Urdu Edition
دیانتداری کی ستائش میں
’مجھے ”شیطانی آیات“ پڑھنے والے مسلمانوں کے بے تحاشہ تعریفی خطوط یاد ہیں‘ ، سلمان رشدی نے مجھے ۲۰۰۲ءمیں ایک انٹرویو کے دوران کہا۔ ’خاص طور پر مسلمان عورتوں نے رستہ کھولنے پر میرا شکریہ ادا کیا، تمہیں اِس بات کا اندازہ ہے(۱)‘۔ او بوائے، کیا میں نہیں جانتی۔ ایک ہفتہ پہلے ٹورونٹو ایریا کے اصلاحات کے حامیوں نے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اکثر شرکاءخواتین حجاب پہنے ہوئے نہیں تھیں، حتکہ اس کاچھوٹا موٹاانداز بھی نہیں تھا۔ پھر بھی وہ اسلام کے بارے سوچ رہی تھیں، ہفتہ کی ایک خوبصورت صبح وہ اِس بات پر بحث کر رہی تھیں کہ دین کےلئے اگلا قدم کیا ہو گا اور اُس کا مقام کیا ہو گا۔
ایک باغیانہ ہستی منبر پر کھڑی ہو گئی۔ ’کیوں مجھے میری لائبریری میں تیس ہزار کتابیں چاہئیں؟‘ اس لئے کہ اِن میں سے ہر کتاب ایک ہی بات کئے جارہی ہے؟ یو سی ایل اے کے پروفیسر خالد ابو ایل فدل کمینہ خصلت ملاﺅں کی حکم عدولی کی غرض سے آوارہ کتوں کو گھر لے آئے تھے۔ ’ہم مسلمان اپنی تہذیبی میراث کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیںجس طرح ہماری ہر ایک کتاب ایک ہی ”سادہ سچ‘ ‘ جو اسلام ہے، کی اثبات کرتی چلی جاتی ہے اور ہمیں اِس سے آگے جانے کی ضرورت نہیں‘۔ آج کے مسلمان دانشور ’جیسی زیادہ گاﺅدی اور بے تحاشہ بور شے انسانیت نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی‘۔ کیونکہ اِن میں سے ہر کوئی کہہ سکتا ہے، ”میں اپنی زندگی میں کیا کر رہا ہوں، کیا میں بالکل وہی کچھ لکھنے جا رہا ہوں جو آج سے چھ سو برس قبل کہہ دی گئی تھی(۲)“۔
ہجوم زیرِ لب مسکرایا۔ راستے میں ایک خالی کرسی تھی، میں نے ایک ہم جنس مسلمان دوست کی طرف اشارہ کیا جو ایک کپا پہنے یہودی لڑکے سے عاشقی معشوقی کر رہا تھا۔ اپنی سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے میں ایک بوسنین ترک کے گلے ملی جسے میں نے تب سے نہیں دیکھا تھا جب سے اُس نے ایک میکسیکن ، جس کی بطور کیتھولک پرورش ہوئی تھی، سے شادی کی تھی۔
اُس نے محبت کا پودا لگایا اور پھل توڑ نے چل دیا۔ ’کیا آپ کو کسی ایسی تہذیب کا علم ہے جو کمتر مشترک خصوصیات کی بناءپر پروان چڑھی ہو؟ ایسی تہذیب جو اہل لوگوں کی بجائے نادانوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہو؟ تہذیب کو بناے والے فنکار ہوتے ہیں، ادیب ہوتے ہیں، وہ صلاحیت ہوتی ہے جس سے موسیقی اور جمالیات جنم لیں اور اظہار کے نئے طریقے معرض وجود میں آئیں۔تہذیب تب آگے بڑھتی ہے جب کسی سوچ کی بنیاد پر کوئی لگن ہو، فتویٰ نہیں‘۔ میں ایک تحریک شروع کرنا چاہتی ہوں لیکن سب کو متوجہ کر کے، میں نے ’اندرونی جہاد‘ کی طرز پرتحریک کی راہ ہموار کر دی ہے۔
فقط ایک شے مجھے محسوس ہوئی۔ اگر ایل فدل کے بھڑ جانے والے الفاظ کسی غیر مسلمان نے کہے ہوتے تو بولنے والے کی استعاراتی گردن دبا دی گئی ہوتی۔۔ جہادیوں سے نہیں (جو استعارے کی پرواہ نہیں کرتے) بلکہ کمرے میں بیٹھے ہوئے بہت سارے دانشوروں نے۔ اَب خاص مسلمانوں کے حوالے سے بات نہیں ہے۔ جب امریکی افریقیوں کے مزاح نگار کرس روک اپنے کردار کو ’نیگرو‘ کے لفظ کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں جبکہ لاطینا جینیفر لوپاز پھبتی کسنے کی نیت کے بغیر لاطینا کا لفظ زور سے بول سکتی ہے تو صرف مسلمان ہی نہیں ہیں جو ’ترجمانی‘ کی سیاست کا پہلے سے شکار ہیں۔ مگر کیوں صحیح ترجمانی کا دارومدار سطحی مشترکہ خصوصیات کی بجائے اصل مشترکہ اقدار کی بناءپر نہیں، سطحی مشترکہ خصوصیات میں کیوں کالوں کےلئے جلد کا رنگ، ہم جنسوں کا جنسی رجحان، مسلمانوں کامذہب کےلئے استعمال ہوتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ اُس روز ایل فدل کو سننے والی خواتین کی اکثریت ہر اُس شخص کے پرخچے اُڑا سکتی تھیں جو انہیں اپنے لباس کے گرد کمر پیٹی پہننے کا حکم دیتا۔ پھر کیوں ہم میں سے کوئی غیر مسلموں پر درستگی کے زیر جامے مسلط کرنا چاہتا ہے؟
یا غیر مسلموں نے خود ہی اپنا محاسبہ کر رکھا ہے؟
الفدل کی آمد سے چند روز قبل اِس سوال پر غوروخوص کرنے کی میرے پاس وجہ تھی۔ ایک دوست (جسے ایلیکس کہہ لیتے ہیں) نئے آنے والے جنوبی ایشیائی طالبعلموں کےلئے یونیورسٹی ٹورونٹو کے اسٹوڈنٹس سنٹرکو اوپر اور نیچے کی طرف انگلیوں کے اشاروں والے سائن بورڈوں سے سجا رہا تھا ۔ اپنے کمپیوٹر پر’ اِن‘ کے ڈیزائن بناتے ہوئے وہ فخر سے دکھا رہا تھا کہ اُس نے انگلیوں کے نشان غیر سفید بنائے ہیں۔ ایک سائن میں انگلی کالی تھی، دوسرے سائن میں انگلی گرے رنگ کی تھی(ایسا گرے شیڈ جو اُس کے پرنٹر سے بھورے رنگ کے قریب نکل سکتا تھا)۔ جب ایلیکس نے مجھے یہ سائن کمپیوٹر پر دکھائے تو میں تائید کےلئے مسکرا دی۔ تب اُس نے اُس روز کے ایک اخباری مضمون کا ذکر کیا جو ڈنمارک میں اسلامی انتہا پسندی سے متعلق تھا(۳)۔ ”تمام مسلمانوں کو روایتی بنانا“، اُس نے اخبار کی مذمت کی۔
مضمون کو پڑھنے کے بعد میں ایلیکس سے متفق نہ ہوئی۔ ’میرا خیال ہے کہ وہ (اخبار والے) اصل پریشان کُن مسئلے پر روشنی ڈال رہے ہیں ©‘، میں نے اپنی رائے دی۔ فوراً ہی اُس نے میری تشویش کی تائید کر دی کہ کچھ مسلمان ڈنمارک کی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مرکزی دھارے کی خاموشی اُن کے رویے کو درگزر کر رہی ہے۔ اُس نے مضمون کے اعدادوشمار کو دہرایا، اگرچہ مسلمان ڈنمارک کی آبادی کا پانچ فیصد ہیں لیکن وہ ویلفئیر کا چالیس فیصد حصہ کھا رہے ہیں۔ فکر والی بات یہ تھی کہ چونکہ جب مملکت گڑبڑ پیدا کرنے والوں کی زندگی گزارنے کے وسائل مہیا کرتی ہے تو اُن کے پاس اپنے منصوبے بنانے اور اُن پر عمل درآمد کرنے کےلئے وقت ہی وقت ہوتا ہے۔ میں آپ کو یہ تو بتا نہیں سکتی کہ اعدادوشمار کتنے درست تھے لیکن ایلیکس اِن سے پریشان ہو گیا۔ پہلے اُس نے کوشش کی کہ میرے اندر کے مسلمان کو مجروح نہ کرے، اِس لئے اُس نے پہلے اخبار کی صحافیانہ بدکرداری کو رگیدا۔ ایلیکس کی ”بے ضرر“ بددیانتی بے شمار مسلمانوں کے رویوں جیسی ہے۔ ایلیکس کی ”بے ضرر“ بددیانتی بے شمار مسلمانوں کے رویوں جیسی ہے۔ اگر آپ ایلیکس ہیں تو برائے مہربانی سنئے۔ اسلام کو استعمال کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ کچھ مسلمان اِس کو بطور تلوار استعمال کرتے ہیںاور وہ ایسا کرتے ہوئے غنڈے بن جاتے ہیں۔ مگر بہت سارے اور اُن سے بھی زیادہ اسلام کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ بھی غیر تعمیری فعل ہے۔ یہ فعل مسلمانوں کو خود احتسابی اور غیر مسلمانوں کو شرمندگی سے دور رکھتا ہے۔ ’تمہارے پاس میرے مذہب کے بارے سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے“، ڈھالیں لہرانے والے مسلمان اکثر غیر مسلموں کو یہ خطبہ دے رہے ہوتے ہیں۔ ’تم کبھی بھی اسلام کو سمجھ نہیں سکتے‘۔ (اِس بیان میں کئی معنی پنہاں ہوتے ہیں: میں تحفظ سے خالی مسلمان بالکل جاننا نہیں چاہتا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔) ’تم نے میرے لوگوں کو ماضی میں ”نسل پرستی“ کا نشانہ بنایا اور تم ہمیں پھر ”مسائل میں مبتلا“ کرو گے۔ (بین السطور: ہم مسلمانوں کے پاس اپنی طاقت کہیں بھی نہیں ہے۔ یہ وہ بات ہے جو کلچرکے پروفیسر نے مجھے پڑھائی تھی۔)
میں نے اِس مسئلے کے بیان میں اِس حربے کے استعمال کو بے شمار دفعہ دیکھا ہے۔ لہذاٰ میں اس کا صرف اس طرح اظہار کروں گی: میں نے اپنے لڑکپن سے مغرب کے مسلمانوں کو اسلام کے بارے لوگوں کی لاعلمی کی چھاتیوں کو چوستے اور ہر قیمت پر جوازدہی کا ماتم کرتے دیکھا ہے۔ دیگر مبصرین نے اِس پر غور بھی کیا ہے۔ حتکہ گیارہ ستمبر سے پہلے، برطانوی صحافی یاسمین علی بھائی براﺅن نے لکھا کہ ’یہ خیال کہ ہم اپنے معاشرہ میں مختلف گروہوں کے غیر مداخلتی معاہدہ پر سادگی کے ساتھ عمل کر سکیں، نہ صرف غلط ہے بلکہ ناممکن ہے۔ اَب ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہر صورت بندھے ہوئے ہیں(۴)‘۔ ہمیں اَب اپنی ڈھال کو نیچے رکھنا ہو گا اور کسی کھلے معاشرہ کے جنم کے حق کو قبول کرنا ہوگا: جہاں ہم ایک دوسرے سے سوالات پوچھ سکیں۔ بعض اوقات چبھتے ہوئے سوالات۔ بعض اوقات سرعام۔
اِن حالات میں ہمیں کثیر الثقافتی کے بارے گھسے پٹے جملوں سے اپنے ذہنوں کو مزید ماﺅف نہیں کرنا چاہئے ۔ مگر ہم یہی کچھ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر’مسلمز اِن امریکن پبلک سکوائر‘ نامی پروجیکٹ، جوزف کوٹ سے جو امریکی مسلمانوں کا انتخابی حلقہ ہے، چیختا ہے۔ ’حروفِ تہجی کے اعتبار سے ہماری ممبرشپ البانوی، افغانی اور الجزائری سے ایک طرف شروع ہو کردوسری طرف یمنی اور زانزیبار تک جاتی ہے‘، اس پروگرام کی ویب سائٹ شہنائی بجاتی ہے۔ ’ہم میں سے اکثر مسلمانوں کےلئے یہ حقیقت تسلی بخش ہے کہ یہاں امریکہ میں۔۔۔مسلمانوں کے اتحاد کے نئے معنی بن رہے ہیں(۵)‘۔ پرانی تقسیم کاریاں ختم ہو رہی ہیں اور ہمہ جہتی سے اتحاد جنم لے رہا ہے۔ ’امریکن پبلک سکوائر‘ کے مسلمان آنے والے عہد کی کہانی پیش کرتے ہیں۔
ایک نقص کے سوا: جس کو بالآخر دیکھتی ہوں: ’امریکن پبلک سکوائر‘کے مشاورتی بورڈ میں کوئی عورت شامل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، اِس پروجیکٹ نے اپنی ویب سائٹ پر پچیس ”نیشنل مسلم لیڈروں“ کی تصاویر لگائی ہوئی ہیں جو ایک ”فوکس گروپ“ کو تشکیل دینے کےلئے اکٹھے ہوئے ہیں اور اُن میں کوئی ایک عورت بھی شامل نہیں ہے۔ میں صرف نمبروں کی برابری کے چکر میں برابر نمبروں کی پرواہ نہیں کرتی ۔ میری شکایت تو قبائلی اسلام کو درست کرنے کےلئے ضروری اقدامات نہ کرنے سے متعلق ہے۔ عصری مسلمان دنیا کے انسانی حقوق بشمول عورتوں کے حقوق کا نہائت بُرا ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے میرا سوال یہ ہے: اگر عورتیں برابر بہ ہوں تو ہمہ جہتی ناکافی ہوتی ہے، کیا کسی نے ’امریکن پبلک سکوائر‘ کے مسلمانوں کو”متنوعیت“ کی اندھیری غار میں سوراخ کرنے کےلئے متنبہ کیا ہے اور ایسا کرنے سے اُن کے میلوں ٹھیلوں کی رونق و شادمانی تو برباد نہیں ہو جائے گی؟
میں ایک دوسری پائیدار مثال پیش کرناچاہتی ہوں کہ کیسے مغرب میں ہم کثیر الثقافتی کی لہر سے مدہوش ہو چکے ہیں۔ ۴۹۹۱ءمیں ، ملائشیا کے نائب وزیر اعظم انور ابراہیم نے جارج ٹاﺅن یونیورسٹی میں ”تہذیبوں میں مکالمے کی ضرورت“ پر گفتگو کی۔ اس وقت جیل میں بند انور ابراہیم نے اعتراف کیا کہ ’لاعلمی، ناانصافی، بدعنوانی، منافقت اور اخلاقی قدروں کا فرسودہ پن عصری مسلمان معاشروں میں عام پایا جاتا ہے(۶)۔‘تاہم اُس نے خبردار کیا، ’آج آسانی سے ذرائع ابلاغ کے بہکاوے میں آجانے والایہ تاثر بنا لے گا کہ مسلمان دنیا میں صرف سخت گیر اور ہراساں کرنے والے انتہا پسند رہتے ہیں‘۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تہذیب نے ’پیار محبت کی کئی کہانیوں کو جنم دیا ہے‘۔ انور نے لیلا مجنوں کی” دل موہ لینے والی کہانی“ کو بطور مثال پیش کیا، ’جیسے جیسے کہانی آگے جاتی ہے، جوان آدمی کو دوشیزہ کے ساتھ اپنے جنون کی وجہ سے ہتک و رسوائی کا سامنا کرنا پرتا ہے کیونکہ دنیا کی نگاہوں میں لیلا کا حسن گھناﺅنا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اِس کے جواب میں نوجوان نسل ہمیشہ یہ کہتی ہے : ”لیلا کا حسن دیکھنے کےلئے مجنوں کی آنکھ ہونی چاہئے“۔ آہ، ٹھکرائی ہوئی لیلا پیار کو پا لیتی ہے۔۔روحانی بالیدگی پانے والی کیسی بات ہے۔
اس گھڑی رومانس کو پیش کرنے کے خطرے میں میں یہ پوچھتی ہوں: کیا لیلا کے پاس مجنوں سے شادی کی بجائے اکیلے زندہ رہنے کا انتخاب تھا؟ کیا وہ اُس کی مرضی کے بغیر وطن چھوڑ سکتی تھی؟ کیا وہ اپنے ”کیرئیر“ کا انتخاب کر سکتی تھی؟ کیا اِن میں سے کوئی سوال غیر مسلمانوں کی طرف سے کیا گیا جو اُس محفل میں موجود تھے؟ انور ابراہیم اِس طرح کے سوال و جواب سے پریشان نہ ہو سکے۔ وہ انسانی حقوق کے خواہاں تھے اور اِسی بات نے اُن کے باس کو خبردار کر دیا، مہاتیر محمد جو ملائشیا کے وزیر اعظم تھے، جنہوں نے اپنے نائب کو منہ بند کرنے کی غرض سے جیل بند کر دیا۔ ہم کیوں ایسی خوش کن کہانیوں کےلئے نرم خو ہیں جن کے حقائق گھناﺅنے باور کئے جا سکتے ہوں؟
غیر مسلمانوں کےلئے ایک نوٹ: پل بھر کے رومانس کو تباہ کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ آزاد معاشرے آزاد ہی رہتے ہیں کیونکہ لوگ سوالات باآواز بلند پوچھنے کا خدشہ مول لیتے ہیں۔ سوالات بھی اِس طرح کے، ”کہ کیوںہزاروں مسلمانوں کو فرانس میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے کو سڑکوں پر لے آنا آسان ہے مگر کیوں سعودی عرب کے مسلط کردہ اِس حجاب پر کسی بڑی احتجاجی ریلی کا عشر عشیرناممکن ہے؟ اور جب مسلمان اصرار کرتے ہیں، ’ہمارے ہاں اپنے طریقے کی جمہوریتیں ہیں‘، آپ کو صرف ایک ہی سوال پوچھنا ہے: وہ کونسے حقوق ہیں جوعورتوں اور مذہبی اقلیتوں کو اِن جمہوریتوں میں دستیاب ہیں، تھیوری کی حد تک نہیںعملی لحاظ سے؟ جواب میں آپ کو بلاشبہ یہ سننا پڑے گا کہ مغرب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ کس طرح اُن کی عورتیںسماج میں قبولیت پانے کی خاطر چھاتیوں کو بڑھاتی ہیں اور پیٹوں کو گھٹاتی ہیں۔ مان لیا، مغرب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ پھر بھی، مغرب میں بطور خواتین کے حقوق میںسرگرداں ساری زندگی گزارنے کے باوجود میں کسی ایسی ایک لڑکی سے نہیں ملی جس کے والدین نے اُسے چھاتیوں میں سلیکون نہ بھرنے پر خاندان سے نکال باہر کیا ہو اور البتہ ایک سے زائد مسلمان والدین نے اپنی بیٹیوں کے ختنے کرانے کے انکار کو مسترد کر دیا ہے۔ غیر مسلم دنیا پر یہ احسان کریں کہ جب مسلمان بولنا شروع کریں تو اخلاقی قدروں کی تبدیلی کا بٹن دبا دیں۔ اُس گھڑی کو تباہ کرنے کی ہمت کریں۔
اپنے وقتوں کے خودساختہ دانشوروں سے پوچھئے، مثال کے طور پر امن کے سرگرم کارکنوں سے پوچھئے، کیوں یہ مخصوص کرداروں کے ساتھ اپنا ناطہ جوڑ لیتے ہیں اور ہم سب سے تالیاں بجانے کی توقع کرتے ہیں۔ جنوری ۳۰۰۲ءمیںجب یو این اسکیورٹی کونسل نے یہ بحث شروع کی کہ صدام حسین کو کیسے غیر مسلح کیا جائے تو میں نے ٹورونٹو کاجنگ مخالف اجتماع ملاحظہ کیا۔ اُس روز کے آخری مقرر ۔۔ جنگ مخالف ٹیم کے خوابوں کی ڈھارس نے کہا۔۔ اگر تم اخبار شائع کرو تو ایرانی طرز کی مذہبیت کو بڑھاوا دو(۷)۔ میں یہ سوچتی رہی کہ ہوٹنگ کرتا، سیٹیاں بجاتا اور شادمانی کا اظہار کرتا مجمع کے پاس یوںاکٹھے ہونے کا قانونی حق ہے اگر اُس شخص جیسے لوگ یونہی اکٹھے ہوتے رہیں؟۔ واشنگٹن ڈی سی میں اُسی دوپہر کو جنگ مخالفین منتظمین نے اسٹیج اُس مسلمان عالم کے حوالے کر دیا جس نے اکتوبر ۱۰۰۲ءمیں کہا تھا، ’ہالی وُڈ کے صیہونی، نیو یارک کے صیہونی اور ڈی سی کے صیہونی(۸) مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں‘۔اگر امریکہ کو اپنے اتحادوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت محسوس ہو اور روشن خیال مغربی بھی ایسا محسوس کریں۔ لیکن آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کس طرح کے بھونڈے اتحاد بن جائیں جب تک آپ اُس مخصوص گھڑی کو تباہ نہ کریں اور پوچھنے کی ہمت نہ کریں۔
اُس پیسے کے بارے پوچھئے جو آپ نے خیرات میں دیا تھا۔ ”وومین لوننگ انڈر مسلم لاءز“ کے مطابق ’عطیات دینے والے اداروں‘ کی اچھی خاصی تعداد کا پیسہ نادانستہ طور پر مدرسوں اور فاﺅنڈامینٹلسٹ کے ہاتھوں ہونے والے سماجی کام کی نذر ہو گیا ہے۔ اور فاﺅنڈا مینٹلسٹ جواب میں لاگو کرتے ہیں’مردوں پر یہ دباﺅ کہ وہ مسجد جائیں اور عورتوں پر یہ دباﺅ کہ وہ اپنے آپ کو ڈھانپیں‘۔ وہ ’مخلوط تعلیم کے اسکولوں کو ختم کرنے(۹)، لڑکیوں کے سائنس، آرٹس اور اسپورٹس پڑھنے پر پابندی لگانے ، اور ایسے تعلیمی پروگرام کے احیاءپر زور دیتے ہیں جو دوسروں کےلئے نفرت پیدا کریں‘۔ بظاہر غیر جانبدار ٹائیٹل نظر آنے پر بالکل دھوکہ نہ کھائیے(۰۱) ۔ دی بینی وولینس انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن، دی مرسی انٹرنیشنل ریلیف آرگنائزیشن، دی گلوبل ریلیف فاﺅنڈیشن۔۔یہ سارے دل لبھانے والے نام ہیںاور سبھی اسلامی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ پھر آٹوا میں مسلمانوں کا خیراتی ادارہ ہیومن کنسرن انٹرنیشنل ہے۔ کچھ وقت تک اِس ادارہ کے پاکستان کےلئے ڈائریکٹر اور کینیڈا کے شہری عمر سعید خدر نے کینیڈا کے مسلمانوں سے میٹھی میٹھی باتیں کر کے اُن سے چیک اور جیولری ’انسانی ابتری کی بحالی‘کے نام پر حاصل کر لئے۔بظاہر اِن لوگوں کو گمان تک نہیں تھاکہ یہ شخص القاعدہ کا رکن ہو سکتا ہے۔ بعد میں پاکستانی حکام نے خدر کو۵۹۹۱ءکے بم پلاٹ میں گرفتار کر لیا، ہیومن کنسرن نے اِس کو باہر نکال دیا۔جب خدر رہا ہوا تو اُس نے مقابلے میں ویسے ہی بھاری بھرکم نام، ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن پروجیکٹس انٹرنیشنل ، کا خیراتی ادارہ بنا لیا۔ میںآپ سے یہ نہیں چاہتی کہ آپ امداد دینا بند کر دیں۔ میں آپ سے یہ چاہتی ہوں کہ آپ اِس بات پر لاپرواہی برتنا بند کر دیں کہ آپ کی امداد کہا ں جاتی ہے۔ اُس گھڑی کو تباہ کرنے کی ہمت کریں۔
آپ آرام کے ساتھ سیاستدانوں کو مشکل سوالات کرسکتے ہیں، ایسا ہی ہے نا؟ انہیں کچھ کہتے ہوئے اتنا ڈر نہیں لگتا جتنا مسلمانوں کے احتساب کی بات کرتے ہوئے لگتا ہے، ایسا ہی ہے نا؟ ٹھیک ہے۔ اگر آپ امریکی شہری ہیںتو آپ کو کیسے علم ہے کہ آپ کے پیسے افغانستان میں جہاد کی ترغیب دینے والی کتابوں کےلئے نہیں خرچ ہو رہے، جیسا کہ ریگن دور میں یوایس ایجنسی برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نے کیا۔ کیا آپ نے اپنے کانگریس کے رکن کو یہ معلومات پہنچائی ہیں؟ اگر آپ ناروے میں رہتے ہیںتو کیا آپ آگاہ ہیں کہ آپ کے ملک کی امداد (آپ کے ادا کئے پیسوں کے ذریعے) سے انگریزی پڑھانے کے جو اسکول چل رہے ہیں ، اُن میں مسلمان عورتوں کو مسلمان مردوں سے الگ تو نہیں کر دیا گیا، اس طرح اِن تارکین وطن کو ہمہ جہتی متعارف کرانے کے اصول کے رائیگاں ہونے کا اندیشہ تو نہیں؟ ہالینڈ کے رہائشیوں کےلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کہیں ڈچ مسلم براڈکاسٹنگ سسٹم اَب مزیدنفرت آمیز مواد اپنے ٹی وی اسٹیشن نیدرلینڈوَن پر پیش نہیں کر رہا، جیسا کہ اُس نے گیارہ ستمبر ۱۰۰۲ءکو کیا تھا؟ کینیڈا کے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ گیارہ ستمبر کی پہلی برسی کے موقع پر وفاقی سطح کے خیراتی ادارے ٹورونٹو ریسپونس فار یوتھ (ٹی آر وائے) نے رواداری کی ضرورت کے احساس کو پیدا کرنے کےلئے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ مگر ٹی آر وائے کا اپنا مواد مسلمانوں کے روایتی میڈیاکی غماضی کرتا تھا اور دوسروں کےلئے یہ درج تھا، ’سفید فاموں اور یہودی مردوں کے تحت چلنے والی کارپوریشنیں‘۔ کیا یہ نسل پرستی مخالف کام ہے؟ کس کےلئے؟ ونڈرلینڈ میں ایلس اور علی کےلئے؟ کیا ہم اپنا پیسہ کسی مخلصانہ کوشش کےلئے خرچ نہیں کر سکتے؟
آپ میں سے کچھ خود کو غصے کے ساتھ برا بھلا کہہ سکتے ہیں، ’مگر یہ سچ ہے کہ سفید فام اور یہودی میڈیا کی تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں‘۔ کیا سچ بتانا ہمیں نسل پرست بنانے کے مترادف ہے(۲۱)؟ہم سیاہ فام رچرڈ پارسنز، جو ٹائم وارنر کے چیف ایگزیکٹو ہیں، اور اوپرہ ونفری، اور سونی مہتا اور کیونسی جونز کو ایک طرف کرتے ہوئے طے کرتے ہیں کہ آپ درست ہیںکہ سفید فام اور یہودی ہی ثقافت کے مرکزی دھارے کو چلا رہے ہیں۔ جب تک ہم انہی بنیادوں پر کھیل رہے ہیں تو مجھ پر فرض عائد ہوتا ہے کہ میں ٹی آر وائے کا مزید بھانڈا پھوڑوں، جو خود کو ’نسل پرست مخالف پروجیکٹ‘ قرار دیتی ہے۔ اِس ورکشاپ کے اکثر لیڈروں کے نام مسلمانوں والے ہیں۔ شاید ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ نسل پرست مخالف تنظیم یہودیت مخالف تنظیم بن جاتی ہے اگر اُسے مسلمان چلا رہے ہوں۔ یا کیا میرا اِن لوگوںکے بارے اِس طرح کا بیان مجھے نسل پرست ثابت کرتا ہے؟ کیا یہ ’نسل پرست مخالف‘ روایتی میڈیا کے پیچھے بیٹھے پیلی جلدوں اور چھوٹی یہودی ٹوپیوں کو تصور میں رکھ کر اپنا کام تو نہیں کر رہے؟ کیا وہ مجھ سے زیادہ، کم یا میرے جتنے ہی نسل پرست ہیں؟ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ اس طرح کا مقابلہ کس قدر مشکل ہے؟
اِس سے ہٹ کر کس کاپوچھنا درست ہے کہ کیوں کچھ لوگوں کا (مثال کے طور پر مسلمانوں کا) نسل پرستی کے بارے اعتراض کرنا جائز ہے جبکہ دوسرے لوگوں (کہہ لیجئے، غیر مسلمانوں کا) کا یہ اعتراض اٹھانا درست نہیں۔ بالآخر نہ امریکہ اور نہ اسلام ایک ہی طرح کی شے ہیں۔ نہ احمقانہ جینیاتی سطح پر ’نسل‘۔ پھر کیا ہے؟ کم از کم تین چیزیں۔
پہلی، امریکی اپنے بارے میں سمجھتے ہیں کہ اُن کا اِس نظریہ ، آزادی کے حوالے سے احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اُن کا ملک رنگوں کے معاملہ میں اندھا نہیں ہے اور یہی نظریہ آزادی ہے۔ ایک لحاظ سے، اسی لئے امریکہ کے تفتیش کاروں کو نسل پرست کہنے کا تُک نہیں بنتا۔کیونکہ نسل پرستی کا حوصلہ شکن الزام امریکہ کے ناقدین پر فقرے نہیں کستا بلکہ اُن کی تنقید ہمیں قابلِ قبول لگتی ہے۔ اور یہ تنقید بھی قابلِ قبول ہونی چاہئے جتنی معاشرتی طور پر منتشر ملت اسلامیہ پر ہونی چاہئے۔ مسلمان جو خود بخود خود کواسلام کے بارے پوچھنے والوں کی نسل کے خلاف ہو جاتے ہیں، خود سے یہ فکشن گھڑنا شروع ہو جاتے ہیں کہ وہ ہم سب ایک مقام سے آئے ہیں۔ آپ اس طرح کے فرسودہ پن کا الزام یہودیوں یا سفید فاموں کے سر نہیں جڑ سکتے۔
یہاں پر ایک دوسری وجہ بھی ہے جس کی بناءپر غیر مسلمان امریکیوں سے پوچھنا مناسب لگتا ہے اور مغربیوں سے بھی عمومی طور پر۔۔ مگرمسلمانوں سے نہیں۔مغربیوں کو حکام کے ساتھ اختلافِ رائے کی بناءپرآپ مسلمانوںں کو جسمانی طور پر آزار پہنچانے کی عادت نہیں ہے۔ ہر امریکی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ نیو یارک ٹائمز ایف بی آئی کے امریکہ میں القائدہ کے بھرتی شدہ تعداد کے بیان کو چبھتی تنقید کی سیخ میںپروئے، اور اِسے ”کم و بیش وحشی اندازہ“ قرار دے مگر کوئی اخبار کے دفاتر کو آگ نہیں لگاتا جیسا کہ نائجیریا میں ہوا جب ایک کالم نگار نے بے خیالی سے اقتدار پر قابض مسلمانوں کے خلاف لکھ دیا ۔ امریکہ کے بہت سارے کیبل چینلز یہ اشتہار نشر کر چکے ہیں جو کہتا ہے، ”اَب عیسیٰ نے اور کیا کچھ کرنا ہے؟“، اس طرح حاکموں کا تیل نکالا جاتاہے۔ اِن چینلز پر نیلسن منڈیلا کا جارج ڈبلیو بش کے بارے مواخذہ ” ایسا صدر جو ٹھیک سے سوچ نہیں سکتا(۳۱)“ نشر کیا گیا۔ لیکن کیا اِن چینلز کے لائسنس منسوخ کر دئیے گئے یا اُن کے صحافیوں کے ساتھ بُرا سلوک ہوا؟ اَب اِس بات کاموازنہ کیجئے۔۔ سعودی عرب، کویت اور اُردن نے الجزیرہ کے رپورٹروں کو حکومتوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں نکال باہر کیا۔
یہ اِس بات کا صداقت نامہ ہے کہ امریکہ اپنے بارے میں کس قدر تنقید برداشت کر لیتا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد جیلو بیافرا، جو ۰۸۹۱ءکے دہائی کے پنک بینڈ ”ڈیڈ کینیڈیز“ کا سب سے اہم شخص ہے، نے بش کے خلاف تقریروں کے ساتھ پورے امریکہ کا دورہ کیا۔ بیافرانے بش کی گا کر تضحیک کی اور اپنے حاضرین کی منہ پھاڑ خوشی کی غرض سے صدر کے منہ سے مسخ شدہ گرائمر کے جملے نکلوائے۔
”خدا “خود امریکہ کے کچھ حصوں میں مذاق اُڑانے کےلئے کھڑا ہے۔ میں نے ایک دفعہ اِس شخص کو کیلیفورنیا کی پٹی، وینس بیچ میں اُس کے سوانگ ”گوڈ بلیس امریکہ“ میں دیکھا۔ آپ بھی لطف اٹھائیے۔
خدا میری پتلون کے اندر اپنی رحمت کرے
وہ شے جو مجھے پسند ہے
جنکے اندر کھڑی ہو جاتی ہے
اور اُس پر سواری کرتے ہیں
اپنے چوتڑوں کے درمیان جب میں سواری کرتا ہوں یا پیڈل چلاتا ہوں(۴۱)
وہ شخص احمق ترین ہو سکتا ہے مگر اُس کے بیانات کا خفا ایف بی آئی نے معائنہ نہیں کیا اور نہ ایونجلسٹ عیسائیوں نے اُس کے چوتڑوں پر لات ماری۔ خدا کے بارے میں کسی مسلمان ملک میں چہکار کر دیکھئے۔ ہمیں اُس پاگل پن کا پہلے ہی علم ہے جو پیغمبر محمد پر فقرہ طرازی کی صورت میں سامنے آتا ہے اور حالانکہ وہ خدا نہیں ہیں۔
امریکہ کی طرف واپس آتے ہیں، مجھے کہنے دیجئے کہ صدر کے آدمی جہاں جہاں ہلہ بول سکتے ہیںبولتے ہیں۔اندھا دھند گرفتاریاں، ایک دم تلاشیاں، بلاضمانت نظر بندیاں، ٹیپ شدہ فون، کھلی ڈاک، مخصوص حکومتی دستاویزات: امریکہ میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، کیلیفورنیا کی ملٹری بیس میں سپاہی جنگ مخالف سرگرم رکن کو گھس آنے پر گولی مار کر ہلاک بھی کر سکتا ہے۔ پینٹاگون کا تفریح کے حوالے سے ایک دفتر ہے جو تاریخی درستگی کے نام پر امریکی فوج کی عکاسی کو ہالی وڈ میں چھانٹتا ہے۔ جارج ڈبلیو بش کے چھوٹے بھائی جیب کی گورنری میں چلنے والی ریاست فلوریڈا نے حال ہی میں ایک ڈرائیور کو اپنی لائسنس پلیٹ اِس لئے واپس کرنے کا کہا کہ اُس پر لفظ ”اتھیسٹ“ لکھا ہوا تھا۔ اور ٹیکساس کے ایک چینل ، جو امریکہ کا سب سے بڑا ریڈیو نیٹ ورک ہے اور صدر کا بڑا حامی ہے، نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی امداد کو پیش کرتے ہوئے ایک سو ساٹھ دھنیں ترتیب دی ہیں جو بعد از گیارہ ستمبر کے احساسات سے دوچار کرسکیں۔ اوہو، آزاد سرزمین پر پابندیوں کی بہتات ہو گئی۔
مگر کیا روز ایسا ہو رہا ہے۔ آپ اور میں امریکہ کی حماقتوں کے بارے اس لئے جانتے ہیں کہ ہم روز اَن کے بارے تواتر کے ساتھ سنتے ہیں(۵۱)۔ کسی ایسے ملک پر اعتراض کرنا فطری امر ہے جب ہم اُس ملک کے نقائص سے آگاہ ہوں اور اُن نقائص کو تنقید کا نشانہ بنانا قدرتی ہے جب ہمیں معلوم ہو کہ ہماری زبانیں نکال نہیں دی جائیں گی یا ایسا کرنے پر ہماری ٹانگیں یا سر الگ نہیں کر دئیے جائیں گے۔ مسلمانوں کو دیکھنا چاہئے کہ اگر وہ یہ عیاشیاں ( جنہیں مغرب میں ‘حقوق‘ کہتے ہیں) ہمیں سجھا سکیں کہ کیوں ہم مسلمان ممالک کو اِن باتوں سے مستشیٰ قرار دینے کےلئے امریکہ اور اسرائیل میں مین میخ نکالتے ہیں۔ غیر مسلمانوں کو دیکھنا چاہئے کہ کیوں وہ ہم سے یہ سوال اکثر نہیں پوچھتے۔
اَب اس آخری وجہ کی طرف آتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی بجائے امریکہ پر تنقید کرنا شائستہ سمجھتے ہیں۔ نہ صرف امریکہ اپنی خرابیوں کو ترتیب وار سنے گا بلکہ امریکہ اِن میں کچھ ایک کی ذمہ داری بھی قبول کرے گا۔ یہاں تک کہ حرف مذہب ، پیسہ کے مقدس پن پر آ جائے، امریکی معاملات درست کرنے کےلئے بعض اوقات شفاف دروں نیبی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ۲۰۰۲ءکے پورے موسم گرما کے دوران، سی این بی سی ، امریکہ میں منتخب مالیات کا چینل، نے توانائی کی گراں ڈیل کمپنی اینرون کے مالیاتی فراڈ ، کو عیاں کیا۔ ’کیا غلط ہوا؟‘سی این بی سی کے ایک حسا ب دان نے روشنی ڈالی۔ چھ ماہ بعد بعد ٹائم میگزین نے اِنہیں سال کی ہستیوں کا نام دیا: کارپوریٹ امریکہ کی مخبری کرنے والوں کو۔ وہ سب خواتین تھیں۔ سب نے جو کچھ وہ کہنا چاہتی تھیں، کہنے کےلئے قانونی، عدالتی اور سیاسی نظام کا سہارا لیا۔ مسلمان دنیا میں آپ کہاں یہ دیکھیں گے کہ عورتوں کی بدعنوانی کو فاش کرنے پر پذیرائی ہوئی ہو؟ کہیں نہیں، ابھی کہیں نہیں۔
مغرب میں ہم مسلمانوں پر منحصرہے کہ ہم اسلام کے مخبروںکے خلاف نسل پرستی پر مبنی منفی تعامل الزامات کو رد کر دیں اور اِس الزام کو تبدیلی کا شاخسانہ بنائیں۔
تبدیلی کی ترغیب کا مطلب قرآن کو لفظی طور پر لینا نہیں اور نہ کثیر الثقافتی کو لفظی طور پر لینا ہے۔ کیوں عورتوں کے جبری ختنے کو کرنے کےلئے تل جایا جائے؟ کیوں پولیس واپس پلٹ جائے جب ماں یا باپ لڑکی کو مذہب سے باہر شادی کرنے کے فیصلہ کی بنیاد پر مارنے کی دھمکی دیں؟ کیوں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور جس نے ایک اپاہج عورت کے ساتھ جبری زنا کیا، کو اپنے رسم ورواج کے ثقافتی حساسیات کی بناءپر رہا کر دیا جائے؟ایک جرمن پروفیسر اور عامل مسلمان باسام تبی کی بات کو دہراتے ہوئے کہ کیوں انسانی حقوق غیر مسلمانوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں؟
جیسا کہ مغربی لوگ کثیر الثقافتی کے آگے ماتھا ٹیک دیتے ہیں، ہم اکثر وہی کچھ کرتے ہیں جو ہو رہا ہوتا ہے۔ہم سمو لینے کی آمادگی کو ایک طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔۔حتکہ ثقافتی برتری کی قسم کو (اگرچہ ہم میں چند ہی اِس بات کو مانیں گے)۔ مگر فاﺅندامینٹلسٹ ہماری بشمول جبلتوں کو ہمارے کمزوری کے طور پر لیتے ہیں اور یہ کمزوری ہمیں نرم، ملاوٹی اور لچک دار بناتی ہے۔ فاﺅنڈامینٹلسٹ کمزوری کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اُن کا ایمان ہے کہ کمزور کو ختم ہو جانا چاہئے۔ اِس کے برعکس جب ہم کسی کو زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کریں تو اُس کی ہماری ’کمزوری‘ کے حوالے سے توہین اور بڑھ جاتی ہے۔ سب سے بڑا تضاد یہ ہو سکتا ہے کہ اپنے تنوع پن کا دفاع کرتے ہوئے ہمیں کم ر وادار ہونا ہو گا۔ اور سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمیں مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
یہ احتیاط ایک روحانی سوال ( ضروری نہیں کہ مذہبی) پوچھنا چاہتی ہے: کونسا رہنما اصول سب سے زیادہ ہمارے ساتھ رہتاہے؟ نظریات اور عقائد کی شاندار صف آرائی سے نکال کر وہ کونسی چھاننی ہے جو ہر شخص کی آزاد رائے کو نتھارتی ہے؟ پانی کی طرح بہنے والا لفظ ’برداشت‘ یاپھسل جانے والا محاورا ”باہم عزت“کو الگ کر کے رہنما اصول نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں تشدد مائل کٹرپن کو برادشت کیا جائے؟’باہم عزت‘ میں کونسی شے باہم ہے؟فرانس کے ناول نگار امین معلوف پول کھولتے ہیں، ”روایات تب تک ہی عزت کی مستحق ہوتی ہیں جب تک وہ باعزت رہیں۔۔ اور وہ بعنیہ تب تک عورتوں اور مردوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرتی ہیں(۷۱)“۔ ہم، مسلمانوں اور غیر مسلمان مغربیوں کو اس اصول پر اتباع کرنا ہو گا جو اِس احساس اور اِس احساس کے پیچھے کام کی عکاسی کرے۔ اورجو بھی معاملہ ہو جو معاشرے کو اِس اصول کی طرف نہ لے کر جائے وہ قابلِ برداشت نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں پر بات ختم ہے۔
اس نوعیت کی کھینچا تانی اسلام کی مخصوص تشریحوں تک لے جاتی ہے اور بس یہاں تک ہی ہے۔ میں ایک سنسنی خیز مگر سچی مثال دینا چاہوں گی کہ کیا کچھ برداشت کیا جا سکتا ہے اگر ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کےلئے اظہار رائے کی آزادی کو قائم کرنا چاہیں۔ ۹۹۹۱ءمیں خود ساختہ ” انگلینڈ کی شرعی عدالت“ نے ڈرامہ نگار ٹیرینس مکنالے کےلئے موت کا وارنٹ جاری کیا۔ اُس شو، کورپس کرسٹی، میں حضرت عیسیٰ کو ہم جنس پرست شخص کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اپنی آزادی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بہت سارے عیسائیوں نے کورپس کرسٹی کے تماشا گر کو ایڈن برگ آنے سے روک دیا۔ شرعی کورٹ کے جج شیخ عمر بن بکری محمد اس مسئلے کو عزت کا معاملہ بناتے ہوئے ایک ہاتھ آگے نکل گئے۔ چرچ آف انگلینڈ کو ’ باکرہ مریم اور عیسیٰ کی عزت کو خراب‘ کرنے پر سخت سست قرار دیتے ہوئے شیخ عمر نے مکنالے کے خلاف فتویٰ جاری کیا(۸۱) اور بعد میں اِس کو لندن میں تقسیم کیا گیا۔ آزادی اظہار رائے؟ کو اس طرح بھی پیش کیا گیا۔ اگر اِس آزادی اظہار رائے پر عمل کیا جائے تو فتویٰ مکنالے کی زندگی کو ختم کردے اور مکنالے کی آزادی اظہار کو صرف کم ہی نہ کرے بلکہ ویسے ہی مٹا ڈالے۔
اگر اِس فتویٰ کواصل متن کے ساتھ بیان کیا جائے تو اِس میں زور دیا گیا تھا کہ مکنالے کی سزا کا تعین صرف اسلامی ملک میں ہی ممکن ہے۔ اور اِس فتویٰ میں مکنالے کو ایک موقع بھی فراہم کیا گیا کہ اسلام اختیار کر لینے سے ڈرامہ نگار سرقلم ہونے سے بچ سکتا ہے۔ آدھا امکان یہ تھا کہ بطور حجالت اُس کی سزائے موت کا پھر بھی مطالبہ ہو سکتا ہے’ مگر سزائے موت پر عملدرآمد ہونے کی صورت میں اُس کے خاندان کا خیال رکھا جائیگا اور اُس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا(۹۱)‘۔ ہا، کیا عالم سرمستی ہے۔
مجھے اِس بات کی ایک معقول وجہ بتائیے کہ کیوں شیخ عمر کو ایک شخص کا مشورہ دینے پر برطانیہ میں رہنے دیا جائے۔ برطانیہ کی مسلم کونسل کا کہنا ہے کہ شیخ عمر ملک میں رہنے والے دو ملین مسلمانوں کے اَب نمائندہ نہیں رہے۔ اگر یہ سچ ہے، تب برطانیہ کے مسلمانوں کو خاس طور پر اور مغربی دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کوشیخ عمر کی سزا یا ملک بدری پر پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اسلام کی وہ تمام قسمیں جو آزادی پر ایمان نہیں رکھتیں، ایک شخص کے اپنے رستے پر چلے جانے سے ختم ہو جائیں گی۔ صرف صحرائی اسلام نہیں جائیگا اور کیا ہم سب کو اِس امکان پر سُکھ کا سانس نہیں لینا چاہئے؟
میں رہنما اصول کے بارے تجویز دیتی ہوں، ہمیں مغرب میں انفرادیت پسندی کو مان لینا چاہئے۔ جب ہم انفرادیت کو تسلیم کرتے ہیں ، ہمیں اکثر لوگوں کو کو اس بات کا حق دینا ہو گا کہ وہ اپنے بارے جان سکیں، وہ کس مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں، یا آزاد روح ہیں یا پھر دونوں ہیں۔ اکثر یورپیوں کےلئے، ’انفرادیت‘امریکی انفرادیت پسندی ہے، ایسا ضروری نہیں ہے۔ ”انفرادیت پسندی۔۔ میرے لئے اِس کے معنی ہیں۔۔انفرادیت پن سے اختلاف کرنا۔۔ میں میں ہوں اور میرا معاشرہ میرے انفرادی پن سے فائدہ حاصل کرتا ہے“۔میرا غیرمسلمان یورپ سے سوال یہ ہے: آپ مانتے ہیں کہ آپ کے سولہ ملین مسلمان بطور افراد اپنا کردار ادا کرنے کے اہل ہیں؟ سوال یہ نہیںکہ وہ آیا اس کے اہل بھی ہیں مگر یہ کہ آپ مانتے ہیں کہ وہ اہل ہیں۔
یورپ، کیوں تک مسلمانوں کو پورا شہری ماننے پر ہچکچاتے ہو؟ جرمنی میں بہت سارے مسلمان خاندان دوسری جنگ عظیم سے رہ رہے ہیں۔ کیوں وہ ابھی بھی جرمن کی بجائے دوسری یا تیسری نسل کے تارکین وطن سمجھے جاتے ہیں ؟ خالص ملاپ میں کیا اَمر مانع ہے۔۔کیا کوئی ایسی بات کہ آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان اسرائیل سے متنفر ہیں، اِس کے باوجود اسرائیل غیرملکیوں کو شہریت کب کا عطا کر چکا ہے؟ یورپ! میں تم سے ملتمس ہوتی ہوں کہ صحرائی قبائلیت اور تمہاری اپنی قبائلیت کے درمیان نامتبرک اتحاد کی شعبدہ بازی نہ دکھاﺅ۔ اپنے تحفظات کو تھوڑا کم کرو اور شمالی امریکہ کے کثیرالثقافتی ماڈل سے کچھ سیکھو، جہاں مسلمان پکے شہری بن سکتے ہیں۔ کیا تم ہمہ جہتی کےلئے اخراجات میں کمی دیکھنا چاہتے ہو کیونکہ اس طرح امریکہ بھی اخراجات میں کمی کر لے گا؟ تم یقینی طور پر امریکیوں کو ناراض کرو گے مگر تم اپنے روشن خیال آباﺅ اجداد، ارسطو سے ایراسمس اور کانٹ سے والٹئیرتک کی بھی تکذیب کے مرتکب ہو گے۔ (اور والٹئیر، آئیے بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہیں، امریکی گالیوں کا جام اٹھا کر گا سکتے ہیں’خدا میری پتلون کے اندر شے پر مہربانی فرمائے‘۔)
یورپ! کیا تم اِس افواہ سے عہدہ برآ ہو چکے ہو کہ تمہارا عہد گزر چکا اور لہذاٰ تمہیں مستقبل میں کوئی خطرہ نہیں؟ تم عراق میںامریکہ کی حالیہ جنگ پر بہت آگ بگولہ ہوئے لیکن مسلمان دھرتیوں سے سے ہجرت بھی تمہارے ہاں برانگیختہ مسئلہ ہونا چاہئے۔تمہارے ایک اقتصادی بلاک کے طور پر قائم دائم رہنے کےلئے تمہارا انحصار تارکین وطن پر اُتنا ہی ہے جتنا امریکہ کے مستقبل کا ہے۔ تمہارے پاس ایک نمایاں ذاتی مفاد ہے کہ تم عرب مسلمانوں کی جمہوریت قائم کرنے کےلئے مدد کرو اس سے پہلے کہ وہ بڑی تعداد میں تمہارے شہروں تک پہنچیں۔ لہذاٰ کیوں تم اُن عرب حکومتوں کو ہلاتے نہیں جن میں اقلیتی سنی حکومت شیعہ اکثریت پر حاوی ہے؟ آپ میں اکثر کی طرح مجھے بھی مذہبی فرقہ واریت سے چڑ ہے۔ کم و بیش، اِن معاملات میں نسلی عصبیت کے خلاف تمہاری شدید حقارت کہاں ہے؟
تم فلسطینی صحافی رامی خوری کو کیا کہو گے جس نے لکھا ہے کہ ’آزاد، بااعتبار اور مہذب ادارے بحیرہ فارس کے اکثر ممالک، شام، عراق اور لیبیا میں وجود نہیں رکھتے اور سوڈان ، الجزائر، تیونس اور لیبیا میںسرکار کے مکمل کنٹرول میں کام کرتے ہیں؟‘یورپ! تم اقتصادی طور پر محنت سے کام کر رہے ہو۔ ہاں،تم اقتصادی طور پر محنت سے کام کر رہے ہواور بلاشبہ تمہیں عرب مخالف نسلی منافرت سے محفوظ رہنا ہے تاکہ اقتصادی بے کلی ختم ہو سکے۔ مگر اُس نسلی منافرت سے بھی احتیاط برتنا ہے جو ضرورت سے زیادہ تلافی کرنے کی صورت میں ساتھ آتی ہے۔ صیہونیوں کو یورپی استحصالی یا نازیوں کے طور پر پیش کرنا تمہارے ضرررساں ضمیر کے بوجھ کی تلافی کا طریقہ نہیں ہے۔ سب کےلئے انسانی حقوق کی حمایت ہونی چاہئے۔ تمہیں کون آفاقی انسانی آزادیوں کی پامالی کے خلاف مجمعوں کی ریلیاںمنعقد کرنے سے روک رہا ہے؟
ممکن ہے کہ تم مجھے یہ بتاناچاہتے ہو کہ وہ حقوق آفاقی نہیں ہیں۔ شاید تمہاری گلوبالائزیشن کے خلاف بے مروت نگاہیں مڑ چکی ہیں ۔۔گلوبالائزیشن ایک ایسا عمل ہے جو طرزِ زندگیوں کا احاطہ کرنے کے بارے متصور کیا جاتا ہے ۔۔ شاید تم نے یہ اخذ کیا ہے کہ ’آزادیوں کی آفاقیت‘ ایک چرب زبان مٹھاس ہے جو تہذیب کی اکائی کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ اصل بات کی طرف آﺅ۔ گلوبالائزیشن کی” اکائی“ کے تحت، کوئی شخص مجھے سنہری آرکوں کی حمایت کرنے پر درد کی سزا دینے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ میرے پاس مکڈونلڈ کے مینیو کے نہ پڑھنے کا اختیار ہے۔ میرے پاس نصرت فتح علی خان کی دھنوں پر سر دھنسنے کا اختیار ہے، میرے پاس بیگار کے کام کے خلاف نعرہ لگاتی ٹی شرٹ پہننے کا اختیار ہے اور اُس ٹرین پر سوار ہونے کا اختیار ہے، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ احتجاج کرنے کےلئے لے جائے اور جس پر سفر کرنے کےلئے باپ کی اجازت ضروری نہ ہو۔اسلامی فاﺅنڈامینٹلزم کی اکائی کے تحت ، میں اِن چیزوں کا انتخاب نہیں کر سکتی۔ اور نہ آپ کر سکتے ہیں۔ صحرائی اسلام کی برائیوں کو گلوبالائزیشن کے گناہوںسے جوڑنا مراعات یافتہ طبقے کی غلطی ہو گی، جو مارکیٹ میں متعارف کئے جانے والی دہشت سے زیادہ کسی اور مہلک چیز کو جانتے نہیں ہوں گے؟
یورپ ! کیا تم تمدن کی پچیدگیوں کے سامنے اتنے ہی متاثر ہو کہ تم تمدن کی یقینی باتوںکو نگاہ سے گم کر چکے ہو؟ یہاں پر ایک شقیل لفظ ’تمدن‘ ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے دکھایا کہ مسلمان مغربی ثقافتوں میں اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یورپ کی نشاظ ثانیہ میں دائی گیری کا کردار ادا کیا ہے، اس سارے عرصہ کے دوران جب انہوں نے یہودیوں ، عیسائیوں اور دوسروں کو ملازمتیں دیں، جنہوں نے یونان، بازنطین اور گرداگرد کی روایات کو اپنایا۔اَب ہماری بین الاقوامی ذمہ داری یہ تعین کرنانہیں کہ کون اس شناخت کا حامل ہے بلکہ آئندہ نسلوں کو یہ بتانا ہے کہ ہم سب پر ایک دوسرے کا کیا کیا حق ہے۔
اس نیت کے ساتھ میں وہاں پر بات ختم کرتی ہوں جہاں سے میں نے شروع کی تھی: اُس اظہارِ تشکر کےلئے جو کچھ مغرب نے میرے لئے کیا اور بالعموم بہت سارے مسلمانوں کےلئے بھی۔ میں اسلام کی اصلاح میں مددگار کی خواہشمند کی حیثیت سے مغرب کی قرضدار ہوں۔ اپنی تمام تر دیانتداری کے ساتھ میرے ساتھی مسلمانو! آپ بھی ایسا کریں۔
حوالہ جات:
۱۔ سلمان رشدی کا ٹورونٹو میں ۲۰ستمبر ۲۰۰۲ءکو ایک انٹرویو۔ مکمل سکرپٹ کو پڑھنے کےلئے ویب سائٹ کے انگریزی حصہ کے اِس حوالہ کو کلک کریں۔
۲ ۔ Khaled Abou El Fadl (speech to the Canadian Council of Muslim Women), Toronto, September 14, 2002
۳۔ The article in question is by Daniel Pipes and Lars Hedegaard, "Muslim extremism: Denmark's had enough," National Post, August 27, 2002
۴ ۔ Yasmin Alibhai-Brown, After Multiculturalism (London: Foreign Policy Centre, 2000), p. 7
۵ ۔ Sulayman S. Nyang, "Why the Public Square?" www.projectmaps.com
۶ ۔ Anwar Ibrahim, "The Need for Civilizational Dialogue" (speech to Georgetown University, Washington, DC), October 6, 1994
۷ ۔ میں اِس اخبار کا نام سرعام بتا نہیں سکتی مگر میں اُس انتہا کا ذکر کرونگی جس کا اظہار اِس کے ناشر ظفر بنگش اسلام کے بحران کے ضمن میں مسلمانوں کے علاوہ ہر کسی کے بارے کرتے ہیں۔ ۵۱نومبر ۲۰۰۲ءکو ٹی وی اونٹاریو کے پروگرامDiplomatic Immunity میں ظفر بنگش نے کہا، ”"The Muslims have been denied their destiny by colonialists, and they are struggling against that."۔ انٹرویو کرنے والے Steve Paikin نے پوچھا، ”اگر اسرائیل کا وجود نہ ہوتا، اگر چیچنیا آزاد ہوتا، اگر کشمیر ایک الگ ملک ہوتا، اگر امریکہ سعودی عرب کی بجائے سارا تیل البرٹا سے لے رہا ہوتا اور اپنی تمام افواج واپس بلا چکا ہوتا، کیا آپ کہہ رہے ہوتے کہ اَب اسلامی دنیا میں ہر چیز درست ہو چکی ہے؟ اِس کے جواب میں ظفر بنگش نے کہا۔ "Absolutely; they'd have no problem. They still have no problem."
۸ ۔ Abdul Malim Musa quoted by David Corn, "Capital Games," The Nation, February 10, 2002, p. 2 of online version
۹ ۔ ©” www.wluml.org, found under "Part One: The Context of our Struggle ۰۱ ۔ Matthew A. Levitt, Testimony to U.S. Senate Committee on Banking, Housing, and Urban Affairs (Subcommittee on International Trade and Finance), The Role of Charities and NGOs in the Financing of Terrorist Activities," August 1, 2002
۱۱ ۔ In World on Fire (New York: Doubleday, 2003), Yale academic میں Amy Chua لکھتی ہیں ”اگر امریکی یہودیوں کو امریکہ میں نسلی اقلیت کے طور پر دیکھا جائے تو وہ امریکہ کی اقتصادیات پر چھائے ہوئے نہیں۔۔۔دس امیر ترین امریکیوں میں سے ایک بھی یہودی نہیں ہے۔“ (صفحہ ۹۸۱)
۲۱۔Noam Scheiber, "Numbers in the News: Is there really an army of terrorists in our midst?" New York Times Magazine, February 16, 2002, p. 12
۳۱ ۔ "Mandela condemns US stance on Iraq," www.bbc.co.uk, January 30, 2003
۴۱ ۔ انگریزی کے حصہ میں اِس حوالہ میں کلک کر کے وڈیو کلپ کو دیکھیں۔
۵۱ ۔ اِس حوالے سے ایک اور مثال Rogue Nation: The America the Rest of the World Knows (Toronto: McClelland & Stewart, 2003). The author, Toronto Star journalist Peter Scowenسامنے آتی ہے۔ مصنف امریکہ کو دہرے معیار، خود ہی اپنے مسائل گھڑنے کا ذمہ دار اور اپنے آزاد رو خیالات کی دھجیاں بکھیرنے والا قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ اِس کے باوجود ایک بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے”میں National Security Archivesکا احسانمند ہوں کہ اُس کی اَن تھک کاوشوں سے امریکہ کے تمام ڈیپارٹمنٹوںاور ایجنسیوں کی اہم دستاویزات کو انٹرنیٹ پر مہیا کر دیا ہے۔ (p. vi) ۔ مصنف اُس شخص کی عمدہ مثال ہے جو بآسانی امریکہ پر تنقید کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایسا ملک ہے جو مخالفین کو بھی برداشت کرتا ہے، فقط مداحین کو ہی نہیں۔
۶۱ ۔ Bassam Tibi, The Challenge of Fundamentalism: Political Islam and the New World Disorder (Berkeley: University of California Press, 1998), p. 205
۷۱ ۔ Amin Maalouf, In the Name of Identity: Violence and the Need to Belong (New York: Arcade Publishing, 2001), p. 106
۸۱۔ James Lyons, "Islamic court condemns author who depicts Jesus as homosexual," The Independent, October 30, 1999, p. 1 of online version
۹۱۔ James Lyons, Ibid۔ شیخ عمر کے جواب میں دو ہم جنس پرست گروہوں ، the Lesbian Avengers and Outrage، نے اُس کے خلاف "Queer Fatwa"دیا ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے۔ ”عمر بخاری محمد کو ایک ہزار سال کی بامشقت اغلام بازی کی سزا دی جاتی ہے“۔ اِس سزا پر ترس کھائیے۔
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




