومت ہے اور یہاں پر سو کے قریب نسلی گروہ مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں پر سیکولرزم زندہ ہے اور روادار صوفی ازم پھل پھول رہا ہے۔ وہاں پر حکومت کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں یہودی اکٹھے ہوئے، ایک ایسی کانفرنس جس میں یہودی مسلمانوں کی طرف سے ایک مشترکہ اعلانیہ برائے امن پیش کیا گیا۔ وہاں پر انگریزی زبان کے سرکاری اخبارکی جانب سے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر جوڑوں کے لئے مبارکباد پیش کی جاتی ہے(۹۲)۔ ہم اَب سعودی ریت کے تودے پر جی نہیں رہے۔ اگر اسلام کا دل صحرائی عرب کی اقدار سے زیادہ مضبوط ہے اور اُس میں سہہ جانے کی صلاحیت ہے توایشیا کے مسلمانوں کو ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ اپنا مکالمہ ”حیرت کدے اور انوکھے پن کے خدا“سے جاری رکھیں۔

میرے پاس مختلف مذاہب کے آپس میں مکالمے کے حوالے سے ایک دوسری تنبیہہ بھی ہے۔ جو بھی اِس مکالمے میں حصہ لیتا ہے، وہ اِس تبادلہ خیال کے دوران ایک طرح کے فراڈ سے بھی پریشانی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔محمد سید تانتوی کے معاملہ پر غور کیجئے، جو الاظہر مسجد کا شیخ ہے۔ آپ الاظہر سے زیادہ باوقار کسے کہیں گے۔ فرید ذکریا نے اِسے ’عرب دنیا میں مرکزی اسلام کا بہت اہم مرکز(۰۳)‘ قرار دیا ہوا ہے۔ مرکزی اسلام کے اعلیٰ مذہبی نمائندہ ہونے کے علاوہ شیخ تانتوی انگلینڈ میں تینوں مذاہب کے ایک ادارہ کے بھی کرتا دھرتا ہیں، اس ادارے کا مقصد عیسائیوں، مسلمانوں اور یہودیوں میں مفاہمت پیدا کرنا ہے۔ یہ سب اچھا دکھائی دیتا ہے مگر پیرائیہ بیان کی سطح پر سے ریت ہٹا کر دیکھتے ہیں اور تھوڑا کھودتے ہیں کہ نیچے کیا ہے۔ اپریل ۲۰۰۲ کے ایک خطبے میں ، جس کا ترجمہ مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے کیا، شیخ تانتوی نے یہودیوں کو ’اللہ کے دشمن، سوروں اور بندروں کی اولاد(۱۳)‘ قرار دیا۔ مصر میں ۹۹۹۱ءکی ایک کانفرنس جو ایٹمی حکمت عملی کے حوالے سے تھی، شیخ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ ’ اسرائیل کے خطرے کے پیشِ نظرایٹمی ہتھیار حاصل کر لو ‘ اور وعدہ دیا ، ’جیسا کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں مگر اُس کو پہلے شکست ہو گی کیونکہ اسرائیل اُس خطے میں ہے جہاں کسی کو موت کا کوئی ڈر نہیں(۲۳)‘۔

یہ بیانات صاف نہیں ہو سکتے جیسا کہ ایک آدمی کے بغیر دانتوں کی بھونکار نے فلسطینی مخمصے کو پاگل پن کی حد تک پہنچا دیا ہے۔ حتکہ ابھی امن کا منصوبہ ختم نہیں ہوا تھا، اِس شخص نے اِسی طرح کی باتیں کیں۔ جنوری ۸۹۹۱ءمیں شیخ نے الجزیرہ ٹی وی کو ایک انٹرویو دیا۔ وہ اسرائیل کے چیف ربی سے اُنہیں دنوں قاہرہ کے ایک اجتماع میں ملا تھا، جس نے مصری اخبارات کے کان کھڑے کر دئیے۔ ’کیا اس طرح کے اجتماعات کا کوئی فائدہ ہے؟‘ الجزیرہ کے ایک پیش کار نے حیرت سے پوچھا۔

’کیوں نہیں‘ شیخ تانتوی نے کاں کاں کی۔ ’ ذاتی طور پرمیں چیف ربی پر پل پڑااور اُس پر ثابت کر دیا کہ اسلام ہی اصل سچا دین ہے۔۔ میرا خیال ہے کہ جو شخص بھی دشمن سے ملنے پر اس لئے احتراز کرتا ہے کہ وہ اُس کے منہ پر تھپڑ نہ مارے، بزدل ہے، جب تک کہ کسی اجتماع میں اسلام کے معاملہ میں خدمت مقصود ہو(۴۳)‘۔

کیا اس طرح ہمارے تھپڑ مارنے کے شوقین شیخ کے خیالات تین مذاہب کے کسی ادارے کی سرپرستی کر سکتے ہیں؟ کیا یہودیوں کی شدید ٹھکائی کرنے کے موقع کے طور پر؟ یا پھر یہ رنگ صرف عربوں کے کانوں کو سنانے کےلئے اپنایا گیا تھا؟ میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ میری طرف سے پہلے سوال کا جواب ملنے پر ہی تین مذاہب کے اِس ادارے نے مجھ سے قطع تعلق کر لیاکہ جب میں نے پوچھا کہ کیسے زہریلی زبان والے شیخ تانتوی کو ادارے کا سرپرست بنایا ہوا ہے(۴۳) ؟ قطع نظر اِس بات کے کہ اُس کا خدا انوکھے پن کا خدا نہیں ہے بلکہ دہرے پن کا خدا ہے۔ میں ایسی عیسائی نہیں کہ ایک گال پرتھپڑ کھا کر دوسرا گال پیش کر دوں۔ اسلام کے اصلاح پسندوں کو اصل مقاصد حاصل کرنے کی خاطر دہرے پن سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ اِس دہرے پن کو بین المذہبی مکالمے سے دور جانا ہو گا۔

میں بین المذہبی سیدھے عمل کو یوں تصور میں لاتی ہوں۔ عمل کی فہرست میں سب سے پہلے ، ہمیں یہ مکالمہ سعودی عرب کی جیل میںنہیں کرنی، سعودی عرب جو دہرے پن کا گڑھ ہے۔ یہ مکالمہ یونیورسٹیوں میں ہونا ہوگا جہاں طلباءاور پروفیسر پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ اختلاف کرنے کےلئے قطار میں کھڑے ہیں مگر سعودیوں کو اپنے ریشمی دوغلے منہ پرے کرنے دیجئے۔ دی ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (ڈبلیو اے ایم وائی) ایک ایسی تنظیم ہے جو سعودیوں کے پیسے سے چلتی ہے، یہ تنظیم شمالی امریکہ کی بہت ساری یونیورسٹیوں میں پمفلٹ تقسیم کرتی رہتی ہے۔ ایک پمفلٹ بعنوان ’اسلام کے انسانی حقوق‘ سریلے سروں میں وہ سب کچھ بتاتا ہے جس کی اسلامی مملکت اجازت دیتی ہے اور زور فقط اِس بات پر ہے کہ ’آپ کے پاس ظالم کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے‘، آپ کے پاس اس بات کا حق ہے۔ یہ پمفلٹ چودہ آزادیوں کے گیت گاتا ہے جس طرح ’آمرانہ قید سے تحفظ‘۔ لیکن اگر آپ کو ارادے کے ساتھ شیعہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہدف بنایا گیا تھا تب آپ آمرانہ قید کے زمرے میں نہیں آتے، کیا آتے ہیں؟ جیسا کہ میں نے دکھایا، سعودی عرب شیعہ مسلمانوں کو بغیر کسی جھجھک کے ضرر پہنچاتا ہے۔

آئیے، اس پمفلٹ کی جشن منانے والی آزادیوں میں سے ایک اور کو دریافت کریں، ’قانون کے حضور برابری‘۔ تاہم اگر قانون بذاتِ خود عقیدے یا حیاتیاتی بنیادوں پر نسل پرست ہو تب ’برابری‘ سے کیا مراد ہے۔ اور یہ سب کچھ سعودی عرب میں ہے جہاں قانون عورت کو اپنا کاروبار چلانے سے منع کرتا ہے اُس کاروبار کو جس کی وہ مالک ہو اور جہاں عورتیں اقلیت ہوںجس کا مطلب یہ ہے اگر ریاض طلسماتی طور پر تمام بالغ سعودیوں کو ووٹ دینے کے حق کا اعلان بھی کر دے تب بھی یہ حق فقط مردوں کےلئے ہو گا۔ آخر میں خود پڑھئیے کہ ڈبلیو اے ایم وائی عورتوں کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ ’عورتوں کو دبانے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔عورتوں کی عزت اور عصمت کا ہر حال میں احترام واجب ہے۔‘ایک سیکنڈ توقف کیجئے۔ عزت کا خبط گاہے بگاہے ہونا بذاتِ خود عزت کو کچلتا ہے۔ ہم اصل میں کیا پڑھ رہے ہیںتب تو عزت کی زیادتی کا خود ہی تعین کرنا طے ہے۔ ہاتھ کی یہ شعبدہ بازیاں ’ضمیر اور ایمان کی آزادی‘ اور ’مذہبی جذبات کا تحفظ‘ کے نام سے یہ آزادیاں ڈبلیو اے ایم وائی کی نمائش کردہ اور صحرائی اسلام کی پیش کردہ قطرہ قطرہ کر کے ٹپک رہی ہیں۔ اِن طلباءاور پروفیسروں کےلئے ، جوتنقیدی مفکرین کا بزعم خود روپ دھارے ہوئے ہیں کیونکہ وہ قدم بہ قدم صیہونیوں کے ساتھ جا سکتے ہیں، میرا ایک چیلنج ہے، سعودیوں کی زبان لے لیجئے، جو کچھ بھی نہیں ہیں اگر وہ سربند عقل کے آقا نہ ہوں۔

یونیورسٹی میں کٹر عیسائی، یہودی اور مسلمان طلباءکے درمیان اصل بین المذہبی اقدام یہ ہو گا اگر مکہ میں اِن سب کے مشترکہ ’ابراہیمی حج‘ کا انتظام کیا جائے۔ ابراہیم اِن تینوں مذاہب کے صرف جنم داتا ہی نہیں تھے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ابراہیم وہ پیغمبر تھے جنہوں نے (اپنے بیٹے اسمعٰیل کے ساتھ، یہ ایمان ہے) کعبہ کی تعمیر نو کی۔۔ اُس کالے پتھر کی جس کے گرد حج کا بیشتر حصہ عملی طور پر طواف کرتا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے بتایا جاتا ہے کہ یہاں پیغمبر محمد نے کافر بتوں کو توڑ دیا تھا، اگرچہ انہوں نے راکھ میں دبے صلیبی نشان کو بازیاب کیا تھا۔ صرف مسلمان ہی کعبہ میں عبادت کر سکتے ہیں، آپ کا یہ کہنا ہے؟ تب مسلمان کیا ہے؟ میں نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر بین المذہبی گفتگو کے حوالے سے خفیہ طور پر کچھ معلومات لیں اور اس سوال پر کشادہ دلی کی سطح کو دریافت کیا۔عاصم نام کا گفتگو میں شریک ایک دوسرے گفتگو کرنے والے سے کہتا ہے، جو اپنے آپ کو میٹ کیب بتاتا ہے، ’اگرچہ تم بطور یہودی اسلام کو زندگی میں عمومی طور سے اپنانے کی وجہ سے مسلمان نہیں ہو مگر میں تمہیں مسلمان اِس اعتبار سے مسلمان تصور کروں گا کہ تم نے خود کو خدا کے حوالے کیا ہوا ہے اور تمہاری خواہش ہے کہ تم خدا کے احکامات پر عمل کرو۔ لہذاٰ شاید ایسا ہے کہ میں یہودیت کے قریب ہوں اور تم اسلام کے نزدیک کیونکہ ہم ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جو ابراہیم پر بھی آشکار ہوا، لہذاٰ ہم ایک نقطے سے دور نہیں ہیں(۵ ۳)!‘ ایسے مباحث، جو ابراہیمی حج کےلئے اثرپذیری رکھتے ہیں ، مکہ میں آفاقی جذبہ لا سکتے ہیں۔۔ ایسی گلوبالزم جو یروشلم، روم اور جنیوا کو تابناک کر دے (پروٹسٹانزم کا ایک روحانی جال بُن سکے)۔

تاہم سعودیوں کو اس طرح کے ابراہیمی حج پر اعتراض ہو گا، انہیں آخرکار اِس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس کو مان لیں تو ویزہ کی شرط ہمیشہ اپنے پاس رکھتے ہوئے ایک ایسا پسندیدہ کام اُن کے ہاتھ میں ہے جو انہیں اپنی بادشاہت کے اوپر پردے گرائے رکھنے کی سہولت دیتا ہے، بس اِن پردوں کو نہ دھوئیں۔ وہ اپنے دھوکہ بازوں سے بار بار پکارے جائیں گے۔ یونیورسٹی کے طلباءبھی پکاریں گے اپنے آراستہ ڈی ٹیکٹرز کے ساتھ سعودی عرب کے بارے اپنے مباحث سمیت۔

میں ابراہیمی حج کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایک بہتر صورت پیش کرتی ہوں، شمالی امریکہ کے مسلمان طلباءکو ایرانی طلباءکے ساتھ رابطہ کرنا چاہئے۔ ایرانی نوجوان نسل کی حیرت انگیز حد تک ایک بڑی تعداد باغی دانشوروں کی ہے۔ ’امریکہ مردہ باد‘ کے ایک جہان سے پرے اِن طلباءکے بینرز پکارتے ہیں، ’آمریت مردہ باد‘ (جس سے اُن کی مراد مذہب پر علماءکی آمرانہ حاکمیت ہے)۔ نوجوان ایرانی نسل توازن برقرار رکھنے کی خاطر اسرائیلی ریڈیو سنتی ہے اور اُن کی بڑی تعداد دیگر مسلمانوں کی نسبت دنیا سے اپنا ناطہ جوڑنے کی خاطر انٹرنیٹ کو استعمال کرتی ہے(۶۳)۔ اس کے علاوہ شیعہ ہونے کے ناطے اُنہیں سعودی عرب کے سنی آقاﺅں کو حق قرار دینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایران کے آیت اللہ سعودی طرز کی دہشت کے مرتکب نہیں ہوتے۔ اکثر ہوتے ہیں اور حزب اللہ اُن کی شکرگزار رہتی ہے، مجھے اِس بات کا یقین ہے۔ تاہم یہ آیت اللہ ہی ہیں جن کے خلاف ایرانی طلباءبھاری بھر کم اور بڑے بڑے غیر متشدد جلوس نکالتے رہتے ہیں۔

اصل میں، یہ ایک انتیس سالہ ایرانی دوست ہی ہے جس نے مجھے مارٹن لوتھر کنگ کا ’برمنگھم جیل سے خط‘ ای میل کیا تھا۔ میں نے یہ خط پہلے کبھی نہیں پڑھا تھامیرے دوست نے اِس خط پر پیش لفظ کے طور پر لکھا: شمالی امریکہ میں جب تمہارے ساتھی سعودی عرب کو ننگا کرتے ہوئے یہ خوف کھائیں کہ اِس بات سے مسلمان خار کھائیں گے تو انہیں برمنگھم کے روشن خیال مسلمان یاد دلانا جو کنگ کو اُن کے شہر میں غیر ضروری تناﺅ پیدا کرنے سے روک رہے تھے۔ کنگ نے اُن سے کہا تھا، ’میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں لفظ ”تناﺅ“ سے ڈرتا نہیں۔ میں نے انتہائی سرگرم رہتے ہوئے متشدد تناﺅ کی مخالفت کی ہے لیکن غیر متشدد تناﺅ ایک تعمیری صورت ہے جس کا آگے بڑھنا بہت ضروری ہے۔ بالکل جس طرح سقراطوں نے محسوس کیا تھا کہ ذہن میں تناﺅ پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ یہ افراد کو قصے کہانیوں کی غلامی اور آدھے سچ کی سطح سے اوپر اٹھ کر پابندیوں سے مبرا تخلیقی تجزیے کے عالمِ خیال اور معروضی جانچ کی طرف لے جائے(۷۳)، ہمیں معاشرے میں تناﺅ کی صورت پیدا کرنے کےلئے غیر متشدد تناﺅ کے پیچھے پڑ جانا چاہئے جو انسان کو تعصب کی تاریک راہوں اور نسلی منافرت سے اٹھا کر فہم اور اخوت کی شاہانہ بلندیوں تک لے جائے‘۔ میری دعا ہے کہ آپریشن اجتہاد اسی طرح اپنا اثر چھوڑے۔

اَب ااپریشن اجتہاد کے چند ’بم‘ دیکھئے ۔۔ بنیادی اور بے باک سوالات جو سب کےلئے ہیں۔

٭ خواتین کے اختیار کے حوالے سے مباحث میں پوچھا جائیگا: کیا خدا، جو اپنے آدھے عبادت گزاروں کو بطور ہتھیار مسلط کر دے، سے محبت کی جا سکتی ہے؟ کیا اس طرح کی محبت معنی رکھتی ہے؟

٭ میڈیا کے حوالے سے مباحث میں پوچھا جائیگا: کیا( آسمانی) کتابوں کی موجودگی مادہ پرستی کے کھوکھلے خداﺅں اور لغزش پا ٹی وی کو لگام دے پائے گی؟ کیوں گزشتہ ایک ہزار برس سے پوری عرب دنیا میں اتنی کتابوں کا ترجمہ نہیں ہوا جتنی کتابوں کا سپین میں ہر سال ترجمہ ہوتا ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ لوگ جتنا باہر کے لوگوں کو جانیں گے اُتنا وہ اپنا احتساب کر سکیں گے؟ دوسری طرف، کیوں مصر مغربی مارکیٹوں کوجابر اصفور کی کتاب ’انتہا پسندی کے خلاف‘ یا علی سالم کی کتاب ’اسرائیل کا سفر‘ کے انگریزی تراجم سے بھر نہیں دیتا، اِن دونوں کتب میں مسلمانوں کے اندر رواداری دکھانے کی گنجائش موجود ہے؟ کیا ہر آخری مغربی ناشر نے اِن کتابوں کو مسترد کر دیا؟

٭ ابراہیمی حج کے حوالے سے سعودی عرب سے یہ پوچھاجائیگا: کیوں سعودیوں نے اپنی سرزمین پر عیسائیوں کو اپنی عبادت کی اجازت نہیں دے رکھی جبکہ خود سعودی واشنگٹن ڈی سی میں مسلمان اور عیسائیوں کی تفہیم کے ایک ادارے کو پیسہ فراہم کرتے ہیں؟ کسے اِس ’تفہیم‘ کی ضرورت ہے؟ اس ادارے سے سعودیوں نے اپنے گھر کےلئے کیا سبق حاصل کیا؟

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ایسے سوالات آمریت کو ایک ہی ہلے میں گرا دیں گے۔ میں جو بونا چاہتی ہوں اُس کا ثمر ایک لمبے عرصہ کےلئے بتدریج آنے والا ہے۔ جب حکومت کی نا اہلیت اور عوامی سہولتوں کےلئے درکار رقوم مہیا نہ ہوں گی تو ٹیکس گزار خواتین اپنے پیسے کا حساب چاہتے ہوئے تنقید کریں گی، اور جب خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف بین الاقوامی نسلی منافرت اور ’دوسروں‘ کے ساتھ زیادتیوں کو ہمت کر کے باآواز بلند سوال اٹھا کر دن کی روشنی میں لایا گیا تو پھر مسلمان بہتر طور سے جمہوریت کی منتقلی کےلئے تیار ہو جائیں گے۔

میں اِس آخری نتیجہ کےلئے دعا گو ہوں: کہ وقت کے ساتھ ساتھ آپریشن اجتہاد بین الاقوامی برادری کو قتل عام کی وجوہات پر انگلی اٹھانے اور روکنے کےلئے بڑھاوا دے(۸۳)۔ جب تک ہم مکمل طور پر تفتیش نہ کر لیں، ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس حد تک وہابی کٹر پن نے عربوں کے قبضے میں سوڈان کی نسلی اور فرقہ واریت تشدد کی کھیتی تیار کی ۔ اسامہ بن لادن افغانستان جانے سے پہلے سوڈان میں تھا۔ البتہ ہمارے پاس اِس بات کی تفتیش کرنے کےلئے کافی معلومات ہیںامریکن اینٹی سلیوری گروپ کے چارلس جیکبس کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں بیس لاکھ لوگوں کا قتل عام ہوا تھا۔ ’ہزاروں لوگ لاپتہ ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ۔۔۔جبری بھوک میں رکھے گئے(۹۳)‘۔ یہ ظلم و ستم کیوں جاری و ساری ہے؟

آج تک کسی بین الاقوامی ادارے نے اس بداعمالی سے پردہ نہیں اٹھایا اور واضح انصاف کو بروئے کار نہیں لایا گیا تاکہ اتنے وسیع پیمانے پر نفرت انگیز جرائم کو روکا جائے۔ اقوام متحدہ روانڈا میں قتل عام کو پہلے سے روکنے کا خواہشمند نہ تھا۔ دیکھا جائے تو یو این او اصولوں سے زیادہ پروٹوکول کے ساتھ کام کرتی ہے، فاشسٹ حکومتوں کے ساتھ ویسا ہی اچھا برتاﺅ کیا جاتا ہے جیسا جمہوری حکومتوں کے ساتھ، کیا یو این او سعودی عرب کی وہابی ازم پر انکوائری کرے گی؟ بمشکل۔ جیسا کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نئی نئی معرضِ وجود میں آئی ہے، اس کا کردار دفاعی کی بجائے سخت فعال ہونا چاہئے۔ بہرکیف، بہار ۳۰۰۲ تک ، کورٹ نے انسانیت کے خلاف جرائم کی مد میں دوسو کے قریب شکایات نوٹ کی ہیں۔ کیوں عدالت نے وہابی ازم کی تفتیش کےلئے وکیل استغثناءمقرر نہیں کیا جبکہ نہ امریکہ اور نہ سعودی عرب نے اس عدالت کو قبول کیا ہے؟

ابھی تک مذہبی بنیادوں پر ہونے والے قتل عام کو بیچ میں روکنے کےلئے ہمیں اپنے ملکوں کے عدالتی نظام سے کام لینا ہو گا۔ جن دنوں میں یہ لکھ رہی ہوں، برطانیہ کی کریمنل کورٹس نے سعودیہ کے تربیت یافتہ اور لندن میں مقیم عالم کی سزا سنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو یہودیوں، ہندوﺅں اور امریکیوں کو قتل کرنے کی وکالت کر رہا تھا(۰۴)۔ اس طرح کی انگلینڈ میں یہ پہلی سزائے جرم ہے۔ اسے آخری نہیں ہونا چاہئے۔

میں مانتی ہوں کہ بعض اوقات عدالتوں سے رجوع کرنا اسلحے کے برابر چوٹ جیسا محسوس ہونا ہوتا ہے۔ فرانس میں، جیسا کہ میں نے اِس خط کے شروع میں لکھا تھا، چار مسلمان گروہوں نے ایک مصنف مائیکل ہولیبیک پر توہین کا مقدمہ کھڑا کرنے کی کوشش کی کیونکہ اُس نے ایک ادبی مجلہ کو کہا تھا کہ ’اسلام سب سے زیادہ احمقانہ دین ہے‘۔ ’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں ، آپ اسے پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بائیبل کم از کم خوبصورت ہے کیونکہ یہودیوں کا ادبی معیار اچھا ہے(۱۴)‘۔ کسی چیز کے بارے کسی شخص کی رائے جو اُس کو اطمینان بخشے، کو بنیاد بنا کر جج نے اِس مقدمے کو خارج کر دیا تھا۔ اٹلی کی صحافی اوریانہ فلاچی اپنے تیکھے مضمون ’غیظ و غضب اور فخر‘ میں اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے اسی قسم کی لڑائی سے گزریں۔ اِس مضمون میں، وہ مسلمان تارکینِ وطن کے منہ پر ریت پھینکتی ہیں(’یہ بہت زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں‘) اور اُن کے یورپی میزبان (’اطالوی اب بچے پیدا نہیں کرتے(۲۴)، وہ گاﺅدی ہیں‘) ۔ یہ عدالتی مقدمہ بھی برخاست ہو گیا۔

سعودیوں کے خلاف جنگی جرائم تجویز کرتے ہوئے کیا میںاُن کا تمسخر تو نہیں اُڑا رہی جو ہولیبیک، فلاچی، نسرین اور رشدی کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں؟ خدارا ، ایسا نہ سمجھئے۔ سعودیوں کو چیلنج کرنا اسلام کو نیچا دکھانا نہیں ہے بلکہ ایک بوجھ کو صحرا میں اتارنا مقصود ہے۔ اور اُن کو چیلنچ کرنے سے عوام الناس کی تباہی کے دوسرے راﺅنڈ سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ بہت سوں کو بچانے سے قومی سلامتی قائم رہ سکتی ہے۔ قرآن کی کس نوعیت کی تفہیم کی اجازت ہے اور کس نوعیت کی نہیں، اَب ہر ایک کو اِس بات سے سروکار ہے۔

آپریشن اجتہاد کا ایک منصوبہ جاتی زور امریکہ اور یورپی اقوام کےلئے ہو گا۔ اِس کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کےلئے، اُن کو اپنے مابین خلیج پاٹنے کےلئے دور تک جانا ہو گا۔ ’ جی ہاں، مارکیٹ کی معاشیات تک، مارکیٹ کے سماج تک نہیں(۳۴)‘، فرانس کے سابق وزیر اعظم لیونل جوسپین گرجے۔ آپریشن اجتہاد بذاتِ خود مارکیٹ اور سماج میں توازن قائم کر دے گا۔ مسلمان خواتین کو چھوٹی سطح کے کاروبار نواز نے سے اُن کی جمالیات پر ’چھوٹا خوبصورت ہے‘ کا اثر پڑے گا جو بڑے کاروباروں کے کلچر کو پسند نہیں کرتے۔ آپریشن اجتہاد مقامی لوگوں پر توجہ دے گا، بڑے صنعتکاروں پر نہیں، تاکہ ضرورت اور لالچ میں امتیاز وضع کرے۔ اور یہ مسلمانوں کو زندہ رہنے کےلئے مستقبل فراہم کرے گا نہ کہ مرنے کےلئے ماضی۔ کیا یہ مقاصد یورپی یونین کے سر گرم بائیں بازو والوں کی تشفی نہیں کرتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اِن میںاکثر سرمایہ داری سے نفرت کرتے ہیں جسے وہ مادہ پرستی کہتے ہیں۔ کیوں یہ نظریاتی اشرافیہ مسلمانوں کے موقع کو گنوانا چاہتی ہے؟ کیا اس طرح کی خود غرضی نئی نوآبادیت کے مترادف نہیں ہے، ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کےلئے کروڑوں انسانوں کے بہبود کو قربان کر دیا جائے؟ کم از کم بڑی شہرت والا ورلڈ بینک آپریشن اجتہاد کے کچھ اغراض و مقاصد خریدنے کےلئے ظاہر ہوا ہے۔ نکولس سٹرن جب اِ س کے چیف ماہر معاشیات تھے ، نے کہا تھا،’مرد اور عورت میں برابری آزادی کی نشوونما کےلئے کلیدی نقطہ ہے‘۔ جب عورتیں متحرک ہو جاتی ہیں، ’تو شواہد بتاتے ہیں کہ تعلیم، صحت، پیداوار، قرضے اور حکومت بہتر طور پر کام کرتے ہیں(۴۴)‘۔ قصہ مختصر، بدعنوانی کم ہو جاتی ہے۔

اسلامی دنیا کی عورتیں، مغربی حکومتیں، آزاد خیال مسلمان، اچھائی کے خواشمندیہودی اور عیسائی ، طالبعلم، سماجی کارکن، ورلڈ بینک، اوپرہ۔۔ آپریشن اجتہاد کا کوئی بھی رنگ ہو سکتا ہے۔اگرچہ اس کو متواتر امریکی وسائل کی ضرورت رہے گی۔ آئیے تیل کی سیاست میں گھستے ہیں۔



ہم میں سے اکثر اٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے گالیاں دیتے ہیں کہ واشنگٹن کی عرب مسلمان دنیا کےلئے نرم رو جمہوریت فقط امریکہ کی تیل کی سپلائی کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ سچ بھی ہے تو بھی تیل امریکہ کو آپریشن اجتہاد کی حمایت میں مشکل میں نہیں ڈالے گا۔ خاص طور پر امریکہ تب تک یہ اچھا سودا قائم رکھے گا جب تک وہ توانائی مشرق وسطیٰ کے اندر کی بجائے باہر سے لے رہا ہے اور تب تک بھی جب تک اُس کے پاس توانائی کے بے شمار متبادل ذرائع نہیں ہیں۔ بلاشبہ تیل کی اِس حقیقی سیاست کے علاوہ بھی کچھ ہے۔ یہاں پر ریاض کی سیاست کا المیہ بھی تو ہے۔

میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ واشنگٹن دو طرح سے بندھا ہوا ہے۔ ایک طرف تو ڈرامائی طور پر سعودی تیل کی کم ہوتی آمدن بادشاہ کی حیثیت، بطور وظیفے دینے والے اور علماءکا حوصلہ بندھانے والے، کو بھک سے اُڑا کر رکھ دے گی۔ اگر ایسا راتوں رات ہوتا ہے تو انتہا پسند ملا ،جو پہلے ہی مغرب کے خلاف کف اڑاتے رہتے ہیں ، خطرناک رخ اختیار کر جائیں گے اور اُن کو مزید انتہا پسند بننے کا بہانہ مل جائے گا۔ دوسری طرف واشنگٹن صحرا کو معاشی پلاننگ کاپانی دینے پر مجبور ہے، چاہے یہ سست روی سے ہی ہو۔ ایسا نہ کرنے سے امریکیوں کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کچھ دیگر خاموش اقوام کو بھی، اگر سعودی تیل خشک ہو جاتا ہے۔ اور تیل خشک ہو رہا ہے۔ ۰۸۹۱ءکی دہائی سے مملکت کی فی کس آمدن تئیس ہزار ڈالر سے کم ہو کر سات ہزار ڈالر آ گئی ہے۔ سعودی عرب میں برتن مانجھنے کا اعزاز پانے کےلئے بنگلہ دیشی مسلمان(۵۴) دو ہزار ڈالر ریاض کو ادا کرتے ہیں ( جو اُن کی آمدن کے پہلے سال کا چار بٹا پانچ حصہ ہے) اور اُس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کی تجوریاں بھرتے ہیں۔ اکثر سعودی نوجوان ہاتھ کے کام کو ہاتھ نہیں لگاتے، ابھی اِن کی دانشورانہ صلاحیتیں نکھری نہیں کیونکہ اُن کے اسکول مذہبی تعلیمات سے بھرے ہوئے ہیں،ایندھن کے ڈھانچے پر مصنوعی طور پر قائم سعودی معاشرہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، امریکہ بھی ساتھ دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب آپریشن اجتہاد کا آغاز ہو جائیگا تب آپریشن اجتہاد سعودی معیشت کو متنوع کر دے گا تاکہ ہر کوئی وقار، تحفظ اور آزادی کے ساتھ فوائد حاصل کر سکے۔ جن میں خواتین بھی شامل ہیں جن کے متوقع کاروبار صحرائی اسلام کو اُس کی جڑوں تک ہلا کر رکھ دیں گے۔

ضروری نہیں کہ سعودی عرب ہی آپریشن اجتہاد کا نقطہ آغاز ہو۔ بتدریج رواں دواں اس کا نقطہ آغاز جنگ کے بعد والا عراق ہو سکتا ہے۔ عراقی مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ شرح خواندگی پانے والے لوگ ہیں۔ تاریخی طور پر بھی اس معاشرے نے عورتوں کے کردار کو قبول کیا ہے۔ مگر آئین تیار کرلینے اور انتخابات کروا لینے کا مطلب یہ نہیں کہ تہذیب کے پُرامن احیاءاور معاشی رشک کو جنم دیا ہے۔ دولت کی پیداوار کسی نئی جمہوریت کےلئے خطرے کا نشان بن جاتی ہے کیونکہ کاروباری طبقہ ہی جو سرکار کو ٹیکس دیتا ہو، بدلے میںمجبور کرتا ہے کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کےلئے ادارے بنائے(۶۴)۔

ذہن میں ایک اور بات رکھئے: نازیوں کی وبا پہلے آزادانہ انتخابات کے ذریعے ہی پھیلی تھی۔ ایڈولف ہٹلر نے جرمنی میں انسانی تذلیل کے احساسات کو ہی ہدف بنایا تھا اور اُن کو بعد از جنگ کی معاشی ابتری کی صورتحال کے ساتھ لاگو کر دیا تھا۔ ہمیں عراق کو اِس نقطہ پر نہیں لے جانا چاہئے۔ اور یہ باآسانی ممکن ہے۔ یہ فکر نہ کیجئے کہ باتھ پارٹی نے نازی پارٹی کا کردار ادا کیا؛ میں پاکستان کے اخبار ڈان کے صفحہ اول پر چھپنے والی ایک تصویر سے بہت ڈر گئی ہوں، جب عراقی آزادی کا آپریشن شروع ہوا تھا۔یہ تصویر دانت نکالتی فلسطینی عورتوں کی ہے جنہوں نے سفید خرگوش کے ٹکڑے کئے ہوئے ہیں جو عراق اور اسلام کے دفاع کےلئے اُن کی ٹریننگ کا حصہ ہے، خون واقعی ہی اُن کے ہاتھوں پر تھا(۷۴)۔ یہ عورتیں کیا حاصل کر پائیں گی اس سے کہیں زیادہ تعمیری اگر آپریشن اجتہاد دن کی روشنی میں دکھائی دیتا ہے۔

اس اثناءمیں، ایک اور گروہ اسلام میں اصلاحات کے امکانات کا اظہار کرنے کےلئے تیار بیٹھا ہوا ہے: مغرب کے مسلمان۔ ہمیںشہری آزادیوں پر عمل کرنے کی آسائش حاصل ہے، خاص طور پر اظہار رائے کی آزادی جو قبائلی رجحانات کو بدل سکتی ہے۔ کیا ہم اُس آزادی سے کام لے رہے ہیں؟ کیا غیر مسلمانوں کی اکثریت ہمیں ایسا کرنے کےلئے چیلنج دے رہی ہے؟

 

حوالہ جات:

۱۔ Zainab Salbi, "Oprah," October 7, 2002. Salbi's organization, Women for Women International, can be found at www.womenforwomen.org

۲ ۔Eric Boehlert, "The Arab baby boom," www.salon.com, October 18, 2001

۳۔ United Nations Arab Human Development Report 2002 (New York: UNDP/RBAS, 2002), p. 37

۴۔Ibid., "The Arab World: Let the Numbers Speak!" p. 3

۵ ۔ Peter Stalker, The No-Nonsense Guide to International Migration (Toronto: Between the Lines, 2001), p. 38

۶ ۔Maggie Black, The No-Nonsense Guide to International Development (Toronto: Between the Lines, 2002), p. 66

۷ ۔ Maggie Black, Ibid., p. 65

۸ ۔مارکسسٹ ہونے کے باوجود طارق علی اپنی کتاب The Clash of Fundamentalisms میں تسلیم کرتے ہیں ، ”شروعات سے ہی اسلام نے تجارت کو واحد اچھے پیشے کے طور پرلیا“ (صفحہ ۹۲)۔ بلاشبہ قرآن عملی طور ۴:۸۲ میں تجارت کو مقدس بناتا ہے، ”ایمان والو، اپنی دولت کو اپنے اوپرخودنمائی کی غرض سے ضائع نہ کر دو بلکہ اِس کو باہم رضامندی کے ساتھ آپس میں تجارت کےلئے برتو“۔

۹ ۔ Bill Clinton, "The Struggle for the Soul of the 21st Century," New Perspectives Quarterly, Spring 2002. Download at www.digitalnpq.org

۰۱ ۔For more information, read Hernan de Soto's The Mystery of Capital: Why Capitalism Triumphs in the West and Fails Everywhere Else (New York: Basic Books, 2000).

۱۱ ۔Conversation with Peter Schaefer, Executive Director of the Institute for Liberty and Democracy (Washington office), February 12, 2003

۲۱ ۔Elaine Kamarck, "Freedom through Islam," Toronto Star, February 15, 2002

۳۱۔قرآن، ۴:۸۲۱

۴۱۔ Richard Haass, "Towards Greater Democracy in the Muslim World" (speech to the Council on Foreign Relations, Washington, D.C.), December 4, 2002, p. 6 of notes

۵۱ ۔www.wluml.org, found under "Part One: The Context of our Struggle."

۶۱۔ www.manartv.com. Click on "Programs," then on "Perspective."

۷۱ ۔ David Hoffman, "Beyond Public Diplomacy," Foreign Affairs, March-April 2002, Volume 81, Issue 2, p. 5 of online version

۸۱ ۔ Dr. Ayesha Imam on "Metro Morning," CBC Radio (Toronto), December 3, 2002

۹۱ ۔Riffat Hassan as quoted by Elaine Kamarck, "Freedom through Islam," Toronto Star, February 15, 2002

۰۲ ۔ترکی میں مسلمان عورتوں نے شکایت کی ہے کہ وہ یونیورسٹی کی کلاسوں اور حتکہ پارلیمنٹ میں جانے سے روک دی جاتی ہیں اگر انہوں نے حجاب اوڑھا ہوا ہو۔ مزید تفصیلات کےلئے پڑھئے۔ Julie Salamon, "Seeking a Global Faith in the Details," New York Times, May 9, 2002



۱۲ ۔میں نے یہ ترجمہ اِس حوالہ سے لیا ہے۔ Albert Hourani, A History of the Arab Peoples (New York: Warner Books, 1991), p. 17

۲۲ ۔Mohamed Elmasry (President of the Canadian Islamic Congress), "Another leaf," Globe and Mail letters, February 6, 2002

۳۲ ۔ Sheila Dropkin, "Wake Up Arafat," Globe and Mail letters, February 7, 2002

۴۲ ۔Interview with Rabbi David Hartman, Jerusalem, July 9, 2002

۵۲ ۔ Edgar M. Bronfman, "The Boos: A Mideast Moment," New York Times letters, May 14, 2002

۶۲ ۔ meet God.'" Source and note: Rabbi Jonathan Sacks, The Dignity of Difference: How to Avoid the Clash of Civilizations (London, New York: Continuum, 2002), p. 59

ممکن ہے تھیلے آرتھوڈوکس یہودیوں سے زیادہ فرق ظاہر کرتے ہوں، مگر وہ اُن سب سے زیادہ اختلاف کو برداشت کرتے ہیں۔ یروشلم کے مئیر یوری لوپولیانسکی ایک الٹرا آرتھوڈوکس یہودی ہیں، جنہوں نے انتخاب اِس نعرہ کے ساتھ لڑا، ”جیو اور جینے دو“۔ وہ جیت گئے۔ اپنے لفظوں کے ساتھ سچائی کا ثبوت دیتے ہوئے مئیر لوپولیانسکی نے ۳۰۰۲ءیروشلم کے اندر ہم جنس پرستوں کی پریڈ کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ”ہر کسی کی پریڈ ہوتی ہے“۔ اُس نے قدامت پسنداحتجاجیوں کو یاد دلایا کہ اُسے بھی کسی پریڈ میں جانا ہے۔ جو اُس کا حق ہے۔ مزید حوالہ دیکھئے۔ Mitch Potter, "Cavalcade of rainbow flags raises tension in Jerusalem," Toronto Star, June 21, 2003

۷۲ ۔Rabbi Jonathan Sacks, Ibid., p. 60

۸۲ ۔ کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنے والے وفد میں شریک میرے دوست طارق فتح نے مجھے بتایا۔

۹۲ ۔Lily Galili, "Liberal Islam in Asiatic dress," Ha'artezdaily.com, February 23, 2003

۰۳ ۔Fareed Zakaria, The Future of Freedom: Illiberal Democracy at Home and Abroad (New York: W.W. Norton, 2003)

۱۳ ۔ "MEMRI Special Report – Arab Antisemitism," No. 9, November 1, 2002میرا ایک دوست عربی زبان کی باریکیوں کا ماہر ہے جس نے دوبار MEMRI کے ترجمے کو چیک کیا۔

MEMRI نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ”مارچ ۳۰۰۲ءمیں الاظہر یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار اسلامک ریسرچ نے عہدِ حاضر کے یہودیوں کو ’سور اور بندر‘ نہ کہنے کےلئے سفارشات مرتب کیں۔ جس میٹنگ میں اِن سفارشات کو پیش کیا گیا، اُس اجلاس کی صدارت سنی اسلام کے اعلیٰ مرتبت عالم ، الاظہر کے شیخ،محمد سید تانتوی نے کی۔ غور فرمائیے کہ مذمت کے استعمال کے خلاف یہ فقط سفارشات تھیں، فرمان جاری نہ ہوا۔ اس طرح کے موقع پر اگر فتویٰ کی ضرورت ہو تو وہ فتویٰ کہاں ہے؟ مزید تفصیلات کےلئے دیکھئے۔ Yigal Carmon, "Harbingers of Change in the Antisemitic Discourse in the Arab World," MEMRI Inquiry and Analysis Series – No. 135. Download at www.memri.org

۲۳ ۔MEMRI Special Dispatch Series – No. 59, November 19, 1999

۳۳ ۔MEMRI Special Report – No. 2, February 8, 1998

۴۳ ۔میں نے پہلی ای میل ۲۲فروری ۳۰۰۲ءکو بھیجی۔ دوسری اور ہنوز جواب طلب ای میل ۴۲فروری ۳۰۰۲ءکو روانہ کی۔ اُس ای میل میں میں نے سڈنی شپٹن ، تین مذاہب کے فورم کے کوآرڈینیٹر، کو لکھا۔ ”مجھے اعتراف ہے کہ میں اس ادارے کے سربراہ کےلئے شیخ تانتوی کے نام پر اُلجھن کا شکار ہوں۔ مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، شیخ نے یہودیوں کے خلاف (اسرائیل کی بات نہیں) خاصے بھڑکا دینے والے کلمات کئی سالوں سے آج تک، اوسلو کے امن منصوبے اور اُس کے بعد، کہے ہیں۔ حال ہی میں گزشتہ اپریل (۲۰۰۲ئ) میں اُس نے یہودیوں کو ’اللہ کے دشمن ، سوروں اور بندروں کی اولاد‘ کہا ہے۔ تین مذاہب کے فورم کی نوعیت کی بناءپرادارہ کیوں ایک ایسے شخص کو سرپرست رکھے ہوئے ہے جس کے خیالات اس طرح کے ہوں؟ میں کشادگی کے جذبے کے تحت یہ پوچھ رہی ہوںاور آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔“ مجھے ابھی تک اِس کا جواب نہیں ملا۔

۵۳ ۔ Posting on the Middle East Abrahamic Forum, September 11, 2002. [Visit the forum.]انگریزی کے حصہ میں اِس حوالہ کو کلک کر کے فورم کی ویب سائٹ کا جائزہ لیجئے۔

۶۳ ۔بلاشبہ انٹرنیٹ پر ایرانیوں کے بڑھتے ہوئے’بلاگز‘نے جمہوریت نواز احتجاج پر خاطر خواہ اثر چھوڑا ہے۔

۷۳ ۔ Martin Luther King Jr. "Letter from Birmingham Jail," April 16, 1963. Download at www.nobelprizes.com

۸۳ ۔ اس ضمن میں مزید پڑھنے کےلئے دیکھئے۔ Anthony W. Marx, Faith in Nation: Exclusionary Origins of Nationalism (London and New York: Oxford University Press, 2003). A good primer is provided by Alexander Stille, "Historians Trace an Unholy Alliance: Religion and Nationalism," New York Times, May 31, 2003

۹۳ ۔Charles Jacobs, "Why Israel and not Sudan, is singled out," Boston Globe, October 5, 2002

۰۴ ۔یہاں جس عالم کا تذکرہ ہے اُس کا نام عبداللہ الفیصل ہے۔

۱۴ ۔ Michel Houellebecq, Lire, September 2001, p. 4 of online transcript. Download at www.lire.fr

۲۴ ۔ Oriana Fallaci, The Rage and the Pride (New York: Rizzoli, 2001), p. 137

۳۴ ۔Lionel Jospin (speech to Foreign Policy Centre), London, July 23, 1998

۴۴ ۔Women Key to Effective Development," World Bank issues press backgrounder, December 6, 2001. See also Engendering Development 2001, World Bank Research Report

۵۴ ۔ Peter Stalker, The No-Nonsense Guide to International Migration, p. 50

۶۴ ۔UN Arab Human Development Report 2002کے مصنفین اِس بات سے متفق ہیں۔ "Arab Governance: Citizens Getting Organized to Bargainکے عنوان والے باب میں مصنفین لکھتے ہیں، ”پہلے بہت ساری حکومتیں روزگار، مراعات اور راغیب کی ضمانت دیتی تھیں۔ آج مالی دباﺅ نے اِن حکومتوں کو ایسی مراعات پیش کرنے سے روک دیا ہے۔ حکومتوں کو اپنا کاروبار چلانے کےلئے ٹیکس کے پیسہ پر دارومدار کرنا ہوتا ہے اور یہ فعل شہریوں کو حکومت میں اپنی آواز بلند کرنے کا مزید اختیار ودیعت کرتا ہے۔ “

۷۴ ۔DAWN, December 21, 2002.