Urdu Edition
تشکرات
میں دو انگوٹھیاں پہنتی ہوں، ایک خدا سے محبت کے اظہار کےلئے اور دوسری اپنی ساتھی مشعل ڈوگلس کی محبت میں۔ سو میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے آغاز کرتی ہوں اور جس بات پر میں سب سے زیادہ اُس کی شکرگزار ہوں، وہ مشعل ہے۔ ہر شے کے علاوہ جو مجھے مشعل نے دیا، وہ آگے بڑھنے کا جذبہ ہے۔ اِسی بنیاد پراِس کتاب کو لکھنے کے آغاز میں ہی میں نے میراتھون کی اِس دوڑ کو آدھا ختم کر لیا تھا۔ میرے دو گھنٹوں کی صحیح الدماغی کے تعطل کے بعد میں نے اپنے بائیں جانب درخت دیکھے، دائیں جانب آبشار دیکھی، عمارتیں آگے کی جانب تھیں اور میں نے وجدانی طور پر توحید کو محسوس کیا، توحید جو خدا کی تخلیقی وحدانیت کا نام ہے اور جس کو اسلام کے پہلے ستون کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اور بھی طریقے ہیں جن سے میں مشعل کا ذکر کر سکتی ہوں، مشعل تشکرات کا پورا صفحہ ہے۔
رینڈم ہاﺅس کینیڈا کی این کولنز بھی اِسی مقام کی ہے۔ سب سے پہلے اُسی نے میرے اِس خط کو شائع کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں تھا۔ میں نے اسلام کے حوالے سے جس دیانتداری کا مظاہرہ کیا، اُس نے اُسی دیانتداری کے ساتھ کتاب کے سکرپٹ کے ہر پہلو کا جائزہ لیا۔ میری نگران کی حیثیت سے ، اُس کو مشق کی ضرورت تھی۔ میری مدیر اور ناشر ہونے کے ناطے مجھے اُس سے زیادہ بڑی نعمت میسر آ نہ سکتی تھی۔ مرکزی اشاعتی دنیا میں بِل کیمپبل اور اُس کی ٹیم کا یہ کام لائقِ ستائش ہے کہ انہوں نے اِس سکرپٹ کو باہر نکالا جبکہ انگلینڈ کے دوسرے ناشرین نے اِس سے مکمل گریز کیا تھا۔ یہ ایک تلخ یاد ہے کہ ’مرکزی دھارے‘ کو ’قدامت پسند‘ ہونے کی ضرورت نہیں۔
چند اور بھی غیر مترقبہ نعمتیں ہیں۔ پال مائیکل نے میرے تعلقات بنانے میں بہت مدد کی اور اِس سارے سفر میں وہ ایک بااعتماد دوست بن چکے ہیں۔ میں اُس کے دلکش دانشورانہ ساتھ کو بہت عزیز رکھتی ہوں۔ یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے کے ہارٹ ہاﺅس کی مارگریٹ ہینکاک کی قیادت میں کشادہ دل لوگوں کے گروہ نے مجھے آراستہ دفتر اور لائبریری مہیا کی جہاں پر میں کام کر سکوں۔ اُن کی جگہ کے عطیے نے مجھے خالص اپنی ذات کے اندر سمونے کا موقع دیا اور گھر پر میرے تعلقات قائم رکھنے کی فضا بنائی۔ ہارٹ ہاﺅس، تمہارا بہت بہت شکریہ۔ اَب یہ بات بہت سطحی لگتی ہے مگر میں اپنی موبائل ای میل کے پرزے کا ضرور شکریہ ادا کرونگی، ’بلیک بیری‘، جس پر میں نے لاتعداد معلومات جمع کیں جنہوں نے کتاب میں اپنی جگہ بنائی۔ میں نے ’بلیک بیری‘ کو اپنے اہم ترین نوٹ لکھنے کےلئے بھی استعمال کیا جو تب تک انتظار نہ کر سکتے تھے جب تک میں اپنا لیپ ٹاپ کمپیوٹر یا پین ڈھونڈ نکالتی۔ اِن گھڑیوں میں میں نے ٹیکنالوجی اور مذہب دونوں سے ایک ساتھ پیار کرنا سیکھا۔
اِس کتاب کو لکھنے میں ایک لمبا عرصہ لگا۔ اُن سب کا نام لینا جو میری ممنونیت کے حقدار ہیں، ناممکن ہے، لیکن چند سازشیوں کا تذکرہ کرنا ضروری ہے ۔ مشعل ڈوگلس، این کولنز،پال مائیکل اور مارگریٹ ہینکاک نے میرے اوپراعتماد کر کے مجھے باندھ دیا۔
والراس، جان پیرس اور کینڈل اینڈرسن نے مجھے میرے خیالات نکھارنے میں مدد دی۔ یہاں سے میری تحقیق میں مدد کرنے والے بین الاقوامی جتھے کا آغاز ہوا اور وہ جنہوں نے میری مدد کی ، وہ سمرا حبیب، کیرولین فرنینڈس اور مکی سیراک تھے۔ رِک میتھوس اور سیموئیل سجیو نے حقائق کی پڑتال کرنے میں بے شمار مدد کی۔ میری تربیت کےلئے جو چیز بہت اہم تھی، وہ میرا مختلف ذرائع ابلاغ کےلئے کام تھا خاص طور پر ٹی وی اونٹاریو جہاں سے میرا شو ”بِگ آئیڈیاز“ ہوتا تھا۔
فرینک کلارک، امینڈا سوزمین اور لنسے ہینڈرسن کی مداخلت کے نتیجہ میں کئی اہم ملاقاتیں ہوئیں جبکہ جیرالڈین شیرمین، رابرٹ فلفرڈ، اینا پورٹر، اینا مورگن، اماٹزیا بیرم، ڈوگ سائنڈر، ڈان حبیبی اور طارق اور نرگس فتح کے ساتھ روحانی گفتگو نے مجھے اندرونی بصیرت عطا کی۔ میں یہاں پر ذکر کروں گی کہ طارق اورنرگس فتح نے میرے ساتھ میرے فلسطین کے موقف کی وجہ سے اور اِس کے ساتھ ساتھ ہولوکاسٹ پر مسلمانوں کی سازش کے نقطہ نظر پر اختلاف کیا۔ مگر گرما گرم اختلافات تعلقات منقطع کرنے کا موجب نہیں بنتے اور میں اُس دن کے انتظار میں ہوں جب ہم دوبارہ بول چال کے حالات میں آئیں۔
تھک جانے والی کیفیت میں یہ دوستوں کی حوصلہ افزائی ہی ہوتی ہے جو سب سے بڑا خزانہ ہے۔ اِس سلسلہ میں مجھے سمنتھاھیوُڈ ، اڈریانا سلویا، اینڈریو فیڈوسوو، مائیکل لیموریکس، مائیکل ساواج اور بوش لنگ لیک کے گروہ کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ جہاں تک وہ جو اِس فہرست میں اپنا نام نہ پائیں وہ مجھ سے مفت ڈنر لے سکتے ہیں۔ ( میں نے صرف بہت عزیز دوستوں کا ذکر کیا ہے، لہذا میں بہت دور تک نہیں گئی۔) بہت دور تک جانے سے بچنے کےلئے، میری کتاب کے ایجنٹ مائیکل لیون اور اُس کے قریبی ساتھی میکسین کیونگلے میرے بہت شکرگزار ہیں۔
آخر میں میں اپنی ماں کااُس کا بطن چرانے پر شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ ایک عملی مسلمان ہونے کے باوجود اُس نے کبھی مجھے یہ کتاب نہ لکھنے کا نہیں کہا۔ البتہ اُس نے مجھے خدا کو ناراض نہ کرنے کی تنبیہہ ضرور کی تھی۔ ایک دوپہر ، جب ہم دونوں نے ایک رشتہ دار کی تدفین میں شرکت کی، اُس نے مجھے اپنے امام کو علیک سلیک کہنے کو کہا، جو تدفین کےلئے وہاں پہنچا ہوا تھا۔ میں نے علیک سلیک کےلئے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ امام نے نہ صرف میرا ہاتھ چھونے سے انکار کیا اُس نے اِس علیک سلیک کو ماننے سے بھی یکسر انکار کر دیا۔ جب میں نے اُس سے پوچھا کہ کیوں تو اُس نے جواب دیا، ”اصول“۔ میں نے کہا کہ مہربان ہونا اصولوں پر چلنے سے زیادہ افضل ہونا چاہئے۔ یہ سننے پر میری ماں نے سانس کھینچ کر مجھ سے پوچھا، ’مجھے امید ہے تم درشت نہیں تھی!‘۔ ماں، آیا کہ میں اِن صفحات میں درشت تھی یا نہیں، صرف تم اپنے بارے طور پر اندازہ لگا سکتی ہو۔ میں تم سے ایک بات پوچھونگی: خدارا امام کے ناراض ہونے کو خدا کے ناراض ہونے سے نہ ملاﺅ۔
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




