photo

Book

book cover

The Trouble With Islam Today: A Muslim's Call for Reform in Her Faith. Published in more than 30 countries and languages.

Learn More

Buy the US paperback
Amazon | Barnes & Noble

Audio Book

Audio Book

The Trouble With Islam Today, narrated in English by Irshad Manji, with music by Deeyah and Gary Justice.

Buy Now

Free Translations

For where the book is banned, censored, or difficult to access:

button
button
button_lang button button

Reformist Quran

2.jpeg

A progressive, 21st-century translation -- in English. The U.S. publisher bailed on it after the Prophet Muhammad cartoon riots. But fear didn't stop the translators.

Read and interpret for yourself.

Urdu Edition

کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟



 

فلسطینیوں میں ایک لطیفہ مشہور ہے جو اِس طرح ہے۔ عرفات شہید کے طور پر مرتا ہے اور جنت میں پہنچتا ہے۔ وہاں وہ اپنے عزیز شہداءکا ہجوم دیکھتا ہے جو باکرہ حوروں اور انگوروں کی شراب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فرشتوں نے اُن کا داخلہ روکا ہوا ہے۔ جب بیزارکُن ہجوم عرفات کو دیکھتا ہے، اُنہیں اطمینان کا سانس آتا ہے۔ ’ہمارے صدر آگئے ہیں، وہ مداخلت کریں گے‘۔ وہ ایک دوسرے کو دلاسا دیتے ہیں۔

عرفات چکرایا ہوا ہے۔ ’تم لوگ اندر کیوں نہیں ہو؟‘ وہ پوچھتا ہے۔

’ہمارے نام فہرست میں نہیں ہیں‘، اُس کے لڑکے جواب دیتے ہیں۔ ’اُن کے پاس (فہرست میں) فلسطینیوں کا کوئی نام ہی نہیں ہے۔‘ سو عرفات جھجکتے قدموں سے کھڑکی کی جانب بڑھتا ہے اور کلرک فرشتے سے اپنا تعارف فلسطینی لوگوں کے رہنما کے طور پر کراتا ہے۔

’کون؟‘منتظم فرشتہ استفسار کرتا ہے۔

’فلسطینی عوام‘ عرفات غراتا ہے۔

کلرک فرشتہ داخلے کے اہل لوگوں کی تمام فہرستیں چھانتا ہے اور اپنی معذرت کا اظہار کندھے اُچکا کر کرتا ہے۔ عرفات خدا کو ملنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ فرشتہ اندر خدا کو بتانے جاتا ہے کہ کوئی دروازے پر ہے اور چلا رہا ہے کہ وہ اور اُس کے لوگ شہداءہیں اور جنت میں اپنا صحیح مقام لینا چاہتے ہیں۔ لیکن فرشتہ نشاندہی کرتا ہے کہ ’یہ لوگ فہرست میں نہیں ہیں‘۔

’تمہیں یقین ہے؟‘ خدا پوچھتا ہے۔

’مجھے سمجھ نہیں آرہا، میں نے فہرست کو متعدد بار دیکھا ہے‘۔ مقدس بیوروکریٹ جواب دیتا ہے۔

خدا کچھ دیر تک سوچتا ہے پھر فیصلہ کرتا ہے۔ ”تم جبرئیل فرشتہ کو کیوں نہیں کہتے ہیں کہ وہ تب تک اِن کےلئے کیمپ لگا دے جب تک ہم اِن کےلئے کوئی حل نہ ڈھونڈ لیں(۱)۔“

یہاں پر قہقہہ بلند ہوتا ہے۔ جنت میں بھی زمین کی طرح فلسطینی سدا مہاجر ہیں۔ یہ لطیفہ فلسطینی عوام کے احساسِ محرومی کے بارے ہے کہ اُنہیں کوئی قبول نہیں کرتا حتکہ اُن کی حمایت میں شیخیاں بگھارنے والی عرب اقوام بھی نہیں۔ آپ فلسطینیوں کو عرب دنیا کے یہودی کہہ سکتے ہیں۔

اسرائیلی ریاست قائم کرنے کی تحریک، جسے ’زایونزم‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، انیسویں صدی کے آخر میں یورپ سے نکلی۔ صیہونیوں نے محسوس کیا کہ یہود مخالف جذبات جانے والے نہیں اور ممکن ہے کہ مزید بڑھتے جائیں۔ یہودیوں نے متنبہ کرتے ہوئے قومی سلطنت کی ضرورت پر زور دیا۔ اور یہودیوں کو یہ سلطنت دائرہ قطب جنوبی کے مقام پر نہیں چاہئے تھی اور نہ یوگنڈا میں بلکہ مشرقی پٹی کی ریت اور زمین کے قریب جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی، گہری اور نہ ختم ہونے والی جڑیں ڈھونڈیں تھیں۔۔ وہ زمین جہاں عربوں نے بعد میں فلسطین کا ٹھپہ لگایا تھا۔

یہ بہت متنازعہ بحث ہے کہ کیا یہودیوں کا فلسطین کے ساتھ تاریخی تعلق ہے اور لہذا یہ اِس جگہ کو اپنا گھر کہہ سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ یہ کہہ سکتے ہیں۔ پہلے محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم کی ڈی این اے کے مطالعہ پر مبنی ایک رپورٹ، جو نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی، پر نظر ڈالتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ یہودی اور عرب ایک موروثی بات ضرور مشترک رکھتے ہیں کہ اِن کا’مشترکہ مشرقِ وسطیٰ کا جنم‘ ہے(۲)۔

اسلامی تعلیمات اِس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ اِن کا کہنا ہے کہ اسمٰعیل جنہوں نے عرب قوم کی بنیاد رکھی اور اسحاق جنہوں نے یہودی قوم کی بنیاد رکھی، ابراہیم کے پیدا کردہ دو سوتیلے بھائی ہیں۔ پیغمبر محمد کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ اسمٰعیل کی نسل سے ہیں جبکہ موسیٰ اور عیسیٰ اسحاق کے خاندان کی طرف سے آئے۔ اِن سب کا ابراہیم سے خونی رشتہ تھا۔ اور اگر آپ کےلئے اتنا کافی نہ ہو تو قرآن کو سنئے۔ ’ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ زمین پر نکل کھڑے ہو جاﺅ اور جب خدا کا وعدہ پورا ہونے کو آئے گا، ہم تمہیں ایک ساتھ اکٹھا کر دیں گے(۳)۔‘ مجھے کسی بات کو خاص طور پر الگ کر کے پیش کرنے سے چڑ ہے مگر اِس آیت کو خصوصا بیان نہ کرنے کے انتخاب سے بھی چِڑ ہونی چاہئے۔

آخر میں، پھر دوبارہ صیہونی ریاست کے قیام کی تحریک کی جانب چلتے ہیں۔ جب یورپ کے یہودی فلسطین پہنچے، انہوں نے وہاں پہلے سے مقیم اپنے ہم مذہبوں کے بارے سرسری معلومات اکٹھی کیں ، جو اُس جگہ رہ رہے تھے جسے آج ویسٹ بینک کہا جاتا ہے۔ یہودی یہاں کب آئے؟ ممکن ہے یہودی یہاں پر ہمیشہ سے ہی ہوں؟ ویسٹ بینک میں نئے آنے والوں کو اکثر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جو اُن کی غیر قانونی طور پر پھیلی دور دراز کی آبادیوں کی وجہ سے تھا۔ لیکن اِس کے آس پاس ہی کہیں اُن کا آبائی وطن تھا۔ یہ چیخنا چلانا کہ یہودی فلسطین پر باہر کے غاصب ہیں، اتنا ہی جاہلانہ ہے جتنا گلا پھاڑ کر یہ کہنا کہ عربوں کی اسرائیل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

پھر کیسے فلسطینی باہر کے مہاجر ہو گئے حتکہ عرب دنیا کے اندر؟ جنگ کی توڑ پھوڑ کے دوران عرب ممالک میں ایک تنازعہ ابھرا کہ وہ اپنے عین درمیان میں اسرائیلی ریاست کا وجود برداشت نہ کریں گے۔ ۸۴۹۱ءمیں یہودی ریاست کے قیام کے ایک روز بعد پانچ عرب ممالک کی فوج اسرائیل کے اندر گھس آئی اور فلسطینی مہاجر مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ کچھ شہروں سے اسرائیلی فوجوں نے عربوں کو نکال باہر کیا اِس متنازعہ حکمتِ عملی پر بنیاد کرتے ہوئے جسے ڈیلٹ پلان کا نام دیا گیاتھا۔ اِس پلان نے فلسطینیوں پر جو ظلم ڈھائے ، اِس سے اَب اسرائیل کو بھی انکار نہیں رہا۔ دوسرے لفظوں میں، اگرچہ بہت سارے عرب اسرائیل میں بسے رہنے کے خواہشمند تھے ۔۔ اور بہت سارے اسرائیلی شہریت قبول کرنے میں گومگو کی حالت میں رہے۔ مزید بہت سارے فلسطینیوں نے چلے جانے کا راستہ چنا اِس پوری اُمید کے ساتھ کہ جب یہودیوں کو سمندر میں ڈبو دیا جائیگا وہ واپس آ جائیں گے۔

اِن فلسطینی مہاجروں نے ہجرت کر جانے کا حکم اسرائیلیوں سے نہیں لیا بلکہ عربوں سے لیا۔ شام کے وزیرِاعظم خالد الاعظم نے جنگ کے دوران یہی کہا تھا۔ انہوں نے ۳۷۹۱ءکی اپنی یادداشتوں میںلکھا، ”عرب حکومتوں کی جانب سے فلسطین کے باسیوں سے اُنہیں اپنا علاقہ خالی کرنے کا کہا گیااور عرب حکومتوں کی سرحدوں پر رہنے کا کہا گیا جب ہم نے اُن کے درمیان دہشت کا ڈول ڈال دیا تھا۔۔۔ ۸۴۹۱ءسے اَب تک ہم اِن مہاجروں سے واپس گھروں کو جانے کا کہہ رہے ہیں(۴)۔ لیکن ہم ہی ہیں جنہوں نے اُن کی ہجرت کو پروان چڑھایا تھا“ الاعظم نے رنجیدہ خاطر ہو کر لکھا، ’ہجرت کی اس مشترکہ فلائٹ نے یہودیوں کی مدد کی جن کی پوزیشن اپنی طرف سے کچھ کئے بغیر اورمستحکم ہو گئی ۔ ‘ فلسطینی مہاجر بحران کو ٹانگنے کے ضمن میں اسرائیل کو اِس سے زیادہ کیا کرنا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے بھی اِس بحران کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آج یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ پینتیس لاکھ فلسطینی مہاجر ہیں، اگرچہ یہ اُس تعریف کے مطابق ہے جو اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے لوگوں کے بارے نہیں کی جاتی۔ اِس تعریف کے مطابق صرف اُن بنیادی مہاجرین کو ہی شمار نہیں کیا جاتاجن کی تعداد سات لاکھ ہے بلکہ اُن کے بچوں اور اُن کے بچوں کی اولادوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ اُن میں سے ایک تہائی شہری ’کیمپوں‘ میں رہتے ہیں جو نئی بلندوبالا عمارتوں، کھلے میدانوں اور پرائیویٹ فلسطینی بنگلوں کے درمیان میں ہیں۔

افسوس اور غیر متعلقیت کا مقام ہے۔ آخر لاکھوں یہودیوں کو بھی تو ۰۵۹۱ءکی دہائی میں عرب ممالک سے نکال باہر کیا گیا تھا، اُن کو پھر بھی مہاجر کیمپوں میں گھلنا نہیں پڑا تھا کیونکہ اسرائیل نے اُن کی اکثریت کو اپنے اندر سما لیا تھا اور اپنا حصہ بنا لیا تھا۔ اِسی ضمن میں اسرائیل نے ایک لاکھ فلسطینیوں کو خاندان یکجا کرنے کے ایکٹ کے تحت شہریت دی۔ عرب حکومتوں نے اس معاملہ میں فلسطینیوں کے لئے کیا کیا؟ اُن کی حالتِ زار کو گرنے دیا یا اِس سے بھی بدتر کیا۔

۱۹۹۱ءکی گلف جنگ کے بعدکویت نے کم ازکم تین لاکھ فلسطینیوں کو اپنی سرحدوں سے باہر نکال دیا اِس بات کے جواب میں کہ یاسر عرفات نے صدام حسین کے حملے کی حمایت کی تھی۔ ملک بدر کئے جانے والوں کی اکثریت کو ’فلسطین کا کبھی علم بھی نہیں تھا یا کویت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کا‘۔ عرب دنیا کے ظلم اور خاموشی کے بارے ایک کتاب کے مصنف کنان ماکیا نے یہ کہا تھا۔ ہمارے معصوم لوگوں کو مٹانے کے ساتھ ساتھ، اُس نے لکھا۔کویت میںچوکیوں پر نافذ نگران نیم سرکاری احکام نے دیگر فلسطینیوں کو جبراً گرفتار کیا۔ اگر وہ ”غائب“ نہ ہوگئے تو اس کا مطلب تھا کہ سرعام گولی مار دی گئی ہے یا پھر ایذارسانی کے بعد مار دیا گیا ہے(۵)۔‘

یہاں پر عرب منافقت کا ایک اور پیمانہ ہے۔ سالہا سال تک کویت نے فلسطینی مہاجروں کی بحالی کےلئے اقوامِ متحدہ کی قائم کردہ ایجنسی کو اسرائیل سے بھی کم امداد دی۔ سعودی عرب نے بھی تب تک اسرائیل سے زیادہ خرچ نہ کیاجب تک تیل کی دولت نے مالا مال نہ کیا تھا۔ اور آج؟بٹووں میں بیہودگی کی حد تک بھرے نوٹوں اور بے پناہ زمین مل بانٹنے کی موجودگی کے باوجودسعودی فلسطینیوں کو بطور شہری لینے کو تیار نہیں۔ تاہم وہ خودکش بمباروں کی مالی اعانت کی غرض سے کروڑوں ڈالر کا چندہ اکٹھا کرنے کےلئے طویل ٹیلیویژن پروگرام نشر کریں گے۔ وہ کامیاب خودکش بم دھماکے کرنے والوں کے خاندانوں کے دورہ مکہ کا اعزازی اہتمام کریں گے، جس کے تمام اخراجات خود ادا کریں گے۔

آس پاس کے ممالک لبنان، شام اور عراق کی حکومتیںیوں ظاہر کرتی ہیں کہ جیسے فلسطینیوں کو بسانے سے اُن کے ہاں شیعہ اور سنی کو ایک ساتھ بسانے کی نازک صورتحال بگڑ نہ جائے۔ عراق کو دیکھ لیجئے، ’ایک ساتھ‘ بسنے کا مطلب تھا کہ سنی اقلیت شیعہ اکثریت پر حکومت کر رہی تھی۔ کیوںغیر ملکیوں کو شہریت عطا کرنے میں خدشہ لاحق ہے، چاہے آپ کیسے عرب ہی کیوں نہ ہوں؟ ہاﺅس آف سعودکے اراکین کی طرح صدام نے خود کش بمباروںکی بہبود کےلئے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ (گریٹ انکل، صدام اپنے بارے یہ کہلوانا پسند کرتا تھا، نے خزاں ۳۰۰۲ءکی جنگ کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل پیسے خودکش بمباروں کے خاندانوں تک پہنچائے تھے)۔ لبنان نے (فلسطینیوں کا) بہت کم خیال رکھا۔ اِس کے قوانین درحقیقت اکثر فلسطینی مہاجروں کو کل وقتی کام کرنے ، زمین خریدنے اور پروفیشنل بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ اپنی مہارت سے غیر متعلقہ کام کاج کرتے ہیں(۶)۔

صرف واحد عرب مسلمان ملک جس نے فلسطینی مہاجروں کو شہریت دی ہوئی ہے، اُردن ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُردنیوں کی اکثریت نسلی طور پر کسی نہ کسی طرح سے فلسطینی ہے۔

ہم فلسطینیوں کی حالتِ زار کےلئے ’اسرائیلی سامراج‘ کو کوسنے دے سکتے ہیں۔ البتہ سچ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس ہمارے اپنے ’سامراج‘ الزام دینے کےلئے کافی ہیں۔ مگر اُتنے (اسرائیل جتنے) نہیں، آپ کہہ سکتے ہیں۔ ممکن ہے، زیادہ۔۔ میں کہوں گی۔ اگر ہم اس بات کا بغور جائزہ لیں کہ کیسے مشرقِ وسطیٰ کا یہ ناٹک بہت سارے لحاظ سے ایک سبق کے طور پر شروع ہواکہ مسلمانوں نے دہائیوں تک ایک دوسرے کو خنجر گھونپا۔ میں جو کہنا چاہوں گی کہ یہ کوئی مربوط تاریخ نہیں ہے بلکہ حقائق کو وہ نمونے ہیں جو موجود گروہ بندیوں میں کہیں گم ہو گئے ہیں۔

بیسویں صدی کے شروعات میں ہم نے بڑی سہولت کے ساتھ یہ یقین کرنا شروع کر دیاکہ یہودی روندتے ہوئے آئے اور انہوں نے فلسطینیوں کو اسلحے کے زور پر در بدر کر دیا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ عربوں کی اکثریت نے تو اِس موقع پر ہیاہیا کیا تھا۔ مگر خالی کر دینے کے احکامات ہمیشہ یہودیوں نے تو نہیں دئیے۔ سلطنتِ عثمانیہ۔۔ترکی کے مسلمانوں۔۔۔ نے بادشاہت مامور کی تھی جس نے اُس وقت فلسطینیوں کو اپنا ماتحت بنایا تھا۔ عرب مزارعوں کے مفاد کے خلاف سلطنتِ عثمانیہ نے شروع میں آنے والے یہودیوں کو زمینیں نیتاً فروخت کیں۔ ہاں جی، مسلمانوں نے یہ کیا۔ اور انہوں نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے کیا۔ ۱۱۹۱ءمیں ایک سو پچاس نامور عربوں نے ترک پارلیمنٹ کو مستقل زمینیں فروخت کرنے پر ایک احتجاجی تار بھیجا۔ اُن کی اِس تار کو نظرانداز کر دیا گیا۔

پہلی جنگِ عظیم کے دوران عربوں نے برطانیہ کی سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف لڑائی کا اس شرط پر ساتھ دیاکہ سارے فلسطین کو بعد میں عربوں کے حوالے کر دیا جائیگا۔ سر ہنری میکماہن کو، مصر اور سوڈان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر نے ۵۱۹۱ءکے نجی خطوط میں اِسے ایک اہم معاملہ قرار دیا۔ اگرچہ ۷۱۹۱ءکے بیلفور ڈیکلریشن میں برطانیہ نے عربوں کے ساتھ اپنے پہلے سے طے معاہدہ کو توڑ دیا۔ لندن نے سرعام فلسطین کے کچھ حصہ کویہودیوں کے حوالے کر دیاجو یورپ میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز حملوں کا شکار ہو رہے تھے۔سو وعدہ شدہ زمین دوبارہ وعدہ شدہ زمین ہو گئی۔ مسلمان تب سے اب تک مغربی سامراجوں کو دھوکا دہی کے کوسنے دیتے آ رہے ہیں۔

بہرحال ۵۱۹۱ءمیں ایک بار پھرہم اپنی شدید غلط بیانیوں کی تلافی کرنے میں ناکام رہے ۔ وہ سال مسلمان سلطنتِ عثمانیہ کا آرمینیا کے عیسائیوں کے قتلِ عام کے عروج کا سال تھا(۸) ۔ اللہ کے سفیروں نے دس لاکھ سے زائد عیسائیوں سے ملک بدری، بھوک اور قتلِ عام کے نتیجہ میں جان چھڑائی۔ میں کیوں آپ میں سے بہت سوں کو ترکوں سے معافی مانگنے کی اپیل کو نہیں سنتی؟ ہمیں مشتعل ہی ہونا چاہئے جب آرمینین ہم سے اپنی جائیدادیں واپس نہیں مانگتے، صرف معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیا مسلمان بناوٹی تقدس پر مبنی ریاکاری میں اتنے ہی مگن ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم دوسروں کے اعتماد کو کس طرح ٹھیس پہنچا رہے ہیں؟

صرف ہم مسلمان ہی نہیں ہیں جنہیں نو آبادیاتی طاقتوں کے بعد آباد ہونا ہے، یہودیوں کو بھی گمراہی کے تجربے سے گزرنا پڑا۔ وہ ۱۲۹۱ءکا سال تھا۔ وہ زمین جو برطانیہ نے یہودیوں کی قومی ریاست کےلئے مختص کی تھی اُس کا قریب چار بٹہ پانچ حصہ عربوں کو چلا گیا جو بعد میں اُردن بن گیا۔ اس واقعہ کے صرف دو برس بعد برطانیہ یہودیوں کے نقشے کے علاقوں سے بھی دستبردار ہو گیا، اس بار اُس نے یہ علاقے شام کو دے دئیے۔ مگر تب سے اب تک یہودیوں کے سر منڈھنے والی رعائتیں مسلمان حکمرانوں کےلئے بے معنی ہیں۔

کیا آپ حج امین الحسینی کے نام سے واقف ہیں؟ آپ کو واقف ہونا چاہئے۔ وہ ۱۲۹۱ءمیں یروشلم کے مفتی بنے، ۲۲۹۱ءمیں سپریم مسلم کونسل کے صدر بنے ۔ اگرچہ حج امین درست جمہوری طریقہ کار سے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن اُن کی صدارت کے پندرہ برس کے دوران کبھی الیکشن کا انعقاد نہ ہوا۔ اُن کی فلسطین سے یہودیوں کے نجات کی یکطرفہ ذہنی کوششوں کے دوران مفتی کو یہ منکشف بھی ہوا کہ اخلاقی طور پر وہ عربوں کے سلسلہ وار قتل کے مجاز ہیں۔ جو کوئی اُن کی راہ میں آیا وہ گویا اللہ کی راہ میں آیا۔ جس طرح نازیوں کی آفت یورپ میں پھیلی اُسی طرح یہودیوں کی ہجرت بھی بڑھی اور حج امین کا ظلم وستم بھی۔ ’کسی عرب پر اس شک کا اظہار کرنا کہ وہ کیڑے کی طرح اپنے قومی مفاد سے جڑا ہوا ہو، تو پستولوں سے لیس آدمیوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ‘فلسطین میں خانہ جنگی کے بارے برطانوی حکومت کی ۷۳۹۱ءکی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے، ’بہت سے فلسطینی برطانوی حکومت سے اپنے تخفظ کا کہتے ہیں(۹)‘۔ وہ یہودیوں کو عربوں کےلئے’ اندرونی دہشت ‘قرار دیتے ہیں، جو ایک دوسرا جھوٹ ہے۔

اَب تاریخ کا وہ حصہ آتا ہے جس کا تذکرہ آپ اِن دنوں بمشکل ہی سنیں گے۔ ۹۳۹۱ء، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی گڑبڑ اور بنیادی طور پر ہٹلر کو شکست دینے کے زور کے دوران، برطانیہ نے فلسطینیوں کو ایک ملک دینے کے پلان کی پیشکش کی(۰۱)۔ شرائط یہ تھیں: عرب اور یہودی ایک ہی ریاست میں سکونت اختیار رکھیں گے اور دس برس تک یہ ریاست فلسطینیوں کے کنٹرول میں ہو گی۔ اِس اثناءمیں یہودیوں کی زمینیں خریدنے اور تارکِ وطن بن کر آباد ہونے کی شرح میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی۔ آزادی کے موقع پر، فلسطینی اپنی امیگریشن پالیسی وضع کرنے کے مجاز ہو سکتے تھے۔ کسی بھی لحاظ سے یہ خودمختاری تھی۔ یہ کافی نہیں، عرب رہنماﺅں نے کہا۔یروشلم کے مفتی کے تسلط میں، جس سے برطانیہ نے براہِ راست بات نہ کی تھی، عرب مذاکرہ کاروں نے آدھا وقت آزادی کی بات کی۔ بصورتِ دیگربرطانیہ اِس پلان کو ٹھونس سکتا تھا۔

مگر یہ وہ معمول کی تلواریں ہیں جنہیں شاہی دستے دستیاب ہوتے ہیں۔ برطانیہ کی کاوش کو مسترد کرتے وقت مفتی کے آدمیوں نے کبھی بھی فلسطین کے کسانوں یا آڑھتیوں سے مشورہ نہیں لیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن لوگوں نے اس معاملہ کو اٹھایا۔ ۸۳۹۱ کے ایک برطانوی اخبارکی تفصیل کے مطابق اکثر دیہاتیوں کو ’عرب جنگجوﺅں کے ساتھ کوئی خاص ہمدردی نہ تھی جو یہودیوں کی امیگریشن کو ختم کرنے کے درپے تھے اور فلسطین کےلئے عرب حکومت چاہ رہے تھے۔ وہ اُس مشکل دور میں بیج بونے، ہل چلانے ، اپنے خاندانوں کی کفالت اور شادیاں رچانے کےلئے اکیلے ہونے کو تیار نہیں(۱۱)‘۔ اپنے سربراہوں کی طرف سے سیاسی طور پر مفلس بنا دینے سے وہ خود کو اقتصادی طور پر بھی مفلس پا رہے تھے۔ آٹھ سابق فلسطینی کمانڈروں نے مفتی یروشلم پر غیر ملکی طاقتوں سے بے حساب ملنے والی رقم کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ایک ضمیمہ شائع کیا۔یہ کروڑوں پاﺅنڈ ہیں لیکن کیا حج امین کسی واحد مسجد، اسکول یا ہسپتال کا بتا سکتے ہیں جسے انہوں نے اپنے دور کے دوران تعمیر کیا ہو؟ کیا اُس نے کوئی پناہ گاہ، سیاسی پناہ گاہ، خیراتی ادارہ اور یا پانی کا حوض تک بنایا ہو جہاں سے غریب پاپیادہ پانی ہی پی سکیں(۲۱)؟

آئیے ہم صاف دیکھیں کہ نازی سالوں کے دوران اور کیا کیا ہوا۔ہولوکاسٹ میں مسلمانوں کی منافقت۔ وہی حج امین، خدا کا بندہ جس نے عربوں پر اپنے قتل و غارت کے حربے اپنائے، نے برطانیہ پر دباﺅ ڈالا کہ فلسطین کی طرف رواں یہودی مہاجروں کی بھری کشتیوں کو کسی اور طرف موڑ دے۔ کچھ بحیرہ عرب میں ڈوب گئے، کچھ کو یورپ کے گیس چیمبروں اور جلائی جانے والی بھٹیوںکی جانب واپس بھیج دیا گیا۔ مفتی نے کروشیا سے یتیم بچوں کی مقدس زمین پر آمد کو روکنے کےلئے اپنا دباﺅ جاری رکھا۔ اُس نے جنگ کے فوراً بعد کم وبیش یہ حساب بھی لگایا کہ یہودیوں کی آبادی کم رکھنے سے بھی عرب فلسطین کی ضمانت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اِس کےلئے مفتی کو ضرورت تھی کہ جیتنے والے حلقے بھی اُس پر اعتماد کریں، اپنا جانیں اور وہ وہاں جانا جائے۔ ا،س بات کےلئے فرض اور دعا کرتے ہوئے کہ جیتنے والا ہٹلر ہو گا، حج امین نے ذاتی طور پر جابر قائد سے ملنے کا دورہ کیا۔ مفتی کے بھورے بالوں اور نیلی آنکھیوں نے اُس کی حیثیت کا تعین کیا، جس نے ہٹلر کو اطمینان بخشا،اُس کے الفاظ تھے۔ ’ممکن ہے حج امین اعلیٰ رومنوں کی نسل سے ہو(۳۱)‘۔ مفتی کا دورہ برلن میں ہٹلر کے خصوصی مہمان کی حیثیت سے اختتام پذیر ہوا، جہاں اس نے دسمبر ۲۴۹۱ءمیں اسلامک سنٹرل انسٹیٹیوٹ کی نقاب کشائی کی تقریب کی صدارت کی۔

وہ بالقان میں عالمی اتحاد کی جنگ میں رضاکار مسلمانوں کی داستانوں کا موجب بنا۔ بوسنیا کے کچھ مسلمانوں نے مفتی کی اِن خواہشات کو نہ صرف رد کردیا بلکہ اپنے گھروں میں فعال طریقے سے یہودیوں کو چھپایا۔ (جب ۰۶۹۱ءکی دہائی میں اسرائیل نے ایک ایسے بوسنین خاندان کو یروشلم کی ایک تقریب میںاعزازی طور پر مدعو کیا(۴۱) تو اس خاندان نے وہاں سکونت اختیار کرنے اور اسرائیلی شہریت کو لینے کا فیصلہ کیا)۔ہندوستان اور وسط ایشیا کے مسلمانوں اور ہاں،فلسطینیوں نے بھی اتحادیوں کےلئے اپنی زندگیاں دیں۔ مگر اس سے پہلے کہ ہم بجا طور پر دعویٰ کریںکہ یہودیوں کا قتلِ عام عیسائی یورپ میں ہوا تھا، آئیے آئینہ میں اپنے آپ کو تکلیف کے ساتھ دیکھیں۔ بہت سارے مسلمانوں نے اپنا مستقبل ہٹلر کے حوالے کر دیا تھا۔ ۳۴۹۱ءمیں حج امین نے بوسنیا کے مسلمانوں سے خطاب کیا اور انہیں یقین دلایا کہ اسلام اور نازی ازم سماجی تبدیلی، خاندان کے ڈھانچے، محنت ِ شاقہ اور مسلسل جدوجہد جیسے معاملات میں ایک جیسا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ۔ اور خاص طور پر امریکہ ، انگریزوں اور یہودیوں کے خلاف ۔ ریخ کے دارالخلافہ سے حج امین نے عرب دنیا کےلئے نازی پروپیگنڈا نشر کیا۔ ’یہودیوں کو قتل کر دو جہاںبھی تم انہیں پاﺅ‘ وہ یکم مارچ ۴۴۹۱ءکو ریڈیو برلن کے مائیکروفون میں پھنکارا۔ ’یہ عمل خدا، تاریخ اور مذہب کو راضی کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عمل تمہارے مقام کو قائم رکھے گا۔ خدا تمہارے ساتھ ہے(۵۱)‘۔ بغداد اور بیروت میں جرمن سفارتکاروں کو عرب سامعین کے خطوط ملے جن میں بتایا گیا تھا کہ مفتی کے پیغام کا اثر ہے۔

اگرچہ وہ ہٹلر پر اپنا جوا ہار گیا، مفتی جنگی مجرم کی حیثیت سے بھاگ کھڑا ہوا۔ جنگ کے بعد فرانس میں گرفتار ہوا، اُس نے خود کواتحادی قید سے فرار کروایا اورآخرکار مصر پہنچ گیا۔ نئی تشکیل شدہ عرب لیگ نے حج امین کو گھر واپس آنے پر خوش آمدید کہا۔ کیا یہ پُرتپاک استقبال مفتی کی فلسطین کے بارے لا محدود اختیار کو ثابت نہیں کرتا؟ اس پر غوروفکر کرنا معنی رکھتا ہے۔ ایک انجینئر جس کو عرفات کہتے تھے ( جس کا اصل نام الحسینی ہے، خود کو حج امین قبیلے کا رکن بناتا ہے)جلد ہی ’لیڈرشپ‘ کے طور طریقوں کو سمجھتا ہے۔ وہ کہاں سے یہودیوں کے ساتھ امن کو رد کرنے کے طریقہ کار کو سیکھتا ہے، دہشت کو اپنے لوگوں پر مسلط کرتا ہے اور اُس رقم کو ضائع کرتا ہے جو اُن کی بہبود کےلئے وقف تھی؟

ہمیں ہولوکاسٹ کے بعد ایک دوسرے محاذ پر دیانتدارانہ چھان بین کی ضرورت ہے۔ کیوں اسرائیل آخرِکار ولادت پا جانے والی جگہ تھی جبکہ فلسطین پیدا نہ ہو سکنے والی؟ ۷۴۹۱ءمیں، اقوام متحدہ نے فلسطین کو یہ تصور پیش کرتے ہوئے تقسیم کرنے کی تجویزدی کہ پینتالیس فیصد زمین عرب حکومت بن جائے اور پچپن فیصد پر یہودی حکومت قائم ہو جائے اور مشترکہ یروشلم کو بین الاقوامی نگرانی کے حوالے کر دیا جائے۔ مسلمان معمول کی طرح روئے دھوئے کہ یہودیوں کو عربوں سے زیادہ مربع میل مل رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اِس کھوکھلی شکایت کے نتیجہ میں کہیں زیادہ زمین مل رہی تھی۔ ہم اِس حقیقت کو شاید ہی کبھی تسلیم کریں کہ مجوزہ یہودی ریاست میں صحرائے نجف بھی شامل تھا جو فلسطین کا سب سے کم تر زرخیز علاقہ ہے۔ اِس کے علاوہ مجوزہ فلسطینی ریاست عربوں کی غالب آبادی والے علاقوں پر مشتمل تھی جبکہ مجوزہ یہودی ریاست میں ایسا نہیں تھا، اُس میں یہودیوں کی معمولی اکثریت تھی(۶۱)۔ تاہم بددل ہونے کے باوجود یہودی ’دوسروں‘ کے ساتھ رہ سکتے تھے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پلان کو تسلیم کر لیا اور چھ ماہ بعد آزادریاست کا اعلان کر دیا۔

عربوں نے ایسا نہ کیا۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا اور مزید علاقوں سے بھی ہاتھ دھو لئے۔ ممکن ہے عام فلسطینیوں کےلئے بُرا ہوا ہو، بہت ساری عرب حکومتیں جنہوں نے جنگ کے بعد اُن کے علاقوں کوہتھیا لیا تھا، نے جنگ سے قبل زمانہ کی کم مایہ جمہوریت کو نافذ کیا۔ معروف دانشور برنارڈ لیوس کی رائے دیکھئے۔ ’۹۴۹۱ءسے ۷۶۹۱ءکے دوران‘ وہ لکھتے ہیں، ’عرب لیگ اور خاص طور پر عرب حکومتیں جنہوں نے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کیا، فلسطینیوں کے حق میں بولنے کا دعویٰ تو کرتی ہیں مگر اپنے ہاں کے سیاسی عمل میں اِن کے عمل دخل کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرتی ہیں بلکہ اِن کو دور رکھتی ہیں(۷۱)‘۔ پھر کون کس کو بہکاوے میں رکھ رہا ہے؟

نہیں، میں سرد جنگ کے بارے نہیں بھولی۔ ۰۴۹۱ءسے ۰۶۹۱ء کے دوران، بڑی طاقتوں کے منصوبہ سازوں نے مشرقِ وسطیٰ کو پتلی تماشہ بنائے رکھا۔ میرے ذہن میں استحصال کی نچلی صورت امریکہ کے حوالے سے نہیں آتی بلکہ سوویت یونین کے حوالے سے آتی ہے۔ جوزف سٹالن نے چیکوسلواکیہ سے ہتھیار اسرائیل منتقل کئے اور عربوں کے پہلے حملے کے دوران یہودیوں کے ساتھ کندھا ملا کر اُن کی مدد کی۔ لیکن اسرائیل کی ۸۴۹۱ءکی فتح کے کچھ عرصہ بعدسٹالن نے اسرائیل پر پنجے گاڑ دئیے، امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے، اور عربوں کو مسلح کر دیا۔ مصر کے جمال عبدالناصر (سوویت یونین کا ) انتخاب ٹھہر گئے۔

اگلی دو دہائیوں کے دوران عربوں نے خیال کیا کہ انہیں صلاح الدین، ملٹری کمانڈر جس نے عیسائی فوج کو صلیبی جنگ میں تیزی کے ساتھ مقدس زمین سے پیچھے دھکیل دیا تھا، کا جانشین مل گیا ہے ۔ تیزی کے ساتھ مگر عارضی طور پر۔ ناصر نے دونوں طرح کی حکمت عملی اپنائی۔ مصر کا جنرل جو صدر بناتھا، نے ہر جگہ عربوں میں یہ اجتماعی شعور دیا کہ اسرائیل کے بڑے ساتھی امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑیں ہوں۔

امریکہ مخالف کے معنی نو آبادیت مخالف کے برابر نہیں ہیں۔ ناصر نے یہی ثابت کر دکھایا۔ اُس کے ماتحت ، مصر نے سوویت یونین کی نظریاتی افیون کی حد کردی، اقتصادی اور تہذیبی احیاءکو سوشلزم کے نام داﺅ پر لگا دیا۔ مثال کے طور پر، ناصر نے قاہرہ کی علامت الاظہر یونیورسٹی، جو سنی اسلام میں مذہبی اور قانونی تعلیم میں ہارورڈ کا درجہ رکھتی ہے، کو قومیا لیا ۔ سیکولرزم کی تعلیم کو تیزی سے عام کرنے کی یہ کوشش مہنگی پڑی۔ ’اصلاحاتی الاظہر انسٹیٹیوٹ کو ریاست کے ساتھ منسلک کرنے سے ناصر کی حکومت اپنے اعتبار سے محروم ہو گئی‘، یہ بات جلز کیپل نے اپنی کتاب ”جہاد: سیاسی اسلام کی لڑی“ میں لکھی۔ ’ایک خلا پیدا ہو گیا تھا، جو ہر اُس سے پورا ہو سکتا تھا جو حکومت سے سوال کر سکتا ہو اور اسلام کے نام پر حکومت پر تنقید کر سکتا ہو(۸۱)‘۔

خلا پُر ہونے والا تھا، اسلحے سے لبالب اور قومیت پرستی کے نام پر نفوذ کیا جانے والا۔ صیہونی قبضے کا انتقام لینے کے خواب میں خوابیدہ عرب اٹھ کھڑے ہوئے۔اسرائیل نے ۷۶۹۱ءکی جنگ میں مصر اور اُس کے اتحادیوں کو سبق سکھایا تھا۔ یہ تذلیل ایک بار تو یروشلم کے ناقابلِ تصور نقصان کی صورت اختیار کر گئی، شناخت کے سلجھاﺅ کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا اور سیکولر سوشلزم کی ڈھال کو ختم کرنے کا طے ہو گیا۔

۰۲۹۱ءکے عشرے سے مذہبی بنیاد پرست اپنی تنظیم کی شروعات میں اس لشکارے دار یقین دہانی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے کود پڑے کہ ’اسلام حل ہے‘۔ اُن کو سننے والوں کی کمی نہیں تھی یا مزید چند برسوں کے اندر ڈالر کی کمی بھی نہ رہی۔ تیل کی دولت کے دھماکے سے سعودی عرب جیسے ملکوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ سعودی عرب، جہاں متشدد اور سخت گیر تعزیراتی اسلام کا دور دورہ ہے، نے شدت پسند مسلمانوں کےلئے مالی وسائل کو ہر جگہ پھیلا دیا۔ ’اُن کی عظیم ترین توقع‘ مصر کے روشن خیال مصنف جابر اسفور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’سخت گیر اسلام کی طرف لوٹنے سے اُن کو صیہونیت اور اسرائیل کے خلاف آخری فتح کی قوت نصیب ہو گی(۹۱)‘۔

ہم فلسطین کے مسئلہ کی طرف پوری طرح لوٹتے ہیں۔ جوں جوں سخت گیر اسلام کا زور بڑھتا گیا، یاسر عرفات مذہبی اصطلاحات اور تصورات کواپنے سیاسی گول کےلئے اپناتے گئے۔ ۰۷۹۱ءکی دہائی کے وسط میں انہوں نے لفظ ’شہید‘ سے کسی قرآنی منطبق کے بغیر کام چلانا شروع کر دیا۔ گزشتہ پچیس سالوں سے فلسطینی خدا کے نام پر خود کو اور معصوم شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ وہ جنت میں شہیدوں کی لولی لنگڑی قسمت کے چکر میں ایک دوسرے کی پسلیاں بھی توڑ رہے ہیں۔ ’کچھ لطیفوں میںکالی آنکھوں والی باکرہ حوریں غیر جنسی نکلتی ہیں اور کچھ میں وائن شراب کے بغیر‘۔ یہ عرب اسرائیلی پروفیسر محمد ابو سمرا کا کہنا ہے۔یہ لطیفے ’اُس بے اعتباری کا اظہار کرتے ہیں جس کا عہد اسلامی عقیدہ اگلی زندگی کےلئے کرتا ہے‘۔ اُن لوگوں کے پاس جو مذہب کو ایک خنجر کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اسلام کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ فلسطینیوں کی نصابی کتب، نشریاتی ادارے اور احتجاجی جلسے اسلام کے مصالحے سے بھرے پڑے ہیں۔ اور ابھی فلسطین کے عام سطح پر جذبات کے حوالے سے ابو سمرا کا خلاصہ بیان کرنا باقی ہے۔ ’ہر شے ناکامی اور بدعنوانی کے انجام کو پہنچی ہوئی ہے(۰۲)‘۔ ڈوم آف دی راک کے مقام پر امریکی مسلمان خاتون سے ہونے والی میری گفتگو کے کچھ حصے ایسے ہی تھے۔

اِس گفتگو کے دومہینوں بعد، عرفات کی کابینہ کے ایک سابق وزیر نے اپنی عزت کی خاطر اپنے تحفظ کے خدشے کو بڑھا دیا۔ نبیل عامر نے فلسطینی حکام کے سرکاری اخبار میں دروں بینی کے واسطے ایک اپیل شائع کی ( ایک خلف جسے چھاپتے ہوئے مدیر کی اپنی جان کوخطرہ لاحق تھا)۔ ’جناب صدر ہم سہولت کے ساتھ حیلے بہانے تراشتے ہیں(۱۲)‘، عامر نے عرفات سے کہا۔ سابق گوریلوں کی یاد دلانے والا جنہوں نے پچاس برس قبل یروشلم کے مفتی کو ایک کھلا خط لکھا تھا ۔ عامر نے فلسطینی چئیرمین کو دنیا بھر سے ملنے والی امداد اور وسائل کے بیجا صرف کا الزام لگایا اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کے ساتھ الحاق کی ضرورت کو پیش کیا۔ اندر کا آدمی ہونے کی بناءپر اُس نے فلسطینی سیاستدانوں کی ’قبائلی ذہنیت‘ کو آشکار کیا، آدمی جمہوری اقدار کی رسی پر چلتے تو ہیں لیکن اِس کے نیچے ہنوز ننگی انانیت ہے۔ بات کا احاطہ کرتے ہوئے عامر نے لکھا، ’ہم نے اپنے لوگوں کے ساتھ سنگین غلطیاں کی ہیں، ہمارے حکام نے اور اپنی ریاست ہونے کے خواب نے۔ اِن غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ہمیں پہلے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا ہو گا اور اُس کے بعد فوری اقدام اٹھانا ہو گا۔ ہمارے لوگ اچھے ہیں اور ہم سے اپنے بارے اور اپنی بہتری کے بارے سوچنے کے مستحق ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کی منزل کو کسی سنہری موقع کے سپرد نہیں کر سکتے، ایسا سنہری موقع جو نئے ورلڈ آرڈر کے تحت کسی امید کا در وا کئے بغیر نہ ختم ہونے والی جدوجہد پر منتج ہو سکتا ہے‘۔

نبیل عامر اپنے گھر پرمقدس فلسطینی پستول بردار کی گولیوں کی بوچھاڑمیں زندہ بچ گئے۔ اُن کے بیان کے بعد چند دوسرے فلسطینیوں نے سرِعام عامر جیسی باتیں کیں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُن کے لوگوں کی حالتِ زار کا اسرائیل بنیادی سبب نہیں ہے۔ پھر کیوں ہم مغرب میں رہنے والے اسرائیل کو موذی سمجھنے میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں؟

فلسطین کے سرگرم مجاہداپنے دلائل کے جذبات کا پاٹ دار بیان ایک ہی رخ کی طرح چلنے والی گراری کی طرح گھمائے جا رہے ہیں۔ ذرا اسرائیل کی نسل پرست جنوبی افریقہ کے ساتھ موازنے کی مقبولیت کو ملاحظہ کیجئے۔

رمالا جانے سے پہلے میں فلم ’وعدے‘ کے بارے معلومات حاصل کر رہی تھی، یہ فلم آسکر ایوارڈ کے انتخاب میں آنے والی دستاویزی فلم ہے جو یروشلم میں رہنے والے عرب اور یہودی بچوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ اِس میں حریفانہ تقریریں بھری پڑی ہیں، کچھ بچے اپنے لہجے کو بدلتے ہیں جب وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ایک فلسطینی طرفدار اپنے آپ کو طرفداری سے بچا نہیں پاتا۔۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تین میں سے دو فلمساز امریکی یہودی ہیں۔ ’دوسری نسل کا صیہونی پروپیگنڈا(۲۲)‘، تیسرا اِس فلم کو عربیہ ڈاٹ کام پر اِس عنوان کے ساتھ دکھاتا ہے۔ ” کیا کوئی ایسی دستاویزی فلم جنوبی افریقہ میں فلمائی گئی تھی جو نسلی عصبیت کے دور میں کالوں اور گوروں کے باہم احساسات کی شدت کو بیان کر سکتی ہو، کچھ لوگ کالوں کے گوروں کے خلاف غصیلے اظہار کے لفظوں کو بیان کرتے تھے جو گوروں کے کالوں کی نسل پرستی کی نشانی تھے۔ اور آپ کو بتاﺅں، رمالا میں میں نے دوبارہ جنوبی افریقہ کا ذکر سنا۔

ٹورونٹو واپسی کے بعد میں نے سنا کہ فلسطینی یکجہتی کا کوئی گروپ جنوبی افریقہ اکادمی کی اعانت کر رہا ہے کہ شمالی امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اسرائیل کا ذکر نسلی عصبیت کے ملک کے طور پر پھیلا دیں(۳۲)۔ یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے ریچمان ہال میں خطاب کرتے ہوئے اکادمی کے کارپرداز نے جنوبی افریقہ کے نسلی عصبیت کے دور کو اسرائیل کی ’باہم شادیوں‘ پر پابندی کے متوازی قرار دیا۔ مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے جوڑے اسرائیل میں شادی شدہ یا شادی کے بغیر اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ مگر شادی کی مذہبی تقریب ملک میں کہیں نہیں ہو سکتی۔ اکادمی نے جس بات کا ذکر نہیں کیا اور جس کو میں نے بعد میں دریافت کیاکہ سیکولر شادیوں کا بل یہودی پارلیمان نے ایوان میں پیش کیا ہوا ہے(۴۲) جبکہ مسلمان قانون دانوں نے کٹر یہودیوں کے ساتھ اس بل کی منسوخی کےلئے اتحاد کیا ہوا ہے۔

ایک ایسی ریاست جہاں نسلی عصبیت پر عمل درآمد ہوتا ہو ، وہاں عرب مسلمان قانون دانوں کے پاس کسی بات کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے؟ آبادی کا فقط بیس فیصد حصہ ہوتے ہوئے، کیا عرب الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہو سکتے ہیں، اگر وہ واقعی ہی نسلی عصبیت کے انگوٹھے نیچے تلملا رہے ہیں؟ کیا کوئی نسلی عصبیت والی ریاست عورتوں اور غریبوں کو مقامی سطح کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا حق دے سکتی ہے،جس کا حق اسرائیل نے فلسطینی عربوں کی تاریخ میں پہلی باردیا؟ کیا عرب اسرائیلی شہریوں کی واضح اکثریت قومی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیتی جیسا کہ وہ حصہ لیتی ہے؟ کیا کوئی نسلی عصبیت والی ریاست متعدد عرب سیاسی پارٹیوں کو اجازت دے گی جیسا کہ اسرائیل دیتا ہے؟ کیا عدلیہ سیاسی مداخلت سے آزاد نہیں ہے؟ ۳۰۰۲ءکے اسرائیلی انتخابات میں دو عرب سیاسی پارٹیوں کویہودی ریاست میں دہشت گردی کرنے کی حمایت کے اظہار کے ضمن میں نااہل قرار دیا گیا۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے اپنی آزادی کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں کی نااہلیت کو ختم کر دیا۔

کیا کوئی نسلی عصبیت والی ریاست اپنا سب سے بڑا ادبی انعام کسی عرب کو دے گی؟ اسرائیل نے ۶۸۹۱ءمیں ایمائل حبیبی کو اعزاز دیا، اس سے پہلے کہ کوئی انتفادہ اس انتخاب کو سیاسی چالاکی قرار دیتا۔ کیا کوئی نسلی عصبیت والی ریاست ہیبرو بولنے والے اسکول کے بچوں کو عربی سیکھنے کےلئے حوصلہ افزائی کرے گی؟ کیا پورے ملک میں سڑکوں کے بورڈ دوزبانوں میں ہونگے؟ (حتکہ دو زبانوں پر فخر کرنے والا ملک کینیڈااِس معیار پر پورا نہیں اترتا۔) کیا نسلی عصبیت والی ریاست ایسی یونیورسٹیوں کا گڑھ ہو گی جہاں عرب اور یہودی اپنی منشاءکے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل سکتے ہوںاور جہاں اپارٹمنٹس پر مشتمل عمارتوںمیں وہ ساتھ ساتھ رہ سکتے ہوں؟ کیا نسلی عصبیت والی ریاست سہولتیں اور قانونی تحفظ اُن فلسطینیوں کو عطا کرے گی جو رہتے تو فلسطین سے باہر ہیں لیکن کام اسرائیل کی سرحدوں کے اندر کرتے ہیں؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیمیں کسی نسلی عصبیت والی ریاست کے اندر سرعام کام کر سکتی ہیں؟ وہ اسرائیل میں کرتی ہیں۔ اس ضمن میں تو حتکہ فوجی حکام حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے عوام کے سامنے آتے ہیں۔ اکتوبر ۳۰۰۲ءمیں ، اسرائیل ڈیفنس فورسز کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا کہ ویسٹ بینک اور غزہ میں سڑکوں کو بند کرنے سے فلسطینیوں میں اشتعال بڑھا ہے۔ دوہفتوں بعد شِن بیٹ اسکیورٹی سروس کے چار سرکردہ سربراہوں نے اپنے عہدوں کی پرواہ کئے بغیر ایرئل شیرون کو فوجیں یکطرفہ طور پر واپس بلانے کا کہا۔ کیا کوئی نسلی عصبیت والی ریاست اُن لوگوں سے اس قدر اختلافِ رائے ہضم کر سکتی ہے جن کو ملک کی حفاظت کا اختیار دے رکھا ہو؟

اِن سب سے بالاتر، کیا ذرائع ابلاغ قوم کی عمارت کے بنیادی و اثاثی حصوں پر بحث کر سکتے ہیں؟ کیا ایک نسلی عصبیت والے ملک میں ہیبرو زبان کا اخبار(۵۲) عرب اسرائیل تنازعہ کے حوالہ سے یہ مضمون شائع کر سکتا ہے کہ’ کیوں صیہونیت پرستی کی مہم مکمل طور پر ناکام ہے‘؟ کیا وہ اخبار اس مضمون کو اسرائیل کی آزادی کے روز شائع کر سکتا ہے؟ کیا ایک نسلی عصبیت والی ریاست مشرقِ وسطیٰ میں آزاد ترین عرب پریس کی ضمانت دے سکتا ہے، ایسا پریس جو اپنے ملک (اسرائیل) کی آزادیوں کو برا بھلا کہ سکتا ہو اور اپنے موقف پر قائم رہ سکتا ہو؟ (اَب تک مشرقی یروشلم کا روزنامہ ’القدس‘ اسرائیل مخالف ایک خط کو چھاپنے سے باز نہیں آیا جو جعلی طور پر نیلسن منڈیلا کا لکھا بتایا جاتا ہے(۶۲) مگر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ خط ہالینڈ میں مقیم ایک فلسطینی کی تحریر ہے۔) حتکہ فلسطینی قومیت پرستی کے خفیہ کارپرداز، مرحوم ایڈورڈ سعید نے صاف صاف کہا تھا، ’اسرائیل جنوبی افریقہ نہیں ہے(۷۲)۔۔۔‘، اور ہو بھی کیسے سکتا تھا جبکہ ایک اسرائیلی ناشر نے سعید کے بنیادی حوالے کی کتاب ”اورینٹلزم“ کا ہیبرو میں ترجمہ شائع کیا تھا؟ میں اس نقطہ کو اس سوال کے ساتھ بند کروں گی کہ جو سوال خودسعید نے عربوں سے پوچھا تھا، ”ہم کیوں اپنے معاشروں میں اظہار رائے کی آزادی کےلئے لڑتے نہیں، ایک ایسی آزادی جس کے بارے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے، جو ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر پائی جاتی ہے(۸۲)“۔

میں اتفاق نہیں کرتی۔ کچھ لوگوں کو ابھی بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ’عرب آزادی‘ کا اسرائیل سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لوگ جن کو یہ بتانے کی ضرورت ہے ، درحقیقت وہ لوگ ہیںجو جنوبی افریقہ کی مثال کو ایک قدم آگے لے گئے ہیں ، جو اسرائیل کو اَب نازی جرمنی سے ملا رہے ہیں۔ اُن کے مطابق صیہونی نفرت آمیز جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں، اُس حتمی ہراس کے تحت جسے وہ ’زایو۔نازازم ‘ کالقب دے رہے ہیں(نیو۔نازازم کے مترادف)۔

’زایونازازم ‘ کے حلفیہ دشمنوں نے اگست ۱۰۰۲ءمیں بین الاقوامی اسٹیج پر اپنی تماشہ گری کا مظاہرہ کیا۔ عرب لائرز یونین نے مختلف فورم سے لے کر ڈربن جنوبی افریقہ میں منعقدہ یونائیٹڈ نیشنز ورلڈ کانفرنس تک میں کارٹون تقسیم کئے(۹۲) جن میں اسرائیلی فوجیوں کو اُن کی ہلمٹوں پر نازی جھنڈا لہراتے ہوئے خون چوسنے والے دانتوں کے ساتھ ڈریکولا کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ ایک ایسا فوجی ایک فلسطینی دفتر کے تختوں کے بنے دروازے کے باہربطور چوکیدار کھڑا تھا اور اِن تختوں پر سواستیکا کا نشان بنا ہوا تھا۔ ایک دوسرے فلسطینی حمایتی کاغذ پر سواستیکا کا نشان ڈیوڈ کے ستارے سے ابھر رہا تھا۔ ڈربن میں جو سب سے کریہہ پوسٹر تقسیم کیا گیاوہ ہٹلر کے اس مفروضے پر مشتمل تھا، ”اگر میں جیت گیا تو کیا ہو گا؟“پوسٹر کی اِس سرخی کے نیچے لکھا تھا،’اچھی چیزیں‘، اِس پوسٹر میں جابر قائد کا یہ بیان تھا، ”کوئی اسرائیل نہیں ہو گا اور نہ فلسطینیوں کا خون بہے گا۔ باقی آپ خود حساب لگا لیں۔“

تاہم کیسے کوئی نازی ازم سے لڑنے کا دعویٰ کر سکتا ہے جب ہٹلر کے مقصد کو اپنا مقصد بھی بنایا جائے؟ اس بات کا جواب یہ ہے کہ حساب آپ خود ہی لگا لیں۔

مجھے تو اس بات سے ہی کراہت آتی ہے کہ یہ تدبیر ساز ہٹلر سے کس قدر متاثر ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ڈربن میں تقسیم کئے گئے کارٹونوں میں اسرائیلی فوجی ڈریکولا کے دانت نکالتے دکھائے ہیں۔ بہت سارے عرب مسلمان دانشور، صحافی اور سیاستدان اپنے پیچھے چلنے والوں کو بتاتے ہیں(۰۳) کہ یہودی نازی ہیں کیونکہ وہ اپنی مذہبی عبادات کی خاطر غیر یہودی بچوں کا خون بہاتے ہیں۔ اس کو خونی تلافی کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ کہانی نازیوں کے مجلہ ’ در ستومر‘ میں کالموں کی محبوب داستان تھی۔ اِس اعتبار سے اسرائیل کے نام پر اچھلنے کودنے والے بہانے باز ہٹلر کے ساتھ بستر میں دراز ہوتے تھے۔ وہ نازیوں کے پیچھے چلتے تھے فقط اُس کی مخالفت کرنے کےلئے جسے وہ نازی ازم کہتے تھے۔ میں اس بات کو بالکل سمجھ نہیں سکی۔

اور اُن کا غیر عقلی پن ایک اعلیٰ سفارتی عالی مرتبت لوگوں کے سامنے آیا۔ شام کے وزیر دفاع سے کم درجے کا تو کوئی وہاں تھا ہی نہیں، جو یہودیوں کو خون چوسنے ولا ثابت کرنے کےلئے کتابیں شائع کر رہا ہے اورایک فلم بھی بنا رہا ہے(۱۳)۔ابھی یواین ورلڈ کانفرنس برائے انسداد نسلی منافرت کو یہ وضاحت کئے بغیر کہ ۱۰۰۲ سے ۳۰۰۲ تک تو شام اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن میں بیٹھا رہا ہے ۔ اس بات کے علاوہ کہ باوقار یو این اسکیورٹی کونسل کے گردشی رکن کی حیثیت سے بھی کام کرتا رہا ہے۔ آخری وار سہنے کےلئے تیار ہیں؟ اسرائیل دنیا کا واحد ملک تھا جس پر تنقید کی خاطر باضابطہ یو این کانفرنس برائے انسداد نسلی منافرت میں دستاویزات پیش کی گئیں۔ کیوں یہ حیرت انگیز طور پر اچھے برے کی تمیز ختم کرنے والی بات ہے؟ کس نے کی؟

آخر میں، میں سوچتی ہوں کہ اس بات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کس طرح زایونزم کی تعریف وضع کرتے ہیں۔اس تحریک کے حامیوں کےلئے، زایونزم تاریخی لحاظ سے کچلے ہوئے اور معاشرتی طورپر بتدریج سکڑتے چلے جانے والے لوگوں کی وطن واپسی کا نام ہے(۲۳)۔ مگر اِس کے مخالفین کےلئے، زایونزم نسل پرستی کا نام ہے(۳۳)۔۔ ایک ایسا نظریہ جو امیر یورپی یہودیوں نے پروان چڑھایا اور انہوں نے اِس مفروضے کو عملی جامہ پہنایا کہ خدا کے ’منتخب لوگ‘ زمینیں چھین سکتے ہیں اور واپسی کے نسل پرست قانون کے تحت آباد کر سکتے ہیں۔ یہ قانون اُن لوگوں پر عائد ہوتا ہے جو ایک مخصوص اور مستشنیٰ خصوصیت رکھتے ہیں، یہودی سلسلہ نسب۔فقط تیسری رائج کے طور پر جس کو آریاﺅں کی خالص نسل کی توقیر دی جاتی ہے، لہذا اسرائیل یہودیوں کی حیاتیاتی برتری کی ترویج کےلئے قائم ہے۔

آئیے دیکھتے ہیںکہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ ڈیوڈ مٹاس جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکیل ہیں، کا کہنا ہے کہ نسل پرستی اور زایونزم کو ایک دوسرے میں ضم کرنا پست درجے کی بات ہے۔ ’یہودی تو ہر رنگ کے ہیں‘، وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں۔’یہودی کالے بھی ہوتے ہیں۔۔جنہیں فلاشا کہتے ہیں(۴۳)۔۔انہیں واپسی کے قانون کے تحت ایتھوپیا سے اسرائیل لایا گیا تھا‘۔ اِس بات نے مجھے سوچ کا یہ ہچکولا دیاکہ اگر فلسطین کے حمایتی سرگرم لوگ جوشیلے سلگتے ہوئے ہونے کی بجائے صحیح ٹھکانے والی باتوں کی طرف دھیان دیتے تو اُن کے کارٹونوں کے بھوت براﺅن اسرائیلی فوجیوں سے بنائے جا سکتے تھے۔ اور کالوں سے بھی۔ ایسا کیوں ہے کہ سارے ولن سفید فام ہی ہیں؟ میرا سوال ایک بڑی بات کی طرف جاتا ہے جس کا نقشہ مٹاس کھینچتے ہیں۔ کیا واپسی کا قانون، جو ہر نسل کےلئے ہے، کو نسل پرستی کی مہر لگانا درست ہے؟درست نقطہ ہے۔ مگر میں اس بات کو بھی جانتی ہوں کہ اسرائیل میں ایک اٹھارہ سالہ ایتھوپین یہودی ایک ساٹھ سالہ عرب سے شناختی کارڈ دیکھنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ اُس عرب اور اُس کے خاندان نے نسلوں سے اس پاک زمین مین کھیتی باڑی کی ہے اور اب ایک بچے کے سامنے سر نیہوڑائیں جو اسرائیل آٹھ ماہ قبل آیا تھا۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ عرب کیوں تذلیل محسوس کرتے ہیں۔ اُن کا نقطہ بھی صحیح ہے۔ یہ معاملہ ہمیں کہاں لے جائے گا؟

جب ہم شہریت کی طرف آتے ہیں تو اسرائیل پھر نسلی منافرت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ایک طرح سے جس طرح تائیدی عملی پالیسی نسلی منافرت کا موجب بنتی ہے، اسرائیل اُس مخصوص اقلیت کو اہمیت دیتا ہے جو تاریخی سطح پر ناانصافی کا شکار ہوئی۔ اِس اعتبار سے یہودی ریاست تو تائیدی عمل کی ریاست ہوئی۔ روشن خیال لوگوں کو تو اِس سے محبت کرنی چاہئے۔

کیا اسرائیل کی تائیدی عملی پالیسی نازی ازم کے برابر ہے؟ مجھے معاف کیجئے۔ بطور مسلمان میں اسرائیل کی شہری اُن کا مذہب اپنائے بغیر ہو سکتی تھی، ایسا واپسی کے قانون کی بجائے تارکِ وطن بننے کے طریقہ کار کے تحت ہو سکتا تھا، مگر ایسا ہو سکتا ہے۔ بہر حال اسرائیل دنیا کے اُن چند ممالک میں سے ہے جو پناہ دیتے ہیں، پھر شہریت بھی دیتے ہیں۔ ۰۷۹۱ءکے عشرے کے آخر میں ویتنام سے لوگوں کی بھری ہوئی کشتی اسرائیل پہنچی اور انہوں نے سیاسی پناہ حاصل کی۔ مجھے اس پر حیرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ شام اِس اسکور سے کس طرح موازنہ کر سکتا ہے۔ اَب اسرائیل بطور ہٹلری نفرت کے ڈھیر کی کچی دیوار کی بنیادوں کا بالآخر اور ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کا واحد ملک ہے جہاں عرب عیسائی بخوشی ہجرت کر رہے ہیں۔ وہ خوشحال بھی ہو رہے ہیںاور اُن کی یونیورسٹیوں میں حاضری کی شرح اسرائیل کے عرب مسلمان شہریوں سے کہیں آگے بڑھ گئی ہے(۵۳)، مجموعی طور پر اُن کی صحت خود یہودیوں سے کہیں بہتر ہے۔

دوبار وعدے کی شکارر یہ دھرتی پچیدہ اور شدید جذباتی دباﺅ میں ہے۔ اسرائیلی یہودیوں کی ایک دوسرے کو یہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ عربوں کو روزروز کے الجھاﺅ میں کچھ نہ کہا جائے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس نمونہ کمال میں کون کم ہے اور کون زیادہ۔ اصل سوال تو یہ ہو سکتا ہے، کون وہ کچھ سننا چاہتا ہے جو وہ سننا نہیں چاہتے؟ اسرائیل، میں نے دیکھا، اپنے ’استعماری ‘ ہونے کے الزام میں زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اپنے مخالفین کی نسبت جب اُن کو ’آزادی‘کی بحث کی طرف لایا جاتا ہے۔ یہودی ریاست تناﺅ پر سرعام بات کرتی ہے۔ یہ اصل جمہوریت کا کمال ہے۔ کیا آج کسی بھی اسلامی ریاست میں بامعنی جمہوریت دیکھی جا سکتی ہے؟

اگر اسرائیل کی استعماریت بوتل کا وہ کاک نہیں ہے جو ہمارے جمہوری جن کو بند کئے ہوئے ہے تو پھر آپ مجھے یہ بتانا چاہتے ہوں گے کہ وہ امریکہ ہے۔ اون کے سروں والے اسلامی انتہا پسندوں کو بھول جائیے، بے شمار اصلاح پسند مسلمان امریکہ کو ’مسئلہ‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ بہت اطمینان بخش نتیجہ ہے جس سے امریکی طاقت ہر طرف سے رسوا ہے۔ مگر تمام تنقید اور نعرے بازی کے نیچے مسلمانوں کا دل بھی دھڑکتا ہے۔۔۔ امریکہ کےلئے۔

مجھے آپ کو واپس اسرائیل کی طرف ایک منٹ کےلئے لیجانے دیجئے۔ یروشلم کے مسلمان حصہ کی مارکیٹ کی جانب جاتے ہوئے میں نے ایک ماورائے حقیقت منظر بھی دیکھا۔ میرے ذہن سے بالا، کالے اور نارنجی ہیلووین رنگوں میں دو نیون سائن بورڈوں نے ہولی راک کیفے کو مشتہر کیا(۶۳)۔ اِس کا لَوگو اس طرح ذہن میں چپکا جس طرح ہولی راک کو اپنی ہئیت کے ساتھ ہونا چاہئے، جس طرح ہارڈ راک کیفے ہو۔ فرنچائز بھی نہیں اور گرا پڑا بھی نہیں۔ اِس خستہ حال بے آرائش کھانے پینے کی جگہ نے امریکہ سے اپنی حیثیت بنائی۔ کوئی بات مجھے بتاتی ہے کہ سی آئی اے نے یہ ریسٹورانٹ نہیں بنایا۔

نیویارک ٹائمز کے غیر ملکی معاملات کے کالم نگار تھامس فریڈمان کے ساتھ ایسا ہی واقعہ دوہا قطر میں ہوا تھا۔وہ ایسی جگہ سے گزرے جس کے بارے انہیں خیال تھا کہ یہ قطر کا اصلی تابو ہے، ’میں نے ایک طرف کا چکر کاٹا اور اچانک یہ میرے سامنے آ ظاہر ہوا جیسے افق پر ایک بڑا سا دھبہ ہو۔ ”تاکو بیل“۔ حتکہ زیادہ مبہم تھا، وہ زور دیتے ہیں۔ ’یہ تو بھرا پڑا تھا(۷۳)‘۔ آپ نے غور کیا کہ میں کس طرف جا رہی ہوں؟ جب مسلمان امریکی استعماریت پر چیختے ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ ہم ہمیشہ ثقافتی استعماریت کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مغرب کی مقبول ثقافت کو گلے لگانے یا مٹانے کا موقع دیا جائے ، بہت سارے مسلمان بخوشی اِس کو گلے لگائیں گے۔ وہ جو متحمل ہو سکتے ہوں تو اپنے بچوں کو شمالی امریکہ اور یورپ کے اسکولوں میں داخل کروائیں۔ پاکستان کے اخبار ’ڈان‘ میں ایک کالم نگار نے اس سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کاٹا، ”مسلمان دانشور، ملا یا سیاستدان کو سنیے (۸۳)تو آپ مغرب کے ذمہ فروگزاشت گناہوں کی شکایتوں اور تنقید کی طولانی داستان سنیں گے۔۔ اُس سے پوچھیے کہاں وہ بچوں کو یونیورسٹی بھیجنا چاہے گا اور اگر وہ سچا ہے تو وہ امریکہ کی چوٹی کی یونیورسٹیوں کے نام گنوا دے گا۔ اور اگر وہ اپنے ملک میں اعلیٰ مقام پر فائز ہے وہ زمین آسمان ایک کر کے امریکی سفارتخانے کو اپنے بچے کےلئے کالج میں داخلہ لینے یا اسٹوڈنٹ ویزا لینے کی سفارش کرنے پر راستہ نکالے گا۔ یقینا وہ اپنی اولاد کےلئے مالی اعانت حاصل کرنے کی غرض سے اپنے دیوالیہ پن کا جھوٹا حلف بھی اٹھائے گا‘۔ امریکہ کو گرا دو۔۔مگر تب تک نہیں جب تک میرا بچہ گریجوایٹ نہیں ہو جاتا۔

پھر تعلیم کے علاوہ بھی کچھ تجربات ہیں۔ بہت سارے مسلمان گھرانے مغرب میں اسلامی ممالک سے زیادہ چھٹیاں گزارتے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی عطریات کے امریکی اشتہارات چلاتا ہے اور امریکی ذخائر سے پروگرام خریدتا ہے ۔ الجزیرہ کے حریف نشریاتی ادارے مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ سنٹر پر ”کون ملینر بننا چاہتا ہے“ نے ریکارڈ توڑ پذیرائی حاصل کی۔ انٹرنیٹ سے قبل کے دور میں خطے کے صحافی آزاد رپورٹنگ میں اندر کی باتیں جاننے کےلئے مغربی اخبارات پڑھنے کی تجویز پر شور مچایا کرتے تھے۔ وہ ایسی نوکریوں کے طلبگار رہتے تھے جو انہیں اُن کے بیشے کے معیارات مہیا کریں۔ مزید بتاتی ہوں، پیپسی کے خالی ڈبے غارِ حرا کے راستے تک کوڑے میں بکھرے ہوئے ہیں(۹۳)، جس مقام کے بارے مشہور ہے کہ پیغمبر محمد کے سینے میں خدا کے لفظ اترے تھے۔

نورا کیورکیان، ایک دوست جس نے دستاویزی فلم ’نقاب اٹھ گئے‘ بنائی، جو وڈیو ٹیپ پر موجود ہے۔ دمشق کے ایک بازار میں سیاہ برقعے میں لپٹی ایک عورت انگیہ خریدتی ہے جو امریکی ناشائستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ برقی انگیہ کا ایک جوڑا ابھرے ہوئے حروف کے ساتھ ٹویٹی برڈ‘ لکھا دکھاتا ہے جو ’ٹویٹی برڈ‘ کا مشہور گیت گاتا ہے(۰۴)۔ دوسرے جوڑے پر ”بگس بنی“ کی تصویر ہے جو ہمیں ’مجھے چومو‘ کا اشارہ کرتا ہے۔ تیسرا جوڑا یہ ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے، ”آپ کو میری کرسمس مبارک ہو“۔ اِن جوڑوں کے ساتھ سیل دستیاب نہیں تھے۔ ”ہر کوئی (سیل) خریدتا ہے“، دکاندار جوش و خروش کے ساتھ اِن اشیاءکے بارے بتاتا ہے۔کون ملینربننا چاہتا ہے؟ دکاندار۔ مغربی ثقافت کےلئے مسلمانوں کی چاہت کا یہ عالم ہے کہ اِس نے یہودی سازش کی گھنٹی کو تیار کر رکھا ہے۔ حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں ملاﺅں نے مختلف مقامات پر ہجوم سے خطابات کے دوران ”پوکی مان“ (بچوں کی وڈیو گیم) کو ایسا جاپانی لفظ بنا کر رد کیا جس کے معنی (اُن کے بقول) ’میں یہودی ہوں‘ ہیں(۱۴)۔ ایک سعودی عالم نے ’پوکی مان کی جنونیت‘ کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ’یہ یہودی منصوبہ ہمارے بچوں کو اپنا مذہب اور اقدار بھلانے کےلئے ہے اور اُن کی توجہ اہم باتوں سے ہٹانے کےلئے جیسے سائنس فہمی“(۲۴)۔ کچھ چھوٹے چھوٹے بٹن عیاشی کے حوالے سے ہیں۔۔ مگر میں انہیں ملاﺅںکے حوالے کےلئے بیان نہیں کروں گی۔۔ وہ میرے منہ پر فتوے کا طمانچہ ماریں گے۔

اَب وقت آ گیا ہے کہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے۔ یہ حقیقت کہ بہت سارے مسلمان جو امریکی اثرات چاہتے ہیں ، ا،س بات کا ادراک بھی رکھتے ہوں گے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اشتعال میں بھرے ہوئے کیوں رہتے ہیں؟ اتنا حسد نہیں ہے جتنا دوستانہ مراسم رکھنے میں بے دلی کی کیفیت۔ وہ تمام اشیاءاور سروسز جو امریکہ مسلمان ممالک کوبرآمد کرتاہے، اُن میں بہترین شے بہترین سروس آزادی ہے جس کو وہاں فروغ ہی نہیں دیا جاتا۔ کچھ امریکی تو اس بات اپنے سر نوچ لیتے ہیں، چکرا جاتے ہیں کہ کیوں اُنہیں اِس بات پر داد نہیں ملتی کہ ۱۹۹۱ءمیں امریکہ نے کویت کو آزاد کرایا تھا اور سعودی عرب کو صدام حسین کے کیمیائی پنجوں سے بچایا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے عربوں کو یقین ہے کہ امریکہ نے شاہی خاندانوں کو بچایا تھا، لوگوں کو نہیں۔۔ ’ اس بات میں بہت فرق ہے‘۔ نیوز ویک انٹرنیشنل کے مدیر فرید زکریا لکھتے ہیں، ’حتکہ گلف کی امیر ریاستوں میں عوام کے غصے اور بے چینی کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ انہیں کچھ دولت تو دے دی گئی مگر آواز نہیں۔۔ آواز کو سنہری پنجرے میں بند کر دیا گیا(۳۴)۔‘

اور بعض اوقات تو سنہری پنجرہ بھی نہیں ہوتا۔ ’ مجھے تو یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ دنیا آزادی میں رہ رہی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔‘ ”نقاب اٹھ گئے“ میں گھر میں قید عورت کہتی ہے۔ ’ہماری زندگیاں اُن سے مختلف کیوں ہیں؟‘وہ اعصاب زدہ مگر عزمِ صمیم کے ساتھ اپنا جبہ کیمرے کے سامنے اتارتی ہے۔ ’یہ ضروری ہے کہ دنیا دیکھے کہ ہم اپنی زندگی کیسے گزارتے ہیں‘۔

اُس کا ملک شام امریکہ کے ساتھ یہ کام کرتا ہے۔۔ وہ گھٹیا کام جو دوسری مسلمان ریاستیں کرتی ہیں۔ واشنگٹن انہیں اِس کام کے ٹھیکے دیتا ہے کہ وہ اُن سیاسی اسیروں کو ایذا پہنچائیں جن پر دہشت گرد ہونے کا شبہ ہو۔ اس طریقہ سے امریکہ انسانی حقوق کے حوالے سے نسبتاً بے داغ ریکارڈ کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے، جو لوگ شام اور اِن جیسوں سے تشدد کا نشانہ بنتے ہیںوہ انسانی حقوق کے علمبردار ہوتے ہیں۔ اُن کے ساتھ اِس ظلم پر آواز نہیں اٹھتی۔وہ مطلق العنان حکومتیںجن کے ساتھ امریکہ الحاق کرتا ہے، کےلئے انسانی حقوق کے کارکن دشمن تصور کئے جاتے ہیں۔ کیوں امریکہ اُن تنہا آوازوں کے دفاع میں دہاڑتا نہیں، جو اکثر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیںاور اُن جمہوری خیالات کی ترویج کےلئے کسی نہ کسی طرح سے سعی کرتے ہیں جن کو واشنگٹن خود ناگزیر سمجھ رہا ہوتا ہے؟ اصلاح پسند مسلمان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ اُن کے ساتھ ہے یا آمروں کے ساتھ؟

صدر جارج ڈبلیو بش نے جون ۱۰۰۲ءمیں اس سوال کا یوں جواب دیا۔ ’ہماری ترقیاتی امداد کے دوران، ہماری سفارتی کوششوں کے مابین، ہماری بین الاقوامی نشریات کی سطح پر اور ہماری تعلیم امداد کے دوران، امریکہ روشن خیالی اور انسانی حقوق کو فروغ دے گا(۴۴)‘۔ انہوں نے ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی کی گریجوایٹ کلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اُس سے اگلے مہینے ، اُن کے خلوص کا امتحان واشنگٹن کے خطے میں سب سے بڑے اتحادی مصر سے وارد ہونے والے ایک واقعہ سے ہوا۔

جولائی ۲۰۰۲ءمیں سعد عیدین ابراہیم بہت سالوں کی سزا بھگتنے کےلئے دوسری بار جیل بھیج دئیے گئے۔ اُن کی سات برسوں کی سزاکا فیصلہ (مشقت کے امکان کے ساتھ) مصر میں انسانی حقوق کی آزادیوں کےلئے ’پروانہ موت کے مترادف‘ تھا(۵۴)، یہ بات کائیرو ٹائم کے ناشر نے کہی تھی۔ پینسٹھ سالہ سوشیالوجی کے پروفیسر کے ساتھ جیل میں کیا بیتی، ابھی تک نامعلوم ہے۔ وہ مصر کے صدر حسنی مبارک کے ایک عرصہ سے دوست تھے۔ انہوں نے حسنی مبارک کی بیوی کے ایم اے کے تھیسس کی نگرانی کی تھی اور اُن کےلئے تقاریر لکھی تھیں۔ ابراہیم ٹی وی پر سماجی ترقی کے حوالے سے ایک ہفتہ وار پروگرام کی میزبانی کرتے تھے، انہوں نے مسلمان جہادیوں کی نفسیات پر بنیادی تحقیق کا کام کیا تھااور انسانی حقوق کی بین الاقوامی کانفرنس میں مصر کی نمائندگی کی تھی۔ مگر یہ سب کچھ ۰۳ جون ۰۰۰۲ءسے قبل ہوا تھا۔۔ اپنی پہلی گرفتاری کی شب سے پہلے۔ اگلے چوبیس ماہ کی طویل اسیری کے دوران مقدمے کی سماعت چلتی رہی اور جیل تنگ ہوتی گئی، اُن پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ ’جنہیں میں نے ناراض کیا ہے انہوں نے سعد عیدین ابراہیم کو مصر کی عوامی زندگی سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے(۶۴)‘۔

اُن کے مخالفین کا بڑھکتا ہوا طیش ۰۹۹۱ءکے وسط میں اُبلناشروع ہو گیا تھا۔ قاہرہ میں ابن خلدون سنٹر برائے ترقیاتی مطالعہ کے سربراہ کی حیثیت سے ابراہیم نے سنٹر کے نام کی مناسبت سے اپنے کام میں سرایت کرنا اپنا فرض جانا۔ اسلام کے سنہری دور کی دانش کے آخری میناروں میں سے ایک، ابنِ خلدون نے تاریخ اور سماجیات کو قابلِ احترام اداروں کی حیثیت دے دی تھی۔ اِس بانی کے کندھوں پر کھڑے ہو کر ابراہیم نے ۴۹۹۱ میں کم ازکم عرب مسلمان دنیا کےلئے زمین ہموار کی۔ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کےلئے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مصر اِس قانون کے ساتھ چپکا ہوا تھا کہ مصری کلیسا کو اپنے گرجا گھروں کی مرمت سے پہلے مصر کے صدر سے اجازت لینا ہو گی۔ مصر کی اِس سرکاری عکاسی کے تاثر کہ مصر میں مسلمان اور عیسائی بغیر کسی خراش کے بھائی چارے کے ساتھ اکٹھے رہتے ہیں، ابراہیم نے یہ بتانا فرض جانا کہ مصری کلیسا سے تعلق رکھنے والے عیسائی ایک ایسی اقلیت ہیں جو حکومت کی ستم ظریفیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ پہلا وار: اس کانفرنس کے ایک سال بعد،ابراہیم اور جمہوریت کے دیگر حامیوں نے مصر کی پارلیمنٹ کے انتخابات کی نگرانی کی۔ انہوں نے تصور نہ کر سکنے والے فراڈ کی سطح کو عریاں کیا، ایک ایسے ملک کے بارے جس کاتاثر عرب آگہی کے تناظر میں نخلستان جیسا ہے۔ دوسرا وار: ابراہیم کی تحقیق نے پیشگی طور پر خبردار کیا کہ مصر کس سمت فقط سست رو رجحان کے ساتھ بڑ ھ نہیں رہا بلکہ ہچکولوں کے ساتھ بڑھ رہا ہے کہ بدعنوان آمریت پہلے سے موجود کمزور جمہوریت کی جگہ لے رہی ہے۔

میں جمہوریت کے بارے سادہ لوح واقع نہیں ہوناچاہتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ مصر کا ۱۸۹۱ءمیں مسلمان انتہا پسندوں کی طرف سے صدر انور سادات کے قتل کے بعد سخت گیرہونا ضروری تھا۔ تب مصر نے ایک ہنگامی قانون لاگو کیا جس کے تحت ہزاروں اسلامی انتہا پسند دو دہائیوں سے جیل میں بند ہیں۔ اور بہت سارے مزید انتہا پسند خطرناک خطرے کی نشانی ہیں۔ ۴۹۹۱ءمیں جمعہ کی ایک دوپہر کو مصر کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار نجیب مفوظ کار میں بیٹھے تھے۔ نوجوان مذہبی غنڈوں نے کار کی کھلی کھڑکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجیب مفوظ کی گردن میں ایک چھوٹی چھری گھونپ دی۔ بیاسی سالہ شخص خوش قسمت تھا کہ فقط ایک بازو کے فالج ہو جانے کے بعد زندہ بچ گیا۔ (یہاں پرفقظ کس قدر بڑا المیہ ہے۔) بعد میں تحقیقات سامنے آئیں کہ نجیب کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والوں نے اُن کی ایک کتاب کی بنیاد پر حملہ کیا تھا جو انہوں نے تین دہائیاں قبل لکھی تھی۔ حملہ آوروں نے اپنے علامتی حملے کو حقیقت میں بدل ڈھالا اور انہیں اپنے کام کی تفہیم پر سزا دی۔ معاف کیجئے گا، اگر اپاہج بنانے کی یہ دلیل ہے (اور ممکنہ حد تک قتل کرنے کی بھی) تو اِن غنڈوں کے خاتمے کےلئے اسکیورٹی فورسز کی دلیل بھی اُتنی ہی برابر ہے۔ اِس ہنگامی قانون کی طرف آتے ہیں۔

ابراہیم نے جو کیا وہ یہ تھاکہ اِس ہنگامی قانون کے اُس طریقہ کار پر روشنی ڈالی جس سے بدعنوان ہاتھوں میں اِس قانون کا غلط استعمال ہو رہا تھا۔ مصر کی حکومت علماءکے آہنی شکنجوں میں کھیل رہی تھی تاکہ قدامت پسند مسلمانوں کو خوش کیا جا سکے۔ اِس کے نتیجہ میں ریاست مذہبی اعتدال پسندوں کو جہادیوں کے ساتھ ساتھ مار رہی ہے۔

یہاں پر قاہرہ یونیورسٹی کے پروفیسر نصرحامد ابو زید کے ساتھ پیش آنے والا واہیات واقعہ بھی ہے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں یہ بحث کی گئی کہ قرآنی آیات میں کسی قسم کی تبدیلی کئے بغیر بھی اسلامی بنیادات کو ’انسانی سطح‘ پر لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ترقی کی درخواست پر غور کرنے کےلئے اپنی اِس کتاب کو اکیڈمک کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ اس بات کی توقع نہ کر سکنے والے پروفیسر کو کفر کے الزام کا جلد ہی سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی انتہا پسند وکلاءاُن کو عدالت تک لے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کافر اپنی بیوی کو طلاق دے۔ ۵۹۹۱ءمیں اسلامی انتہا پسند جیت گئے۔ مصر کے وزیرِ انصاف کے پاس اختیار ہے کہ وہ اِس فیصلے کو بدل دیں لیکن انہوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔ ستم رسیدہ جوڑا اَب ہالینڈ میں تحفظ کے اِس احساس کے ساتھ رہتا ہے کہ ابو زیدنے مصر کے وزیر انصاف کے خلاف توہین کا مقدمہ کر رکھا ہے(۷۴)۔

اِس سارے عمل کے دوران سعد ابراہیم ایک نازک تعلق کو یوں اجاگر کرتے ہیں، ”وہ معاشرے جہاں شہریوں کو سرگرم ہونے اور اختلافِ رائے رکھنے کی گنجائش نہ ملے، وہ معاشرے چالبازی، اشتعال اور مہلک ردعمل کو جنم دیتے ہیں(۸۴)“۔ دوسرے لفظوں میں ، اسلامی انتہا پسندخون کے پیاسے تب بنتے ہیں جب باانصاف سیاسی عمل کا وجود نہیں ہوتا۔ اور اِس کا وجود نہیں ہے، ابراہیم نے واضح کیا۔ روشن خیال مسلمانوں پر بندش لگانے سے قدامت پرستوں کو یہ واہمہ ہوتا ہے کہ اُن کی آواز سنی جاتی ہے، اور یہ سب واہمہ ہی ہوتا ہے، کیونکہ نمائندگی کی اصل راہیں، جیسے قانون سازی، حکومت کے کارپردازوں کی جاگیر میں سکڑتی جاتی ہیں۔ ابراہیم نے پانچ برسوں بعد گھٹتی جمہوریت کے سائرن کی آواز سنی۔ واشنگٹن کوارٹرلی نے مصر کے بارے یہ مشاہدہ شائع کیا، ”ایک ایسا ملک جو جمہوریت کا حق برتتا ہو وہاں ٹھیک آدھے رکن پارلیمان کسان اور مزدور ہونے چاہئیں، موجودہ شرح کا رجحان یقینی طور پر چند افراد کی حاکمیت کی طرف ہے(۹۴)۔“ یہ تجزیہ ۰۰۰۲ءمیں شائع ہوا۔

سن ۰۰۰۲ءکا سال قطعی طور پر برا رہا، ابراہیم کےلئے بھی اور مصر کی جمہوریت کےلئے بھی۔ ابراہیم واشنگٹن سے ابھی لوٹا ہی تھا، جہاں انسانی حقوق کی بڑی تنظیم نے اُس کی آزادی کےلئے جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا، جب مصر کے بالائی علاقوں کے مسلمانوں اور اوپٹک عیسائیوں کے مابین فساد پھوٹ پڑا۔ دو درجن کے قریب لوگ مارے گئے، بہت سارے زخمی ہو گئے، سو کے قریب دکانوں اور گھروں کو لوٹ لیا گیا۔ تیس سالوں پر محیط عرصہ میں گزشتہ پچپن فرقہ پرست فسادات میں ، ابراہیم نے تازہ فساد کو ’بدترین اور وسیع تر‘ قرار دیا۔ لہذا اُس نے پانچ سو اہم ملکی شخصیات کو ایک یادداشت پر دستخط کےلئے آمادہ کیاجس میں اس فرقہ پرست تصادم کے خاتمے کےلئے چند ایک سفارشات بھی شامل تھیں ۔ ابراہیم کے بقول حسنی مبارک کی حکومت نے اِس کام کو ’ظاہراً ترین سرکشی“ جانا۔ فرقہ واریت کے مسئلہ کی گھمبیرتا کی تشہیر کو مصر کے کامل اور اعلیٰ ظرف دارپہلو کو ماند کرنے کے مترادف سمجھا گیا۔ اِسے قابلِ سزا جرم جس کی سزا سن ۰۲۹۱ءکی دہائی کے قانون کے تحت، جس کا اطلاق پہلے کسی مصری باشندے پر نہیں ہوا تھا، فوری ڈھونڈی گئی(۰۵)۔

ابھی ابراہیم کو کچھ مہینوں تک گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ اس اثناءمیں وہ اور اُس کے ساتھی ابن خلدون سنٹر میں طالبعلوں کو انسانی حقوق کی بے اعتدالیوں کا ریکارڈ جمع کرنے اور انتخابات کی نگرانی کے طریقہ کار کے بارے تربیت دینے میں مشغول رہے۔ ملک بھر میں ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کی تیاری کے دوران، پروفیسر نے دوسرابارود کا گولہ پھینک دیا۔ ڈرامہ نویس علی سالم کے ڈرامہ کو وڈیو ٹیپ پر پیش کر دیا جو اس بارے تھا کہ مصریوں کو کیوں ووٹ ڈالنا چاہئے۔ (اگر کوئی شہری تعلیم کو آرٹ میں پیش کر سکتا ہے تو علی سالم کا نام بدنامی کی حد تک مشہور ہے۔ اُس کی ایک کتاب ’اسرائیل تک سفر‘میں یہودی ریاست کی انسانی اقدار کا بھرپور تذکرہ ہے اور سالم کو عرب مصنفین کی انجمن سے نکال باہر کیا گیا۔ مصر میں یہ کتاب ’اسرائیل تک سفر‘ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں سے ہے۔ اس دوران کہیں ابراہیم ایک انٹرویو دے بیٹھے جس میں انہوں نے کہا کہ مصرکا بھی اپنے دیگر عرب شاہانہ خاندان کی حکومتوں کی طرح طرززیست ہے۔ یہ بات تو تیسرا، چوتھا اور پانچواں وار ثابت ہوئی۔

۰۳ جون ۰۰۰۲ءکی شام کو حکام نے ابراہیم اور ابن خلدون سنٹر کے دیگر ستائیس افراد کا محاصرہ کر لیا، اِس کے ساتھ ساتھ ’لیگ آف ایجپشین وومین ووٹرز“ کو بھی گھیراﺅ میں لے لیا گیا۔ پینتالیس دن کی اسیری ریاست کی اسکیورٹی کورٹ میں سات ماہ کی سماعت پر منتج ہوئی، یہ عدالت فوجی طرز کی ٹربیونل ہے جو قانون کے موجودہ طریقہ کار سے بالاتر کام کرتی ہے۔ حکومت کے استغاثہ نے اِس مقدمے کو خوب کھینچا۔ پہلے اُنہوں نے ابراہیم کو یورپین یونین سے ملنے والی رقم میں خردبرد کا الزام لگایا اور کہا کہ ’ووٹ دینے کےلئے باہر نکلو‘ والی وڈیو ٹیپ پر یہ رقم خرچ ہوئی ہے۔ مگر یورپی یونین نے ابراہیم کوباآوازِ بلند بے قصور قرار دیا۔ اپس کے بعد استغاثے نے یہ بحث کی کہ اُسے باہر سے امداد قبول نہیں کرنا چاہئے تھی۔ یہ ایک ”مزاحیہ“ تجویز ہے(۱۵)، ایک عرب صحافی کڑکڑایا، غور کیجئے کہ مصری حکومت کا گزارا غیر ملکی امداد پر ہے۔ عدالت نے اِن اٹھائیس مدافعین کو قصوروار قرار دیا، ابراہیم کو سات برس کی سزا ہوئی۔

ابھی سزا کو دس ماہ ہوئے تھے، جس دوران ابراہیم کو دل کے چھوٹے چھوٹے دورے پڑے، ابراہیم نے سنا کہ سماعت دوبارہ شروع ہونے کا اعلان ہوا ہے۔ ممکن ہے آخرکار انصاف کا بول بالا ہو؟ اس کا فیصلہ آپ خود کریں۔ جب دوسری سماعت ۲۰۰۲ کی گرمیوں میں جاری تھی، مصر کے اراکین پارلیمان غیر حکومتی تنظیموں کے کام پرایک قانون کے ذریعے چڑھ دوڑے۔ عدالت میں ایک موقع پر ابراہیم اور اُس کے ساتھیوں پر الزامات کی پٹاری نے اس طرح گھیراﺅ کیا کہ خاص طور پر اُس نے بطور رہنما اور اُس کے ساتھیوں نے مصر کی عزت کو باہر کی دنیا میں ’خراب‘ کیا ہے۔ یہ سماعت جولائی ۲۰۰۲ءمیں اختتام پذیر ہوئی جس میں اٹھائیس مدافعین کو پانچ پانچ برس کی سزا ہوئی۔ دوبارہ ابراہیم کو سات سال کا حکم ہوا۔ اس کی وجہ: اُس کے ایک دہائی کے قبل بیانات کہ حکومت مصر کے عیسائیوں کو کچلتی ہے۔

اگر یہ عقیدے کا مسئلہ ہوتا تو صدر بش کو چاہئے تھا کہ وہ سرعام اِس پر احتجاج کرتے اور حسنی مبارک کی گردن پکڑتے۔ مصر کی مذہبی اقلیتوں کو ابراہیم جیسے ان تھک رہنما کی ضرورت تھی۔ مگر اِس سے ماوراابراہیم نے بش کی بیان کردہ غیر ممالک کے بارے پالیسی ، روشن خیالی اور انسانی حقوق، کے مکمل امتحان کا موقع فراہم کیا ۔ ایک چیز، اُس کی صحت جو پہلے ہی دل کے عارضہ کی وجہ سے ڈول رہی تھی اور یقینی تھا کہ جیل میں اور خراب ہوتی۔ علاوہ ازیں ابراہیم کی بیوی امریکی ہے اور یوں وہ بھی امیگریشن کے اعتبار سے امریکی شہری ہے۔ گویا اپنے شہریوں کو ضرررسانی سے بچانا بھی امریکی روایت کا حصہ ہے، یا پھر نہیں ہے؟ آخرکار، اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتہ کے مطابق مصر کو ہر سال امریکہ سے دو بلین ڈالر کی امداد ملتی ہے۔ یہ رقم امریکہ کی تمام غیر ملکی امداد کا دس فیصد ہے۔ اس اکیلی بنیاد کو ’مصر پر کافی کنٹرول‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کی سب سے قدامت پسند اشاعت نے صدر بش پر دخل اندازی کا زور دیا اور ابراہیم کےلئے رحم کی اپیل کا کہا(۲۵)۔ صدر بش اِس سے بھی زیادہ کرسکتے تھے جتنا انہوں نے کیا۔

اَب اِس کا تذکرہ کہ بش نے اِس ضمن میں کیا کیا۔ اگست ۲۰۰۲ میں، بش نے ۰۳۱ ملین ڈالر کی اُس اضافی امداد کو معطل کر دیا جس کو مصر کےلئے بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اپنے فیصلے کے ساتھ صدر بش نے ایک خط کو نتھی کیا جس میں ابراہیم کی سزا کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ مصر میں نوکر شاہی اور اہلِ دانش بش کی اِس مداخلت پر بہت طیش میں آئے۔ دنیا بھر سے کم وبیش سو کے قریب عربوں نے بش کے اقدام کی تائید کرتے ہوئے ابراہیم کی حمایت میں حسنی مبارک کو خط لکھا(۳۵)۔ چند ماہ بعد مصر کی حکومت نے ابراہیم کی تیسری سماعت کےلئے اہلیت کا اعلان کیا اور تب تک کےلئے اُنہیں رہا کر دیا۔ مارچ ۳۰۰۲ءمیں ٹرائل نے ابراہیم اور اُن کے ساتھیوں کو ایک ساتھ رہا کر دیا۔ سیدھی طرح یا ٹیڑھے طریقے سے بش نے مبارک پر دباﺅ ڈال کر مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے۔ اور ہمیں امریکی صدر کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے اپنا مشہور مسلمہ اصول اپنایا، ’جب آپ کے پاس سیاسی طاقت ہو تو اُس کو استعمال کریں یا پھر گنوا دیں‘۔

کیوں ، تب بش نے ابراہیم کی رہائی کےلئے سرعام زور نہ ڈالا، اپنے اتحادی اور پوری ملت اسلامیہ کو نوٹس جاری کر کے کہ جمہوریت کوئی جرم نہیں ہے؟ناقدین کے مطابق ایک لفظ ہے، عراق۔ عراق کے گرد جنگ کے بادل چھائے ہوئے تھے اور امریکہ مصر کو اپنے ساتھ ملانے کےلئے لالچ دے رہا تھا۔ شاید ناانصافی، بہت سارے مسلمان مذاق اڑائیں گے کہ بش عراق میں جمہوریت لانے کےلئے فوجی حملہ کریں گے لیکن مصر میں جمہوریت کی غرض سے اپنی سفارتی طاقت کو بروئے کار نہیں لائیں گے۔ اس سے قطع نظر، جناب صدر ، ہمیں ویسٹ پوائنٹ کے گریجوایٹس کے ساتھ آپ کے خطاب کا لطف آیا۔

یہ خطاب مجھے دوبارہ میرے نقطہ نظر کی طرف واپس لاتا ہے کہ مسلمان امریکہ سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی محبت کرتے ہیں۔۔ محبت اپنی ضرورتوں کے حوالوں سے کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بہار ۳۰۰۲ میں ایک اور ثبوت سامنے آیا۔

جب صدام کا بت زمین بوس ہوا، فطری مسرت نے بغداد میں بھنگڑے ڈالے۔ کچھ روز بعد میں ٹورونٹو میں فتح کی ایک پارٹی میں گئی جس کا اہتمام نوجوان اور بیشتر سیکولر مسلمانوں نے کیا تھا۔ اُن میں سے ایک گروپ نے مجھے اِس بات پر رائے دینے کےلئے چھیڑا کہ انہیں اِس بات پر حیرت ہوئی کہ اکثر مسلمان اس دانائی کا اعتراف نہیں کرتے جو صدام پر حملے کی پیش بندی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ حیرت ہوتی ہے، اُن کا کہنا تھاکہ پیش بندی کی حکمتِ عملی بالکل ویسی ہی ہے جیسی پیغمبر محمد دوسروں کو نکال باہر کرنے کےلئے بروئے کار لایاکرتے تھے جنہیں وہ اسلام کے خلاف سازش میں ملوث سمجھتے تھے۔ ’اگر پیش بندی پر مبنی جنگ مسلمانوں کےلئے اچھی تھی تب‘، ایک جشن منانے والا چیخا، ’کیوں یہ اَب امریکیوں کےلئے اچھی نہیں؟‘

’کیونکہ رویوں کے معیارات تو ساتویں صدی سے سامنے آنا شروع ہوئے ہیں‘، میں نے دفاعی کھیل کھیلتے ہوئے کہا۔

’اِن اسلامی ممالک کو یہ بتائیے کہ وہ ابھی بھی عورت کو فضول شے سمجھتے ہیں‘۔

’اور مذہبی اقلیتوں کےلئے زندگی جہنم بنائی ہوئی ہے‘، میں نے مزید کہا۔

دیگر لوگ بھی ہماری گفتگو میں حصہ لینے کےلئے کود پڑے۔ ہم نے اِس بات پر بیزاری کا اظہار کیا کہ ’جنگ مخالف‘ فعال مسلمانوں کے ہونٹ اُن لوگوں کی نافذ کردہ جنگ کے خلاف کیوںبند رہتے ہیں جو اللہ کے نام پر لڑی جاتی ہیں۔ ہم نے جب اپنے مشاہدات پر تبادلہ خیال کیا تو ہم پر یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمانوں کو اِن میں سے کسی ایک بات کا انتخاب کرنا ہے: یاتو یہ مانیں کہ پیغمبر محمد نے یہودیوں پر پیش بندی کے طور پر جو حملے کئے وہ اخلاقی طور پر غلط تھے، تب تو مسلمانوں کو اِس بات کا حق ہے کہ وہ بش کی حق پرستانہ جنگ پر لعن طعن کریں۔ یا پھر ا،س بات کو تسلیم کریں کہ پیغمبر نے جو کیا تھا درست کیا تھا اور الہامی رہنمائی کے نتیجہ میں کیا تھا، تب یہی بات بش پر صادق آتی ہے، جس کی حیثیت دوبارہ جنم والے عیسائی کی ہے جس کا خدا سے اپنا ربط ہے۔ مسلمان دونوں طرح سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے۔ اِس کو دہرا معیار کہتے ہیں۔ صرف امریکی ہی نہیں ہیں جو اِس پر عمل کرتے ہیں؟

امریکہ محالفین اور الگ تھلگ زندگی گزارنے کے خواہشمندوں، جو مسلمانوں کے علاوہ کوئی نہیں، کا آپس میں ہمیشہ گٹھ جوڑ رہا ہے، جو چاہتے ہیں کہ واشنگٹن کی پیٹھ پر لات ماریںتاہم بہت سارے نوجوان مسلمان، جن سے میری بات چیت اِس پارٹی سے پہلے بھی ہوئی تھی، چاہتے ہیں کہ امریکہ ’پشت پر لات مارے‘ ۔۔ اور یہ ساراکام انسانی حقوق کی بنیادوں پر کیا جائے۔ اگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوئے بغیر یہ سب کچھ کہہ سکتے تھے توانہوں نے امریکہ پر اپنا اثر ڈال کر درج ذیل صورتحال کی تبدیلی کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

٭ تیونس اور الجزائر میں مسلمان عورتیں قانونی طور پر اپنے مذہب سے باہر شادی نہیں کر سکتیں(۴۵)۔ جبکہ دوسری طرف مرد ایسا کر سکتے ہیں۔ بہت سارے مسلمان ممالک میں شادی کے تحت زنا، اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے، کو جرم نہیں سمجھا جاتا۔

٭ سعودی عرب نے حال ہی میں ایک چورانوے سالہ شخص کو گرفتار کیا، جو دنیا کا سب سے بوڑھا سیاسی اسیر بتایا جاتا ہے، جسے اگرچہ چند ہفتوں بعد رہا کر دیا گیا۔ شیخ محمد علی ال آمری مدینہ کے معروف شیعہ عالم ہیں، نے سعودی حکام کو اِس لئے پریشان کر دیا کہ اُن کے چند شیعہ ملاقاتیوں نے اُن کے فارم کا دورہ کیا تھا۔ وہ عبادت کرنے کےلئے اکٹھے ہوئے تھے۔ مصر کے کوپٹس عیسائیوں کی طرح سعودی عرب کے شیعہ مسلمان قانونی طور پر دبے ہوئے ہیں۔

٭ دنیا کے مہاجروں کی اکثریت مسلمان ممالک سے نکلتی ہے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب سے دنیا کی شہری جنگیں مسلمانوں نے آپس میں لڑی ہیں تب سے۔۔۔، اس ضمن میں ایرانی صحافی امیر طاہری کا کہنا ہے، ’عرب ریاستوں نے ۰۳۹۱ءسے اَب تک آپس میں سرعام یا خفیہ پندرہ سے کم جنگیں نہیں لڑیں۔۔۔(۵۵)‘گزشتہ دس برسوں میںاسلام پسندوں اور اُن کے مخالف سوشلسٹوں نے ایک لاکھ کے قریب الجزائریوں کو ذبح کر دیا ہے۔ فروری ۲۸۹۱ءمیں شام کے حافظ الاسد کی وحشی فوجوں نے ایک شہر پر مسلمان انتہا پسندوں کو گھیرے میں لینے کے چکر میں بمباری کی۔ اُس کے غنڈوں نے پچیس ہزار لوگوں کو نیست و نابود کر دیا۔ ۵۷۹۱ءسے ۰۹۹۱ءتک لبنان کی خانہ جنگی نے کم از کم ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی جان گنوائی جن میں سے اکثریت فلسطینیوں کی تھی۔ فلسطینیوں کی یہ اموات گزشتہ پچاس برسوں کی لڑائی میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں مرنے والوں کی نسبت دس گنا سے بھی زائد ہیں۔

میرے مسلمان ساتھیو، اگر اس میں سے کسی بات کو تسلیم کرنے میں شرم کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو حالات پر قابو پائیے۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم اپنی بنیادی کج کوتاہیوں کو امریکہ کے سر نہیں تھوپ سکتے۔ سرطان نے تو ہمارے اندر ہی جنم لیا ہے۔ مسلمانوں کی حالتِ زار کے بارے ایک ہلادینے والے کالم، جو پاکستان کے روزنامہ ’دی نیشن‘ میں گیارہ ستمبر کے تھوڑا بعدشائع ہوااور جس میں پاکستان کے ایک بزنس مین عزت مجید نے مسلمانوں کے اندر ایک ’حیران کن آگہی‘ کے حوالے سے اظہار خیال کیا ’کہ مسلمان اپنے اندرموجود تاریخی، سماجی اور سیاسی شیطانوں کے ساتھ صف آراءنہ ہونے کی وجہ سے مہذب معاشرے بنانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔۔۔(۶۵)‘ جیسے یہ حقیقت ہے کہ کالم نگار کے ملک کی ایک سو چالیس ملین آبادی میں فقط ایک ملین لوگ سالانہ ٹیکس کے گوشوارے بھرتے ہیں۔ کچھ واپس نہ لوٹانے (معاشرے کو) کی ذمہ داری سے کلی طور پر دستبردار ہونے کے سبب کیا ٹیکس کے مفروری ہی حکومتِ پاکستان کو دیوالیے کے قریب نہیں لے جا رہے ، تعلیم جیسے عوامی منصوبوں کو مفلسی سے دوچار نہیں کر رہے، اور دہشت گردی کے اداروں کی معاونت نہیں کر رہے جو بہت سارے مدرسوں کی صورت میں سامنے آئے ہیں؟

کیا ہم میں سے بہت سوں کو علم ہے کہ یہ کثیر الثقافتی قوم کس طرح معرض وجود میں آئی تھی؟ میں آپ کو بتاتی ہوں۔ ۷۴۹۱ءکا سن تھا۔ آزاد پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے محمد علی جناح نے واشگاف لفظوں میں لوگوں کو نوید دی۔ ”آپ آزاد ہیں(۷۵)“ انہوں نے پُرجوش طریقے سے کہا۔ ’آپ کو اپنے مندروں کی طرف جانے کی آزادی ہے، آپ کو اپنی مسجدوں کی طرف جانے کی آزادی ہے ، آپ سلطنتِ پاکستان میں کسی بھی عبادت کی جگہ پر آزادی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو سکتا ہے۔۔ اس بات کا کاروبارِ سلطنت سے کوئی واسطہ نہیں، ہم اِس بنیادی اصول سے آغاز کر رہے ہیںکہ ہم سب ایک ملک کے شہری ہیں۔۔۔۔ آپ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ ہندو ہندو ہی رہیں گے اور مسلمان مسلمان، مذہبی لحاظ سے نہیں بلکہ سیاسی اعتبار سے ایک ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے۔‘ جناح کی غیر مسلمان بیوی تھیں جسے انہوں نے بہت چاہا۔ اُن کی بہن ، فاطمہ پاکستان بنانے کی مہم میں اکثر اُن کے ساتھ نظر آتی تھیں۔ اُن کی موجودگی نے مسلمانوں میں اِس تصور کے امکان کو اجاگر کیا کہ عورت باندی ہونے کی بجائے ہمسفر بھی ہو سکتی ہے۔ میں اِس حقیقت کی حمایتی نہیں ہوں کہ مسلمانوں نے ہندوستان سے الگ ریاست کا مطالبہ کیا مگر جب انہوں نے پاکستان حاصل کر لیا تب کم از کم یہ شخصی آزادیوں کے وعدے اور رہنے کےلئے جگہ میسر آ گئی۔

بڑھتی ہوئی اسلامی انتہا پسندی کے جھنڈے تلے پاکستان کی تنزلی پر شرم نہیں آنا چاہئے، آپ ایسا نہیں سوچتے؟ ۷۷۹۱ءمیں امریکہ کی پشت پناہی میں فوج کی ایک بغاوت نے جنرل ضیاءالحق کو مسلط کر دیا، جسے گولف، ٹینس اور مطلق العنانیت سے محبت تھی۔ اپنی پتلی گرفت کو مضبوط کرنے کےلئے اُس مردِ آہن نے چاپلوسی ملاﺅں کو اپنے گرداگرد اکٹھا کر لیا جو اُسے ”امیرالمومنین“ کا خطاب دیتے تھے ، یہ اصطلاح پیغمبر محمد کے خلیفوں کے لئے وقف تھی ۔ قصباتی رہنماﺅں کو لذیذسالن کا ذائقہ دیتے ہوئے، ضیاءنے تعزیری اسلام کے مطالعہ کو قبائلی اقدار کے ساتھ ملا دیا۔ اِس طرح سنگساری بدکاری کی قانونی سزا ٹھہر گئی اور اِس کےلئے ضروری تھا کہ مجرم پر جرم عائد کرنے سے پہلے زناکو ہوتا دیکھنے والے چار مرد گواہ موجود ہوں۔ مگر فرض کیجئے کہ زنا کے کیس کے دیکھنے والی اتنی مرد نگاہیں موقع پر موجود نہ ہوں؟ تب یہ قدرتی طور پر بدکاری کا مقدمہ بنتا تھا جو عورت سے سرظن ہوتا ہے اور لہذا اِس کی سزا سنگساری ہے۔

۹۷۹۱ء، اُنہیں دنوں کی بات ہے جب اِن قوانین نے عوام کا گلا دبانے کا آغاز کیا، پاکستان کے عبدلاسلام کو دو امریکیوں کے ساتھ طبیعات کا نوبل انعام ملا۔ آپ کا خیال ہے کہ اُن کے ملک نے اُن کی بہت تکریم کی ہو گی۔ اِس کی بجائے فسادیوں نے اُن کے پاکستان داخلہ کو روکنے کی کوشش کی۔سلام کا جرم؟ وہ ایک احمدی تھے۔۔ اسلام کی ایک اقلیت۔ جی ہاں۔ صرف اِس ایک بات نے بین الاقوامی سطح کے مانے ہوئے مسلمان سائنسدان کو اُن کے اپنے وطن میں ناقابلِ قبول بنا دیا۔

میں نے عبدالسلام کے بارے مزید تفصیلات ٹورونٹو کے ایک ٹیکسی ڈرائیور احمد سے حاصل کیں۔ اُس نے مجھے جانتے ہوئے کہ میں’ٹی وی پر آنے والی ایک مسلمان ہوں‘، سے شکوہ کے اندازکہ ’ہمارے لوگ کس طرح ایک دوسرے کو مار رہے ہیں‘ کہتے ہوئے اپنی بات قبیلے پر مرکوز کرتے ہوئے محبت پر ختم کی۔ محبت! میں نے کسی مسلمان مرد کو لفظ محبت ( کسی دوسرے عقیدے والے کےلئے ) استعمال کرتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔ یہ شخص مختلف تھا، میں نے اِس کو کریدا۔ یہ کھلا کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور خود بھی احمدی تھا۔ میں نے عبدالسلام کے بارے پوچھا کہ وہ اتفاق سے اُس کا نام جانتا ہے۔ پچھلے شیشے سے میں نے اُس کی آنکھوں کی ابروﺅں کو تھوڑا اوپر اٹھتے دیکھا۔ ’بھائی عبدالسلام نے اپنے نوبل انعام کی رقم حکومت کو عطیہ میں دینے کی کوشش کی‘، اُس نے مجھے بتایا۔ ’وہ پاکستان کی نئی نوجوان نسل کےلئے سائنسی لیبارٹریاں بنانا چاہتے تھے، مگر ضیاءنے ان کی پیشکش مسترد کر دی(۸۵)‘۔ احمد نے عبدالسلام کو اپنا ہیرو بنانے کی دوسری وجہ مجھے اعتماد میں لیتے ہوئے بیان کی۔ ’ایک کسان کا بیٹا ہونے کی وجہ سے سلام میں مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت کی کوئی کمی نہ تھی۔ انہوں نے علم حاصل کرنے کی خاطر بہت محنت کی ۔ اسکول کی لالٹینوں میں مٹی کے تیل کے نہ ہونے کے سبب انہوں نے گلیوں کے لیمپوں کی روشنی تلے علم حاصل کیا۔ ‘ یہ درست ہے یا نہیں، یہ داستان قومی ورثے کے دوزخ کو اس طرح ایندھن سے بھر سکتی ہے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو منکسر پاکستانیوں سے عظیم تر بنا سکے۔۔ اور دانش کی دولت سے مالا مال کر سکے نہ کہ ایک تنگ نظر اسلام کے غضبناک رجحانات کی طرف لے جائے۔۔

ضیاءکے تعصبات اُس کی ۸۸۹۱ءمیں موت کے باوجود زندہ رہے۔ تب سے اسلام پسندوں نے خطے کی گندی سیاست میں سہولت کے ساتھ اپنا کردار متعین کر لیا ہوا ہے۔ ۹۸۹۱ءمیںہزاروں مجاہدین یا مقدس جنگجوﺅں نے سوویت قبضے سے افغانستان واپس لے لیا۔ جیسے ہی عرب مسلمان مجاہدین خلیج فارس واپس پہنچے، امریکی فوجیں سعودی عرب کو عراق کے ممکنہ قبضے سے بچانے کی خاطر سعودی عرب پہنچ گئیں۔ ۰۹۹۱ءمیں، آپ کو یاد ہو گا کہ صدام حسین کویت پر حملہ آور ہوا اور پھر قابض ہو گیا۔ سعودیوں کو خوف تھا کہ وہ اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔ سعودی یہ چاہتے ہوئے کہ صدام کو کوئی موقع نہ دیں، امریکہ سے اپنی دھرتی اور تیل کے دفاع کےلئے طلبگار ہوئے ۔ امریکہ کی سعودی عرب میں موجودگی ’کام سے بچھڑے ہوئے مجاہدین‘ کےلئے سعودی بادشاہت کے اندر جہاد لاگو کرنے کا عذر بنی۔ مگر بادشاہ نے اِس اندرونی جہاد سے بچنے کےلئے تاوان دیا۔ یہ پیٹرو ڈالر اسلامی خیراتی اداروں کی معرفت آگے بڑھے اور انہوں نے خطے میں مدرسوں کی بے حساب انداز میں نشوونماکی۔ پاکستان میں اِن چندوں کی بڑی تعداد پہنچی اور وہاں کے مدرسے طالبان کی اشرافیہ کلاس کے مدرسوں کی صورت ڈھل گئے۔ ایک متوسط درجے کا مسلمان پاکستان میں کیا کر سکتا ہے؟ بہت سارے خود کو وحشی بنیاد پرستی کے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔

اختلافِ رائے کی ایک آواز پاکستانی سفارتکار اور دانشور اکبر احمد کی تھی۔ ۷۹۹۱ءمیں، انہوں نے جناح کی رزمیہ سوانح پر فلم بنانا شروع کی۔ احمد کے بقول، ’ پاکستان کے اعلیٰ حکام‘ اور ’حساس شہریوں‘ نے جناح کے رواداری والے اسلام کو دکھانے سے متنبہ کیا(۹۵)۔ وہاں کے اخبارات اور سیاسی پارٹیوں نے سراسیمگی پھیلائی کہ ”سلمان رشدی نے اسکرپٹ لکھا ہے“۔‘ اِس کے علاوہ انہوں نے اُس کے کام کو ’ہندو یا صیہونی سازش کا حصہ‘ قرار دیا۔ احمد نے بہرحال یہ فلم بنائی اور بے شمار ایوارڈز حاصل کئے۔ لیکن عبدالسلام کی طرح ، وطن سے تحسین بے قدری کے انداز میں ملی۔

گیارہ ستمبر سے پاکستان کے رہنما پرویز مشرف نے اپنی سمت کا تعین کیا ہے اور صاف صاف کہا ہے(۰۶) : ’آج کے مسلمان غریب ترین، سب سے کم خواندہ، سب سے پیچھے رہ جانے والے، سب سے کم غیر صحتمند، سب سے کم ادراک رکھنے والے، محروم ترین اور انسانی نسل کے کمزورترین لوگ ہیں۔‘ ایک ایسے شخص کے منہ سے اچھے لفظ نکلے جو توہینِ رسالت کے قانون پر پابندی اور مدرسوں کو قابو میں لانے کے وعدوں سے مکرا ہوا تھا۔ مشرف میں جو کہنے کی ہمت نہیں ہے وہ یہ کہ اُس کا ملک مُلا بنانے والے اسکولوں میں مزید گاﺅدی پیدا کرنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بات اکبر احمد آپ کو بتا سکتے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ پاکستان کے دورہ پرانہوں نے مدرسہ کے اساتذہ سے سگمڈ فرائیڈ اور میکس ویبر کے بارے پڑھانے کی ضرورت پر استفسار کیا۔ ’مجھے ادراک سے بالاترنظروں سے گھورا گیا۔ میں معاملے کی تہہ تک پہنچاجب میں نے اپنی تجویز پر منفی ردعمل دیکھا کہ مسلمان دانشور جیسا کہ تاریخ دان ابن خلدون اور صوفی شاعر رومی کو پڑھایا جائے(۱۶)‘۔ یہ مغرب نہیں ہے جو مسلمانوں کو اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے اندھیرے میں رکھے ہوئے ہے ۔ اس بات کے خطاکار خود مسلمان ہیں۔

اِس کی روشنی میں، کچھ امریکیوں کو یہ جاننا چاہئے کہ جمہوریت پر مائل مسلمانوں کی خا طر ’وہاں موجودہونے کےلئے‘ روشن خیال ذاتی مفاد کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ اگلا بحران ختم ہو۔ غور کیجئے کہ امریکی توجہ کس طرح کروڑوں افغانوں کو طالبان کے قہر سے بچا سکتی تھی، القاعدہ کو تو ابھی بھول جائیے۔ ہم نے یہ سب کچھ سنا کہ صدر رونالڈ ریگن نے مجاہدین کےلئے دعاﺅں اور اسلحے کی فراوانی کر دی جو کمیونزم سے لڑنے کےلئے اُس کی حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔ مگر اُس نے اُن کو اِس سے بھی زیادہ دیا۔ امریکی حکومت نے یونیورسٹی آف نیبروسکا کی اشاعت کردہ نصابی کتب بھی دیں جن کے صفحات پر تشدد پھیلانے کی ترغیب تھی۔ وہاں امریکہ میں تو بچے سیبوں سے کینوﺅں کی تفریق پڑھ رہے ہونگے مگر افغان طلباءنے حساب اور مذہبیات کی کتب کا انتخاب کیا جن کے صفحات پر سنگینیں گھونپنے کی تصویریں تھیں۔ کچھ طلباءتو ابھی بھی یہ کتب پڑھ رہے ہیں۔ افغان اسکولوں سے اِن کتب کو آہستہ آہستہ غائب کیا گیا۔

یہاں پر کسی چار ستارے فوجی کی ضرورت نہیں جو اِس سبق کو سمجھ سکے۔ جب ۹۸۹۱ءمیں سوویت یونین نے خود کو افغانستان سے باہر نکالا، ریاست ہائے امریکہ بھی اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا دینے کے خیال سے باہر نکل آیا۔ جس چیز سے امریکہ باہر نکل آیا وہ اصل میں طاقت کی رسہ کشی تھی۔ منجھے ہوئے جنگجوﺅں کی حیثیت سے مجاہدین نے آئندہ چند برسوں میں افغانستان کا گھیراﺅ کیا۔ حتکہ چوٹی کے امریکیوں نے بھی اِس بات کی پرواہ نہ کی۔ ۸۹۹۱ءمیں، پیرس کے ایک اخبار نے زگنیو برززینسکی کا انٹرویو کیا، جو صدر جمی کارٹر کی قومی سلامتی کے مشیر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’اسلامی بنیاد پرستی پوری دنیا کےلئے وبائے جان ہے‘۔ اخبار ’لی نوول آبزرویٹر‘ نے پوچھا، کیا امریکہ کی خارجہ پالیسی کو مزید قیمت چکانا ہو گی؟ برززینسکی جو ریگن یا کلنٹن انتظامیہ کی اطاعت گزاری میں نہیں تھے، نے چبھنے والی کوتاہ بینی کے ساتھ جواب دیا، ’دنیا کی تاریخ کےلئے کیا اہم ہے؟ چند سرپھرے مسلمان یا سنٹرل یورپ کی آزادی اور سرد جنگ کا خاتمہ؟(۲۶)‘

وہ اتنا ہوشیار تھا کہ اُسے یہ بات یاد تھی جسے ۰۵۹۱ءکی دہائی میں صدر آئزن ہوور نے سونگھ لیا تھا۔ ایک سٹاف میٹنگ کے دوران ’آئزن ہوور نے نفرت کی اُس لہر کا تذکرہ کیا جو عرب دنیا کی حکومتوں کی طرف سے نہیں تھی بلکہ لوگوں کی طرف سے تھی(۳۶)، اُس کی قومی سلامتی کی کونسل نے صورتحال کا تجزیہ کیا تھااور اِس نتیجے پر پہنچی تھی: عام عرب محسوس کرتے ہیں کہ تیل کی خاطر جابر حکومتوں کی حمایت سے امریکہ جمہوریت کی راہوں کو مسدود کرتا ہے۔ یہ اندر کی کہانی ریڈارپر تب سے چالیس سال پہلے ابھری جب طالبان افغانستان پر قابض ہوئے اور القاعدہ کو محفوظ جنت فراہم کی۔ چالیس برس اور یہ بات ابھی تک قابلِ توجہ نہیں ٹھہری۔

میرا جی چاہتا ہے کہ میں یہ کہہ سکتی کہ واشنگٹن کی کوتاہ بینی اتنی ہی قابو میں ہے جس قدر افغانستان اور عراق کی سابق حکومتیں قابو میں ہیں۔ میں کہہ نہیں سکتی۔ مجھے وہ گفتگو بیان کرنے کی اجازت دیجئے جو میں نے حال ہی میں ایک ٹاک شو کے میزبان فل ڈوناہو اور چارلس ڈولان کی ملاحظہ کی، چارلس ڈولان تب ’یو ایس ایڈوائزری کمیشن آن پبلک ڈپلومیسی ‘ کے وائس چئیرمین تھے۔ یہ ادارہ امریکہ کے دنیا میں منفی تاثر کاتوڑ نکالنے والا ادارہ ہے۔

ڈولان: میرا خیال ہے کہ جہاں تک بین الاقوامی تعلقات کا معاملہ ہے، بش انتظامیہ جب سے اقتدار میں آئی ہے اُس نے چند بڑے کارنامے سرانجام دئیے ہیں۔ اِن میں سے کچھ سامنے بھی آ چکے ہیں اور وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔۔‘

ڈوناہو: کیوٹو معاہدہ پر بندش لگانے سے، بین الاقوامی جرائم کی عدالت کو کچھ نہ جاننے سے، اقوام متحدہ کو برا بھلا کہنے سے۔ ہم اس طرح دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے شہر میں ہم اکیلے ہی گھومنا چاہتے ہیں، ہمیں کسی کے ساتھ کی ضرورت بھی نہیں۔

ڈولان: فل،اگر تم چاہتے ہو کہ میں اُن کی پالیسیوں پر بات کروں تو ہم مزید پانچ شو کر سکتے ہیں۔

ڈوناہو:لیکن ہم بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کیوں اس طرح سمجھا جاتا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہم کسی کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے، کسی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ بھی نہیں۔ ہم اس حالت میں متکبر دکھائی دیتے ہیں۔

(خاموشی)

ڈولان: لیکن میں اُس انداز کی بات کر رہا ہوں جس انداز میں ہم دنیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ۔ صرف یہ موضوع ہے جس پر ہم بات کر رہے ہیں(۴۶)۔ ہم امریکہ کے بارے باہر کی دنیا میں غلط تاثرات کو کس طرح جواب دیتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ صرف یہ موضوع ہے جس پر ہم گفتگو کر رہے ہیں۔

کیا ڈولان احمق تھا؟ میں مانتی ہوں کہ وہ کیمرے کے سامنے اپنے باس یا اُس کی پالیسیوں میں عیب نہیں نکالنا چاہتا تھا لیکن یہ معاملہ نہیں ہے۔ ڈولان تو اُن سوالوں کے قریب بھی پھٹکنا نہیں چاہتا تھا کہ درحقیقت امریکہ کا تاثر خراب ہے۔ وہ تو فقط اِس مسئلہ پر بات کرنا چاہتا تھاکہ کیسے اِس طرح کے تاثرات کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے ہتھیاروں اور پینتروں کی مدد سے لڑاجا سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ ڈولان کیچوم کا سینئیر نائب صدر بھی ہے، کیچوم تعلقات عامہ کا ادارہ ہے۔ حد ہو گئی امریکہ، یہ باتیں تعلقاتِ عامہ کی ضرورت نہیں۔ درست کام کرنے کی مخلص راہ ہونی چاہئے نہ کہ درست نظر آنے کی، وہ کچھ ہونا چاہئے جو آج کی ضرورت ہے۔

امریکہ، تمہارے طالبان کو ہرانے سے کروڑوں افغانی خوش ہوئے ہیں۔ اگرچہ تب سے اب تک کابل کی حدود سے باہر فوجی تعینات کرنے کے سلسلہ میں تمہاری ناکامی کے بعد جنگجو سردار اور طالبان کے حمایتی خوش ہوئے ہیں۔ یقینی طور پر نئے آئین میں خواتین کے حقوق اور آزاد عدلیہ کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ سب کاغذوں پر ہے۔ حقیقت میں ایک اور جنگجو سردارجسے امریکہ کے سیکرٹری دفاع نے ’ایک متاثر کن، مفکر اور نپی تلی شخصیت“ قرار دیا ہے، نے ’امر بالنہی ‘ کے محکمے کا ازسرِ نو اجراءکر دیا ہے۔ یہ محکمہ عورتوں اور مردوں کی علیحدگی پر سختی سے عمل درآمد کراتا ہے، میڈیا کی آزادی کو دباتا ہے، شاعری کی محفلیں بند کراتا ہے،اُن عورتوں کو مارتا ہے جو اپنی تنظیمیں بنانے کی دھن کی پکی ہوں اور طالبان کی واپسی کےلئے زمین کو جوتتا ہے۔ مفکر؟ نپا تلا؟ امریکہ، کیا تم سنجیدہ ہو؟اگر واقعی ہی ہو تو تم کابل سے باہر کہاں ہو؟ کیاتم اپنے سپاہیوں کو امن قائم کرنے والا بنانے کے خیال سے متفق نہیں، کیوں تم نے مقامی سپاہیوں کی تربیت کے کام کو آگے نہیں بڑھایا اور وہاں پہلے سے موجود بین الاقوامی فوجوں کی سرپرستی کیوں نہیں کی؟تمہارے تحفظ کی پھڑکتی رگ کو کیا ہو گیا ہے اور آزادی کہاں گئی؟

میرے ساتھی مسلمانوں! میں آپ کی کبیدہ خاطری کو سن رہی ہوں۔ واشنگٹن کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ جب روشن خیال مسلمانوں نے امریکہ پر دانت نکوسے، ’ہمیں تم سے نفرت ہے‘، یہ اِس وجہ سے کم تھا کہ امریکہ براہ راست اسلامی دنیا پر ظلم ڈھا رہا ہے بلکہ اس وجہ سے زیادہ تھا کہ امریکہ ناکام ہو رہا ہے، اپنے تحفظ کے مفادات کے ضمن میں، ایک طویل عرصے پر محیط وحشت کے خاتمے میں مدد کے ضمن میں۔ ’اب تو سمجھ لو!‘ آپ واشنگٹن پر چلانا چاہتے ہیں۔ میں بھی ایسا کرنا چاہتی ہوں۔ مگر آپ کے اوپر بھی میں چلانا چاہتی ہوں، ’بالغ ہو جاﺅ!‘روشن خیال مسلمانوں کو اس حقیقت کے حوالے سے بولنا ہو گا: واشنگٹن ایک غیر متوقع امید ہے جو مجرموں کو نہیں پکڑتی۔ صدر بش سعد ابراہیم کی مدد کو لپکے تھے، جس کے نتیجہ میں مصر کی جمہوریت کےلئے بھی، یہ بات ہمیں امریکہ پر اعتبار کرنے کی دلیل فراہم کرتی ہے۔ میں آپ سے پوچھتی ہوں، ابراہیم نے اپنی قوم کے ووٹروں سے کیا چاہا تھا: مردم بیزاری کو ایک طرف رکھیئے اور تعمیری ہو جائیے۔ یہ ممکن ہے کہ امریکیوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہو تاکہ وہ انسانی بنیادوں پر روشن امکانات کو عملی حیثیت دے سکیں۔

وہاں تک جانے کےلئے ، مسلمانوں کو یہ بنیادی سوال اٹھانا ہو گا: ہمیں اصلاحات کرنے میں ٹھیک ٹھیک کیا کچھ درکار ہے؟ کیا اصل نجی مسئلہ ہے جو ہم سب کا گھیراﺅ کئے ہوئے ہے؟ جیسا کہ نہ اسرائیل اور نہ امریکہ مسلمانوں کی دنیا بھر میں مصیبتوں کی جڑ ہیں، کیا پھر اسلام بذات خود ہے؟ اسلام شمالی افریقہ سے جنوبی ایشیا تک ثقافتوںکے منورنجن کو ایک ساتھ باندھ دیتا ہے، اور اِن تمام معاشروں میںاقتصادیات اور انسانی حقوق کا ریکارڈباقی دنیا سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ کیا اسلام تخلیقی قابلیتوں، حرکت و برکت اور جمہوریت کو سب سے زیادہ دبانے ولا ہے؟

فقط نہ کہنا تو بہت ہی آسان ہو گا۔ اس کے بارے اس طرح سوچئے۔ پاکستان خود کو علی الاعلان مسلم اکثریت کا ملک قرار دینے والا ۷۴۹۱ءمیں معرض ِ وجودمیں آیا، یہودی اکثریت والے ملک اسرائیل سے ایک برس قبل۔ کیا جناح کی بصیرت چل سکی، کیا پاکستان ماڈرن ملک بن سکا، اُسی طرح کثیرالثقافتی جس طرح مذہبی جیسا کہ اسرائیل ہے۔ معاملہ بالکل اِس کے برعکس ہوا، جدید سے زیادہ جاگیردارانہ، کثیر الثقافت سے زیادہ فرقہ واریت، مذہبی سے زیادہ جنونی۔ ۲۰۰۲ءمیں ٹینس کا ایک جوڑاجو ایک پاکستانی اور ایک اسرائیلی پر مشتمل تھا، میڈیا میں شہ سرخیوں کا باعث بنا۔ وہ خبروں کا حصہ بن گیا، صرف اس لئے نہیںکہ اُس جوڑے نے مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعاون کے امکان کو اجاگر کیابلکہ اس لئے بھی کہ دونوں ممالک سے ردعمل بھی سامنے آیا۔ اسرائیل ٹینس ایسوسی ایشن نے اپنے کھلاڑی کو منظوری دے دی۔ پاکستان ٹینس ایسوسی ایشن نے اپنے کھلاڑی کو پابندی لگانے کی دھمکی دی۔ جب اسرائیل سیاست سے ہٹ کر معاملات کو دیکھ سکتا ہے، اپنے مسلمان ہمسایوں کے روز کے محاصرے کے باوجود، پھر کیوں پاکستان اِس چیلنج کو نہیں لے سکتا؟ یقینی طور پر اس دوغلے پن کا ہرقوم کے اخلاقی معیارات کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے اور اِس کا اظہار ہر قوم کی مذہبی اقدار سے ہوتا ہے۔ اور یقینی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل میں جمہوریت کے پنپنے کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب کچھ یہودیت کی وجہ سے ہے جو اسلامی ممالک کے بارے نہیں کہی جا سکتی۔۔ کم ازکم ابھی تک تو نہیں۔

لیکن اِن سب باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام بنیادی مسئلہ ہے۔ آخرکار مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان انتخابی جمہوریت میں رہ رہے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ اگرچہ اِن کی حکومتیں چند آزادیوں اور تھوڑے احتساب کو عوام کے لئے پیش کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ اسلام میں معنی خیز جمہوریت کا امکان اِس حقیقت کے ساتھ چمکتا ہو کہ قرآن کسی خاص طرز کی حکومت کے بارے کچھ نہیں بتاتا۔ یہ تصور کرتے ہوئے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، سارا یا کچھ ۔۔ تب اِس معاملے میں خاموشی کیا جان بوجھ کر نہیں رکھی گئی؟ کیا یہ بات یہ دلیل نہیں دیتی کہ ہم انسانوں کو اِس معاملے میںآزاد روی بخشی گئی ہے، اور ہم اپنی مرضی سے اس کام میں حصہ لے سکتے ہیں؟ اِس بات کے تو کوئی معنی ہیںکہ مسلمان کوئی ایسی کمیونٹی ہوں جو خدا پر ایک ساتھ ایمان لائیں۔ ہر کوئی کہے کہ ہم ہیں۔ ہر کوئی ایمان لائے کہ ہم ہیں ۔ ہم ہیں۔

فرض کیجئے ہم نہیں ہیں۔ فرض کیجئے ہم خدا پر ایمان لانے کی بنیاد پر اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ ایک خاص کلچر میں پیدا ہونے کی وجہ سے ایک ہوئے ہیں۔ کیا یہ اسلام ہو گا، حتکہ اِس کا مجہول حصہ، کیا ریگستانوں کے راستوں پرایمان لانا الہامیت کی دانش سے زیادہ ہو گا اور کیا مسلمانوں کو عرب قبیلے کی رسہ کشی کی تقلید کرنا سکھایا جائے گاجہاں شیوخ آشیانوں پر حکومت کریں اور باقی ہر کوئی اُن کے زیرِ سایہ تلملائے؟سعودی عرب کے بادشاہ فہد کی بات سنئے۔ ’دنیا میں موجود جمہوری نظام اِس خطے کےلئے موزوں نہیں ہے‘، اُن کا کہنا تھا۔’الیکشن کے طریقہ کار کی اسلامی قوموں میں کوئی گنجائش نہیں ہے‘(۵۶)۔ جب سے اسلام بادشاہ کو چرواہا سمجھتا ہے تب اُس کے ریوڑ کی کون ذمہ داری لے گا؟ صرف بادشاہ ہی مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کے برابر نہیں سمجھتابلکہ وہ یہ بھی بین السطور مشورہ دیتا ہے کہ عرب کے صحرا ۔۔ ’خطہ‘ ۔۔ کے لئے جوبرا ہے وہ اسلام کے ’عقیدے‘ کےلئے بھی برا ہے۔ آپ کو اس پر احتجاج کرنا چاہئے، میں بھی آپ کے ساتھ ہوں گی کہ بادشاہ کا یوںبازی لے جانا غلط ہے۔ اگرچہ مسلمان ایک ساتھ ہو کر احتجاج نہیں کر پا رہے۔ ہمیں کم پر نہیں اکتفا کرنا چاہئے کیونکہ سعودی آمر اسلام کے دو مقدس جگہوں، پیغمبر کی مدینہ اور مکہ کی مساجد، کے رکھوالے ہیں۔ اُن کو کس نے اسلام کا نگران منتخب کیا ہے؟ ہم نے تو نہیں۔ ہمارے ساتھ یہ کون تمسخر کرتا ہے؟ ہم خود۔ مگر ہم حتکہ اِس کے بارے نہ سوچنے کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔

کیا عرب صحرا کی نو آبادیت ایک مسئلہ ہے جس کی اصلاحات کے ضمن میں ہمیں مدد کی ضرورت ہے؟

 

حوالہ جات:

۱ ۔ Joke courtesy of Muhammed Abu Samra, "Martyrdom in Modern Palestinian Society" (speech given in Toronto), October 6, 2002.

۲ ۔ "Jewish and Middle Eastern non-Jewish populations share a common pool of Y-chromosome biallelic haplotypes," Proceedings of the National Academy of Sciences of the United States of America, Volume 97, Issue 12, June 6, 2000, p. 10 of online version. Download this report at www.pnas.org.

۳۔ قرآن، ۷۱:۴۰۱۔ اِس کے علاوہ قرآن کا یہ حوالہ دیکھئے، ۵:۰۲۔۱۲، جس میں ارشاد ہے’اور یاد رکھو موسیٰ کو جس نے اپنے لوگوں سے کہا، اے میرے لوگو یاد رکھو اُس رب کی اُس مہربانی کو جو اُس نے تمہیں بخشی۔ اُس نے تم میں سے پیغمبروں کو پیدا کیا، تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو کسی قوم کو نہیں دیا۔ اے میرے لوگو ، اُس مقدس زمین میں داخل ہو جاﺅجو اللہ نے تمہیں عطا کی ہے۔ پیچھے نہ ہٹو کہ مبادا تم اسے گنوا ہی نہ دو“۔ سو اللہ اِس مقام پر یہودیوں سے مقدس زمین میں داخل ہونے کو کہہ رہا ہے جو وہاں سے نکالے گئے تھے۔ اُن کا قصور پیچھے ہٹ جانا تھے، اسی بناءپر وہ خدا کی اطاعت میں ناکام ہوئے تھے۔

۴ ۔ Khaled Al-Azm, The Memoirs of Khaled al-Azm, Vol. 1 (Beirut: Al Dar Al Muttahida Lil-Nashir, 1973), p. 386.

اِس بات کو تسلیم کرتی ہوں کہ مہاجر مسئلہ کی بنیاد پر جنگ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فلسطین کے قیام کے ہی ہمدردی یا توازن برقرار رکھا نہیں جا سکتا۔ اِس ضمن میں یہ حوالہ دیکھیں۔ Benny Morris, The Birth of the Palestinian Refugee Problem, 1947-49 (New York: Cambridge University Press, 1989)

۵ ۔ Kanan Makiya, "Can Tolerance be Born of Cruelty in the Arab World?" New Perspectives Quarterly, Winter 2002, p. 3 of online version. Read it at www.digitalnpq.org

۶ ۔Paul Adams, "Tourists, investors shun Beirut despite facelift," Globe and Mail, March 27, 2002

۷ ۔ Arieh L. Avneri, The Claim of Dispossession: Jewish Land Settlement and the Arabs 1878-1948 (New Brunswick, New Jersey: Transaction Books, 1984), p. 114

ایونری خاص طور پر لکھتی ہیں، ”۱۳مارچ ۱۱۹۱ءکو یروشلم کے قریب ایک سو پچاس معروف عربوں نے راغب ناشاشیبی کی سربراہی میں ترک پارلیمان کو ایک تار روانہ کیا تھا جس میں یہودیوں کو زمینیں بیچنے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ حتکہ یروشلم کے مئیر حسین الحسینی جیسے معتدل مزاج عرب رہنما، جن کا خیال تھا کہ عربوں کے یہودیوں سے سیکھنے کو بہت کچھ پڑا ہے، بھی یہودیوں کو زمین فروخت کرنے پر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا تھا۔ ’اِس سب کے باوجود ہمیں صیہونیوں پر نگاہ رکھنا ہو گی۔ اگر اسی طرح ہوتا رہا جس طرح ہو رہا ہے تو ہماری ساری زمینیں اُن کے پاس چلی جائیں گی۔ ہمارا کسان غریب اور مجبور ہے اور غریب آدمی اپنے جسم اور روح کو ایک ساتھ رکھنے کےلئے اپنی زمین کے ٹکرے ٹکرے کر دینے کو تیار ہوتا ہے۔ اِس بناءپر حکومت کو زمینیں یہودیوں کو فروخت کرنے کے خلاف قانون بنا دینا چاہئے اور ملک کے حالات کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔‘

۸ ۔ جبکہ ترک حکام اِ س بات پر تردید کرتے ہیں کہ آرمینیوں کا قتلِ عام ہوا تھا، حتکہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ حمایتی مغربی رپورٹر رابرٹ فسک بھی اِس حقیقت سے انکار نہیں کرتے۔ اِس ضمن میں ۵اگست ۰۰۰۲ءکی اخبار دی انڈیپینڈینٹ ملاحظہ فرمائیں۔مضحکہ خیز طور پر ابھی تک اسرائیل کی نصابی کتب میں آرمینیوں کے قتل عام کا ذکر اِ س اندیشے کی بناءپر نہیں کیا گیا کہ وہ خطے میں اپنے مضبوط ساتھی ، ترکی ،کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ یہ اسرائیل کی ایسی پالیسی ہے جس پر تنقید کرنے میں مجھے ذرا بھی تامل نہیں۔ یہ تاریخی اور اخلاقی لحاظ سے غلط ہے۔

۹ ۔ Palestine Royal Commission Report, Cmd 5479 (London, July 1937), p. 135

۰۱ ۔ Sandra Mackey, Passion & Politics: The Turbulent World of the Arabs (New York: Plume, 1994), pp. 121-22.

یہ بہت عمدہ کتاب ہو، اگر حد سے زیادہ ہمدردانہ ہوتی، عرب ثقافت کی ترجمان ہوتی نہ کہ تاریخ کی کتاب۔

۱۱ ۔ December 10, 1938 report in the News Chronicle, quoted by Maurice Pearlman, Mufti of Jerusalem: The Story of Haj Amin el Husseini (London: V.Gollancz, 1947), p. 20

یہ جذبات اِس پراسرار خاموشی کی بازگشت ہیں کہ ایک معاصر عرب کسان عرب دہشت گردوں کے بارے کیا کہتا ہے: ”اِن کا کہنا ہے کہ وہ ہیرو ہیں، وہ ہمارے لئے صرف تباہی لائے ہیں اور ہمیں بے گھر کیا ہے۔ انہوں نے چھپنے کےلئے ہمارے کھیتوں، گھروں اور بچوں کو آڑ بنایا“۔ ملاحظہ فرمائیں۔ Paul Adams, "Protests a rare sign of support by Palestinians for a ceasefire," Globe and Mail, May 21, 2003

۲۱ ۔ Quoted by Maurice Pearlman, Mufti of Jerusalem, p. 29

۳۱۔ Hitler quoted by Robert Wistrich, Hitler's Apocalypse: Jews and the Nazi Legacy (London: Weidenfeld & Nicolson, 1985), p. 164

میں نے خاص طور پر اِن ابواب پر زور دیا۔ Swastika, Crescent and Star of David" and "Militant Islam and Arab Nationalism."

۴۱ ۔ Sir Martin Gilbert (speech in Toronto), January 30, 2003

۵۱ ۔Haj Amin quoted by Maurice Pearlman, Mufti of Jerusalem, p. 51

۶۱ ۔یہ حوالہ صیہونی جانب سے نہیں آیا بلکہ صیہونی مخالف جانب سے آیا ہے۔ Walid Khalidi, "Revisiting the UNGA Partition Resolution," Journal of Palestine Studies, Issue 105, Autumn 1997, p. 11.

خالیدی لکھتے ہیں، ”آبادی کے لحاظ سے مجوزہ فلسطینی ریاست آٹھ لاکھ اٹھارہ ہزار فلسطینیوں پر مشتمل ہو سکتی تھی جبکہ یہودی تو دس ہزار سے بھی کم ہونا تھے مگر یہودی ریاست چار لاکھ ننانوے ہزار یہودیوں پر مشتمل ہونا تھی اور اِس میں قریب چار لاکھ اڑتیس ہزار فلسطینی ہوتے۔۔۔“

۷۱ ۔ Bernard Lewis, The Middle East: 2000 Years of History from the Rise of Christianity to the Present Day (Wiedenfeld & Nicolson, 1995), p. 365

۸۱ ۔ Gilles Kepel, Jihad: The Trail of Political Islam (Cambridge: Harvard University Press, 2002), p. 53

۹۱ ۔ Gaber Asfour, "Osama bin Laden: Financier of Intolerant 'Desert' Islam," New Perspectives Quarterly, Winter 2002. Download at www.digitalnpq.org

۰۲ ۔Muhammed Abu Samra, "Martyrdom in Modern Palestinian Society" (speech given in Toronto), October 6, 2002

۱۲ ۔ Al-Hayat Al-Jadida, September 2, 2002. Translated by Independent Media Review Analysis and checked against other translations

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ نبیل عامر، جو ایک اخبار کے مدیر بھی رہ چکے ہیں، محمود عباس کی کابینہ میں وزیر اطلاعات کے طور پر مقرر ہوئے۔

۲۲ ۔ Yousef Al-Yousef, "Israeli propaganda nominated for Oscar," www.arabia.com, March 21, 2002

بہر کیف یوسف ال یوسف اِس تبصرہ میں بطور ”چئیرمین آف دی امریکن مسلمز فار گلوبل پیس اینڈ جسٹس“ بتائے جاتے ہیں۔ یہ تنظیم واشنگٹن ڈی سی میں قائم امریکن مسلم ہیومن رائٹس ایڈووکیسی گروپ کہلائی جاتی ہے۔

۳۲ ۔ جس اُستاد کا تذکرہ ہوا اُن کا نام نائم جیناح ہے جو Palestine Solidarity Committee of South Africaکے ترجمان بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے تیس ستمبر ۲۰۰۲ءکو "South Africa and Israel – The Practice of Apartheid"کے موضوع پر لیکچر دیا تھا۔

۴۲ ۔ جس رکن پارلیمان کا ذکر ہوا، اُن کا نام Amnon Rubinstein ہے۔

۵۲ ۔Anton Shamas, an Arab-Israeli writer, quoted by Yosef Lapid, "To my candid, envious friend," Jerusalem Post, June 13, 1995. The Hebrew language newspaper in which Shamas wrote is Ha'ir, a Tel Aviv local

۶۲ ۔میری ریسرچ کی معاون نے خط لکھنے والے سے براہِ راست رابطہ کیا، اُس کا نام Arjan El Fassed ہے، جس کا کہنا ہے کہ القدس اپنے کہے سے نہیں مکری۔ پوری کہانی پڑھنے کےلئے میری ویب سائٹ کے اِس حوالہ کو کلک کریں۔

۷۲ ۔Edward Said, "Israel-Palestine: a third way," Le Monde Diplomatique (English translation), September 1998, p. 6

۸۲ ۔Edward Said, Ibid., p. 7

۹۲ ۔ میری ویب سائٹ پر اِس حوالہ میں اس طرح کے چند کارٹونوں کو دیکھئے۔ میں نے اپنے چند غیر یہودی دوستوں سے پوچھا جو اِس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے، بیشتر نے یاد کر کے مجھے بتایا کہ ہاں اِس طرح کے کارٹون انہوں نے دیکھے تھے۔

۰۳ ۔ For fully documented examples of this, visit www.memri.org and read Robert Wistrich, Muslim Anti-Semitism: A Clear and Present Danger (American Jewish Committee, 2002)

اِن تمام حوالوں کے ساتھ تمام مثالوں کے ثبوت ہیں، اِن حوالوں کو خالی پیش نہیں کیا جا رہا۔

۱۳ ۔ وزیر اطلاع کا نام مصطفی تلاس ہے۔

۲۳ ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے زایونزم پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ اِس ضمن میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا تھا۔ کنگ کا معروف ’صیہونی مخالف دوست کے نام خط‘ ایک جعلی داستان دکھائی دیتا ہے۔ اِس خط کو اکثر کنگ کی تحریروں کے مجموعہ This I Believe میں شامل کیا جاتا ہے۔ مگر اِس مجموعے کو صفحات کے نمبروں کے ساتھ پیش نہیں کیا جاتا، اِسی سبب سے یہ خط شامل نہیں سمجھا جاتا۔

۳۳ ۔ بمطابق Middle East Media Research Institute, Ahmad Dabour, Secretary General of the Palestinian Information Ministry, wrote in the November 14, 2002 edition of Al-Hayat Al-Jadida”اگر ہم زایونزم کواس طرح پیش نہ کریں تو یورپ کی قوم پرست اور نسل پرست تحریک جو سابقہ نو آبادیت اور استعماریت کے بعد اٹھی تھی، وہ ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

۴۳ ۔ David Matas, "Israel and the Palestinians: Myths and Realities" (Institute for International Affairs of B'Nai Brith Canada, 2001), p. 5

میٹس ایک اور دلچسپ نقطہ اٹھاتے ہیں: ”جرمنی کا قانون ہر اُس شخص کو جرمن آکر شہریت لینے کی اجازت دیتا ہے جو کسی بھی جرمن شہری کی نسل سے ہو اور جس کو ۰۳ جنوری ۳۳۹۱ءسے ۸ مئی ۵۴۹۱ءکے دوران سیاسی، نسلی یا مذہبی بنیادوں پر شہریت دینے سے محروم رکھا گیا تھا۔ ایسے شخص کا پہلی نسل کا آبادکار ہونا ضروری نہیں۔ جرمنی کا یہ قانون بذاتِ خود غیررسمی طور پر ’لاءآف ریٹرن‘ کہلاتا ہے، اگرچہ اقوام متحدہ کی کسی قرار داد نے جرمن لاءآف ریٹرن کو نسل پرست قرار نہیں دیا۔“

۵۳ ۔ Amnon Rubinstein, A minority within a minority," Ha'aretz, October 7, 2002. Rubinstein quotes Dr. Alex Lowenthal, head of the Israeli Health Ministry's Public Health Service: جن کا کہنا ہے، ”عرب عیسائیوں کی صحت کی صورتحال اسرائیل میں بہت عمدہ ہے۔ یہودیوں سے بھی بہتر۔“

۶۳ ۔ ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔

۷۳ ۔ Thomas Friedman, The Lexus and the Olive Tree (New York: Farrar, Straus Giroux, 1999), p. 278

۸۳ ۔ Irfan Husain, "When will we ever learn?" DAWN, December 21, 2002

۹۳ ۔ Farid Esack, On Being a Muslim: Finding a Religious Path in the World Today (Oxford: Oneworld Publications, 1999), p. 15

۰۴ ۔ اِس کلپ کو دیکھئے۔

۱۴ ۔ Fareed Zakaria, The Future of Freedom: Illiberal Democracy at Home and Abroad (New York: W.W. Norton, 2003), pp. 135-36

۲۴ ۔ Hala Boncompagni, "Japanese pocket monster 'Pokemon' game fans passions in Jordan," Agence France Presse wire service, April 5, 2001

بون کمپانگی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے، ”سعودی عرب اور قطر میں پوک مان پر پابندی کے فتویٰ یا مذہبی فرمان کے بعد عمان میں جذبات کا کھیل شروع ہو گیا ہے اور اِس گیم نے عیسائی کمیونٹی کے اندر تناﺅ پیدا کر دیا ہے جبکہ کچھ اُردنی اِس کو اسرائیلی سازش کے طور پر لیتے ہیں۔ سیریا آرتھوڈوکس کرسچئین کمیونٹی کے فادر ایمانوئل ایسٹیفن بانا نے اِس نفرت کی لہر کو چند روزپہلے ہی محسوس کر لیا تھا جب پہلا گمنام پیغام اُن کی فیکس مشین پر آیا تھا۔ پیغام میں بتایا گیا تھا کہ لفظ پوک مان اور اِس گیم کے دوسرے کرداروں کے نام یہودی الفاظ ہیں جو شام کی قدیم زبان میں موجود ہیں اور اِسے اسلام کی توہین تصور کیا جاتا ہے۔ پادری نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’وہ (مسلمان) کہتے ہیں کہ لفظ پوک مان کا مطلب ہے کہ میں یہودی ہوں اور پکاچو (گیم کا مرکزی کردار) اللہ کی بُری اور جذبات مجروح کرنے والی تشبیہہ ہے۔“‘

۳۴ ۔ اُسی ملا، شیخ عبدل عزیز بن عبداللہ الشیخ نے الزام لگایا کہ پوک مان ٹریڈنگ کارڈز کی اکثریت چھ ستاروں والی علامت پر مشتمل ہے، جو زایونزم کی بین الاقوامی علامت ہے اور جو اسرائیل کی ریاست کی بھی علامت ہیں۔

۴۴ ۔ President George W. Bush (speech at the United States Military Academy, West Point, New York), June 1, 2002. Download at www.whitehouse.gov

۵۴ ۔ Hisham Kassem in interview with "All Things Considered," National Public Radio, July 29, 2002

۶۴ ۔Saad Ibrahim (speech to Freedom House, Washington, DC), October 21, 2002

۷۴ ۔ابو زید کے بارے عمدہ تبصرہ پڑھنے کےلئے ملاحظہ فرمائیں۔ Mary Anne Weaver, "Revolution by Stealth," New Yorker, June 8, 1998

۸۴ ۔ Saad Ibrahim (speech to Freedom House, Washington, DC), October 21, 2002

۹۴ ۔ Jon B. Alterman, Egypt: Stable but for How Long?" The Washington Quarterly, Volume 23, Number 4, Autumn 2000, p. 115

۰۵ ۔ Saad Ibrahim (speech to Freedom House, Washington, DC), October 21, 2002

۱۵ ۔ Rami Khouri, "Don't stifle a rare Arab voice of moderation," Globe and Mail, July 5, 2000

۲۵ ۔ Claudia Winkler, Egypt's Sakharov," Weekly Standard, July 31, 2002, p. 1 of online version. Download at www.weeklystandard.com

۳۵ ۔ To download this letter, visit www.memri.org, click on "Reform in the Arab Muslim World," and then go to "October 15, 2002: Liberal Arab Intellectuals Call on President Mubarak to Free Dr. Sa'ad Al-Deen Ibrahim."

۴۵ ۔ مجھے اِس بات کی تصدیق بہت ساری خواتین سے ملی۔ ظاہر ہے وہ اپنا نام افشا ہونے کی خواہش نہیں کریں گی۔

۵۵ ۔ Amir Taheri, "The Arab Role," National Review Online, December 20, 2002

۶۵ ۔ Izzat Majeed quoted by Tom Friedman, "Breaking the Circle," New York Times, November 16, 2001. Friedman took the quote from what he calls "the popular Pakistani daily, The Nation."

۷۵ ۔ Muhammad Ali Jinnah (in his first speech as Governor-General of Pakistan), August 11, 1947

۸۵ ۔ Ahmed, conversation in Toronto, September 13, 2002

۹۵ ۔ Akbar Ahmed and Lawrence Rosen, "Islam and Freedom of Thought," www.islamfortoday.com (archived), p. 2

۰۶ ۔ Pervez Musharraf as quoted by www.bbc.co.uk, February 16, 2002

۱۶ ۔ Source: Akbar Ahmed, "Reforming the Madrassah," www.beliefnet.com (archived), p. 1

۲۶ ۔ Zbigniew Brzezinski, Le Nouvel Observateur, January 15-21, 1998, p. 76

۳۶۔ President Eisenhower as quoted by Noam Chomsky, "Drain the swamp and there will be no more mosquitoes," The Guardian, September 9, 2002, p. 1 of online version

۴۶۔ "Donahue," MSNBC, August 2, 2002

۵۶۔ King Fahd as quoted by John Esposito, "A Response to 'The Place of Tolerance in Islam'," Boston Review, February/March 2002, p. 2 of online version