Urdu Edition
مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
یونیورسٹی آف ٹورونٹو میں جمعہ کی ایک دوپہر ہے۔ نوجوان مسلمان ہارٹ ہاﺅس کے مباحث ہال سے گروہ بندی کی شکل میں باہر نکل رہے ہیں، ہارٹ ہاﺅس یونیورسٹی کا جرمن طرز تعمیر والا اسٹوڈنٹ سنٹر ہے۔ وہ ٹھیک اُس مقام پر نماز ادا کر رہے ہیں جہاں وزراءاعظم اور صدور نے ارفعٰ دلائل اور ظرافت کا تبادلہ خیال کیا ہوا ہے۔ یونیورسٹی کا دورہ کرنے والے دنیا کے مشہور لوگوں کی فریم شدہ تصویریں دیواروں کو عزت بخش رہی ہیں۔ آپ وہ تصویریں اکثر جمعہ کی دوپہروں کو نہیں دیکھ پاتے کیونکہ اُن کو عمدہ طریقہ سے سلائی کئے ہوئے پارچوں کے چوکٹوں سے چھپا دیا جاتا ہے۔ ہارٹ ہاﺅس نے ہر پورٹریٹ کے دونوںا طراف دیوار میں مضبوط کیلیں ٹھونک دی ہیںتاکہ چہروں پر کینوس لٹک سکے، اُن کو احترام کا پیغام دیتے ہوئے جو خدا کے حضور نماز پڑھنا چاہتے ہیں، خدا کی مخلوقات کے حضور نہیں۔ ہر کوئی سوچتا ہے کہ کیا طالبان نے کسی بھی حالات میں تاریخی بدھا کے مجسموں کو بم سے اُڑانے کی بجائے غلاف چڑھانے کا نہ سوچا تھا۔ کوئی یہ بھی سوچتا ہے کہ کیا مسلمان طلباءکو اندازہ ہے کہ یہاں پر اُن کے ساتھ کیسا اچھا سلوک ہوتا ہے۔
’یہاں‘ سے میری مراد صرف رنگ برنگا شہر ٹورونٹو نہیں ہے۔ ہالیفیکس کو لے لیجئے۔ میں وہاں دو ہی طرح کے حلیے دیکھنے کی توقع کر سکتی تھی: سیاحوں کے ہوٹلوں میں مرد عملے کو ٹارٹن ڈیزائن کے کپڑے پہنے اور قریب کے فوجی کیمپ کے سپاہیوں کو مشقوں کی تھکاوٹ کے حلیے میں۔ ہالیفیکس میں بارش سے بھیگے جمعہ کے روز میں نے ایک شخص کو صحرائی عرب کے مکمل جبے میں ملبوس باہر نکلتے دیکھا، جبے کی سفید رسی لہرا رہی تھی، ماتھے کے اوپر کپڑا گر رہا تھا، سینڈل یہاں تک کہ پتلی چھڑی ، سب کچھ ساتھ بھاگ رہا تھا۔ جمعہ کی نماز سے لیٹ ہونے کی وجہ سے وہ شخص ٹیکسی کو اشارے کر رہا تھا جبکہ موبائل فون پر گفتگو بھی کئے جا رہا تھا۔ میں نے اُس سے کچھ پوچھنے کےلئے مداخلت کی۔ ابراہیم ( ایک دوسرے شخص) نے مجھے بتایا کہ وہ اپنا اسلامی اعزازی لباس ہر جمعہ کو پہنتا ہے۔ اور وہ یہ کام دس برسوں سے کر رہا ہے۔ کوئی ہراسمنٹ، میں نے پوچھا۔ ایک بار بھی نہیں۔ اِس کے بالکل برعکس، ابراہیم ڈلہوزی یونیورسٹی میں ہاٹ ڈوگ بیچتا ہے، وہ سب اُسے پیار سے ڈوگ فادر کہتے ہیں(۱)۔
بعد میں ہالیفیکس ائیرپورٹ پر ایک مسلمان عورت میرے سامنے لاﺅنج میں بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ سیاہ لباس میں ڈھکی ہوئی تھی، سر سے پاﺅں تلک اور ہاتھوں پر کالے دستانے تھے۔ مصروف ہونے کی وجہ سے لاﺅنج میں اِس عورت کے بارے کوئی ہلچل نہ تھی۔ لوگ کافی حلق سے اتارنے سے پہلے اُس کا ڈائقہ لے رہے تھے۔ اور ہنوز صرف میں اُس کا جائزہ لے رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ لوگ جارحانہ ہونے کی کوشش نہیں کر رہے تھے بلکہ ایسا تھا کہ کوئی اُس کے حصار میں نہیں آ پایا تھا۔ گیٹ کی جانب بڑھنے سے پہلے وہ اٹھی اور اُس نے اپنی چادر کو درست کیا۔ کسی نے گھور کر نہیں دیکھا۔ جب وہ لاﺅنج سے باہر نکلی تو میں نے ایک جوڑا دیکھا جس نے اپنے سروں کو تھوڑا اٹھایا اور پھر وہ اِس معمے کو سمجھنے کی کوشش میں لگ گیا۔
مسلمانوں کے خلاف مبالغہ آمیز ردعمل کی تشہیر کے مقابلے میں ایسے واقعات بہت کم ہیں ۔ میں انکار نہیں کرتی کہ گیارہ ستمبر سے، بلا اشتعال غصہ چند ’عرب دکھائی دینے والے‘ لوگوں (جن میں اسرائیلی یہودی بھی شامل ہیں) پر پھوٹا ہے(۲)۔ اور وہ جنہیں اِس غصے کا سامنا کرنا پڑااُسے چاہئے کہ اِس بارے بولے۔ میں نے ۱۹۹۱ءکی گلف وار کے دوران میڈیا سے تب فوری رابطہ کیا تھا جب ایک اسکیورٹی گارڈ بغیر کسی وجہ کے مجھے ایک سرکاری عمارت سے باہر لے آیا تھا۔ مگر جو بہت کم سنا جاتا ہے، جس کو کم اہمیت دی جاتی ہے اور جس کی تشہیر بھی کم ہوتی ہے، وہ اِس ساری صورتحال کے برعکس’ اسلام فوبیا‘ ہے۔ ۔ مسلمانوں کےلئے شائستگی بن مانگے ہی پھوٹ پڑتی ہے۔
شمالی امریکہ میں شائستگی کا بھرپور طور سے اظہار ہوا ہے۔ گیارہ ستمبر کے فوراًبعد یہودی اور عیسائی پادریوں نے مسلمان رہنماﺅں کے ساتھ رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے عقائد کے اکٹھ کی غرض سے اجتماعات کئے، پریس کانفرنسیں بلائیںاور چندہ جمع کیا تاکہ مسلمان کسی بھی آئینی تبدیلی کا دفاع کر سکیں جو پابند سلاسل کرنے کے شوقین حکام کے راستے مسدود کرنے کے مترادف تھا۔ دہشت گردی کے حملے کی رات جب صدمے نے ہم سب کو سُن کر دیا تھا، مجھے ٹورونٹو کے ایک معروف پادری نے فون کیا۔ اُس نے جاننا چاہا کہ کیا میں ٹھیک ٹھاک ہوں اور وہ میری اِس ضمن میں کس نوعیت کی مدد کر سکتا ہے اگر مجھے کسی نفرت آمیز حرکت کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ اگلے تین دنوں کے دوران میرے یہودی دوستوں نے ہر کسی سے زیادہ میری حفاظت کا خیال رکھا۔ نوجوان مسلمانوں کے ساتھ میری نجی گفتگو نے مجھے ویسا ہی تاثر دیا: اساتذہ، ہمسایوں، ساتھی کارکنوں اور انٹر نیٹ کے ’چیٹ رومزمیں آنے والوں ‘ نے تنگ نظری کو ختم کرنے کےلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا۔
میں نے اِس شائستگی کے بارے پولیس، ایک نسلی منافرت کے خلاف تنظیم، اعدادوشمار چبانے والوں اور ایک قومی براڈ کاسٹر کو اطلاع دی۔ پہلے تین اداروں کو یہ سمجھ نہ آئی کہ وہ میری اِس اچھی خبر کا کیا کریں۔ یہ اچھی خبر اُن کی اکٹھی کرنے والی اشیاءکے معیار کے مطابق نہ تھی۔ جہاں تک براڈکاسٹر کا تعلق ہے؟ میرا رابطہ ایک سفید فام آدمی سے ہوا، اگر یہ اہمیت رکھتا ہے تو۔۔اُس نے کہا کہ شائستگی کے ذکر سے یہ تاثر ملے گا کہ جیسے نسلی منافرت کے آزار سے انکار کیا جا رہا ہو جس کا سامنا بہت سارے مسلمانوں کو کرنا پڑا ہے۔ اُس نے پوچھا، ’ہم اِس کے جواب میں کیا کہیں گے‘؟ یہ کہہ لینا: اگر اسلام کا نیک جذبہ جاننے کی ضرورت ہے تو مغرب کا ویسا ہی جذبہ جاننے کی ضرورت ہے۔
ہم، مسلمان اور مغرب، ایک جیسے خاص نہیں ہیں اور یہاں تک کہ امریکہ بھی ہمیں اِس بات کا احساس دلاتا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کی ایک نامور یونیورسٹی جارج ٹاﺅن میںایک امام کی تقرری ہوئی ہے۔ امریکی افواج میں تو کئی امام ہیں۔ اکتوبر ۲۰۰۲ءمیں، امریکی محکمہ ڈاک نے عید مبارک کہنے کےلئے اعلیٰ درجے کی ٹکٹ جاری کی، عید جو مسلمانوں کے کیلنڈر کا سب سے بڑا ”پارٹی ڈے“ ہے۔ ’یہ محکمہ ڈاک، مسلمان کمیونٹی اور امریکیوں کےلئے بالعموم فخریہ گھڑی ہے(۳)‘، اخبار عرب نیوز نے عزیزالی جعفر کی اِس بات کو نمایاں کیا۔ جعفر امریکی محکمہ ڈاک کے ذرائع ابلاغ اور تعلقاتِ عامہ کے نائب صدر ہیں۔ ممکن ہے عید کی ٹکٹ ایک بوگس علامت ہو مگر ایک قابلِ احترام امریکی ادارے کا مسلمان اعلیٰ عہدے دار ہونا چھوٹی بات نہیں۔
’دی اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امیرکا‘ (اِسنا) دنیا کے اِس حصے میں مسلمانوں کی آزادانہ سرگرمیوں کی تصدیق کرتی ہے۔ ’ امریکی مسلمان بطور شہری بے شمار تعلیمی اداروں اور کام کاج کے مواقع تک رسائی رکھتے ہیں‘، اِسنا نے اِس بات کا اعلان کیا۔ ’ اِن مواقع کا دائرہ کار وائٹ ہاﺅس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں پبلک سروس جابس، انٹرنشپس اور فیلوشپس کے عہدوں کےلئے امریکی صدر کی سیاسی تقرریوں تک ہے(۴)‘۔ اُردن کی ملکہ نور کے والد نجیب ہلابی نے صدر کینیڈی کے دور میں فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی سربراہی کے فرائض سرانجام دئیے۔ ملکہ نور نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ صدر کینیڈی کو ذاتی طور پر اُن کے والد اِس عہدے کےلئے دل کو بھائے تھے(۵)۔ اِس کے برعکس سعودی عرب جس طرح ”بیرونی“ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کرتا ہے، کیا تضاد ہے۔
صحرائی اسلام کے منحرفین یہاں پر کیا کرتے ہیں، جب وہ اپنے ملکوں سے جلاوطن ہوتے ہیں تو یہاں پر زندگی کیسے گزارتے ہیں؟ بہت سارے جلاوطن امریکی کالجوں میں لکھنے پڑھانے کاکام آزادی کے ساتھ کرتے ہیں۔ ’کیا آج کل امریکی مسلمان بن کر رہنا مشکل ہے؟‘ میں نے اپنی آنٹی سے جو جارج ڈبلیو بش کی ریاست ٹیکساس میں رہتی ہے۔
”نہیں“، انہوں نے اِس بات کو غیر حقیقی قرار دیا۔ ’نہیں، اگر تم پُراعتماد ہو تو تمہیں چھپنے کی کوئی ضرورت نہیں‘۔ گیارہ ستمبر کے روز وہ ہوسٹن میں ایک اسلامی اسکول میں پڑھا رہی تھیں۔ میں نے اُس کمیونٹی ردعمل کے بارے پوچھا جس کا سامنا اسکول کو کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے مجھے ہمدردانہ خطوط، کارڈز، فون کالوں اور پھولوں کے بارے بتایا جو ٹیکساس کے عام شہریوں نے بھیجے تھے۔ اُن کی یادداشتوں میں یہ بات آڑے آ گئی کہ کیلیفورنیا کے جنوبی حصے کے اسلامی سنٹر کی بات لاس اینجلس ٹائمز نے کس طرح سنی۔ ’ہم تو مغلوب الجذبات ہو گئے(۶)‘، اسلامی سنٹر کے مذہبی ڈائریکٹر نے کہا تھا اور اُس نے مغلوب الجذبات بہت گرمجوشی کے ساتھ کہا تھا۔ گیارہ ستمبر کے سانحے کے بعدایک صحافی دوست امریکی جھنڈا لہراتے فارم ہاﺅسوں میں گئے اور مسلمانوں کےلئے ویسے ہی اچھے جذبات دیکھے۔ ’ایک دن‘، اُس نے مجھے بعد میں لکھا، ’مجھے امید ہے کہ کوئی کشادگی، محبت اور ذہانت کی اِس لہر کو ترتیب وار لکھے گا جو دہشت گردی کے حملے کے دوماہ بعد تک امریکہ میں نمودار ہوتی رہی(۷)‘۔ میرا یہ دوست بائیں بازو کی ہمدردی رکھنے والا ہے اور آج تک وہ میری طرح یہ نہیں سمجھ پاتا کہ کس طرح خدا کی اِس سرسبز دھرتی پر مہذب پن کو تسلیم کرنانسل پرستی ہے۔
شکریے کے جس اعتراف سے میں بہت زیادہ محظوظ ہوتی ہوں وہ یہ ہے،’ میں شکی القلب انسان ہوں‘، مسلمان دھڑے بند سارہ ایلتانتوی نے لاس اینجلس ٹائمز کو بتایا۔ ”مگر میرا دل اُس گرمجوشی اور خلوص سے بھر آیا ہے جو لوگوں کا اسلام کے بارے جاننے سے متعلق ہے(۸)‘۔ گیارہ ستمبر کے بعد قرآن کے تین ایڈیشن ایمازون ڈاٹ کام پر ’بیسٹ سیلرز‘ بن گئے۔یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا نے نئے طالبعلموں کےلئے قرآن سے متعلق کتاب پڑھنا ضروری قرار دے دیا۔ اگرچہ اِس کے نتیجہ میں ایک ’لاءسوٹ‘ کا مقدمہ سامنے آیا اور ساتھ ہی ٹھپ ہو گیا، یہ مقدمہ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ باڈی کے صدر اکیس سالہ طالبعلم سید جینیفر دوآم نے امریکی معاشرے پر جواباً تبصرہ کرتے ہوئے دائر کیا تھا۔ ’میر ا یہ احساس ہے کہ اگر آپ ایسے خیالات پڑھنے کےلئے ذہنی طور پر تیار نہ ہوں، جو آپ کے اپنے نہ ہوں اور جن سے آپ اختلاف کر سکتے ہوں تو آپ خودکا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ادارے سے ناطہ نہیں جوڑ سکتے‘۔
کھوج کا یہ جذبہ آکسیجن کی طرح ہے جس کی بناءپر میں شمالی امریکہ کی بہت شکرگزار ہوں۔ زیادہ تر مسلمان دنیا میں، اگر آپ اُس سے زیادہ ہیں جو آپ کو سمجھا جاتا ہے تو آپ کمتر تصور کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر شمالی امریکہ میں مسلمانوں کے پاس ہمہ جہت ہونے کی آزادی ہے۔ یہ آزادی تمام قسموں کے لوگوں کےلئے ہے۔
گیارہ ستمبر کے سانحہ کا نیویارک میں ایک شکار فادر مائیکل جج تھے جو ہم جنس کیتھولک پادری تھے اور جن کا سوگ آگ بجھانے والوں نے منایاجن کے وہ سالہا سال سے روحانی پیشوا تھے۔ لوگوں کی رنگا رنگی اور خیالات کے متنوع پن نے یہ ربط قائم کیا۔ میں نے یہ ربط استوار کیا اور اِس ربط نے ابھی تک میرے اسلامی عقیدے کو برقرار رکھا ہے۔
اگر میں مسلمان ملک میں پیدا ہوئی ہوتی توغالباً دل ہی دل میں میرا خدا سے ایمان اُٹھ چکا ہوتا۔ میں آج تک اِس لئے بچی ہوں کہ میں دنیا کی اِس نکر میں رہتی ہوں جہاں میں سوچ سکتی ہوں، اختلاف کر سکتی ہوں اورکسی بھی موضوع پر مزید جانچ پڑتال کر سکتی ہوں، اور میں یہ سمجھی ہوں کہ اِسی لئے میں نے ابھی تک اسلام کو نہیں چھوڑا۔
بہت تلاش و بسیار کے بعدقرآن کے بارے میری ذاتی تشریح مجھے بار بار عود کر آنے والی تین باتیں سجھاتی ہے۔ ایک، صرف خدا ہی ہر شے کے بارے پورا سچ جانتا ہے۔ دوسرا، صرف خدا ہی نہ ماننے والوں کو سزا دے سکتا ہے ، صرف خدا ہی جانتا ہے کہ سچا عقیدہ کیا ہے۔ (اور قرآن کے پہاڑوں جیسے پھیلے طرز بیان میں یقیناً خدا ہی جانتا ہے کہ یہ ساری باتیں کس طرح ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں۔)انسانوں کو تو بداعمالی سے خبردار کیا گیا ہے لیکن یہی کچھ ہے جو ہم راست بازی کو بڑھانے کی خاطر کر سکتے ہیں۔ تیسرا، نتیجتاً حاصل ہونے والی ہماری پستی ہمیں خدا کی مرضی کے بارے سوچ بچار کرنے کی آزادی مہیا کرتی ہے۔۔ بغیر کسی احسان کے طے شدہ اصولوں پرعمل کرنا۔ ’مذہب میں کوئی جبر نہیں ہو گا(۹) ‘،دوسری سورہ سے یہ آواز سنائی دیتی ہے۔ ’تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین(۰۱)‘، سورہ ۹۰۱ سے یہ آوازآتی ہے۔ اِس سب کے درمیان، یہ ہے: ’اگر خدا چاہتا تو وہ تمہیں ایک نسل میں پیدا کر سکتا تھا مگر اُس نے ایسا نہ کیا۔۔۔(۱۱)‘ اور یہ سچ ہے۔
میری تشریح مجھ پر روشنی ڈالتی ہے کہ کیوں میں ایک مسلمان کی حیثیت سے اسلام کے اعلیٰ دماغوںکے بارے خاموش نہیں رہ سکتی، چاہے وہ اسامہ بن لادن کی شکل میں انتہا پسند ہوں یا میرے مدرسہ کے استاد مسٹر خاکی کی طرح مرکزی دھارے کے ہوں۔ ’جبر کے بغیر‘ اپنے نتائج اخذ کر لینے کے بعد یہ لوگ اِدھر اُدھر دیکھتے ہیں اور دوسروں کو ویسا کرنے سے روکتے ہیں جو وہ خود کرتے ہیں۔ اُس موڑ پر، قرآن سے جاری فرمان کے مطابق ’متنبہ‘ کیا گیا ہے اُن اعمال سے جن پرقرآن کے مطابق دوسروں کے اعمال کے امتحان کی اجازت نہیں ہے۔ میرا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ہمیںتلاش وبسیار کی آزادی سے صرف خوش نہیں ہونا چاہئے بلکہ اِس بات کو بھی یقینی بنانا چاہئے کہ یہ آزادی ہر کسی کو میسر ہو۔ اِس سے کم خدا کی خدائی کو اعلیٰ وارفع اور عادلِ کامل سے نیچے گرانے کے مترادف ہے۔ ایسا شخص، آزاد فکری کی منطق کے ساتھ، ہر لحاظ سے درست ہے اور مکمل طور پر اُن خیالات کا ہم آہنگ ہے جو میں بطور مغربی شخص کے رکھتی ہوں۔
میں ہمہ جہتی کی بات کر رہی ہوں، کھپت بازاری کی بات نہیں کر رہی۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ مغربی خیالات ہمیں صرف شیطانی شرانگیزیوں کے جدید خبط میں مبتلا کر سکتے ہیں، تو مجھے بتائیے کہ کیوں میں نے اپنے روحانی کرب کے دوران بھی کچھ خریدا نہیں (صرف ایک چیز کے جو انگریزی زبان میں قرآن کا ترجمہ ہے)۔ فوری تسکین مجھے اہم معاملات میں موڑ کی گھڑی تسکین نہ پہنچا سکی جب میرے باس نے مجھ سے پوچھا کہ کہ کیسے میں اپنے اسلامی عقیدے میں زنا بالجبر کی شکار نوجوان نائیجیرین خاتون کو کوڑوں کی سزا کاحقدارقرار دیتی ہوں۔ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو آزادی فکر پر مسرور ہوتا ہو، میں اُس کا سوال کرنے کا حق تسلیم کرتی ہوں، کیا آپ نہیں کرتے؟یا کیا آپ اُس کے خلاف ہراساں کرنے کا مقدمہ دائر کر دیں گے؟ کیا وہ مجھے خاموش کرا رہا تھایا اپنے مذہب کو الگ کر کے پیش کر رہا تھا کہ میں اس طرح اُس کے مذہب کے بارے سوچوں؟ اُس کا چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کیا میں اشتراکی نما استعماریت کی خود تنفری کی حالت میں چلی گئی تھی یا باقی ماندہ زندگی کےلئے عصبیت زدہ بن گئی تھی؟ بطور مسلمان، میں کس طرح کی تربیت لیتی اگر میں عکاسی سے مبرا ہونے کا ’حق‘ لینے پر زور دینا چاہتی؟
آپ میں سے سیکولر اذہان کےلئے یہ سوالات ہیں ۔ میں آپ کے اپنے مذہب سے اوپر چلے جانے پر آپ کے انتخاب کا احترام کرتی ہوں۔۔لادینیت۔۔ مگر میں نے اپنی نابلوغیت کا کاڑ کباڑ اکٹھا کر کے کیا حاصل کیا؟ مذہب نے مجھے اقدار مہیا کی ہیں (جس طرح نظم و ضبط) جو شمالی امریکہ کی مادہ پرست زندگی کا مقابلہ کرتی ہیں۔ اِسی مقابلے کا نتیجہ ہے کہ مجھے غوروفکر کی ترغیب ملتی رہتی ہے۔ مذہب اور سیکولرزم کے مابین تناﺅ مجھے متبادل سچائیوں کا کھوج لگانے کی رہنمائی کرتا ہے اور مجھے اپنی ہی انتہا پسندی میں تباہ ہونے سے بچاتا ہے، چاہے یہ انتہا پسندی حقوق نسواں کی ہو، قومیت پرستی کی ہو یا پھر کثیرالثقافتی مظہر کی۔ مذہب نے مجھے کسی ایک کے آگے جھکنے پر مجبور کیامگر خدا مسلسل میرے شعور میں ٹھکانہ کئے ہوئے ہے، ایک قیمتی مہارت جو بے سمت گھمن گھیری کے عہد میں میرے اندر پیدا ہوئی۔ اچھا ہوتا اگر مذہب مجھے یہ سکھاتاکہ مجاز کے ساتھ حاکمیت کو کنفیوژ نہ کرو۔ آپ شاید مزید اس طرح کی باتیں سننا چاہیں خاص طور پر وہ، جو آہستہ آہستہ تمام مذاہب کو ’غیرعقلی‘ قرار دے چکے ہیں،بعض اوقات یہ بھول جاتے ہیں کہ عقلیت اپنے آپ کا ہی تضاد بن جاتی ہے۔
تسلیمہ نسرین، جو ماہر حقوقِ نسواں کے ساتھ ساتھ طبیب بھی ہیں، نے مجھے کہا کہ ’زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے، جب تم مر گئے تو مر گئے، خاتمہ، ختم شد(۲۱)‘۔
’خالص سائنسی نقطہ نظر سے ، یقیناً‘، میں نے جواب دیا۔ ’مگر کون یہ کہہ سکتا ہے کہ سائنسی نقطہ نظر کسی دوسرے نقطہ نظر سے زیادہ برتر ہے؟
’کیونکہ یہ سچ ہے‘۔
’کیا تم فرسودیت کے خلاف لڑ نہیں رہی؟‘
’میں سچ کےلئے لڑ رہی ہوں۔ پریشان حال عورتیں مذہب میں پناہ ڈھوندتی ہیں اور مذہب اِس کام کےلئے ہے۔ مذہب کمزور لوگوں کےلئے ہے، جلد متاثر ہو جانے والے لوگوں کےلئے، لاعلم لوگوں کےلئے، بیوقوف لوگوں کےلئے۔ مگر کیوں ہم پہلے مقام پر ہی کمزور اور متاثر شدہ ہو جائیں؟“
”تسلیمہ، تمہیں اندازہ ہے کہ تمہارے ناقدین کہہ سکتے ہیں کہ تم ایک بہت بڑے گڑھے میں گر رہی ہوجس کے بارے تمہارا دعویٰ ہے کہ لوگ اِس میںگرتے ہیں۔ تم سائنسی طور پر مافوق الفطرت ہو۔‘
وہ ہنس پڑی۔ ’ میں سائنسی طور پر مافوق الفطرت نہیں ہوں، میں سچ کےلئے جدوجہد کر رہی ہوں۔ بڑے سچ کےلئے نہیں، جو خدا کے بارے سچ ہے بلکہ چھوٹے سچ کےلئے کوشاں ہوں۔‘
’مگر تم خدا پر یقین نہیں رکھتی‘۔
مزید تکرار کے بعد اُس کا بڑا سچ باہر آ گیا۔ ’ میں مذہب کوصرف اس لئے ختم کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مذہب انسانیت کا دشمن ہے۔ اگر مذہب انسانیت کا دشمن نہ ہوتا، میرا اِس کے ساتھ کوئی جھگڑا نہ ہوتا‘۔ خیر یہ مناسب بات تھی۔
کم مناسب بات تو یہ فرض کر لینا ہے کہ مذہب جابرانہ طور پر ’انسانیت کا دشمن‘ ہے۔ مائیکل مور امریکہ کی ایک زہرخند اور شورانگیز شخصیت ہے جو عوام کے پاس اقتدار کی حامی ہے، کا اپنے قریبی دوست جیف گبس سے کہنا ہے کہ اُس نے انصاف کو کیتھولزم کی جڑوں سے سیکھا۔ جمی کارٹر کے بقول اسرائیل کی منارکیت کا آغاز ہوتا ہے اور مصر کے انور سادات اظہار نشکر کے طور پر اِس منارکیت کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں، یہ یہودی اور مسلمان اقدار کےلئے کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ ایک ہندو جہادیے نے مہاتما گاندھی کی زندگی کا خاتمہ کر دیا، ابھی مہاتما گاندھی نے دنیا کو ہلا دینے والے غیرمتشدد نظریہ مزاحمت کو متعارف ہی کرایا تھا جسے ستیاگراہا کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا جنم ہندوازم اور جین ازم سے ہوا۔آئیے اس کے بارے سوچئے، میں نے کبھی کسی فنا فی الانسانیت شخص کو دلائی لامہ کی مذہب قبولیت کو رد کرتے نہیں سنا مگر ایک شخص ہے جس نے یہ کیا وہ دلائی لامہ کا جانشین ہے۔
دلائی لامہ، مارٹن لوتھرکنگ جونئیر، ڈیسمنڈ ٹوٹو، مالکن مارشل۔۔ کو ’اہلِ مذاہب‘ ہونے کی وجہ سے بھولا جا سکتا ہے اور اس بناءپر جو کچھ انہوں نے مذہب کے حوالے سے کیا۔ اِن سب نے اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کوقربان گاہ کے کمزور ہوتے ڈھانچے سے باہر نکالا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئے، ہم مغرب میں بسنے والے اس کایا کلپ کے نقیب ہو سکتے ہیں۔ ہم ایسا صرف اسلامی فاشسٹوں کی مذمت کرکے ہی نہیں کر سکتے بلکہ اسلام کا جوش ابھارنے والے بننے سے انکار کی صورت میں بھی کر سکتے ہیں اور اُن کی نفی کر کے جو مسلمانوں کے احساسِ کمتری کی آگ کو بھاری بھر کم تبدیلی دوسرے کے سر تھوپ کر سلگاتے ہیں۔ ہمیں اپنی شکار شدہ ذہنیت کو اُتار پھینکنے کی ضرورت ہے۔
یہ آسان نہیں ہو گا۔ میں اِس کی وضاحت ایک دوسرے نمایاں ’شکار کنندہ‘ متوسط طبقے افریقی امریکیوں کی صورت کروں گی۔ ۱۰۰۲ءکے موسمِ گرما کے دوران میں اور مشعل جارجیا کے شہر اٹلانٹا گئے ۔ ہفتہ کے روز ہم نے جمی کارٹر صدارتی مرکز کا دورہ کیا، اس ادارے کا نام ایک ایسے رہنما کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے ملکی ایجنڈا میں شخصی آزادیوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ مجھے اور چند کام کرنے والوں کو چھوڑ دیجئے، ہمارے علاوہ کارٹر سنٹر پر ہر کوئی گورا تھا۔ ہمارے اس تین گھنٹہ کے دورہ کے دوران کوئی کالا دیکھنے کو نہ ملا۔ بعد میں ہم مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کے مقبرہ پر گئے، ایک سنگِ میل جو افریقی امریکیوں اور چند گوروں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے جاننا چاہا کہ کتنے لوگ کارٹر سنٹر بھی جاتے ہیں۔ میں نے پوچھنا شروع کیا۔
کوئی شخص بھی کارٹر سنٹر کے بارے جاننے کی دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہا تھا۔ ایک جوڑے نے فقرہ کسا۔ ’کیوں ہم اپنا وقت ایک سفید آدمی کے مقبرے پر ضائع کریں؟‘اُم، کیونکہ پادری کنگ کو خراجِ تحسین پیش کرنے سے تم اصل میںنسلی تفریق کے ازالے کو ایک طرح سے سلیوٹ کر رہے ہو۔ اور چونکہ یہ صرف آدمی کی جلد کا رنگ ہی نہیں ہے اور اُس کے کردار کا وزن بھی ہے جس کو اہلِ بصیرت سراہتے ہیں اور وہ اُس کی قبر پر اپنی تصویر بھی کھچواتے ہیںاور اِس کو ناز کے ساتھ خمیدہ صورت لٹکاتے ہیں۔
میں آزادی کے کے جائز نقطہ پر افریقی امریکیوں کی بے کلی کو سمجھتی ہوں۔ اِس کی بنیادیں گہری ہیں۔میرے اٹلانٹا کے دورہ کے دوران شہر کے اخبار نے لکھا کہ جارجیا کی متعدد کاﺅنٹیاں ’وکلاءکے ساتھ معاہدہ کےلئے‘ طے شدہ فیس ادا کر رہی ہیں۔ یہ وکلاءاِن کے غریب اور سیاہ فام لوگوں کے دفاع کےلئے نہیں بلکہ اِن کے فردِ جرم کی تیز رفتار سماعت کےلئے ہے تاکہ مجرموں کی اگلی کھیپ بھی اُسی طرح پیچھے رہ جانے والے الزامات سے بری ہو سکے۔ مگر اُس روز کنگ کی یادگار پر آئے ہوﺅں کی اکثریت مالی طور پر بدحال نہ لگتی تھی۔ وہ اپنے ’نائیک ائیر ہائپر فلائٹس‘ پر اِترا رہے تھے جو اُن کی جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار ہیں، اُن کی کھیلوں میں استعمال ہونے والے حربے ہیں۔ جن لوگوں سے میری بات چیت ہوئی وہ اپنے متوسط طبقے کی درجہ بندی کی کامیابی سے بے خبر نظر آ رہے تھے۔ اور اُس صدر سے بھی جس نے اُنہیں اِس مقام تک پہنچایا۔ مزید بات چیت نے آشکار کیا کہ وہ خودترحمانہ حالت میں رہنا پسند کرتے ہیں جس طرح مغرب میں بسنے والے مسلمان ۔
مسلمانوں کو مفعولی حالت کے بارے زیادہ محتاط ہونا ہو گا۔ ہم خدا پر بیرونی طور سے انحصار کرنے کی وجہ سے بھی اپنے ذاتی توسط کو اکثر کم کر دیتے ہیں۔ ’انشاءاللہ‘، ہماری جبلت میں شامل ہو چکا ہے۔ ’اگر خدا نے چاہا!‘ بالکل نہیں، ہمیں ہر صورت چاہنا ہو گا۔ ہمیں انصاف کے راستے میں خدا کا مددگار بننا ہو گا۔’مگر ہم کون ہوتے ہیں؟‘ آپ میں سے کچھ پوچھ سکتے ہیں۔ آخرِ کار ہمارے اندر یہ بھرا ہوا ہے کہ اللہ عظیم ہے۔ ’ اللہ اکبر!‘جب میں نے خود پڑھاتو مجھے اِس کے اصل معنی معلوم ہوئے۔ خدا سب سے بڑا ہے۔ اپنی مخلوقات سے بڑا، جی ہاں، مگر یہ ہماری بے ربطی کا اظہار نہیں ہے۔ قصہ مختصر، اللہ اکبر کی پکار ہماری ذات کی پستی کے ساتھ توازن قائم کرنے کی یاد ہے۔ میں تسلیم کرتی ہوں کہ میں مذہبی طور پر نرگسیت پسند نہیں ہو سکتی۔ کیا یہی بات اُن لوگوں کےلئے کہی جا سکتی ہے جو منطق کے خلاف فتوے پھینکتے ہیں؟ اور یا پھر ہم میں سے وہ جوفتویٰ دینے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں؟
میری زندگی میں ہی دہشت گردوں نے مرنے والوں کی تعداد کو چند ایک سے بڑھا کر سینکڑوں ہزاروں تک پہنچا دیا ہے اور لاکھوں کے امکان تک لے آئے ہیں۔ تقریباً اسی دوران ویٹیکن نے باضابطہ طور پر صیہونیت مخالفت اور ایذا رسانی کو سرعام رد کیاہے ۔ منحرف کیتھولک کی شکر گزار ہوں جنہوں نے بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کو بھی تسلیم کیا۔ میں نے اِس کھلے خط کو دو حقائق جانتے ہوئے تیار کیا ہے۔ ایک روشن خیال اسلامی انقلاب آ سکتا ہے۔۔ مسلمانوں کے پاس ایسا کرنے کےلئے کوئی پوپ نہیں ہے مگر یہ کرنے یا مرنے کا مقام ہے۔ خاموشی سے کچھ جنم نہیں لے گا۔
یوسی کلین ہالیوی، ایک اسرائیلی صحافی، پکے یہودی اور اچھے دوست ہیں، اُن کا خیال ہے کہ میں آپ مسلمانوں سے غیر ضروری طور پر ناراض ہوں۔ ’ اسلام دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ہے۔۔ (۳۱)یہ فقط جملہ نہیں ہے‘، وہ مجھے یاد دلاتے ہیں۔ یوسی نے ایک کتاب ”ایڈن کے باغ کے دروازے پر“ لکھی ہے جس میں وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ مقدس سرزمین پر عبادت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جتنے مسلمانوں سے انہوں نے رابطہ کیا، صرف صوفیوں نے اُسے اپنے پیچھے جھکنے کو خوش آمدید کہا(۴۱)۔ یہ ہر شخص کا نقصان ہے کہ صرف صوفی، یوسی کی وضاحت کے مطابق اسلام کے اندر’غیر مبہم طور پربیرونی مدار‘ میں ہیں۔
پھر بھی وہ مجھ سے پس منظر تلاش کرنے کی استدعا کرتا ہے۔ ’مذاہب مشکل ادوار سے گزرتے ہیں۔ دوسرے دو وحدانیت کے مذاہب کے بارے سوچو، اپنی بنیاد کے چودہ سو سال بعد عیسائیت پوچھ گوچھ اور قتلِ عام کے عہد میں تھی، یہودیت اپنے ججوں کے پرانے دور میں کیا تھی‘۔ مگر بطور مذہب اسلام، سب سے کم عمر، بمشکل آج کے بالغ مسلمانوں کو اُن کے برے کاموں سے معافی دیتا ہے۔۔ خاص طور پر ہماری قرونِ اولیٰ کے زمانے کے بُرے کاموں کی تقلید کے ضمن میں۔ یوسی خود ایک فلسطینی سے ملاقات کا واقعہ سناتے ہیںجو یہودیوں کے ساتھ بخوشی رہنے کو تیار تھا جب تک وہ اسلام کی حاکمیت میں رہیں ۔ یہ حاکمیت فطری بات ہو سکتی ہے، بوسٹن کے پڑھے اُس عرب کا خیال تھا۔ یہ تعصب ہے، میرا ایمان ہے جو مرکزی دھارے کی مسلم نفسیات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔
یوسی ایک بڑے اور پختہ کار بھائی کی حیثیت سے یہ نصیحت دیتے ہوئے بات ختم کرتے ہیں : ’تمہارے اظہار بیان میں مزید پیار کی زبان کی ضرورت ہے۔ ملا کے لئے نہیں مگر صدیوں پر محیط اربوں ارواح کےلئے جنہوں نے چھوٹی چھوٹی کشیدہ کاری کی ہوئی جائے نمازوں پر ماتھے رگڑے اور اپنی چھوٹی چھوٹی ناخوش زندگیاں خدا کی خوشنودی کےلئے قربان کیں‘۔ اِس گھڑی کو برباد کرنے کےلئے مجھے معاف کیجئے، مگر کیوں اتنی ساری زندگیاں ’چھوٹی‘ اور ’ناخوش‘ رہیں، خاص طور پر نہائت مہربان خدا کے سامنے؟ اور براہِ مہربانی مجھے یہ نہ بتائیے کہ ایسی باتیں ظہور پذیرہوتی ہیں اگر مذاہب دفاع کے عمل میں چلے جائیں، کیونکہ یہاں تک کہ جب اسلام اپنے سنہری دور میںتھا، زندگیاں چھوٹی تھیں اور جھوٹ بڑے تھے۔ یاد کیجئے جب خلیفہ المامون نے آزاد خیالی کی منادی کرائی، تب بھی تازیانے مارنے والے لوگ خلیفہ کی اسلام کی تشریح سے اختلاف کر رہے تھے۔ اِس ضمن میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، کیا آئی ہے؟
لہذاٰ میں اسلام کو ہلانے کے آخری ہلے میں دکھی ہوں۔ کیا میں اسے پیچھے چھوڑ دوں تو کیا یہ خود ہی مجھے آ لے گا۔ دوسرے معنوں میں اگرچہ یہ ہم سب تک پہنچا ہوا ہے۔ میں جو دیکھنا چاہتی ہوں وہ اصلاح کی بھوک ہے، ایسی بھوک جو کچھ کرنے کےلئے بڑھاوا دیتی ہے۔
٭ کیا ہم اپنی رسومات کو تصویر سے باہر لے جائیں گے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو خوف، بھوک اور جہالت سے آزاد کرانے کےلئے اپنے تصورات کو جگائیں گے؟
٭ کیا ہم اپنے توہمات کو پیچھے چھوڑ دیں گے کہ ہم قرآن کے بارے سوال نہیں کر سکتے؟ سرعام پوچھئے کہ یہ آیات کہاں سے آئی تھیں، کیسے اِن کی مختلف طور پر تشریح ہو سکتی ہے اور یہ کیوں متضاد ہیں (ہر مذہبی متن میں ایسی آیات موجود ہیں)۔ ہم قبائلی حتمیت کے علاوہ کسی شے کی روگردانی نہیں کر رہے۔
٭ اگر میرا تجزیہ غلط ہے تو کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیںکہ کیوں کوئی دوسرا مذہب اتنی زیادہ مختلف النوع دہشت گردیوں کو جنم نہیں دے رہا اور اللہ کے نام پر انسانی حقوق کی اتنی خلاف ورزیاں نہیں کر رہا؟ اور کیا آ پ اِس بات کی وضاحت مسلمانوں کے سوا کسی پر انگلی اٹھائے بغیر کر سکتے ہیں ؟
مجھے www.irshadmanji.comپر اپنی رائے لکھ کر بھیجئے۔ میں ایک ایماندارانہ بحث کےلئے آپ کی منتظرر ہوں گی۔
ایمان پر قائم (ہنوز)
ارشاد
حوالہ جات:
۱ ۔ Ibrahim, conversation in Halifax, September 27, 2002
۲ ۔ Josh Tyrangiel, "Israeli Jews in the Dragnet," Time Canada, December 10, 2001, p. 41
۳ ۔ Javid Hassan, "US to reissue Eid Stamp on Oct. 10," Arab News, September 17, 2002, p. 1 of online version
۴ ۔ www.isna.net.
۵ ۔ Queen Noor, Leap of Faith: Memoirs of an Unexpected Life (New York: Miramax Books, 2003), p. 18
۶ ۔ Mahmoud Abdel-Baset as quoted by Solomon Moore, "After the Attack: Expressions of Support Surprising to Muslims," Los Angeles Times, September 26, 2001
۷ ۔ Doug Saunders in email, February 25, 2003۔ صحافی دوست ڈاگ نے لکھا، ”ہوم لینڈ اسکیورٹی کے اختیارات اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوںاور امریکہ بدری نے امریکی معاشرے میں پوری مسلمان کمیونٹی کو الگ تھلگ تو کر دیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ میرا نہیں خیال کہ اِن اقدامات نے مسلمان امریکیوں کو عام لوگوں کے سامنے قابلِ نفرت بنایا ہو جیسا کہ جاپانیوں کے ساتھ ہوا تھا، وہ عام لوگوں کے سامنے حقیقی نفرت کا شکار ہوئے تھے۔ میرا یہ گمان ہے کہ امریکی بہت زیادہ مذہبی لوگ ہیں اور اُن کے گہرے مسیحی اعتقادات اسلام کے اعتقادات اور عبادات کو قابلِ قبول بناتے ہیں، یورپ سے کہیں زیادہ۔“
۸ ۔ Sarah Eltantawi as quoted by Solomon Moore, "After the Attack: Expressions of Support Surprising to Muslims," Los Angeles Times, September 26, 2001
۹ ۔ قرآن، ۲:۶۵۲
۰۱: قرآن، ۹۰۱:۶
۱۱۔ قرآن، ۵:۹۴۔ ایک ایسی ہی آیت ۶۱:۹۳ ہے۔
۲۱۔ تسلیمہ نسرین کا انٹرویو، ٹورونٹو ، ۸۲ اکتوبر ۲۰۰۲ء۔ (ویب سائٹ کے انگریزی حصہ میں اسی حوالہ کو کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں)
۳۱۔ Klein Halevi in email, February 26, 2003
۴۱ ۔ Yossi Klein Halevi, At the Entrance to the Garden of Eden: A Jew's Search for God with Christians and Jews in the Holy Land (New York: William Morrow, 2001), p. 105
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




