photo

Book

book cover

The Trouble With Islam Today: A Muslim's Call for Reform in Her Faith. Published in more than 30 countries and languages.

Learn More

Buy the US paperback
Amazon | Barnes & Noble

Audio Book

Audio Book

The Trouble With Islam Today, narrated in English by Irshad Manji, with music by Deeyah and Gary Justice.

Buy Now

Free Translations

For where the book is banned, censored, or difficult to access:

button
button
button_lang button button

Reformist Quran

2.jpeg

A progressive, 21st-century translation -- in English. The U.S. publisher bailed on it after the Prophet Muhammad cartoon riots. But fear didn't stop the translators.

Read and interpret for yourself.

Urdu Edition

اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ



 

زیادہ عرصہ کی بات نہیں ہے، شمالی امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں میں کسی ہفتہ کے موقع پر خدا اور ہم جنسوں کے موضوع پر اظہارِ خیال کر رہی تھی(۱)۔ میرا موضوع عالمگیر اتحاد کے حوالے سے تھا جو عیسائیت سے شروع ہوتا ہوا یہودیت اور اسلام کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تینوں مذاہب کے لوگوں اور دیگر سننے والوں سے لیکچر ہال بھرا ہوا تھا۔ فقط ایک جتھا تیار ہو کر آیا۔ مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ایم ایس اے) نے اپنے ارکان کی ایک بٹالین بھیجی جو ہال کے گھیر پر ایک قطار میں کھڑی تھی۔ وہ سب کھڑے تھے تاکہ میں جب بھی اپنے نوٹس سے نظر اٹھا کر جس سمت بھی نگاہ کروںمیں اسلام کے معتبر اور نامطمئن چہروں کو دیکھ سکوں۔

سوال و جواب کے دور میں میں نے اپنے سننے والوں کےلئے ایک استفساریہ اعتراض اٹھایا۔ اگر اسلام ایک ’سیدھا راستہ ‘ ہے تو پھر گھمن گھیریوں پر کیوں عمل ہو رہا ہے؟ کیوں مشرقِ وسطیٰ سے میری ایک دوست اسلام کو ایک ترقی پسند قوت کہتی ہے، صرف یہ جانتے ہوئے کہ اُس کے پاس اپنے حجاب کو ڈیزائن کرنے کا اختیار ہے، جبکہ ایک دوسری دوست پاکستان سے مجھے پوسٹ کارڈ ارسال کرتی ہے جس میں ایک عورت کے جسم کے گرد تھیلا سا چڑھا ہوا ہے جس سے بمشکل دیکھنے یا سانس لینے کےلئے ایک درز ہے؟ (نیچے لکھا ہے، ’پشاور سے سلام!‘ یہ پوسٹ کارڈ طالبان کے زمانے کی فخریہ یاد ہے)۔ میری یہ بتانے کی کوشش تھی کہ اسلام بہت سارے معاملات میںاتنا سہل نہیں جیسا مسلمانوں کو بتایا گیا ہے۔

وہ نقطہ بعد میں ہونے والے غل غپارہ میں ہی گم ہو گیا۔ ’عمل میں کیوں فرق ہے؟‘ ایم ایس اے کا ایک رکن کمرے کے پیچھے سے چلایا۔ ’کیونکہ پاکستانی صحیح مسلمان نہیں ہیں، وہ ’کنورٹس‘ ہیںاسلام تو عربوں پر اُترا تھا‘۔ اِس پر اُس کے جنوبی ایشیائی رفیقوں نے اپنے سر میری طرف سے پھیرے، اُس پر وحشت اور ضرررسانی کے انداز کے ساتھ چڑھ دوڑے۔ ایم ایس اے کا ہم جنس پرست مخالف بریگیڈ میری نظروں سے غائب ہو گیا۔

اگلے روز ایک پاکستانی عورت نے مجھے ای میل بھیجی۔ وہ مجھ سے اُس طالبعلم کے بارے معافی مانگنا چاہ رہی تھی جو مجھے مسلسل گھورتے ہوئے جھپکا دینا چاہتا تھا۔ وہ میرا کچھ نقصان نہیں کر سکا، میں نے لکھا۔ نقصان تو ہوا ہے، اُس نے جواباً لکھا۔ اپنے عرب ساتھی کی تشریح کہ وہ تو فقط ایک مقلد مسلمان ہے پر وہ رات بھر غور کرتی رہی۔ ’میں ہم جنسوں کو چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہوں‘، اُس نے زور دیا، ’مگر میں یہ کہوں گی کہ میں تمہیں حواس باختہ کرتے سمے اچھا محسوس نہیں کر رہی تھی‘۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق دلیل کا جواب دلیل سے دینا ہوتا ہے۔ میں صرف یہ نہیں جان سکی کہ ’اصل حکم‘ سے کس طرح اختلاف کرتے ہیں؟ مزید بعد کی ای میلوں میںاُس نے وضاحت کی کہ اُس کی مراد عرب کے ’اصل حکم‘ سے ہے۔ وہ یہ جاننا بھی چاہ رہی تھی کہ اُس کی تنظیم میں عرب نسل پرستی سے کس طرح نپٹا جا سکتا ہے؟

میں نے ’کیویر ٹیلیویژن “ پر اپنے عرصہ کے دوران یہی سمجھنے کی کوشش کی۔ مسلمان ناظرین کی ایک بڑی تعداد نے میرے مذہبی مبادیات کو خالصتاً نسلی بنیادوں پر چاک چاک کر کے رکھ دیا۔ ایک ’فخریہ عرب‘ کے ایک پسندیدہ خط نے مجھے جھوٹی اور ہم جنس پرست سورنی کا خطاب دیا کیونکہ بقول اُس کے مجھے ایک ’انڈین گنوار‘ کو اسلام کی کیا سمجھ ہو سکتی ہے۔ مجھ پر رحم کھائیے۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ بچپنے میں میری زندگی پر عربیت کا اتنا اثر تھا کہ جب مجھے بچے ’پاکی‘ کہتے تھے تو میں انہیں یہ کہتے ہوئے لڑ پڑتی تھی کہ میں اصل میں عرب تھی۔ وہ ناظرین جو مجھے سورنی کہتے تھے، میںاُنہیں فقط یہ جواب دیتی تھی کہ ہم مسلمان سور نہیں کھاتے، لہذا آپ کی بات میں کوئی وزن ہے کہ ہم سور ہو سکتے ہیں؟ وہ شے جس پر وہ ’ننگا‘ ہو جاتا تھا وہ تھیں اُس کی گالیاں۔

اُن دنوں مجھے ایک بڑا نقطہ نہیں سوجھا تھا۔ جو اَب سوجھتا ہے۔ یہ بانی کے اعزاز کے بارے ہے۔ جب عرب اسلام کا ایجنڈا تشکیل دینے کے اعزاز کی بات کرتے ہیں، وہ اِس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کیسے تقلید نے دانش کی جگہ لی۔ جس طرح عرب ذہن کنفیوژن کا شکار ہو چکا ہے اُسی حساب سے مسلمان ذہن بھی اُلجھا ہوا ہے۔۔جیسے تمام مسلمانوں کو ایک بھڑی ہوئی قطار میں مارچ (یا لنگڑا کر) کرناچاہئے۔ ’ہم اتنے سمارٹ کہاں ہیں“ یہ پوری اسلامی دنیا میں گیارہ ستمبر کے حوالے سے عام پیش کی جانے والی وضاحت ہے کہ مسلمان گیارہ ستمبر کے سانحے کا پلان بنانے میں کیوں ممکنہ حد تک ملوث نہیں ہیں(۲)۔ ’بوجھو کون والی‘ یاوہ گوئی میں یہودیوں کی سازشوں کو نمایاں کیا جاتاہے۔ ہمیں اِس بات پر حیران نہیں ہونا چاہئے کہ یہ تھیوریاں مشرقِ وسطیٰ میں آناً فاناً پھیلائی گئیں، جہاں اسرائیل خاص دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ مگر یہ الزام کہ یہودیوں نے گیارہ ستمبر کا پلان بنایا، بڑے یقین کے ساتھ پاکستان، سنٹرل ایشیااور شدت کے ساتھ جنوب مشرق ایشیا کی روایتی کثیر الثقافتی مسلمان کمیونٹیوں میں پھیل رہا ہے ، جہاںکے بارے عربوں کا یہ بغض ہے کہ رنگ برنگے لوگوں کا اسلام کے ساتھ کیا تعلق۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آج مسلمان اُس طرح ایک بین الاقوامی برادری نہیں ہیں جس طرح ایک عرب قبیلے کی صورت ہیں(۳)۔

یہ ایک عرب قبیلہ ہے، اِس سے کم تر نسل کے لوگ اپنی اطاعت کو شیوخ کے حضور پیش کریں۔ شناخت، تحفظ نہیں، کا دارومدار تقلید پر ہے۔ شاید اسی لئے فلسطین اسرائیل تنازعہ، تمام منطقی اعتبار سے ایک علاقائی جنگ، دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی آزمائش کا امتحان بن چکی ہے۔ حقائق کی مدبرانہ جانچ پڑتال نہ صرف غیر متعلقہ ہو چکی ہے بلکہ اِس کی ضرورت پر بھی زور نہیں دیا جاتا۔ قبائلی تعلق کے مان کی خاطرہر چیز کو درست قرار دینا ہی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔جہاں دیدہ صحافی فرید ذکریا ۳۰۰۲ءمیں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’آزادی کا مستقبل‘ میں میرے نقطہ کی توثیق کرتے ہیں، ’انڈونیشیا کے مسلمان جنہیں بیس سال قبل یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ فلسطین کہاں ہے، آج فلسطینیوں کی خاطر جہادی بننے کو تیار ہیں۔ عرب اثرات تو آرکی ٹیکچر تک میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اپنی عمارتوں پر اسلامی دنیا عرب اثرات کو مقامی رنگ میں ملا کر رکھ دیتی ہے جیسے ہندو، جاون اور روسی ثقافتوں میں۔ مگر جیسے انڈونیشیا اور ملائشیا میں مقامی ثقافتوں کو بھی نظر انداز کیا جانے لگا ہے کیونکہ وہ خود کو کافی حد تک اسلامی (یعنی عرب) نہیں دیکھ پا رہے(۴)‘۔

شاید یہ صحرائی ذہن کا انداز ہے جو ’حصار‘ (ڈمی چیود) کو ایجاد کرتا ہے، مسلمان دنیاﺅں میں یہودیوں اور عیسائیوں کو منظم طور پر دبانے کی کوشش۔ حتکہ کیوں ہماری رواداری کے اعلیٰ دور میں بھی مخصوص لوگوں کو کم تر جانا جاتا تھا؟ کس بات نے نسلی منافرت پر مبنی دستاویز معاہدہ عمر کو جنم دیا؟ جو قرآن پر بھی فوقیت اختیار کر گیا، قرآن غیر مسلموں سے محبت کی گنجائش دیتا ہے ۔ پھر کس بات نے کٹر پن کی حدود کا تعین کیا؟ مجھے یہ نقطہ نظر پیش کرنے دیجئے: صحرا میں مساوات پیدا نہیں ہو سکتی بالکل نہیں اگر قبیلے کی نسل ایک رکھنا مقصود ہو۔

شایدیہی صحرائی قبائلی نظام کی گرفت ہے کہ فلسطینی خودکش بمبار وں کا دارومدارعرب آمروں کے فرمان پر ہوتا ہے(۵)۔ صحرائی قبیلے کی پدرانہ شفقت کا یہ مطلب ہے کہ خیر شیوخ کی مرضی سے قطرہ قطرہ کر کے ٹپکتی ہے۔ اس حوالے سے ’ہمیں بہت زیادہ خود تنقیدی درکار ہے‘، یہ بات ڈاکٹر ایاد سراج نے غزہ میں اپنے مرصع گھر میں بیٹھے جولائی ۳۰۰۲ءمیں کہی۔ وہ غزہ کمیونٹی مینٹل ہیلتھ پروگرام کے بانی ہیں۔ وہ ایک ایسے فلسطینی ہیں جن کی صاف گوئی نے یاسر عرفات کو اُنہیں گرفتار کرنے پر مجبور کیا۔ ڈاکٹر سراج اُس خود مسلط خوف اور احساس کا ذکر کر رہے تھے جس سے اسرائیلیوں کا بطور استحصالی حلیہ بگاڑا جاتا ہے اور پھر انہوں نے اپنے لوگوں کے بارے یہ بات خود ہی کہی، ’مجھے اندازہ ہے کہ ہمارے بہت سارے نفسیاتی عوارض ہیں۔ یہ مردوں کا معاشرہ ہے جہاں عورت کا کوئی کردار نہیں ہے، یہاں پر اندھی پیروی کی بوجھل فضا ہے۔۔۔ یہ ایک قبائلی نظام ہے جہاں اختلاف کو بغاوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہم نے ابھی تک تمام عرب ممالک کے اندر باشعور شہریت کی ابتدا ہی نہیں کی جہاں تمام لوگ قانون کے سامنے برابر ہوں۔ یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔‘

میں اس بات کو تسلیم کرتی ہوں۔ راجا شہادھے رمالا میں کھل کر بول نہیں سکے تھے کیونکہ وہ خود مانتے تھے کہ فلسطین میں سماجی تعلقات کا بچھا جال فرد کی آزادی کو روند ڈالتا ہے۔ لوگ کم وبیش خود کو ایک زنجیر کے ساتھ بندھے پاتے ہیںجہاں ایک کمزور کڑی ۔۔اختلاف رائے کی آواز ۔۔ کی کوئی جگہ نہیں۔ آپ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں جب آپ الگ تھلگ ہونا چاہتے ہیںکیونکہ آپ کی منزل فقط آپ کی منزل نہیں ہے، یہ آپ کے قبیلے کی ملکیت ہے۔ آپ کی عزت فقط آپ کی عزت نہیں ، حد سے تجاوز کرنے کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے رشتہ دار اکثر اوقات اپنے مہربان کا خیال نہیں۔

اور ممکن ہے کہ یہ اسلام کی صحرائی شخصیت کی وجہ سے ہی ہے ورنہ کیوں ایک مسلمان عورت کو بے عزت ہونے والے کنبے کی تلافی کےلئے زنا کا نشانہ بنایا جاتا چاہے اُس کنبے کی بے عزتی میںاُس عورت کا کوئی کردار نہ ہو بلکہ کسی اور کا ہو۔ مگر چونکہ اُس عورت کا ایسے کنبے سے تعلق ہے، اُس کا زنا کرنے سے اُس کے کنبے کی بے عزتی مقصود ہے، عورت کو خاندان کی خونی نسلوں میں ایک مہرے کے طور پر استعمال کرنا مقصود ہے۔

’یہ اسلام نہیں ہے!‘ آپ میں سے کچھ احتجاجاً کہیں گے۔ ’ پوری ملت اسلامیہ کا طرزِ عمل مذہبی اور غیر مذہبی اقدار کا ملاپ ہے!‘ یہ صحیح ہے نا، اِسی لئے یہ سوال ابھرتا ہے، کیا صحرا کے رواجوں کو اسلام سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے؟ اگر کیا جا سکتا ہے لیکن اگر واقعی ہی کیا جا سکتا ہے تب تو ہمارے پاس اصلاحات کے مشکل راستے کی کوئی امید ہے۔

اگر آپ اس بات کے بارے سوچیں تو میں آپ کو اِس کا جواب دینے پر چیلنچ کرتی ہوں: کیوں مذہب کےلئے مقامی رواجوں سے رہائی پانا اتنا مشکل ہے۔۔ قبائلی رواجوں سے ۔۔ کیااسلام کی شروعات کی غرض سے کسی ٹھوس قبیلے کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہر مذہب کا اپنا ایک الگ انداز ہوتا ہے، اُس کے ذہن اور شریر کے تانے ہوتے ہیں۔ اسلام کے صحرائی قبائلی نظام میں کیا کچھ شامل ہے جو استحصال کی سطح پر مرتبوں کو متعین کرنے کا فضیلہ سرانجام دیتا ہے؟

غابر اصفور ایک مصری مصنف ہیںجو نتارا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیسے ’صحرا کے اسلام‘ نے اُن کے اپنے ملک کی اوپر نیچے ہونے والی طوفانی روایات کے ساتھ ملاپ کیا۔ صحرائی اسلام کے بارے اُن کی رائے ہے، ’یہ الحرا ۔۔ تنگ راستوں والے شہری بازاروں ۔۔کی ہمہ جہت اور مول تول والی زندگی کے خلاف ہے، یہ شدت پسند ہے(۶)‘۔ ساتویں صدی کے بدوﺅں کی طرح، جنہوں نے ہر موڑ پر پشتینی جھگڑوں کو اُن لوگوں کے خلاف آگے بڑھایا، صحرا متاثر اسلام پسند نفرت کو تو فوری جنم دیتے ہیں۔ ’دوسرے‘، اس کا مطلب ہے کہ یہودی، اس کا مطلب ہے کہ مغربی لوگ۔ اس کا مطلب ہے کہ عورتیں جن کے بارے اصفور کہتے ہیں کہ اِن کا شمار صحرا کی ثقافت میں بطور ’برائی اور شہوت کا منبعہ(۷)‘ ہوتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی دولت نے صحرا کی گھناﺅنی عادات کو پھیلایا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ اِن عادات نے اسلام کی تشکیل کافی عرصہ سے کی ہوئی ہے اِس سے پہلے کہ ہم ایسا ہونے دیتے۔

تسلیمہ نسرین، بنگلہ دیش کی جلاوطن مصنفہ اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر، نے مجھے ایک ٹھوس مثال دی جو اُن کے تجربے کا حصہ تھی سعودیوں کے امیر ہونے سے پہلے کے دور کی۔’بچپن میں‘ اُن کا کہنا تھا، ’مجھے بتایا گیا اللہ ہر شے کو جانتا ہے۔ ہر شے سے مراد ہے ہر شے۔ لہذا اللہ کو بنگالی بھی آنا چاہئے، کیا اُس کو نہیں آتی؟‘ وہ اپنی ماں سے پوچھتیں۔ ’ایسا کیوں ہے کہ میں عربی میں نماز پڑھوں؟جب میں اپنے اللہ سے کلام کرنا چاہوں، کیوں میں دوسرے کی زبان سے کروں؟‘ اُس کی ماں کوئی وجہ بیان نہ کر سکے، بس روایتی باتیں دہرا دے۔ ’ وہ قرآن کو اس لئے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی تھی کہ حدیث میں لکھا ہے کہ جب تم مرو گے تو دو فرشتے آئیں گے جو روح سے سوال کریں گے۔ اِن سوالوں کے جوابات عربی میں دینا ہوں گے بصورتِ دیگر تمہاری قبر بہت تنگ کر دی جائے گی۔ کیوں وہ فرشتے بنگالی نہیں جانتے ہوں گے؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے خدا مسلمانوں کے ذہنوں پر سوار ہو گیا ہے ، قابض ہو گیا ہے(۸)‘۔ اُس کےلئے بالغ شخص کو مذہبیات کو چیلنج کرنا چاہئے، نسرین کو ۴۹۹۱ءمیں اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ وہ اَب سویڈن کے کسی نامعلوم مقام میں رہتی ہیں۔

اُس کی ماں کی عربی کےلئے تقدیس سے مسٹر خاکی اور اُن جیسے لاتعداد مسلمان یاد آتے ہیں۔ میں آج تک اس بات کو نہیں سمجھ سکی۔۔ سرخم تسلیم کر لینا وہ بھی زبان کے آگے۔ کیا عیسائی ایک دوسرے کو یونانی زبان نہ جاننے کی وجہ سے کمتر گردانتے ہیں، یونانی جو نئے عہدنامہ کی زبان ہے؟ ایک وقت تھا کہ عیسائی عبادات فقط لاطینی زبان میں ہوا کرتی تھیں، جس سے ویٹیکن پادریوں کی طاقت برقرار رہی۔ مسلمانوں کے پاس کوئی ویٹیکن نہیں ہے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ مجھے بھی تسلیمہ نسرین کی طرح خدا سے رابطے کےلئے ایک ایسی زبان استعمال کرنے کا کہا گیا جو میرے لئے اُسی طرح تھی جس طرح یونانی ہو سکتی ہے۔ کیوں عربی کی جگہ کوئی اور زبان نہیں لے سکتی؟ یقیناً! اللہ کا پیغمبر کےلئے پہلے لفظ تھا، ’پڑھو!‘ اور عربی ہی وہ زبان تھی جس میں انہوں نے پڑھا۔ تاہم جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ محمد پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے۔ یہ بات مسلمانوں سے کوئی پوشیدہ نہیں۔ خدا کے احکام پڑھنے کے حوالے سے اُن کی قابلیت معجزوں سے ظاہر ہوئی،اپنی آبائی زبان کی فوقیت سے نہیں۔

مجھے تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ عرب تہذیب کے بادشاہوں نے خدا کو ’آل مائٹی‘ کے بت کے مقابلے میں کھڑا کیا۔ قرآن کا اصرار ہے کہ ’خدا ہی ہے جو مشرق ومغرب کا مالک ہے، تم جس طرف بھی رخ کرو خدا تمہارے سامنے ہو گا(۹)‘۔ کیوں پھر مسلمان دن میں پانچ دفعہ مکہ کی طرف جھکتے ہیں؟ کیا یہ صحرا کی طرف جھپٹنے کی نشانی نہیں ہے؟

مجھے بے شک سطحی کہئے مگر صحرائی قبیلوں کی نشاندہی اُس لباس سے بھی کی جا سکتی ہے جو مسلمان پہنتے ہیں۔ عرب کی سرزمین سے باہر کروڑوں مسلمان عورتیں، بشمول مغرب، خود کو ڈھانپتی ہیں۔وہ مانتی ہیں کہ یہ مذہبی جھکاﺅ کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ کلچر کی اطاعت قبول کرنے کی نشانی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ کہاں سے ایرانی عورتوں نے بعد از انقلاب کی چادر کا ڈیزائن حاصل کیا۔۔(۰۱) ایسا ڈیزائن جو آپ کے ایک بال کو بھی نظر نہ آنے دے؟ ایک عالم سے جو لبنان میں شیعوں کا رہنما تھا۔ اَب یہ تو بہت ’ہیوی ڈیوٹی امپورٹ‘ ہو گئی۔ جبکہ قرآن نے پیغمبر کی بیویوں کوبرقعہ پہننے کا کہا تھا، اُس نے کبھی بھی باقی عورتوں کو یہ فعل کرنے کا فرمان جاری نہیں کیا تھا۔ برقعہ عورت کو ریت اور گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔۔ جس کو عین اُسی طرح عرب سرزمین سے پرے افریقہ کے صحاران اور آسٹریلیا کے صحرا میں لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ میں بند گلے والا سویٹر اور بیس بال کی ٹوپی کو مذہبی ضروریات پورا کرتے ہوئے اپنا سکتی ہوں۔اپنے چہرے کو ڈھانپنا، ’جو مجھ پر کرنا واجب ہے‘، عرب صحرا نواﺅں کی فتح سے کچھ کم بات نہیں ہو گی، جن کا انداز ایمان کاایک معتبر حصہ بن چکا ہے کہ کس طرح ایک مسلمان عورت کو اپنا آپ لپیٹنا چاہئے۔ مجھے بتائیے کہ کیا اللہ برقعے کی طرح کام کرتا ہے؟

صحرائی لوگوں کی لباس، زبان اور عبادات میں طوطے کی طرح نقل کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم کائناتی خدا کی پیروی کر رہے ہیں۔ لیکن آپ کو وہ قصے کہانیاں شاید معلوم نہیں ہو نگے جن کی بنیاد پر اسلام صدیوں تک پھیلایا گیا۔ اِن قصے کہانیوں نے غیر عرب مسلمانوں کو عرب آقاﺅں کا گاہک بنا دیا۔۔ ایسے گاہک جن کو اسلام کی ’روشنی‘ کے نام پر ہر اُس شے کو خریدنا ہے جو اُن کو بیچی جائے۔

میرے لئے اِن سب قصے کہانیوں میں سب سے بیزارکن جاہیلیہ ہے، وہ اخلاقی ابتری جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل پائی جاتی تھی۔ میں نے حال ہی میں ٹورونٹو کے اندر اپنے ایک عزیز کے ہاں کتاب کی ورق گردانی کی(۱۱)۔ یہ کتاب اسلام سے پہلے دور کو جہالت کا زمانہ قرار دیتی ہے۔ یہ طے کر لیا گیا ہے کہ ساتویں صدی کا عرب جزیرہ بدچلنی اور تشدد میں ڈوبا ہوا تھا، جس سے ایک توحیدی مذہب کی ضرورت اجاگر ہوئی۔ میں اِس بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ مگر قرآن اخلاقی زوال کی بات صرف عرب تاریخ کے حوالے سے کرتا ہے۔ بڑ یہ ہے ، عربوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ بیشتر غیر عرب اقوام جن پر انہوں نے فتح پائی تھی، ذہنی طور پر جاہل اقوام تھیں۔ فاتحین کو وثوق کے ساتھ بتایا گیا تھا کہ چونکہ قرآن اسلام سے پہلے دور کو جہالت سے تعبیر کرتا ہے، پیغمبر محمد سے پہلے ساری دانش توہینِ رسالت کے مترادف ہے اور یہ بات عرب کے باہر بھی اتنا ہی سچ ہے جتنا عرب کے اندر۔ یہ وہ داستان ہے جس نے تسلیمہ کی ماں کو ایک مذہبی روبوٹ بنا رکھا تھا، جو عربی کو احساس گناہ کی تلافی کے طور پر پڑھتی رہتی تھی۔

فرید زکریا کی طرح وی ایس نائیپال نے اِن مضمرات کو بڑے پیمانے پر دیکھا ہے۔ کچھ سال پہلے، نائیپال نے ایران، پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا میں اپنی سفری روئیداد کوتفصیل سے رقم کرنا شروع کیا۔ اُن کی مغربی آمروں سے آزادی کی جدوجہد کو سمجھتے ہوئے، اُسے ’جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ کوئی نوآبادیاتی نظام اتنا اندر تک گھسا ہوا نہیں جتنا عربوں کی نو آبادیت کے ساتھ آنے والا اُن کا عرب مذہب۔۔۔عرب مذہب کے حوالے سے ایک مضمون تھاکہ اِس سے پہلے ہر شے غلط ، گمراہ کن اور ملحدانہ تھی؛ اور اِن ماننے والوں کے دل ودماغ پر محمدن زمانے سے قبل کچھ بھی نہ تھا(۲۱)‘۔ میں نے بہت سارے مسلمانوں کو نائیپال کے بارے نسل پرست کا لقب کہتے ہوئے سنا ہے۔ یہ حیران کن ہے کیونکہ اُس کا نقطہ تو مجھے یہ سمجھانے میں مدد دیتا ہے کہ کیوںمدرسہ میں میں نے بہت ساری اسلامی روایات کا عیسائی یا یہودی منبعہ ہونے کے بارے کبھی نہیں سنا تھا۔ یہ ماننا کہ یہ اثرات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا اسلام سے پہلے عربوں کی کامل حماقت سے متاثر نہیں ہوئی تھی اور جسے عرب مسلمانوں نے اپنے آباﺅ اجداد سے لیا تھا اور یہ کہ وہ انقلابی ہونے کی بجائے دو سروں کے ساتھ دوغلے تھے ۔ مگر یہ سب کچھ کہنے کا مطلب قبیلے سے غداری ہے۔ جو ہم نہیں کر سکتے، کیا ہم کر سکتے ہیں؟

اچھا، ممکن ہے ہم کر سکتے ہوں۔ اِس گھسے پٹے سوال پر غور کیجئے کہ کیا قرآن شروع سے آخر تک خدا کی لکھی ہوئی کتاب ہے؟ اسلام کی پہلی دہائی کے دوران، جوایک نئے مذہب کو سمجھنے کےلئے بہت تھوڑا وقت تھا ، عربوں نے بین الاقوامی سطح پراللہ کے نام پر چند بڑی فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ صاف بات ہے کہ قرآن کی تدوین استعماریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کےلئے جلدی میں کی گئی۔ ایک اہم تحقیقی پس منظر دینے کےلئے ایک مضمون ’قرآن کیا ہے؟‘ دی اٹلانٹک منتھلی میں شائع ہوا جو آذربائیجان سے واپس لوٹنے والے ایک فوجی جنرل کی کہانی بیان کرتا ہے۔ وہ فوجی جنرل پیغمبر محمد کے تیسرے خلیفہ عثمان کو متنبہ کرتا ہے کہ وہاں کے نو مسلموں نے قرآن کیا ہے کے موضوع پر بات بات میں اُلجھنا شروع کر دیا ہے۔ اُس نے خلیفہ کو ہوشیار کیا کہ ’اُن لوگوں پر نظر رکھو‘ اس سے پہلے کہ اختلاف رائے کے ہاتھوں وہ بے بس ہو جائیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی ہو چکے ہیں۔ عثمان نے قرآن کی تدوین کو جلد ختم کرنے کا حکم دیا۔ یاد شدہ الہاموں کو لکھا گیا ہو گا اور بکری کی کھال کے بکھرے پارچوں پر لکھی گئی آیات کو اکٹھا کیا گیا ہو گا تاکہ اِن سب کو ایک قرآن کی صورت میں تقسیم کیا جائے۔ ’نامکمل‘ یا غیر سرکاری کاپیوں کو تلف کیا گیا۔ سوال یہ ہے: جس مسودے کو پہلے عجلت میں تیار کیا گیاتھا وہ کیسے نئے مکمل متن سے کم ’مکمل‘ متن تھا؟

یہاں یہ سوچنے کی وجہ موجود ہے کہ قرآن میں ادھوراپن موجود ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی عرب بادشاہت کی ترجیحات ساتھ ساتھ واضح ہو رہی تھیں۔ جس سے مذہب کو نوآبادیت کے طابع کیا جا رہا تھا لیکن اپنے اوپر اس کا اطلاق نہیں تھا۔ ممکن ہے قرآن کی چند آیات کو سیاسی ضرورت اور مقصد کےلئے استعمال کیا گیا ہو؟کیا یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ عرب جنگجو جو اپنے رواجوں سے نئے مذہب کی نسبت بھرپور طریقے سے واقف تھے، نے اپنے رواجوں کو اسلام میں گھسیڑ دیا ہو اور پھر اُس اسلام کی ترویج کی ہو؟ یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ کیسے صحرائی عربوں کی ثقافتی پٹاری، جیسا کہ قبائلی دیواریں، ہی اصل اسلام کی صورت اختیار کر گئی ہوں۔ اور نہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کیسے اصل اسلام ایک تابعدار اسلام بن گیا۔۔ خدا کا تابعدار کم اور اُس کا جشن منانے والوں کا زیادہ۔

البتہ قبائلیت کا شکنجہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں ذرا نرم تھا اور اختراع کی قدرت نے نشوونما پائی۔ ہم اِس بات کا کیسے حساب لگائیں گے کہ سنہری دور کی تجارت، مباحث اور ثقافت کیسے باہم بوئی گئیں؟ اس کی ایک پیداوار ایک کھلے دل کے سائنسدان اور فلسفی الکندی تھے، جنہوں نے’پہلے سے آباد لوگوں اور نوآورد لوگوں‘ کےلئے ’بہت زیادہ ممنونیت‘ کا اظہار کیا کہ’اگر یہ ایک ساتھ نہ رہتے تو ہمارے لئے ناممکن ہوتا، ہماری تمام تر دلجمعی کے باوجود، ہماری پوری زندگیوں کے دوران کہ ہم سچائی کے اصولوں کو سمجھ سکتے۔۔۔(۳۱)‘؟ قصہ مختصراً، کیا درست ٹھہرا؟ میں سوچتی ہوں کہ کیا یہ مستقبل کا تصور تھا؟

فوجی فتوحات حاصل کرتے چلے جانے کا یہ نتیجہ نکلا کہ عربوں نے محسوس کیا کہ اَب اُن کا مستقبل محفوظ اور قابلِ فخر ہے۔ جس کا دوسرے لفظوں میں یہ مطلب تھا کہ اسلام کو سخت گیر بنانے یا سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی بہتر تھا کہ اسلام کو لچکدار حیثیت سے پیش کیا جائے تاکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی سلطنت کا پیغام بھی پھیلے اور اُس کا نظم و نسق بھی چلتا رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ مذہب اور سیاست کو جدا نہیں کر سکتے تھے مگر آپ مطلق العنانیت اور عزت کو الگ الگ رکھ سکتے تھے۔ یہ احساس کہ مطلق العنانیت سے عزت حاصل نہیں کی جا سکتی، کی وجہ ہی تھی کہ حریص آمروں نے اُس وقت کے بہترین دماغوں کو اکٹھا کیا۔ جو یہودیوں اور عیسائیوں کے تھے، اور بلاشبہ غیر عرب مسلمانوں کے بھی تھے۔ یہ غیر عرب تھے جنہوں نے سنہری دور تک اور اُس کے دوران اسلامی قوانین تشکیل دئیے۔ قریب ایک سو پینتیس مکتبہ ہائے فکر سامنے آئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب مسلمانوں نے اپنے قبائلی ماضی اور کثیر الثقافتی مستقبل میں ایک توازن ڈھونڈا۔

اس سارے معاملے میں ایک دوسرا سبق بھی ظاہر ہوا۔جب عرب مسلمانوں سے سلطنت چھن گئی، انہوں نے ماضی اور مستقبل، قبائلیت اور رواداری کے درمیان توازن قائم کرنے کی پاداش میں حرجانہ بھی بھرا۔ وہ غیر عربوں کے ساتھ لڑائیوں میں نیچے جاتے گئے، بربریوں سے لے کر منگولوں تک، صلیبی جنگیں لڑنے والوں سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ کے ترکوں تک۔ یہ شکستیں جہاں دیدہ عرب جنگجوﺅں کی ہزیمت کا باعث بنیں۔ اِس سے بھی آگے، اگرچہ اِن کے ذہنوں نے ہار قبول کر لی تھی ، کہا جاتا ہے کہ منگولوں نے تیرہویں صدی میں لاکھوں نسخے ٹگری دریا میں بہا دئیے تھے۔ جس کے پانی، ایک رقیق القلب مسلمان کا کہنا ہے، ’کئی دنوں تک سیاہی اور خون سے سیاہ رہے(۴۱)‘۔ جہاں تک صلیبی جنگوں والوں کا تعلق ہے، انہوں نے آسمان کے نیچے بھاری بھرکم الاﺅ جلائے جن کو پادری ایک وقت میں اسی ہزار جلدوں سے آگ لگایا کرتے تھے۔ اَب یہاں پر یہ استعارہ پوشیدہ ہے کہ عربوں نے اپنا مستقبل کس طرح دیکھنا شروع کیا، ڈوبا ہوا، راکھ شدہ یا غضبناک۔ اُن کو مرہم پٹی کی ضرورت تھی۔

اَب ایک ہی غیر متنازعہ جیت تھی جس پر صحرائی عرب دعویٰ کر سکتے تھے، وہ اسلام کے معرضِ وجود میں آنے والی گھڑی کے بارے تھی، وہ یہ کہ قرآن عرب کے دل سے نکلا، عربی زبان میں، جو اِس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کا ’آخری‘ کلام ہمیشہ عربوں کی نمائندگی کرے گا۔ کوئی دوسرا شخص جغرافیائی یا روحانی طور پر اتنا قریب نہیں ہو سکتا۔ لہذٰا اِس نظر فریب وارفتگی کے بعد تقدیس بھی یہاں پر ختم ہوتی ہے اور حتکہ نجات بھی ۔ مگر یہ مرہم پٹی بم ثابت ہوئی۔ ماضی اور مستقبل کا یہ مخدوش توازن آہستہ آہستہ ماضی پرستی کے دفاع پر منتج ہوتا چلا گیا۔۔ اور خاص طور پر بنیادپڑنے کی گھڑی کی صورت اختیار کرتا گیا۔ میں اِس کو ’فاﺅنڈامینٹلزم‘ کا نام دیتی ہوں۔

’فاﺅنڈامینٹلزم‘ نے کئی المیوں کو جنم دیا۔ مذہبی اجارہ داروں، اسلام تک رسائی پانے والوں، نے اسلام کے اصل چوکیداروں کی حیثیت اختیار کر لی۔ اجتہاد، آزاد خیالی، کے دروازوں کو بارہویں صدی میں بند کرنے کے ساتھ مفتیان کرام نے سچائی کا گشت کرانے کی غرض سے پہلے ہی طاقت حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔ جوں جوں سچ تنگ ہوتا چلا گیا، اُن کا اختیار پھولتا چلا گیا، اور اُن کو دانشور کی بجانے سپاہی بنانے لگا۔ ہر نوعیت کی اختراعات مشکوک ہو گئیں اور آخرکار پابندی کا شکار ہو گئیں۔ ’بنیاد پڑنے کی گھڑی ‘ کے ورثاءہونے کی حیثیت سے علمائے کرام نے’اصل ’کامل‘ متن کی طرف رجوع کیا ، یعنی قرآن اور حدیث، اِس بات کا ثبوت ڈھونڈنے کےلئے کہ اِن میں باقی علوم کی تلاش سے چھٹکارے کی کیا صورت ہے۔ پیغمبر کی احادیث میں سے ایک کا انہوں نے بہت چرچا کیا۔ ’نئی باتوں سے ہوشیار رہو، ہر نئی شے ایک اختراع ہے اور ہر اختراع کا انجام غلطی ہے(۵۱)‘۔ مستقبل تعمیر کرنے کا کیا عظیم راستہ تھا، آپ ایسا نہیں سوچتے؟

اختراعات کی تھوتھنی صرف عرب سرزمین تک محدود رہنی چاہئے، اگر اِن کو کسی صورت متعارف کروانا بھی ہو۔ اِس کی بجائے، صحرا سے پرے مسلمانوں کےلئے اختراع مخالف قانون ہونا چاہئے۔ ۹۷۵۱ءمیں ، مثال کے طور پر استنبول میں ایک رصدگاہ قائم ہوئی۔ ۰۸۵۱ءمیں ، علمائے کرام نے اُس کو گرا دیا۔ اپنی تمام تر شہرت کے باوجود، مسلمان دانشور مراد ہوف مان لکھتے ہیں، ’حتکہ قاہرہ کی یونیورسٹی سائنس کے میدان میںباصلاحیت نہ تھی‘۔ صرف چند صدیوں پہلے کی پستی دیکھئے جب اسلام نے پوری دنیا کو فلکیات، ریاضیات، طب اور دیگر علوم سے آشنا کیا۔ بداعمالی دیکھئے، اُسی زمانے کے واقعات میںایک شخص کو ۸۲۷۱ءمیں استنبول اور مسلم دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس لگانے کی اجازت دی گئی۔ ’یہ مسلمانوں کےلئے ضروری ہے، مغرب سائنس میں پہلے ہی آگے ہے، ہمیں اِس روشنی سے محروم نہیں ہونا چاہئے‘۔ ابراہیم میوتی فیریکا نے پریس کا لائسنس لینے کی غرض سے اپنی درخواست میں لکھا تھا۔ ۵۴۷۱ءمیں اُسے اپنی دکان بند کرنا پڑی۔ ملاﺅں نے چھاپہ خانہ پر پابندی لگا دی۔

صرف یہی نہیں ہوا کہ مسلمانوں کی تخلیقی صلاحیت جامد ہو گئی۔ مثال کے طور پر، بیسویں صدی کے آغاز میں ایرانی شہزادی نے حقوق نسواں کی تحریک (کسی حد تک قومی تحریک)کا بھر پور آغاز کیا جو اُس کی ریاست کے آئین پر بھی حاوی ہو گئی(۶۱)۔ اُسے اماموں کی حمایت بھی مل گئی۔ جی ہاں، آدمیوں کی۔ ایران کے شہر اصفہان، ہندوستان کے شہر آگرہ، مراکش کے شہر فیز، یوگوسلاویہ کے شہر سراجیوو۔۔ غرض ہر بڑے شہرجس کی بھی عالمی حیثیت تھی، میں مذہب زدگی چھوٹی موٹی بغاوت کے مترادف تھی۔ تب اسلام میں مختلف فرقوں کے بھی کوئی خاص معنی نہ رہے تھے۔ کیرن آرم سٹرونگ وضاحت کرتی ہیں، ’شیعوں کی ایک شاخ اسماعیلیوں کو سچائی کی تلاش تھی جہاں سے بھی مل سکے، صوفیوں کی حضرت عیسیٰ کےلئے عظیم رغبت تھی، اور مجذوبوں کےلئے جو ارسطو اور افلاطون کے مطالعے سے بہت متاثر تھے اور جو مذہب کی ایک آفاقی صورت ڈھونڈ رہے تھے(۷۱)‘۔ مگر یہ سب لوگ اور مقامات بیرونی دائرے میں تھے۔ جو تھوڑے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اسلام کی عمومی تعلیمات کو ہلا نہ سکے۔ مگر عربوں نے ہلایا۔

اِس کی ایک وضاحت ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں، صحرا کے ملاﺅں نے سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ مذہبی اصلاح کے ضمن میں تین بنیادی نقاط کو ختم کرنے کےلئے زورازوری کی: افریقہ میں غلاموں کی تجارت میں مسلمانوں کی حاکمیت کو ختم کرنے،عورت کو پردے کے غلاف سے آزاد کرنے اور کافروں کے پیغمبر کی سرزمین پر رہنے کے ضمن میں۔ مکہ کے مفتی اعظم نے استنبول سے آنے والی افواہوں کی بنیاد پر فوری فتویٰ صادر کیا۔ ’غلاموں کی تجارت پر پابندی مقدس شریعت کے خلاف ہے۔۔اُس نے زہر اگلا۔ ’مزید براں۔۔۔عورتوں کو پردے کے بغیر چلنے پھرنے کی اجازت دینا، اُن کے ہاتھ میں طلاق کا اختیار دینا یا پھر اس طرح کی باتیں مقدس قانون کے خلاف ہیں۔۔ ایسی تجاویز سے ترک کافر بن جائیں گے اور پھر یہ واجب ہو جائے گا کہ اُن کی اولادوں کو غلام بنا لیا جائے(۸۱)‘ ۔ اگرچہ اصلاح پسندوں یعنی ترکوں نے عرب مبلغین کو مطمئن کر دیا۔ استنبول کے مرکزی مفتی نے اُنہیں یقین دہانی کرائی کہ ’چند گستاخ لوگ جنہیں دنیا کی اشیاءکی حرص ہے ، نے اِن جھوٹوں کو گھڑا تھااور اپنی مکروہ طور پر خودنمائی کی تھی‘اور اس طرح ’سرکش سلطنتِ عثمانیہ غلطی کا ارتکاب کرنے لگی تھی مگر خدا نے ہمیں محفوظ رکھ لیا(۹۱)۔ میں ’محفوظ رکھنے‘ پر زور دیتی ہوں کیونکہ اسلام میں غلطی کا ارتکاب تو ویسی ہی چیز ہے جو ’فانڈامینٹلزم‘ کا حصہ بھی ہے۔ جیسا کہ مسلمان یورپیوں سے فوجی اور مادی اعزاز میں مزید پیچھے چلے گئے ہیں تو پھر ’فاﺅنڈامینٹلزم‘ ہی پیچھے باقی رہ جاتا ہے۔

اور ’بنیاد ڈالنے کی گھڑی‘ کے خبط کا یہی شاہانہ المیہ ہے۔ مذہبی ’تجدید‘ پر زور پیچھے دیکھنے کےلئے ہے۔ میرا مطلب ہے مستقل۔۔بہت پیچھے چودہویں صدی میں جب اسلامی سلطنت غیر عرب ہاتھوں میں چلی گئی۔ اصلاح پسندوں میں پہلی معروف ہستی، دمشق کے دانشور احمد ابن تمیہ نے منگول حملہ آوروں کو لادین قرار دیا۔ اگرچہ انہوں نے اسلام قبول کیا ہوا تھا مگر چونکہ منگولوں نے شریعہ کو اپنے قوانین نافذ کر کے بے دخل کر دیا تھا۔ جب ابن تمیہ نے منگولوں کی بات سنی ، پیغمبر کے زمانہ میں سیاست اور مذہب میں کوئی لکیر نہ تھی، جس کا مطلب تھا کہ بات منگولوں کی اختراع ہے۔ ناقابلِ قبول۔ ابن تمیہ نے اپنی چابک کو مسلمان فلسفے، صوفی ازم اور شیعہ اسلام تک گھمایا۔ ہر کوئی بعدازمحمد کی اختراع کو اپنائے ہوئے تھا۔ ’ابن تمیہ کا اچانک ہی انتقال ہو گیا‘۔ آپ کے گرداگرد کوئی تاریخ دان شاید یہی کہے۔ وہ بھی اُ س ا بتدائی نقش کی صورت مرے، اپنے پیچھے متاثر کرنے کی وراثت چھوڑتے ہوئے۔۔ یا مستقبل کے اصلاح پسندوں کےلئے پیغام چھوڑتے ہوئے‘۔ اِن میں سے کیا زیادہ اہم ہے۔

میں آپ کو ایک دلچسپ بات سناتی ہوں۔ ۰۵۹۱ءاور ۰۶ءکی دہائیوں میں ایک مصری مرتد سید قطب ابن تمیہ سے براہِ راست متاثر ہوا۔ جنرل ناصر نے قطب کو پھانسی پر لٹکا دیا مگر کئی برس جیل میں بند رکھنے کے بعد۔ قطب کی قیدخانے میں لکھی تحریروں نے نئی اسلامی تحریک میں روح پھونک دی، خاص طور پر مسلم اخوان کی تحریک میں ۔ قرآن اور ریوالور گینگ جس کا میں نے پیچھے ذکر کیا۔ حال ہی میں مسلم اخوان نے منصوبہ سازوں کی تنظیم جنم دی جس سے محمد عطا کا بھی تعلق تھا۔

اور اگر یہ ابن تمیہ کی عصری سوچ کا اثبات نہ کرتی ہو تو یہ دیکھئے: سید قطب کے جلاوطن بھائی نے اسامہ بن لادن کو سعودی عرب میں پڑھایا۔ اسامہ نے کیا سیکھا؟ دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ، جو غیر ملکی تسلط کے دوران ابن تمیہ نے اجاگر کیں تھیں اور اُس کے ساتھ قبر میں چلی گئیں جن کو منگولوں سے نفرت کرنے والوں نے بہت سراہا تھا۔ ابن تمیہ کے سات سو سالوں بعد ہمارے پاس بن لادن کی پٹی ہے جو پیغمبر کی زمین پر غیرملکی حملہ آوروں کے خلاف ہے۔

آج حملہ آور امریکی ہیں۔ پینٹاگون کے ۳۰۰۲ءکے اعلان کے باوجود کہ امریکی افواج کی اکثریت سعودی عرب سے قطر چلی جائے گی، مگر ابن تمیہ کے اصولوں کے مطابق ایک سرحد سے دوسری سرحد کے اندر چلے جانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکی فوجیوں نے اپنی نوآبادیت کو ختم کر دیا ہے۔۔ قطر پیغمبر کے جزیرے کا ہمیشہ حصہ رہے گا۔ صلیبیوں کو اپنے اوپر چڑھانے کی ذمہ داری ہمیشہ ریاض پر لاگو ہو گی۔ اور ایک دوسری چیز: بن لادن نے امریکیوں کو صلیبی ثابت کر کے جذباتی انٹینا کھڑا کر دیا ہے لیکن اُس نے دو حالتیں بیان نہیں کی ہیں کہ ’صلیبی‘ سعودی عرب میں کسی بھی جگہ پر عیسائیوں کی عبادت پر پابندی کا لحاظ رکھتے ہیں۔۰۹۹۱ءمیں جب صدر جارج بش نے سعودی عرب میں امریکی افواج کے اڈے کا دورہ کیا تو انہوں نے ملک کے اندر ’تھینکس گوننگ‘کی تقریب نہ منانے پر اتفاق کیا۔ صدر نے بین الاقوامی پانی کے اوپر یو ایس ایس ناسا کے اسٹیشن پر دعا کی۔

یہ کہ سعودیوں نے بڑے شیطان کے ساتھ الحاق بن لادن کی توثیق کی خاطر کیا ہے کہ ہاﺅس آف سعود اور وائٹ ہاﺅس میں پاگندگی کس انتہا کی ہے۔ جبکہ امریکہ کو نیچا دکھانا لازم ہے، لہذٰا اُس کے میزبان سعودیوں کو بھی۔ بن لادن کا مشن واضح ہے۔ مسلمانوں کو اِن دونوں مقامات سے بچانے کےلئے، وہ اسلام کی ’بنیاد پڑنے والی گھڑی‘ کی اطاعت گزاری کر رہا ہے۔

کیایہ محض امر اتفاقی ہے کہ بن لادن غاروں میں اتنا وقت صرف کر رہا ہے، جس طرح پیغمبر محمداپنی پیغمبری کی حالت میں وقت گزارتے تھے؟ پیغمبر اُن آسائشوں کو اختیار کر سکتے تھے جو اُن کی امیر بیوی اپنے ساتھ لائیں تھیں مگر انہوں نے سادہ زندگی کو ترجیح دی۔ اسی طرح بن لادن بیوقوفی کی حد تک دولت کے باوجود ایک جبہ لپیٹے رہتا ہے۔ پیغمبر مکہ کے ایک بڑے قبیلہ سے سامراج مخالف پیغام پھیلانے کی غرض سے منحرف ہوئے تھے ۔ بن لادن نے خود کو ایک بااثر خاندان سے الگ کیا۔ پیغمبر نے پورے اقتصادی نظام کی اخلاقیات کو اپنا نقطہ نظر دیتے ہوئے ہفت پہلو شہر مکہ میں للکارا تھا ۔ مکہ جو تجارت کی شاہراہوں کا شہر تھا جہاں تاجر اپنی مرضی کے بتوں کی پوجا کر سکتے تھے۔ نیو یارک کا شہر بن لادن کےلئے اسلام سے قبل مکہ کی طرح ہے۔ اُس کے مطابق، ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کام کرنے والے لادینی مادہ پرستی کی پریڈ میں شامل متحاربین تھے، ایسا نظریہ جو چٹکلے چھوڑنے کی عبادت کرتا ہو اور اپنی ذات کا اسیر ہو۔ ایسا نظریہ جو اُن کو بت پرستی کے احساسِ گناہ اور ایک خدا کے شرک میں مبتلا کر دے۔ اور یہ پیسے کو کنٹرول کرنے والے یہودیوں پر تو دگنا لاگو ہوتا ہے۔

اِس کے متوازی نظریے تو بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ پیغمبر محمد کا اخلاقیاتی انقلاب ٹیکنالوجی کے انقلاب کے ساتھ ساتھ ہی آیا جس میں نت نئے طور طریقے اونتوں کی زین پر سوار ہو کر تیز تر ہوگئے۔ مزید تجارت، زیادہ حرص اور گہری سماجی عدم مساوات نے جنم لیا۔ کل اونٹوں کی کاٹھی باندھی، آج معاملہ آن لائن ہو گیا۔ پیغمبر نے اپنی فوج کو کھلانے کی خاطر دشمنوں کے کارواں پر ہلے بولے۔ بن لادن کی جنگی پٹاری نے امریکہ کے گاہکوں کو فائدہ پہنچایاجو تیل اور افیون کو نہ ختم ہونے والی حد کے ساتھ سونگھ رہے تھے۔

پیغمبر نے ایسی روایتی تراکیب استعمال کر کے چکمہ دیتے ہوئے فوجی فتوحات حاصل کیں جیسے اپنے گرداگرد خندق کھودنا، اپنے بے خبر مخالفین کو چپکے سے جا پکڑنااور جنگ کےلئے تیار اعلیٰ نسل گھوڑوں کو اپاہج بنانا۔ بن لادن کے ہراول دستے نے سپر طاقت پر حملے کےلئے جہازوں کو کاٹا۔ پیغمبر محمد نے اپنی قوم کو سیاسی عمل میں مصروف قرار دیا جس کی سرحدبندی فقط مذہب کی لکیر سے ہونا طے پائی تھی۔ بن لادن نے اپنے کام کرنے والوں کا کثیرالقوام گروہ تشکیل دیا جو غیر ملکی نقشوں سے آگے نکل جاتا ہے۔محمد نے مکہ کے مظلوم عوام کی ہمدردی حاصل کی اس سے پہلے کہ وہاں کی اشرافیہ اُن کے کنٹرول کو محسوس کرے اور مسلمان بن جائے۔یقینی طور پر، بن لادن کےلئے یہ کام طویل تر ہے۔ اکتوبر ۱۰۰۲ءمیں، قریب پانچ لاکھ پاکستانیوں نے جدت پسندی کی حمایت میں ریلی نکالی۔تاہم ہم بن لادن کےلئے چاہت کو کم نہیں دکھانا چاہیں گے، جب اُسی مہینے گیلپ پول سروے میں بتایا گیا کہ بیاسی فیصد شہری پاکستانی آبادی بن لادن کو آزادی کا سپاہی مانتی ہے(۰۲)۔

بن لادن کی حکمت ِ عملی مسلمانوں کو بھلی لگ سکتی ہے جو اپنے پُرتعیش اور عیاش حکمرانوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ اُس کا پرانے واقعہ ’بنیاد کی گھڑی“ کو بار باردہرانے سے مسلمانوں کو تلافی کی بھوک میں تسکین ملتی ہوگی۔لیکن اگر صحیح طور پر دیکھا جائے تو بن لادن کا انقلاب انقلاب نہیں ہے۔ اُس کا اسلام کچلنے کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں لاتا ہے جس میں مسلمان پہلے ہی گھرے ہوئے ہیں، ماسوائے چند استشنیٰ کے، عرب فتوحات سے اب تک۔ اُس کا قبائلی مذہب ہے جو اتحاد کو یکسانیت کے متوازی کرتا ہے جو فرد اور آزاد خیالی کے اوپر مفسرین کی ہتھ ٹیکی بازی کو موقع فراہم کرتا ہے ۔ بن لادن بادشاہت مخالف ایجنڈا کے علاوہ کچھ پیش نہیں کرتا۔ وہ مزید صحرائی آمریت کا تصور پیش کرتا ہے۔

سوچئے ، کہاں بن لادن کے مشن کی جڑیں ہیں: سعودی عرب۔ وہ صرف اپنے حکمرانوں سے مخاطب ہے، ملک سے نہیں۔اس بات کی بہت اہمیت ہے کیونکہ سعودی عرب کا وجود ایک معاہدے کے تحت مذہب سے سیاسی مفادات کے مابین جھولتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے وسط میںایک قبیلے کے سربراہ محمد ابن سعود کا ایک مذہبی ’انقلابی‘ محمد بن عبدالوہاب سے ضرورت کی شادی کی مثال ٹکراﺅ ہو گیا۔ عرب جزیرے کے ٹکڑوں سے بادشاہت ڈھالنے کی میری کوششوں کی مدد کرو، اُس نے الوہاب سے کہا اور میں تمہیں نئی سلطنت کا مذہبی رہنما بنا دوں گا۔ اشرافیہ کی جانب سے بار بار نکال باہر ہونے کے عادی الوہاب نے دستخط کر دئیے۔ اُس کا ’انقلابی‘ اسلام ابن تمیہ سے متاثر شدہ تھا، جس سے بن لادن آگے متاثر ہو گیا۔ یہ اسپارٹا کی خوبیوں والا مذہب ہے جس کی دانشورانہ صلاحیتوں کی کھال اتری ہوئی ہے اور مسلسل جہاد میں مصروفِ عمل ہے۔اِسی جہادی توجیہہ نے الوہاب کے سیاسی رفیق ، ابن سعود کے قبیلہ کودہشت گردوں پر قابو پانے کے جہاد کی اجازت اگلے دو سو برسوں تک دے رکھی تھی۔ ۲۳۹۱ءمیں، سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑوں سے سابقہ سعودی ریاست ابھری۔ اِس کا کامل غیر جمہوری معاہدہ وہابی ملاﺅں کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہا۔ لہذاٰ اِس کی جہاد کی توفیق بھی برقرار رہی۔ اِن دونوں باتوں سے سعودی عرب نے مسلمانوں کو غلام بنانے کے فن میں کمال حاصل کیا۔

میں آپ کوحج کی زیارت کے موقع کی تصویریں دکھاناچاہتی ہوں جو ہرسال شائع ہوتی ہیں۔دنیا بھر کے انسانوں کا اکٹھ اپنے عروج پر ہوتا ہے، یہ درست ہے نا؟ اَب اس تصویر میں اِس حقیقت کو شامل کیجئے کہ سعودی بادشاہ دو مقدس مقامات کے وارث کے طور پر تصویر میں جڑے ہوئے ہیں۔ وہ داد رسی کرنے والے کی حیثیت میں ہر رنگ، نسل اور جنس کی نمائندگی کرنے کی کوشش کرتے نظر آئیں گے۔ تاہم اصل تصویر اتنی خوش کن نہیں ہے۔ ریاض شیعوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے جو اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے، کا اندازہ اِس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے: سعودیوں کی سرکاری تعلیمات کے مطابق، شیعہ یہودیوں کی سازش کا نتیجہ ہیں۔ظاہرا تو اِس بات کی تعلیم دی جاتی ہے کہ یمنی یہودیوں نے اسلام کو تقسیم کرنے اور اُلجھے اذہان کے مسلمانوں کےلئے تلمودی طرز کے خیالات بوئے۔ یہ فریب زدہ لوگ ہوتے ہوتے شیعہ بن گئے۔

یہودیت کی ایک کڑی ہونے کے ناطے، شیعوں کا مرتبہ ’ڈِمی‘ لوگوں کا ہے، کیا وہ ایسے ہیں؟ حقیقت میں، سعودی عرب کے اندر اُن کا مقام ایسا ہے۔ حال ہی میں ایک شیعہ اسماعیلی مسلمان نے امریکی کانگریس کو بتایا کہ اُس کے ساتھ کیا بیتی جب نجران میں اُس کے گھر کو سعودیوں نے ہتھیا لیا۔ ’صرف نجرانی ہی مذہبی غلبے کا شکار نہیں ہیں‘۔ علی الیامی نے بتایا، ’بلکہ اُن کی زندگی کے تمام راستے بُری طرح مسدود کر دئیے گئے ہیں ۔ وہابی گورنروں، امیروں اور ججوں نے اُن کو اُن کی بہت ساری زرخیز زمینوں سے بے دخل کررکھاہے۔اس کے علاوہ وہابی اسماعیلیوں کے فارموں اور مویشیوں کی پیداوار کا آدھا حصہ زبردستی لے جاتے ہیں(۱۲)۔۔۔‘ نوٹ کیجئے اِس اندھیر نگری کو جو موجودہ صورتحال میں ہے اور محمد کے عہد میں یہودی کسانوں کے اوپر گزری۔ آپ کا یہ سوچنا ’جائز‘ ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ شیعہ مسلمان اصل میں یہودی ہیں(۲۲)۔

شیعہ سعودی عدالت میں جج نہیں بن سکتے۔ وہابیوں کے علاوہ کوئی بھی جج نہیں بن سکتا۔ آئیے دو اور دو چار دیکھتے ہیں: سعودی عرب میں شیعہ ججوں کے پیچھے اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو پہلے ہی مانتے ہیں کہ وہ ملحد ہیں۔یہاں تک کہ ۰۹۹۱ءکے اسلامک ہیومن رائٹس چارٹرمیں بھی اِس بات کا ذکر نہیں جس پر تمام مسلمان ممالک نے دستخط کئے ہیں۔ اس وستاویز میں کہا گیا ہے کہ ہر کوئی باانصاف سماعت کا حقدار ہے۔ ہر کوئی، میں سوچتی ہوں، سوائے غیرمسلمانوں کے۔ جیسا کہ شیعہ یہودی ہیں۔۔۔ اوئے ہوئے، ذہن چکرا جاتا ہے۔

اسی طرح عورتیں عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتیں حتکہ وہ قتل میں ملوث ہی کیوں نہ ہوں۔ ’اُن کے پاس کار رکھنے کا قانونی حق ہے(۳۲)‘، امریکہ میں سعودی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر علی الاحمد نے بتایا۔ اور ہنوز اُن کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ دونوں باتیں اِس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ عورتیں سعودی عرب میںستاون فیصد آبادی پر مشتمل ہونے کے باوجود عقل میں کمتر سمجھی جاتی ہیں۔ ’اُن کو اپنے باپوں سے شوہروں یا بیٹوں کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے‘، الاحمد نے وضاحت کی۔ متواٰ، مذہبی پولیس اِن کمتر بالغوں کو پابندیوں پر قانون کے مطابق کاربند بنانے کےلئے مستقل پیچھے پڑی رہتی ہے۔ جس میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر سرخ لباس نہ پہننا بھی شامل ہے۔ ایسا جرم جس پر گرفتاری کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

مارچ ۲۰۰۲ءمیں عملدرآمد کا یہ نتیجہ نکلا کہ جوان عورت اسکول کی آتشزدگی کے دوران تب تک اسکول سے نہیں نکل سکتی جب تک وہ پوری لمبائی کا آبایہ اپنے اوپر نہ گرا لے۔ سعودی عرب کی اپنی خبروں کے مطابق پندرہ طالبات ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئیں جب مذہبی پولیس نے اُنہیں واپس اسکول کی جلتی عمارت کے اندر دھکیل دیا کہ وہ اپنے ابایہ پہن کر نکلیں، وہ ابایہ جسموں کے تھیلے بن کر باہر نکلے۔ میری ایک سعودی واقف کار نے اِس چشم دید واقعہ پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اخباروں نے یہ کہانی فقط سعودی عرب کے وزیر تعلیم کومصیبت میں ڈالنے کےلئے شائع کی ہو گی۔ کیسے ریاست کے ماتحت چلنے والا پریس ’مصیبت میں ڈال سکتا ہے‘؟ حقیقت یہ ہے کہ اِس ہولناک واقعہ نے سعودی صحافیوں کو بھی موجود صورتحال کو چیلنچ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اُن کے پاس ایسا کرنے کی ہر وجہ موجود تھی: دنیا کے کسی ملک میں قانون کے تحت عورت کو چہرہ پر نقاب ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں یہ گھمنڈ نہیں ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو پیغمبر محمد کی بیویوں کا اوتار قرار دے ۔قرآن میںصرف پیغمبر کی بیویوں کو نقاب پہننے کا حکم تھا۔

کیا آپ سعودی عرب کے تعفن زدہ منجمد قبائلی معاشرے کے بارے مزید کچھ جاننا چاہتے ہیں؟ جہاں طاقت کا سرچشمہ سینئر شہزادوں کی ٹولی ہے ۔ وہی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اور ملاﺅں کے مافیا کو امداد مہیا کرتے ہیں جن کی وفاداری اُنہیں ہر صورت برقرار رکھنا ہوتی ہے تاکہ کسی قسم کی بغاوت سے نپٹا جا سکے۔ لہذاٰ کیا ہمیں حیران ہونے کی ضرورت ہے کہ وہاں مغربی خبروں کی ویب سائٹس عام طور پر بلاک رہتی ہیں، مگر وہ ویب سائٹس جو نفرت، تشدد اور دہشت پھیلاتی ہیں وہ پیغمبر کی زمین سے قابلِ رسائی ہیں؟کیا اس بات پر حیران ہونے کی ضرورت ہے کہ جب تک میڈیا نے ناقابلِ نظر انداز ہونے والے اداروں کی نشاندہی نہ کی، ریاض نے سعودی سرزمین پر اسلامی جہادی اداروں کے مالی معاملات کی پڑتال کرنا شروع نہ کی؟ کیا ہمیں یہ بات اُن آثار کی طرح پریشان کرتی ہے جن تاریخی عمارتوں کو سعودیوں نے گرا دیا، مثال کے طور پر اولین مسلمانوں کی تعمیر شدہ مساجد کہ کہیں لوگ اِن کی بتوں کے طور پر پوجا شروع نہ کر دیں۔۔ جیسا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی دو عمارتیں؟ اور کیا اسی لئے علماءکے تحفظ کا عام لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ خیال کیا جاتا ہے، کیا اسی لئے سعودی عرب نے کبھی بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کو قبول نہیں کیا؟ ۸۴۹۱ءمیں ، صرف مشرقی بلاک اور اقلیت کی حکومت والے جنوبی افریقہ نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ تب سے اَب تک کمیونزم کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اصلاحات نافذ کر دیں۔ اِس اثناءمیں، سعودی عرب اکیلا ہی بے کیف اور مطلق العنان اسلام کی منادی کے ساتھ کرہ ارض پر رہ گیا ہے۔

اِس کے نتائج پاکستان اور سوڈان میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں جہاں بہت سارے مدرسے صرف قرآن کے متن کو پڑھاتے ہیں۔ آپ کو سوڈان میں ہونے والے قتل عام، غیر عرب مسلمانوں اور اِن کے ساتھ ساتھ غیر مسلمانوں کو غلام بنانے کا پہلے ہی علم ہے۔ اِس بدو انداز کی قبیلہ پرستی کو پاکستان میں دیکھا جائے تو آپ اِس بات کو قطعاً نظرانداز نہیں کر سکتے ،کچھ غیر مسلمانوں کو اس لئے مار دیا گیا کہ انہوں نے اسلام کے روایتی فجائیہ کلمات، اسلام علیکم ، بولنے کی جرات کی۔۔ جس کے معنی’ آپ پر رحمت ہو(۴۲)‘ہے۔ یوں ایک دوسری امن کی پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا۔

مزید مشرق کی طرف بڑھیں تو صحرائی اسلام نے افغانستان کوسعودی عرب کے مذہبی انداز میں مسخ کر رکھا ہے۔ طالبان کے زیر سایہ، نئے نام اسلامک ایمیرات آف افغانستان نے سعودی طرز کی مذہبی پولیس کا نمونہ پیش کیا تھا، عورتوں اور شیعوں کو دبانے کا وہی سعودی اندازاور حتکہ سعودی طرز پر بت پرستی کو ختم کرنے کےلئے تاریخی مقامات کو اُڑانے کا انداز۔ بنگلہ دیش میں بھی عیسائیوں، ہندوﺅں اور بدھ مت کے مجسموں کو اُڑانے کےلئے نشاندہی کی گئی۔ بنگلہ دیش کاغذوںمیںہی جمہوری ملک ہے۔ آئیے، بامیان وادی کے بدھوں سے ہی کچھ سیکھیں، خاموشی کے ساتھ بیٹھ جائیں، امن کےلئے دعا گو ہوں، صحرائی اسلام کی مدد سے لڑنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

وہابی دنیا کادور دورہ شمالی امریکہ تک بھی پہنچ چکا ہے۔ کیا آپ کو برٹش کولمبیا میں رچمنڈ کی مسجد میں اُس بیکار لائبریری تک کی رسائی کےلئے میری جنگ یاد ہے؟ لو لیجئے، طالبات نے امریکہ کے ایک بڑے اسلامی اسکول میں ویسا ہی مذہبی انداز اپنایا ہوا ہے، اِس اسکول کو پیسہ سعودی دیتے ہیں۔ جیسا کہ یہ پڑھایا جاناکہ یہودیوں کو دوست نہ بناﺅ،اُس اسکول میں ثبوت کے ساتھ ثابت ہوا کہ صرف میں اکیلی نہ تھی۔ یہاں پر عربی زبان کی درسی کتاب کا ایک پیرا تھا، یہ کتاب سعودیوں نے امریکہ کے ایک اسکول کے مسلمان بچوں کوفراہم کی تھی، ”اسلام کو نہ ماننے والے، بت پرست اور اُن جیسے دوسروں کو قابلِ نفرت اور قابلِ مکروہ جانا جائے۔۔۔ ہمیں اُن سے الگ رہنا چاہئے اور اپنے اور اُن کے درمیان حدبندی قائم کرنی چاہئے (۵۲)“۔

صحرائی اسلام جنوب مشرقی ایشیا کو بھی اپنے شکنجے میں لے رہا ہے۔ یہاں اسلام فوجی غلبے کی بجائے تجارت کے ذریعے پہنچا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جنوب مشرق ایشیا کے مسلمان تاریخی طور پر بدھ مت، تاﺅ مت، عیسائیوں، سکھوں، ہندوﺅں، کنفیوشسٹوں ۔۔اور عورتوں کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ مگر ملائشیا اور انڈونیشیا کی زمین کے حجم سے بھی زیادہ پیسہ مشرق وسطیٰ سے وہاں پہنچا۔ وہاں کے قوانین اور آزادیاں بھی بدلنا شروع ہو گئیں۔ مثال کے طور پر ۶۹۹۱ءمیں پولیس نے مس ملائشیا کے مقابلہ حسن میںداخل ہونے والے تین مسلمانوں کو گرفتار کیا۔ لڑکیوں کے گھر والوں نے پہلے کبھی مقابلہ حسن میں مسلمان لڑکیوں کی شرکت کے بارے فتویٰ نہیں سنا تھا۔ جب انہوں نے سنا تو اُن کے کانوں کو یقین نہ آیا کہ ایسی بندش اُس ملک میں لگے گی جس کی نشوونما رواداری کے ماحول میں ہوئی تھی۔

۰۹۹۱ءکی دہائی کے وسط سے ، ملائشیا کی بہت ساری ریاستوں نے شریعہ کا قانون نافذ کر رکھا ہے جس کے مطابق کسی فتویٰ کو متنازعہ قرار دینا جرم ہے۔ اگر وہ آپکی گستاخی پر آپ کو دھر نہ لیں تو وہ آپ کو لجاجت پر پکڑ لیں گے۔’بہت کم مسلمانوں کے پاس سوال کرنے ، چیلنج کرنے یا حتکہ اسلام پر سرعام بات کرنے کی جرات ہے‘، یہ بات ملائشین فیمنسٹ نیٹ ورک اِن اسلام‘ کی رُکن زینہ انور نے کہی ہے۔ ’اُن کی اس طرح سماجی تربیت ہوئی ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ مذہبی علماءہم سے بہتر جانتے ہیں(۶۲)‘۔ وہ جبکہ ’ ایک عورت ، اچھے مسلمان کے طور پررہنا چاہتی ہیں اور بی ۲۵ کو اونچے سروں میں سننا چاہتی ہیں۔ مجھے اِس میں سے کسی بات پر بھی تضاد نظر نہیں آتا(۷۲)۔

یہ زینہ انور کی طرز کا اسلام نہیں تھا جس نے مس ورلڈکے مقابلہ حسن کو سن ۲۰۰۲ءمیں نائجیریا سے نکال باہر کیا تھا۔ وہ گڑبڑجو بآسانی پھیل سکتی تھی، نے کئی گرجاگھروں کو آتشزدگی کے حوالے کر دیا اور کئی اموات کا موجب بنی۔ میں نے خود سے پوچھا کہ کیا صحرائی اسلام اس طرح پھیلا تھا؟ کیا ’بنیاد پڑنے کی گھڑی‘ کے خبط نے مقابلہ حسن کے خلاف فساد بھڑکایا تھا؟آخر مس نائجیریا نے تو پچھلے برس ہی یہ مقابلہ جیتا تھا، جس سے اُس کے ملک کو یہ اعزاز ملا کہ وہ اگلے برس اِس مقابلے کی میزبانی کر سکے۔ نائجیریا کے مسلمانوں کو یہ سب کچھ تو ایک عرصہ سے معلوم تھا۔ فسادات تو ایک صحافی کی اس رائے سے شروع ہوئے کہ پیغمبر محمد اس مقابلہ حسن کو بند کروا دیتے اور جیتنے والی حسینہ سے شادی کر لیتے۔ ایک خلافِ عقل تبصرہ تھا مگر کیا قتل و خون اور ڈکیتیوں کے لائق تھا؟لیکن جب لوگ دل میں یہ ایمان بٹھا لیتے ہیں کہ ’بنیاد پڑنے والی گھڑی‘ کے کسی پہلوکو خطرہ درپیش ہے تب مذہب اُن کو جامد، کھڑاک سے ٹوٹنے والی اور غیرانسانی سطح پر لے جاتا ہے۔ اِس معاملہ میں، غیر انسانیت کی یہ انتہا تھی کہ دل آزاری کرنے والے اخبار نے تین بار معافی مانگی، مسلمان احتجاجیوں نے اخبار کے دفاتر کو آگ لگا دی۔ ایک اور چیز: وہ کالم نگار جس نے پیغمبر محمد کے بارے گستاخ بات لکھی، نے کچھ ہفتے قبل عیسائیوں کو سخت بُرا بھلا کہا اور عیسیٰ کا نام خراب کیا۔ کوئی شخص نہیں مراتھا(۸۲)۔

’فاﺅندامینٹلزم‘ ہمارا قتل کر رہی ہے۔ ۔ اور دوسری اس طرح کی باتیں بھی۔ وہ کون لوگ ہیں ، جو اس بات کا خیال رکھتے ہیںکہ ہم بنیاد پڑنے والی گھڑی کے کتنا قریب ہیں؟اس مفروضے کو استعمال کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہیں،یا پھر اس بات سے چشم پوشی کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ تباہ کن حد تک۔ اَب وقت آ گیا ہے کہ کمال اتاترک، جدید ترکی کے معمار، سے ایک نقطہ لیا جائے۔ ۵۲۹۱ءمیں اُس نے اعلان کیا، ’میں آج یہ سمجھنے کو مکمل طور پر قاصر ہوں کہ سائنسی علوم کی تابناک روشنی کے دورمیں اور تہذیب وتمدن کے ہر پہلو سے آشنا عہد میں۔۔۔ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں ، اس قدر قدیمی کہ وہ اپنی زندگی اور اخلاقیات کی فلاح کےلئے ایک یا ایک دوسرے شیخ کی رہنمائی تلاش کریں(۹۲)‘۔ اتاترک نے خود کو خاص طور پر بنیاد پڑنے والی گھڑی کے اسلام سے ہر قسم کا ناطہ توڑ کر اہلِ نظر ثابت کیا ۔ اُس نے کوئی خالص کھیل نہیں کھیلا کیونکہ اس کے نتیجہ میں صرف ایک جیتنے والا پیدا ہونا تھا: ایک بادرویش شخص جس نے ہر اُس چیز کو کم کر دینا تھا جو کہی گئی ہو، دیکھی گئی ہو اور آزمودہ کار ہو۔ کسی بھی معاشرے کی نشوونما کےلئے، اتاترک کو معلوم تھا، کہ بہت سارے شعبوں میں بہت سارے جیتنے والوں کے امکانات کی ضرورت ہوتی ہے۔

بنیاد پڑنے والی گھڑی کو دبانے سے اتاترک نے ترکی میں جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود کہ فوج کے ڈنگ اِس جمہوریت کو ڈستے رہتے ہیں، اور اِس جمہوریت میں اور بھی کئی طرح کی کوتاہیاں ہیں، مگر یہ جمہوریت ہنوز مسلمان دنیا میں سب سے بہتر ہے۔اور کٹر مسلمان جو ترکی کی سیاسی زندگی میں حصہ لیتے ہیں، جیتنے والے بن سکتے ہیں۔ نومبر ۲۰۰۲ءمیں ترکوں نے اسلامی پارٹی کو حکومت دلوائی۔ یہاں پر ایک دوسرا بتانے والا نقطہ یہ ہے: ترکی کے اسلام پسندوں کی مقبولیت کا دارومدار امریکہ کی خارجہ پالیسی کی مخالفت کرنے یا اسرائیل کی سرزنش کرنے میں نہیں ہے۔

اس کا دارومدار روزگار میں اضافہ اور کرپشن کے خاتمہ کے وعدے کرنے پر ہے۔ بحرین میں ووٹروں نے ٹھیک اُنہی ترجیحات کی بات کی جب وہ ووٹ ڈالنے کےلئے ترکی کے انتخابات سے ایک مہینہ پہلے گئے۔۔یہ گلف عرب ریاستوں میں پہلا الیکشن تھا جہاں عورتوں نے بھی ووٹ ڈالے۔ اِن ووٹروں نے مستقبل کی بات کی، ماضی کا قصہ نہیں چھیڑا(۰۳)۔

اگر بولنے کا موقع دیا جائے تو بہت سارے مسلمان کہیں گے کہ وہ بنیاد پڑنے والی گھڑی کو دہرانا نہیں چاہتے۔ وہ اُس راستے کا بہت تھوڑا حصہ لینا چاہیں گے جو گزر چکا ہے اور وہ زیادہ حصہ اُس راستے کا اپنانا چاہیں گے جو آگے ہے(۱۳)۔ جب مشتعل پاکستانی والدین نے اُن علماءکرام کا پیچھا کیا جنہوں نے اُن کے بیٹوں کو جرائم (جہاد) کےلئے بھرتی کیا تھا، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آگے جانے کی خواہش میں کتنا کھل کر بولا جاتا ہے۔ جب انڈونیشیا کے معتدل مسلمانوں نے کتاب ’میاں بیوی تعلقات کا نیا رخ‘ شائع ہونے دی، اسلام اور انسانی حقوق کو باہم ملانے کی سعی کرتے ہوئے(۲۳)، تو آگے سفر میں چند مزید ہمسفرملتے ہیں۔ جب سخت گیر ملا طالبعلموں کی ریلی کے اثرات کے احتجاج میں غصے میں بھرے پارلیمنٹ سے باہر نکلے تو اس کا مطلب ہے کہ مستقبل جوش مار رہا ہے۔ جب سعودی عرب کا انگریزی روزنامہ، دی عرب نیوز، ایسا کالم چھاپ سکتا ہے جو اسرائیلیوں کے عربوں سے کہیں آگے اقتصادی اعدادوشمار کی تفصیلات فراہم کرتا ہے اور جب یہ کالم چیخ کر سرخی سجاتا ہے، ’عربو حقائق کا سامنا کرو(۳۳)!‘۔ آپ کو بتاﺅں کہ بند منہ کھلنے لگے ہیں۔ واہموں جیسی قبائلی چپ اَب ختم ہونے کو ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں نیو یارک ٹائمز میں اُردن کے وزیرِ خارجہ نے لکھا، ’عرب رہنماﺅں کو خود کش بم دھماکوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور اپنے سیاسی اور اقتصادی نظام کو مزید جمہوری بنانا چاہئے(۴۳)‘۔

جب لبنان کا صحافی لکھتا ہے کہ ’ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کی بھرپور کوششوںکےلئے گیند اَب واشنگٹن کے احاطہ میں ہے‘۔ اُس کا مقصد آزادی کے پیمان کو دعوت دینا تھا(۵۳)۔ جب عرب دانشوروں نے مصری ٹی وی پر چلنے والی یہود مخالف سلسلہ وار ٹی وی ڈرامہ کی مذمت کےلئے امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا ساتھ دیا تو اِس کا مطلب تھا کہ ایک دوسرے پر دارومدار کرنے کے مواقع کا آغاز ہو چکا ہے۔ مغرب کی طرف سے جتنا سفارتی دباﺅ بڑھے گا، تبدیلی کےلئے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو اُتنا ہی حوصلہ ملے گا۔

اورجب مراکش کے بادشاہ نے شریعہ لاءپر نظرِ ثانی کا اعلان کیا جس کے مطابق کثرت الازدواج کا خاتمہ کرتے ہوئے عورتوں کو طلاق، حق مہر اورتحویل تک رسائی دی۔۔ یہ وہ اصلاحات ہیں جن کی بنیاد خود قرآن میں ہے۔ مزید براں جب شمالی امریکہ میں ’پروگریسو مسلم یونین‘ کے نام سے ایک ایسا گروہ پروان چڑھا جن کا پلیٹ فارم ”تمام انسانوں کی مساوی حیثیت اور قدرومنزلت“ کی تصدیق کرتا ہے، یہ گروہ اسلام کے رہنما متن کے حوالے سے ”محتاط تحقیق اور بھرپور تعلق“ پر زور دیتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ”سچ تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں“، تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ مغرب کی آزادی مسلمانوں کی نئی نسل کو اجتہاد کے احیاءکےلئے آگے بڑھا سکتی ہے، اجتہاد جو اسلام کی تخلیقی فکر کی گمشدہ روایت ہے۔

آگے جانے کے راستے کو، جو مجھے دکھائی دیتا ہے، بیک وقت تین مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کرنا ہو گی: ایک، اسلامی دنیا میں مسلم اقتصادیات کو مضبوط کرنے کےلئے تمام مسلمان خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ دوسرا، صحرا کو اسلام کی نت نئی ایک دوسرے کی متضاد توجیحات کی چھوٹ دے کراپنا پیسہ پیچھے چھوڑ کر بھگانا ہو گا۔ اور تیسرا، مغرب کے ساتھ کام کرنا ہو گا، اُس کے مخالف نہیں۔ ہر ایک معاملے میں، ہمیں فرسودہ قبائلیت کو دبانا ہو گا۔

میں اَب یہاں تک خود کو ریفیوزنک کے طور پر پابند کرتی ہوں۔ اَب میرے اجتہاد کے مشن کے بارے پڑھئے۔

 

حوالہ جات:

۱ ۔ میری ویب سائٹ پر اِس حوالہ نمبر کو کلک کر کے میری تقریر پڑھ سکتے ہیں۔

۲ ۔ اِس بات کو آپ میرے دوست طارق فتح سے بھی معلوم کر سکتے ہیں، جنہوں حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا اور وہاں اِس طرح کی متعدد باتیں سنیں۔اسی طرح طارق علی اپنی کتاب The Clash of Fundamentalisms میں بھی لکھی ہے۔ ”میں گیارہ ستمبر سے اَب تک بہت سارے اپنے لوگوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں ملا ہوں، ایک سوال ہمیشہ دہرایا جاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ایسا کام کرنے کے ٹھیک ٹھاک اہل ہیں؟ میرا جواب ہوتا ہے، ’بالکل‘۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ آپ کس کو اِس واقعہ کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، اور جواب ہر جگہ ایک ہی ہوتا ہے، اسرائیل۔“

۳ ۔ اِس موضوع پر مزید پڑھنے کےلئے ، دیکھئے۔Anwar Shaikh, Islam: The Arab National Movement (Cardiff: Principality Publishers, 1995) and W.R. Clement, Reforming the Prophet: The Quest for the Islamic Reformation (Toronto: Insomniac Press, 2002)

۴ ۔Fareed Zakaria, The Future of Freedom: Illiberal Democracy at Home and Abroad (New York: W.W. Norton, 2003), p.

145

ذکریا کے یہ مشاہدات کہ عرب کے اثرات انڈونیشیا کے اسلام کواپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں، کی تصدیق Tracy Dahlby کی کتاب میں وارداحفیظ سے ایک ملاقات کے تذکرے میں بھی ہوتی ہے۔ ’واردا حفیظ ،شہری غریب علاقوں میں کام کرنے والی ایک وکیل ہیں، نے مجھے بتایا کہ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین نے حجاب پہننا شروع کر دیا ہے۔ حوالہ دیکھیں: Tracy Dahlby, "Indonesia: Living Dangerously," National Geographic, March 2001۔ اصل میں حجاب سر پر اوڑھنے والا عربی صافہ ہے۔ مزید حوالہ دیکھئے۔ Simon Winchester, Krakatoa: The Day the World Exploded – August 27, 1888 (New York: HarperCollins, 2003) ۔ ونچسٹر لکھتے ہیں، انڈونیشیا عربوں سے ’کنورٹ‘ ہوا اور ابھی بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ عرب اور عرب ثقافت انڈونیشیا کے مذہبی رہنما ہیں۔“(صفحہ ۶۲۳)اِس بات کی حیران کن مثال دیکھنے کےلئے کہ کس طرح عرب پُرسکون صوفیوں کو بنیاد پرستی کے جذبے کی طرف مائل کر سکتے ہیں، صفحہ ۰۳۳۔۲۳۳

۵ ۔ یہ بات ڈاکٹر ایاد سراج نے مجھے ایک انٹرویو کے دوران ۲جولائی ۳۰۰۲ءکو کہی۔ وہ ماہر نفسیات ہیں اور غزہ کمیونٹی مینٹل ہیلتھ پروگرام کے بانی ہیں۔ انہوں نے فلسطینی معاشرہ میں قبائلیت کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ یہ ایک قبائلی نظام ہے جہاں اختلاف کو بغاوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہم نے ابھی تک تمام عرب ممالک کے اندر باشعور شہریت کی ابتدا ہی نہیں کی جہاں تمام لوگ قانون کے سامنے برابر ہوں۔ یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔‘

۶ ۔ Gaber Asfour, "Osama bin Laden: Financier of Intolerant Desert' Islam," New Perspectives Quarterly, Winter 2002, p. 1 of online version. Download at www.digitalnpq.org

۷ ۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیغمبر محمد کے چوتھے خلیفہ علی نے مسلمان مردوں سے کہا’عورت کی برائیوں سے ہوشیار ر ہو، اُن عورتوں سے بھی خبردار رہو جن کے بارے کہا جاتا ہو کہ وہ اچھی ہیں۔ اُن کی اچھی باتوں کو بھی نہ سنو مبادا کہ تم اُن برائیوں میں پھنس نہ جاﺅ۔‘ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ اُس جنگ کے بعد کہے جو جنگ پیغمبر کی بیوی عائشہ کی سربراہی میں اُن کے ساتھ لڑی گئی۔

۸ ۔ میری ویب سائٹ پر اِس حوالہ کے انگریزی حصہ میں کلک کر کے پوری رپورٹ پڑھئے۔

۹ ۔ قرآن، ۲:۵۱۱۔۔ کئی جگہ پر قرآن یقینی طور پر کہتا ہے کہ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔ کیا یہ تضاد نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیا مکہ کے بارے آیت دوسری آیت کی نسبت زیادہ درست ہے؟

۰۱ ۔ جس ملا کا ذکر ہے اُس کا نام ہے، موسیٰ صدر۔ مزید پڑھئے۔ Amir Taheri, "The Freedom to go Topless," Wall Street Journal, December 6, 2002

۱۱ ۔ Ja'far Subhani, The Message (City unknown: Islamic Seminary, 1984), p. 41

اِس کتاب کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اِس کا مصنف آغاز ہی اِس بات سے کرتا ہے کہ یہ کتاب مکمل طور پر تعصبات سے پاک ہے اور کسی مخصوص مفاد سے بے نیاز اِن واقعات کو جمع کیا گیا ہے۔ (p. xviii).، اِس بات پر توجہ دینے کی اِس لئے ضرورت ہے کہ اِس کتاب کے ایک باب کا عنوان ہے، ”یہودیوں کے خطرناک منصوبے“۔ اس باب میں قصے کہانیوں کو پھیلانے کی غرض سے ’یہودی پروگرام‘ کو ننگا کیا گیا ہے (صفحہ ۹۷۱) ۔

۲۱ ۔ V.S. Naipaul, "Our Universal Civilization," The Writer and the World: Essays (New York and Toronto: Knopf, 2002), p. 508

۳۱ ۔ Al-Kindi as quoted by David C. Lindberg, Theories of Vision from Al-Kindi to Kepler (Chicago: University of Chicago Press, 1976), p. 18

۴۱ ۔ Mohammed Ayub Khan, review of What Went Wrong?, www.islamonline.net, June 16, 2002

۵۱ ۔ Quoted by Murad Wilfried Hoffman, Islam: The Alternative (Reading, UK: Garnet, 1993), p. 32

۶۱ ۔ شہزادی کا نام تاج ایس سلطانہ ہے، شہزادی نے شاہی گھرانے کے اندر فرانسیسی اور فارسی ادبیات میں تعلیم حاصل کی۔ ۔Bernard Lewis لکھتے ہیں کہ وہ پرشیا اور مغرب میں عورت کے مقام کے فرق کے بارے باریک بین طور سے آگاہ ہو چکی تھی۔ اُس نے اپنی تحریروں ، خاص طور پراپنی یادوں اور چند نظموں میں، اپنی ہم جنس عورتوں کی زبوں حالی اور پابندیوں کو رد کر دیا تھا۔ مزید پڑھئے۔ What Went Wrong? Western Impact and Middle Eastern Response (Oxford, New York: Oxford University Press, 2002), p. 95

۷۱ ۔ Karen Armstrong, A question of faith" (review of Richard Fletcher's The Cross and the Crescent), The Guardian, March 1, 2003, p. 3 of online version

۸۱ ۔ Sheikh Jamal, "chief of the Ulema of Mecca," as quoted by Bernard Lewis, What Went Wrong?, p. 92

۹۱ ۔Arif Efendi, Chief Mufti of Istanbul, as quoted by Bernard Lewis, Ibid., p. 93

۰۲ ۔ Richard Behar, "Pakistan: A Kidnapped Nation," Fortune, April 29, 2002, p. 3 of online version

جون ۳۰۰۲ءمیں Pew Research Center for the People and the Press نے چوالیس اقوام کے سروے کے نتائج کا اعلان کیا۔ اِن میں بتایا گیا تھا کہ فلسطین، انڈونیشیا اور اُردن کی واضح اکثریت اور مراکش کی قریب آدھی آبادی نے کہا تھا کہ ہمیں اسامہ بن لادن پر اعتبار ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات میں درست کام کر رہا ہے۔۱۷ فیصد فلسطینیوں نے یہی بات کہی تھی۔ مقبولیت کی یہ شرح یاسر عرفات کو بھی مات کر رہی تھی۔ اِس سروے کو آپ اِس ویب لِنک پر ڈاﺅن لوڈ کر سکتے ہیں۔ "Views of a Changing World 2003," at http://people-press.org

۱۲ ۔ Dr. Ali H. Alyami, testimony to the U.S. Congress, June 4, 2002, p. 2 of speaking notes

۲۲ ۔ شیخ محمد صالح المناجد شیعوں کو یہودی کہتا ہے۔ یہ ملا وہی شخص ہے جس نے ضرورت سے زیادہ ہنسنے پر منع کیا تھا، حال ہی میں اِس ملا نے شیعوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ کم ازکم وہ اپنی سطح پر خوشی سے محروم اسلام میں تو جی رہا ہے۔

۳۲ ۔ Ali Al-Ahmed, testimony to the U.S. Congress, June 4, 2002, p. 1 of speaking notes

۴۲ ۔ Source: Nicholas Kristof, "Watch What You Say," New York Times, June 21, 2002.

۵۲ ۔ Dr. Abdulla Al-Tarekee, A Muslim's Relations with Non-Muslims, Enmity or Friendship, p. 28

یہ کتاب امریکہ کے Fairfax, Virginia-based Institute for Islamic and Arabic Sciences سے شائع ہوئی ہے۔ مزید تفصیلات کےلئے اِس دستاویز کو دیکھئے۔

"Saudis Spread Hate Speech in U.S." put out by the Saudi Institute and the Foundation for the Defense of Democracies, September 9, 2002.

۶۲ ۔ Zainah Anwar, "Modern, and Moderate, Islam," Asiaweek, September 16, 1997, p. 34

۷۲ ۔ Zainah Anwar quoted by Anthony Spaeth, "Trouble in Purdah," Time International, April 8, 1996, p. 2 of online version

۸۲ ۔ کینیڈین ہیومن رائٹس کی وکیل کین ویوا لکھتی ہیں، ’سات ستمبر کو اخبار کے ایک مضمون میںمس ڈینئیل نے عیسائی گرجا گھروں پر ملک کے سماجی اور اخلاقی زوال پرنگاہیں ہٹالینے پر تنقید کی تھی۔ ’اگر عیسیٰ کو دوبارا آنا ہوتا‘ وہ لکھتی ہیں، ”وہ اُن لوگوں کو کیا کہتے جو خود کو اُس کا نام لیوا کہتے ہیں“۔ حوالہ: "Jihad versus Miss World," Globe and Mail, November 30, 2002, p. 2 of online version

۹۲ ۔ Kemal Ataturk as quoted by David Remnick, "The Experiment: Will Turkey be the model for Islamic Democracy?" New Yorker, November 18, 2002, p. 51

۰۳ ۔ Sources (among others): Patrick Graham, "Troubled Turkey goes to polls," National Post, November 2, 2002 and Tom Friedman, There Is Hope," New York Times, October 27, 2002.

۱۳ ۔ Khalid Duran, "Muslim world at a crossroads," Washington Times, January 4, 2002.

۲۳۔ Read a review of the book by Karim Raslan, "Indonesia's moderate Islamists," Foreign Policy, July-August 2002, Issue 131, pp. 77-79

۳۳ ۔Muhammad Omar Al-Amoudi, "Face the facts, Arabs," Arab News, May 29, 2002.

۴۳ ۔ Marwan Muasher, "A Path to Arab Democracy," New York Times, April 26, 2003.

۵۳ ۔ Saad Mehio, "A specter is haunting the Middle East: democracy," The (Beirut) Daily Star Online, October 1, 2002.