Urdu Edition
دروازے اور کمر پیٹیاں
علاقوں تک جانا کتنا مشکل ہو گا؟ میں نے پال سے پوچھا، جو اُس تنظیم کے عہدہ دار تھے جس تنظیم نے دورہ اسرائیل کا اہتمام کیا تھا۔ بلاشبہ میری علاقوں سے مراد مقبوضہ علاقے تھے۔ ویسٹ بینک اور غزہ کی پٹی۔
اوہ۔ مشکل ہے۔‘ اُس نے گھٹی سی آواز میں جواب دیا۔
اُن دنوں فلسطین اسرائیل تنازعہ اپنی نزاکت کے انتہا پر پہنچا ہوا تھا۔ امن کی کوششیں مکمل طور پر جل کر راکھ ہو چکی تھیں اور ایک نئے انتفادہ کے غیظ وغضب کا آغاز ہو چکا تھا۔ فلسطینیوں کے خودکش بم دھماکے بڑھتے جا رہے تھے اور اسرائیل برابر کا جواب قبضے ، غیر قانونی آباد کاری، ہیلی کاپٹروں کے ناجائز حملے، بیجا سرحدوں، کرفیو اور رمالا میں یاسر عرفات کے دفاتر کی تباہی و بربادی کی صورت دے رہا تھا ۔ (اس صورتحال میں) اسرائیل غیر ملکیوں کی حفاظت کا اضافی بوجھ نہیں چاہتا تھا لیکن یہ تاثر بھی دینا نہیں چاہتا تھا کہ وہ صحافیوں کو دوسری طرف کی تصویر پیش کرنے سے روک رہا ہے۔ میرے کہنے سے پہلے ہی پال نے متعدد عرب آرٹسٹوں اور دانشوروں سے میری ملاقاتیں اس دورہ میں شامل کی تھیں۔ اِن سب کے بارے، مجھے معلوم ہو گیا کہ انہیں اسرائیلی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں تھی۔ مجھے فلسطینی علاقوں تک پھر بھی جانا تھا۔ چار دیگر صحافی جن کے ساتھ میں سفر کر رہی تھی، اُن کی بھی یہی خواہش تھی۔
’دیکھتے ہیں ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں‘۔ پال نے کہا۔
تب تک جب میں ٹورونٹو ائیرپورٹ پر تل ایویو کی فلائٹ کےلئے پہنچی، ہمیں ہاں کا جواب نہیں ملا تھا۔ لیکن ہمیں نہ بھی نہیں کی گئی تھی۔
اسرائیل کی قومی ائیر لائن ایل آل نے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی۔ میںائیر لائن کے آفیسر کا حال چال پوچھنے کےلئے آگے بڑھی۔ ”کہاں پیدا ہوئی ہیں؟“ اُس نے آغاز کیا۔
’یوگنڈا‘ میں نے جواب دیا اور پھرشہریت کا کارڈ لہرایا جس پر ایک ننھی مہاجر کی تصویر چسپاں تھی جس کے بارے مجھے احساس ہوا کہ اِسے کوئی پہچانتا نہ تھا۔
’یوگنڈا؟‘ میں انڈیا سے ہوں۔
’ایک جنوبی ایشیائی یہودی؟‘ میں نے شرارتاً کہا۔
’یہ کیسے ہوا؟‘اُس نے سنجیدہ ہونے سے قبل میرا شجرہ نسب جاننا چاہا۔ میں نے کہاں کہاں سے پڑھا تھا؟ کیا میرے کبھی اس طرح کے پلان رہے ہیں کہ اپنے رشتہ دار کو کبھی پارسل بھیجنا چاہا ہو یا اپنے کسی انکل کو ایک ملک سے دوسرے ملک بذریعہ کشتی پار پہنچایا ہو؟(وغیرہ وغیرہ)۔ گہری جانچ پڑتال کے بعد وہ ایک دم سے جوش و ولولے میں آ گیا۔ ’میں نے تمہیں ٹی وی پر دیکھا ہے‘۔ اُس کا مطلب کیویر ٹی وی تھا۔ سو میں نے اپنی ساتھی مشعل کی طرف اُس کی توجہ مبذول کرائی جو چند گز کے فاصلہ پر کھڑی تھی اور ہماری گفتگو کی نوعیت میں دلچسپی لیتی نظر آ رہی تھی۔ اُس نے مشعل کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور مجھے خوشگوار سفر کی تمنا کے ساتھ رخصت کر دیا۔
تب مشعل نے کنگ ڈیوڈ لاﺅنج (۱)کے بورڈ کے ساتھ میری تصویر کھینچی (کنگ ڈیوڈ لاﺅنج کا نام مجھے کسی شودے آرٹ کی طرح دلچسپ لگا)۔ ہم نے ایک دوسرے میں ضم ہوتی اپنی مسکانوں، رگوں اور الودائیہ کلمات کو باہم کیا۔ مسکانوں نے سرگوشی کی، یہی سب کچھ ہے۔ رگوں نے سرگوشی کی، کیا یہ سب کچھ ہو سکتا ہے؟ مشعل پریشان ہونے کے ضمن میں عصیبت زدہ نہیں تھی۔ ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ ایک مصری تارک وطن نے لاس اینجلس میں ایل آل کی ٹکٹ کھڑکی پر ہلہ بول دیا تھا اور دو لوگوں کو مار گرایا تھا۔ ٹورونٹو سے تل ایویو جانے والے جہاز لاس اینجلس سے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ اگر میں نے ایک دن بعد جانے کا انتظار کیا ہوتا تو میں شاید کچھ عرصہ تک اسرائیل نہ جا سکتی۔ مشعل نے مجھے جانے نہیں دینا تھا اور میں اُس پر الزام بھی نہ دھر سکتی تھی۔
مشرقی افریقہ کی ایک مسلمان سے جنوبی ایشیا کی یہودی میں ڈھلنے کے تصورانہ عمل میں کھوئے کھوئے مجھے اسرائیل کی ہمہ گیریت کا ایک اور ثبوت ملا۔ جہاز کی حفاظتی تدابیر والی وڈیو اگرچہ ہیبرو میں تھی لیکن اس کی ذیلی سرخیاں عربی میں تھیں۔ عربی اسرائیل کی ایک سرکاری زبان ہے۔ اس کا کس کو علم تھا؟
میں کسی حادثے کے بغیر اتر گئی۔ میرا چھ روزہ دورہ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہونا تھا، پہلے چند روز اسرائیل کے کاروباری مرکز تل ایویو میں گزرنا تھے اور دوسرے حصہ میں مجھے روحانی مرکز یروشلم جانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں عربوں اسرائیلیوں کی آبادی پر مشتمل چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی رکنا تھا۔اور رستے میں ، میں نے اپنی امید جاری رکھی، ہمیں فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں بھی کچھ وقت گزارنا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہ پاگل کر دینے کی حد تک کام تھا۔ لیکن تل ایویو میں میرے پہلے بھرپور دن نے مجھے سمجھا دیا کہ اسرائیلی سودائیوں کی طرح جیتے ہیں۔
یہ سب کچھ اُن کی ثقافتی سیالیت کے عین مطابق تھا۔ دوپہر کے کھانے پر ایک اسرائیلی صحافی نے مجھے بتایا کہ تھیٹر ’مائی فئیر لیڈی‘ہیبرو میں پیش کیا جا رہا ہے جس میں مرکزی کردار عرب عورت کا ہے۔’ اسی کے عشرے میں فلسطینی قومی تھیٹر قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی(۲)‘ اُس نے مجھے مزید بتایا۔ ’تمام پرگرام عربی زبان میں پیش ہوتے تھے اور منتظمین باقاعدگی سے اسرائیل تھیٹر کے مبصرین کو دعوت دیا کرتے تھے۔درحقیقت اس تھیٹر کو دیکھنے والے لبرل یہودیوں کی ایک ولولہ انگیز تعداد بن گئی لیکن یہ کبھی بھی فلسطینیوں میں مقبول نہ ہو سکا‘۔یہ تھیٹر ڈگمگا گیا جب اِس کے بانی جوڑے کی آپس میں طلاق ہو گئی۔ تاہم یہ ایک طرح کا انتفادہ تھاجس نے تل ابیب کے آرٹ میوزیم میں یہودیوں اور عربوں کے ربط کو ختم کر دیا۔ ہم اس آرٹ میوزیم کو دیکھنے جا رہے تھے۔
اس آرٹ میوزیم کا تھوڑا پس منظر آپ کو پہلے بتاتی ہوں۔ یہ میوزیم ۰۳۹۱ءکے عشرے میں معرضِ وجود آیا تھا، اسرائیل کی آزادی سے بہت پہلے اور اُس وقت جب اونٹ سڑکوں پر عام دیکھے جا سکتے تھے۔ یہ باور کرتے ہوئے کہ ہر قصبہ شہر میں ڈھل چکا ہے اور ہر بڑا شہرا فنکاروں سے بھرا ہوا ہے، تل ابیب کے مئیر نے دنیا بھر سے نوادرات کے تاجروں کو قرضہ دینے کی اپیل کی۔ جرمن کے یہودیوں نے غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سارے ذخیرے مئیر کو بھیج دئیے۔ اس طرح حیران کن مجسمے اور تصویری فن پارے ضبطی یا مکمل نابود ہونے سے بچ گئے۔ یہ قصہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔ وہ آرٹ جو یہودیوں تک پہنچا، یہودیوں اور عربوں دونوں کا بھیجا ہوا تھا۔ ۰۹۹۱ءکی دہائی کے بڑے حصہ تک فلسطینی مشرقی یروشلم کی آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر نے تل ابیب کے فنی نوادرات کو اپنے ہاں نمائش کےلئے پیش کیا اور اُس نے تل ابیب کے میوزیم کو عرب فنکاروں کا کام بھیجا۔ امن کی راہ کے نقطہ عروج پر ایک مصری فنکار نے تل ابیب میں اپنی تصویروں کی نمائش کی۔ اس میوزیم نے اس فنکار کی فلسطینی مقبوضہ علاقوں کی راہ میں سفری نمائشوں کابھی اہتمام کیا۔
اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ’ہم اُس کے ساتھ آج بھی کام کرنا چاہیں گے‘(۳)۔ تل ابیب میوزیم کی محافظ نے مشرقی یروشلم کے محافظ کے بارے کہا۔ انتفادہ سے اب تک وہ رابطہ کرنے کی کئی لاحاصل کوششیں کر چکی ہے۔ ”وہ غالباً ہم سے رابطہ کرنے میں اب بہت خوفزدہ ہے (فلسطینی حکام سے)، غالباً؟ وہ ایسا کیوں فرض کر رہی تھی؟ میں نے ایک اس چھوٹی سی بات پر سوچا، ایک لاحاصل بات ۔ اُس کے نرم لہجے کا انداز یہ بات کرتے ہوئے تھوڑا تلخ ہو رہا تھا۔ مگر میں جلد ہی اُس کے بیان کی طرف واپس آﺅنگی۔
عمارت سے باہر نکلتے ہی ایک بصری تقابل نے مجھے روک دیا۔ تل ابیب آرٹ میوزیم کی نیچے پھیلی ہوئی پتھر کی کاخ اوپر کی چوٹی تک سامنے سڑک کے رخ تھی، اسی طرح اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی مرکزی عمارت بھی تھی۔ تخلیقیت اور سلسلہ مراتب کا یوں پہلو بہ پہلو نظر آنا اتفاقی امر بھی ہو سکتا تھالیکن یہ چیز اسرائیل میں ہر جگہ نظر آتی تھی، گھر سے لے کر روایت پرست یہودی سیاسی پارٹیوں تک اور مشرق وسطیٰ کی واحد ہم جنس پرست پریڈ میں بھی۔ اس نقطہ نے کسی اسرائیلی کے ساتھ میرے پہلے مکالمہ کو جنم دیا۔ وہ اسرائیلی وہی صحافی تھاجس نے مجھے قومی فلسطینی تھیٹر اور اُس کے یہودی مداحوں کے بارے بتایا تھا۔ وہ میرے اس وجودی اور حساس سوال پر چکرا سا گیا، ”کیا اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر رہنا چاہئے یا اس کو خالصتاً سیکولر ریاست کے طور پر سامنے آنا چاہئے جہاں مذہب ایک اتفاقی معاملہ ہو؟“ ’اور ہولو کاسٹ کو کیا کردار ادا کرنا چاہئے، اسرائیل کی فقط سرکاری حیثیت سے ہی نہیں بلکہ ایک پناہ گیر ملک کی آج کی شناخت میں؟‘یہ درست ہے کہ میں نے سوچا تھا ایک عام اسرائیلی یہ باتیں خود سے سرعام پوچھتا ہو گا مگر (اس بات پر) میری طرح آپ خود کو اکیلے اجنبی پائیں گے۔
درحقیقت میرے قیام کے عرصہ کے دوران، اسرائیلی ذرائع ابلاغ انہیں سوالوں پر جوش و ولولے کے ساتھ بحث کرتے رہے۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ آپ ایک یہودی ریاست میں مذہب پر یوں تابڑ توڑ حملے کر سکتے ہیں۔ میں غلط تھی۔ میں نے اسرائیل کی قانون ساز اسمبلی کنیسٹ کے ایک سیکولر رکن کے بیان کو پڑھا جس نے کہا تھا کہ ملک کو شمالی امریکہ سے یہودی مذہبی تارکین وطن کی مزید ضرورت نہیں ہے ۔ ایک اخبار نے تھوڑا بھڑکانے والے اس بیان کی تعریف کی۔ اُس نے بعد میں وضاحت کی کہ اُس کی مراد کٹر مذہبی یہودیوں سے ہے(۴)۔ جو بھی ہو۔ اسرائیل کے قوانین اظہار آزادی کی مکمل ضمانت دیتے ہیں اور یہ بڑی بات ہے۔
میں نے خاص طور پر اخبارات کے اداریوں سے حظ اٹھایا جن میں موضوعات کا انتخاب مکمل طور پر آزاد پریس ظاہر کرتا تھا۔ ’ہارٹز‘ کی مثال لیجئے جو اسرائیل کا نیو یارک ٹائمز ہے، اس اخبار نے اسرائیلی گورنمٹ کی اس تجویز کو سیخ پر پرو کر تنقید کی کہ گورنمنٹ سرکاری زمین کو خاص طور پر یہودی شہر بنانے کےلئے استعمال کرے گی۔ آپ کو معلوم ہے کہ ’ہارٹز‘ نے اس بل پر کس طرح تنقید کی(۵)؟ ’نسل پرست ‘۔ جلی سرخی یوں تھی، ”ایک نسل پرست بل“۔ کوئی لگی لپٹی نہیں تھی، کوئی مبہم بات نہیں تھی، معذرت خواہانہ انداز نہیں تھا۔ یہ بل شدیداسرائیلی تنقید میں اپنی موت آپ مر گیا۔
میں آپ کو ایک اور اختلافی مسئلہ کے بارے بتاﺅنگی جو میرے دورہ کے دوران اخبارات میں چھڑا۔ یہ مسئلہ اُس تقاضے کے گرد گھومتا تھا جس کا تعلق فلسطین اسرائیل تنازعہ کو غیرملکی ذرائع ابلاغ میں پیش کرنے سے تھا۔ اسرائیل کے وزیر اطلاعات نے دھمکی دی تھی کہ وہ سی این این کی نشریات کو قومی نشریاتی رابطوں سے نکال کراُس کی جگہ فوکس کی نشریات کو دے دیں گے۔ اس پر ’ہارٹز‘ نے ردعمل ظاہر کیا، ”اگر تم ایسا کرو گے تو تم عرفات سے بہتر نہیں ہو جس نے ایک بار سی این این کی کرسچنا امان پور کا فون پٹک کر نیچے رکھ دیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے اصول کی مدافعت کو اجاگر کرنے کےلئے اسرائیل کے سب سے موثر اخبار نے زور دے کر کہا، ”یہ جاننا اسرائیلیوں کا حق ہے کہ سی این این اور بی بی سی اسرائیل کے سرکاری نقطہ نظر کے عکاس نہیں۔۔۔“ (۶)
ہنوز ورق گردانی کرتے ہوئے میں نے ورق اُلٹا ۔۔ فقط مزید خود تنقیدی کو دریافت کرنے کےلئے۔ ”کیا یہودی تاریخ اپنی خواتین رہنماﺅں کے کارناموں سے پورے طور پر آگاہ ہے(۷)؟“ ایک مصنف نے پوچھا تھا۔ ”شاید نہیں۔۔۔“ اُس نے ڈونا گراسیا نیسی نام کی ایک یہودی بینکار کی داستان کا آغاز اِن لفطوں سے کیا ۔ اس عورت نے سپین میں ہزاروں یہودیوں کو عدالتی تحقیقات سے اپنی اقتصادی بصیرت کو سیاسی قوت کے طور پر استعمال کر کے بچایا۔ اس کے چند روز بعد ایک اور مضمون شائع ہواجس میں اسرائیل نے ایک اور عورت کو بطور مثالی نمونہ پیش کیا۔ پہلی بار فوج نے ایک خاتون کو ترجمان عہدے کا سربراہ مقرر کیا(۸)۔ مجھے یہ سوچنا یاد ہے کہ اسرائیل نے تمام تر اخلاقی آثار جوئی (اور شاید اسی کی وجہ سے)کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ معاشرہ آگے بڑھتا نظر آ رہا ہے اس کے باوجود کہ یہ اپنے اندرمذہب کی لفظی تعبیر کےلئے بھی بنردآزما رہتا ہے۔
اپنے دورہ کے دوسرے حصہ کے دوران میں نے کار کی کھڑکی سے ایک منظر دیکھا۔ ایک جوان عورت مکمل یونیفارم میں ملبوس درجنوں مرد سپاہیوں کے آگے مارچ کر رہی تھی(۹)۔ یہ اپنے دستے کو کہاں لے جا رہی ہے؟ میں اپنے گائیڈ کی جانب مڑی۔ اُس نے بتایا کہ وہ پرانے شہر کو جا رہے ہیں(۰۱)۔ یروشلم کے عین مذہبی مرکزمیں۔ ’وہاں یہ تین دن کے قریب اس علاقے کے نمائندہ مختلف مذاہب کے بارے پڑھیں گے۔‘
’تمہارا مطلب ہے، مذہبی جانکاری فوجی ڈیوٹی کا حصہ ہے؟‘
’یقیناً۔ فوج ہر چند مہینوں بعدیروشلم میں نامزد سپاہیوں کےلئے وقت مقرر کرتی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ مشغولات کے علاوہ وہاں کی روایات کو بھی جانیں۔ مجھے اگلی دوپہر کو ذاتی طور پر اس پروگرام کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔
میر’ا ڈوم آف دی راک‘ کا دورہ طے تھا(۱۱)، یہ اسلام کی تیسری مقدس جگہ ہے جو اپنی سنہری چھت کی بناءپر فوری پہچانی جاتی ہے۔ اس کا جاذبیت کے ساتھ دمکنا سورج کو بھی یقینی طور پر روزانہ طلوع اور غروب ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ ایک اسلامی روایت کے مطابق اس مسجد کی بنیاد میں ایک خاص پتھر ہے جس پر پیغمبر محمد ’شب معراج‘ کو چڑھے تھے۔ اس پتھر پر پیغمبر محمد کو گھومتی ہوئی سیڑھی ملی جو اُن کو جنت تک لے گئی جہاں وہ پہلے پیغمبروں سے گھل مل گئے اور انہوں نے اُن کے ساتھ مل کر عبادت کی اور پہلے پیغمبروں سے فیض حاصل کیا۔ یہ وہ کہانی ہے جو مجھے اسلام سے محبت کرنے پر مائل کرتی ہے اور میرے مذہب کے بارے کثیر الثقافت امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس جگہ کی فقط تاریخ کا حصہ ہوتا تو میں بغیر کسی پریشانی کے اس جگہ پر چل پھر سکتی تھی اور ممکن ہے کہ سر پر کچھ اوڑھے بغیر۔ خدارا یہ اس قدر آسان نہیں تھا۔
ڈوم آف دی راک ’ٹمپل ماﺅنٹ‘ کے چبوترے پر ایستادہ ہے۔ ٹمپل ماﺅنٹ کے بارے یہودیوں کی روایت ہے اور بہت سارے ماہر آثار قدیمہ کا بھی کہنا ہے کہ یہ پرانی سلطنتِ ڈیوڈ کے زمانہ کی مرکزی عبادت گاہ ہے۔ یہ وہ مقام بھی ہے جہاں ستمبر ۰۰۰۲ءمیں فسادات بھی پھوٹے تھے جس سے حالیہ انتفادہ کا آغاز ہوا۔ اِن فسادات سے چند روز قبل ایرئیل شیرون نے ٹمپل ماﺅنٹ کی جانب پیدل سفر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ امن کے عمل کے ناکام ہو جانے کے حالات میں اسرائیل نے یروشلم تقسیم کرنے کی پیشکش کر دی۔ شیرون نے کہا کہ وہ صرف یہ دکھانا چا رہے تھے کہ ماﺅنٹ ٹمپل کا کھلا میدان یہودی عبادت گزاروں کےلئے کھول دیا گیا ہے۔ وہ کس کو بیوقوف بنانا چاہ رہے تھے؟ قدامت پسند یہودیوں کے دوست کی حیثیت سے شیرون نے حساب لگایا کہ اُن کا ایسا دورہ اب تک کی معلومات کے مطابق اُن کی وزیر اعظم بننے کی جدوجہد کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ سیاست کا شکی و سنکی خاموش ناٹک۔ اسی سنکی سیاست کا اظہار کرتے ہوئے ویسٹ بینک میں عرفات کے چیف اسیکیورٹی نے شیرون کے دورہ کی منظوری دے دی تھی(۲۱)۔ بعد میں فلسطین کابینہ کے ایک وزیر کو معلوم ہوا کہ عرفات تو انتفادہ کےلئے کئی مہینوںسے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اُن کو اس بنیاد پر اس منظوری سے انحراف کی ضرورت ہے اور صرف اس بناءپر شیرون کا ٹمپل ماﺅنٹ کے سیر سپاٹے کا نہ ہو سکنے والادورہ فلسطینیوں کے خلاف چلا گیا۔۔ فقط انحراف کی وجہ سے۔ انتفادہ کا آغاز ہو گیا۔ دی ڈوم آف دی راک اور ملحقہ مسجد الاقصیٰ کے آہنی دروازے ہر کسی کےلئے بند ہو گئے بجزمقامی مسلمانوں کے۔ تب سے پرانے یروشلم کا یہ حصہ ۔ ۔ جو کبھی یہودیوں، عیسائیوں ،مسلمانوں اور کسی بھی منظم عقیدے سے تعلق نہ رکھنے والے لوگوں کے لئے باعثِ کشش ہوا کرتا تھا۔۔ اپنی عالمگیر اتحاد کی قوت سے خالی ہو گیا۔
میں ایک سادہ سے لباس میں ملبوس دروازے پر پہنچی، یہ لباس میرے ٹخنوں تک پھیلا ہوا تھا جس کے ساتھ میں نے لمبی آستینوں والا سویٹر پہنا ہوا تھا جس کے بٹن آگے سے بند تھے۔ میں اپنی نوکیلی چست ٹوپی پہننے پر متامل تھی۔ جو کسی نہ کسی طور میرے سر پر پتلی پٹی کی طرح لپٹے حجاب سے ملتی جلتی تھی۔ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اس جگہ کی نگہبانی کرنے والوں کو پہلے ہی اطلاع دے دی ہوئی تھی، ایک مذہبی ادارہ وقف کو کہ میں پہنچ رہی ہوں۔ پیغام یہ تھا: ’اس کو مشکل وقت نہ دیجئے حضرات، یہ آپ میں سے ہی ہے۔‘
وقف کے ایک ہٹے کٹے رکن نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ اُس نے وزارت سے کسی قسم کے پیغام ملنے کی نفی کی۔ میرے گائیڈ نے اُسے یقین دہانی کرائی کہ پیغام بھیجا گیا ہے۔ وقف کا آدمی اپنے ’واکی ٹاکی‘ میں بڑبڑایااور چند منٹ بعد ایک دوسرا ریچھ نما بھائی مٹرگشت کرتا آ پہنچا۔ میں اُس وقت اس بات کا اندازہ نہ کر پائی کہ تاخیر کا باضابطہ نوٹس ملنے یا نہ ملنے سے کیا تعلق ہے۔ میرا نام ارشاد دونوں جنسوں کےلئے ہے اور مردوں میں عورتوں سے کہیں زیادہ پایا جاتا ہے۔ جب اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے میرے بارے وقف کو اطلاع دی ہو گی، میں شرط لگاتی ہوں کہ یہ لڑکے (وقف کے) سمجھے ہونگے کہ انہیں کسی مرد کاسامنا کرنا ہے۔
جیسا کہ میرے جلو میں کوئی مرد مسلمان نہیں تھا، اَب کیا کروں؟ یہ حجت تب تمام ہوئی جب یروشلم پولیس کے ایک افسر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میں مجھے اندر ایک نگہبان کے ساتھ چلنا ہو گا۔ مگر اس سے پہلے کہ میں اس مقدس زمین میں داخل ہوںمجھ پر ایک اور بات لاگو ہوئی۔ وقف کا ایک رکن ہاتھ میں پٹی پکڑے بھاگتا ہوا آیا اور مجھ سے بولا کہ میں اس کو اپنے اوپر باندھ لوں۔ ابھی میں نے برہمی کا آغاز نہیں کیا تھا اور اُسے لرزتے ہاتھ کے ساتھ اپنے ملبوسات کے ساتھ باندھنا شور کر دیا۔ ’نہ، نہ، نہ!‘ میں نے اپنی طرف اٹھتی ہوئی ایک سخت گیر انگلی پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالی۔ وہ پٹی کو میرے کپڑوں کے اوپر چاہتا تھا، نیچے نہیں(۳۱)۔
مقدس لغویات ۔۔ مجھے معاہدہ عمر یاد آیا! کپڑوں کے اوپر پٹیاں باندھنا ایک شرط تھی جس کو ’حفاظت‘ میں لئے گئے تمام لوگوں کو پورا کرنا ہوتا تھا۔ میں ایک مغربی مسلمان عورت کی حیثیت سے وقف کی نظروں میں مذہبی اقلیت کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ جہنم میں جاﺅ، میں ایک جاسوس یہودی بھی ہو سکتی ہوں۔ اس سے زیادہ اگرچہ یہ ہے کہ میں ایک کمتر شے ہوں۔
میں نے اپنی زبان بند رکھی، اپنے حجاب کوسامنے سے باندھا، ایک لمبی سانس لی اور اپنے جسم کو ادھر ادھر ہلایا اس امید میں کہ پٹی میرے کولہوں کے اوپر بیٹھ جائے۔ یہ امید کرتے ہوئے کہ یہ سپرنگ (پٹی) ہمیشہ قائم رہے گی لیکن ’اتنی بھی‘ ابدی نہ ہو۔ میں نے اپنے نگہبان کے ذریعے اپنے فسطائی زدہ فیشن بھائی کو بتایا کہ یہ پٹی میرے لباس پر ٹھیک فٹ نہیں ہو رہی۔ اُس نے تیوری چڑھائی۔ میں نے جواباً غرانا چاہا مگر ’نباہ کرنا پڑا‘۔
وقف کے آدمی نے پٹی کو میرے لباس کے اندر جاتے دیکھا۔ اُن نیک مسلمان لڑکوں نے ڈھٹائی کے ساتھ مجھے گھورا جب میںبالا لہریا چال کے ساتھ اس شے کے بارے محتاط ہو گئی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میں نے اپنے لباس کے نیچے صبح سائیکل سواری کی نیکر پہن لی تھی۔
اس ساری حزیمت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میں اور میرا نگہبان دروازے سے اندر چلے گئے۔ ہم اٹک اٹک کر جا رہے تھے کیونکہ پٹی میری رفتار کا تعین کر رہی تھی۔ اس دوران پولیس افسر ٹمپل ماﺅنٹ کے کھلے میدان میں مجھے ملنے پہنچ گیا ۔ اُس نے ہمارے معلوماتی دورہ کو تھوڑی اسلامی تاریخ بیان کر کے آگے بڑھایا۔ وہ ایک فوجی ہوا کرتا تھا اور اُس کو بہت کچھ یاد تھا جو اُس نے پرانے شہر میں اپنی فوجی تعلیمات کے ہلے میں پڑھا تھا۔ میرے مخصوص سوالات جو میں وقف سے کرنا چاہتی تھی، اُن میں سے ایک یہ تھا کہ عربی میں ’بھول جائیے‘ کیسے کہتے ہیں؟ وقف نے مجھے واپس یادگار تصویر لیجانے کےلئے اتارنے نہ دی، انہوں نے (وقف کے لوگ) کسی قسم کی بات چیت میں حصہ نہ لیا۔ اس کے برعکس ایک یہودی نے وہاں میرا استقبال کیا۔ یا پھر ہمارے مشترکہ مذہب اور ٹمپل ماﺅنٹ کے بارے مشترکہ صدیوںپرانی تاریخ کی وجہ سے یہ انتہائی مناسب تھا۔
مجھے پولیس اپنے جلو میں مسجد اقصیٰ کے دروازوں تک لے گئی۔ میں نے جیسے ہی اپنے سینڈل اتارے، پھر اندر داخل ہونے کےلئے اپنے حجاب کو درست کیا تو ایک بوڑھا شخص دیوار سے کھسکتا ہوا بڑھا اور میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میرے راستے کو روکنے لگا۔ میرے نگہبان اور میں، ہم دونوں نے اُسے یقین دہانی کرائی کہ میں منظور شدہ ہوں لیکن یا تو وہ ہمیں سمجھ نہیں پا رہا تھا یا ہم پر یقین نہیں کر رہا تھا۔ ہم نے وقف کو بلایا۔ ممکن ہے کہ میرے اندر بدھ مت ہے جس کی بناءپر مجھے اُن سے کوئی توقع نہ تھی اور جس کے نتیجہ میں میری حوصلہ شکنی بھی نہیں ہو رہی تھی۔ ایک طول پانے والے خالی وقفے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم تمام کھڑے یہ دیکھتے رہے کہ ہم کتنے حصے بخروں میں ہو جانے والی مسلمان قوم ہیں۔
تب کہیں جا کر بوڑھے نے ٹیٹرھی آنکھ کو سیدھا میری طرف کرتے ہوئے قرآن کی پہلی آیت کی پہلی سطر اُگلی، ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم! ©‘اُس کے عمل تصریف میں کوئی خاص بات تھی۔ کیا وہ اگلی سطر میرے منہ سے سننے کا امتحان لینا چاہتا ہے؟ میں نے تڑختے ہوئے جواب دیا۔ ’الحمد وللہ رب العالمین‘۔
’الرحمن الرحیم‘ اُس نے جواب داغا۔
مدرسہ کی سالوں کی تربیت کام آئی، ایک بدمزاج بوڑھے شخص کے ساتھ یروشلم کے ٹمپل ماﺅنٹ میں نماز کا مکالمہ۔ ’مالک یوم الدین‘ میں نے پلٹا دیا۔ مزید چند راﺅنڈز کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ میں نے خود کو اس بات کا اہل ثابت کر دیا ہے کہ بوڑھا ایک مسلمان کو عبادت کرنے کے حق سے روکنے کا خدا کو جوابدہ ہو گا۔
اُس نے مردہ دلی کے ساتھ مجھے دروازے سے گزرنے دیا۔۔ اس آخری شرط کے ساتھ۔ اُس نے کہا، مسجد کے اندر مجھے کیمرہ سے دستبردار ہونا ہو گا کیونکہ کسی جاندار کی تصویر اتارنا جس کے اندر روح ہو، بت پرستی کو ہوا دینا ہے۔ ذرا رکئے۔ کیا وہ مسلمان نہیں تھے جنہوں نے اسلام کے سنہری دور میں بصری نقش گری ایجاد کی تھی؟ کیا اُن کی ایجاد نے انیسویں صدی میں فوٹو گرافی کی بنیاد نہ رکھی؟میں نے اس خیال کو ذہن بدر کیا۔ عقلمندی کا یہی تقاضہ تھا کہ میں اپنی چونچ بند رکھوں اور اپنا کیمرہ نگہبان کو تھما دوں۔
الاقصیٰ مسجدکے اندر دنیا بوڑھے کی منجمد کائنات سے بالکل مختلف تھی۔ یہ گوشہ عافیت مخلوط نوعیت کا تھا۔ مردوں اور عورتوں کو کوئی دیوار الگ الگ نہ کرتی تھی۔ میں نے غور کیا کہ صرف ایک عورت شاندار اونی قالین پر بیٹھی تھی، اُس نے خود کو بڑھتے ہوئے مرد نمازیوں سے ایک فاصلے پر رکھا ہوا تھا۔ مگر کم از کم وہ وہاں پر تھی، مرد نمازیوں کے درمیان۔ کچھ مرد سوئے سوئے نظر آ رہے تھے، دیگر نہائت خوبصورتی کے ساتھ ڈیزائن کی گئی راہداریوں پر گرے پڑے تھے یا فرش پر بکھرے ہوئے تھے، دوپہر کی گرمی سے نڈھال۔ ایک طرح سے اسی لئے میں نے محسوس نہ کیا کہ میرا جائزہ لیا گیا جب میں اندر ٹہل رہی تھی۔
تردید: میں مسح کرنے والوں کی نگاہ میں تو نہ آئی۔ تاہم میرا بغور جائزہ لیا گیا۔ دور ایک نکر میں لڑکوں کا ایک ٹولہ اُس عورت پر کھی کھی کر رہا تھا جو شاندار ایوانوں کو ہلکے سے چھو رہی تھی اور اپنے سر کو اٹھائے مختلف سمتوں میں اوپر اور آس پاس دیکھ رہی تھی۔ لڑکوں کے استاد نے انہیں آرام سے خاموش رہنے کو کہا۔ میں محتاط ہو کر اُستاد کی طرف بڑھی کہ کہیں میں موجب زحمت تو نہیں۔ وہ احمقانہ سی ہنسی ہنسا اور عربی میں میرا استقبال کیا لیکن جب اُسے اندازہ ہوا کہ میں انگریزی جانتی ہوں تو اُس نے انگریزی بولنا شروع کی۔ ’آپ کہاں سے آئی ہیں؟‘
’ٹورونٹو‘
’ آہا، اچھا آپ ہیں، ہمیں آپ کی آمد متوقع تھی‘۔ (لہذا اسرائیلی وزارت خارجہ نے وقف کو مطلع کیا ہوا تھا، تب یہ سرا کھلا کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ تھا جو مختلف حربوں کو استعمال کرتے ہوئے بروئے کار لایا گیا جس کا سامنا مجھے دروازوں پر کرنا پڑا)۔
’ اچھا ہے، میں خوش ہوں کہ میں نے کسی کو ایک دم اپنی آمد سے حیران نہیں کیا‘۔ میں نے ہم دونوں کے درمیان ظاہری گرمجوشی کے مطلب کو پا لیا۔’جناب کیا آپ مجھے اپنی اور اپنے شاگردوں کی تصویر بنانے دیں گے؟‘ میرے اس استفسار کا مطلب بہت گہرا تھا۔
’کوئی مسئلہ نہیں‘، اُس نے جواب دیا۔
ا ٓہا۔ ہر کوئی بوڑھوں کی اس بات سے متفق نہیں ہوتاکہ کیمرے کے اندر جانداروں کو عکس بند کرنااُن کو مقدس ٹھہرانے کے مترادف ہے۔ اگر قرآن کو پڑھانے والا، خاص طور پرمذہب کی ایسی شل کر دینے والی باتوں سے خود کو روک سکے تب ممکن ہے کہ بہت ساری توضیحات فلسطینی تحریک کے اِس مفسدانہ ماحول میں پیدا ہو سکیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اِن توضیحات کو کسی قسم کے ردعمل کے خوف کے بغیر بیان کر دیا جائے۔
اب مجھے کھینچنے کی غرض سے ایک یادگار تصویر مل گئی تھی(۴۱)۔ تاحال پٹی میں لپٹی میں مسجد سے بطخ کی چال کی مانند نکل آئی۔ خاص طور پر اپنے نگہبان کی توجہ حاصل کی، کیمرے کو سیدھا کیا اور گھٹیا کام (تصویر اتارنے والا) کو ادا کیا۔ جب میں نے استاد اور اُس کے شاگردوں کا شکریہ ادا کیا، میری آنکھوں نے کچھ دیکھا۔ قرآن کا ایک طالبعلم ہیبرو زبان کی لکھائی والی ایک ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا۔ کسی دوسرے مقام پر میں اس بات کو دوسری نگاہ کے لائق نہ سمجھتی۔ جاری و ساری انتفادہ کے گراﺅنڈ زیرو پر آپ یقین کر سکتے ہیں کہ میں نے دوبارہ اُس ٹی شرٹ پر نظر ڈالی تھی۔
میرا اگلا پڑاﺅ ڈوم آف دی راک تھاجہاں میں نے عورتوں اور مردوں کی اکثریت کو نماز پڑھتے پایا۔ میں نے ایک ایسا اندرونی حصہ بھی دیکھا جس پر مسجد اقصیٰ کا نمایاں اٹھتا ہوا پینٹ نہیں تھا۔ ممکن ہے اندر طاری اندھیرامسجد کے وسط میں ’راک‘ پر سپاٹ لائٹس سے پڑنے والی روشنی کی وجہ سے ہو جس کے نتیجے میں ہر دوسری شے اندھیری نظر آ رہی تھی۔ میں مرکزی حصے میں پہنچ گئی۔ لکڑی کی اونچی باڑھ کی رکاوٹوں کے سبب ’راک‘ کی سطح بمشکل نظر آ رہی تھی خاص طور پر اگر کسی کا قد چھوٹا ہو۔ جیسا کہ میرا تھا۔ سو میں نے اپنا دھیان کسی اور بات کی جانب مبذول کیا جو میری توجہ کھینچ رہی تھی اور وہ اس مسجد میں ایک صاف گوخاتون کی صورت میں تھی۔
وہ نیو جرسی میں ایک اسکول کی پرنسپل تھی جو یروشلم میں پیدا ہوئی اور اکثر اپنی بہن سے ملنے یروشلم آتی رہتی تھی۔ ہماری بات چیت کے دوران پرنسپل کو معلوم ہوا کہ میں ٹی وی کےلئے کام کرتی ہوںاور میں ایک ’سیریز‘ بنانے کےلئے آنا چاہونگی۔ ’براہِ مہربانی‘ اُس نے زور دیا، ’ہمارے ریفیوجی کیمپ سے اپنے لئے کام کرنے والے لوگوں کو چنو، اگر وہ وڈیو کیمرہ اور مائیکروفون کے بارے کچھ نہ جانتے ہوں تو تم اُنہیں سکھا سکتی ہو۔‘
میں نے ایک طنزیہ جملہ کسا کہ ٹی وی پروڈکشن بھی اسرائیل فلسطین سیاست کی طرح ہوتی ہے۔۔ایک سادہ سے نتیجے کی خاطر مضحکہ خیز عمل۔ اُس نے میرے چٹککلے کو نہ سمجھا، وہ وہاں کی بحرانی کیفیت میں اُلجھی ہوئی تھی۔ ’ہمارے لوگ کچھ کرنا چاہتے ہیں، یہاں کام نہیں ہیں، یہاں ایک طویل عرصہ سے کچھ نہیں ہوا۔‘
’مگر اُس تمام غیر ملکی امداد کا کیا ہوا جو فلسطینی حکام کو مغرب سے ملتی ہے؟‘ میں نے پوچھا۔ میں نے اُس اضافی رقم کو سامنے لانے کی کوشش نہیں کی جو اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے بحالیات نے تین نسلوں سے فلسطینی مہاجروں کےلئے وقف کی ہوئی ہے(۵۱)۔ ’ہم اُن کروڑوں ڈالر کی بات کر رہے ہیںجو لیبارٹریوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور مرکزی کاروباری علاقوں کےلئے تصرف میں لائی جا سکتی تھی۔ کیوں ابھی تک آپ کے یہ ریفیوجی کیمپس ہیں؟ وہ ساری امداد کہاں جاتی ہے؟‘
’ مجھے اس سارے معاملے کا علم نہیں لیکن کچھ جانتی ہوں۔۔۔۔‘ اُس نے یوں تاثر دیا کہ جیسے کچھ نقدی جیب میں ڈال رہی ہو۔
’بدعنوانی؟‘
’اُدھر دیکھو‘ وہ مسجد کے بری طرح کھرونچ زدہ ستون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑ بڑائی۔ ”مسلمانوں کے پاس تو حتکہ اس خوبصورت جگہ کی مرمت کےلئے پیسے نہیں ہیں“۔
’ایک منٹ ٹھہرو‘میں نے یوں جواب دیا جیسے تھوڑی ہرجائی ہوں۔ ”کیا یہ ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں یا پھر ہمارے پاس لیڈر شپ نہیں جو پیسے کا صحیح استعمال کر سکے؟ “
”خدا بہتر جانتا ہے۔“ اُس نے اگلی سانس کے ساتھ درحقیقت جواب دیا۔ ’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فکر نہ کرو جب تک مسجد باہر سے ٹھوس اور مضبوط ہے“۔
’یہ (مسلمان) فقط علامت نگاری کی پرواہ کرتے ہیں لوگوں کی نہیں‘۔
دوپہر گزر چکی تھی اور مجھے ڈنر سے پہلے ایک اور مقام پر رکنا تھا۔میں نے جلدی چند تصویریں اتاریں(۶۱)، عورتوں کی، ستون کی، بچوں کی، راک کی اور اُس کے بعد نکل پڑی اس احساس کی تنگدامنی کے ساتھ کہ ہمارے اندر کس قدر بے انصافی پائی جاتی ہے جیسے خدا کے نام پر یہ پٹیاں ہیں۔ میرے نگہبان نے مجھے دروازے تک پہنچایا جہاں سے یہ سارا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس بارمیں ایک چھوٹی دوزانو عمارت کے پیچھے کھسک گئی تاکہ اپنے اس پریشان کن لباس (پٹی) سے جان چھڑا سکوں۔ میں اسے بخوشی وقف کے حوالے کرنا چاہ رہی تھی۔ میں انہیں کینہ پرور نگاہ ڈالنے کا موقع دینا نہیں چاہتی تھی۔
کسی نے مجھے مغربی دیوار پر ہراساں نہ کیا۔ مجھے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ یہودی عورتوں نے مردوں کے ساتھ برابر کی شرائط پر عبادت کرنے کے ضمن میں اپنی جنگ آپ لڑی ہے۔ وہ تو اپنی جنگ کو عدالت تک لے کر گئیں۔ کچھ عورتوں کے ساتھ جھگڑے ہوئے، حتکہ اُن کو دیوار کے مقام پر جسمانی چوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالتی فیصلوں پر ہنوز پورا عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ وقف کے ساتھ میرے تازہ تازہ تجربے کی بنیاد پر میں بہر حال شکرگزار تھی کہ یہاں پر کوئی شخص مجھ پر نظر نہیں ڈال رہا تھا، کوئی مجھے ڈکٹ ٹیپ کے برابر بھی کپڑا لینے کا نہیں کہہ رہا تھااور کوئی مجھے پارہ یا آیت دکھانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ ایک خون کے غالب تعلق کا سارا مقصد تو ڈرانا دھمکانا ہے۔
مغربی دیوار پتھر کی عمارت کا سامنے کا حصہ ہے جسے بے شمار زائرین پوری دنیا سے یہودیوںکی مناجات کو کاغذوں کے ٹکڑوں پر لکھے تھامے کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ ایک ریوڑ کی طرح دیوار کی طرف منہ کرتے ہیں کیونکہ یہودی عقیدے کے مطابق یہ کمیونٹی ٹمپل کا واحد حصہ ہے جو ایک بار وہاں پر کھڑا کیا گیا تھا جہاں ’ڈوم آف دی راک‘ ٹمپل ماﺅنٹ پرآج ہے۔ ہیبرو بادشاہ ڈیوڈ کے بیٹے سلیمان نے ’ٹمپل‘ کو پرانے اسرائیلیوں کی خدا کے حضور قربانیوں کے مرکز کےلئے قائم کیا تھا۔ اہلِ بابل نے پہلے ’ٹمپل‘ کو تباہ و برباد کر دیا تھااور یہودیوں نے دوسرا’ٹمپل‘ ۵۱۵ قبل مسیح میں تعمیر کیا۔ سن ستر عیسویں میں رومنوں نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، دوسرے ٹمپل کو زمین سے مٹا دیا اور یہودیوں کو اُن کی سلطنت سے نکال باہر کیا۔ صدیوں تک عیسائیوں نے ٹمپل ماﺅنٹ کی زبوں حالی یہودیت کے زوال کی مذہبی علامت کے طور پر ہونے دی۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آخرِکار مسلمانوں نے مقدس شہر کو لے لیا۔ انہوں نے ٹمپل ماﺅنٹ کی آب و تاب کو اسلامی نقش ونگاری سے بحال کرنا شروع کر دیا، پہلے مسجد الاقصیٰ پھر ’ڈوم آف دی راک‘۔۔ اگرچہ مسلمانوں نے یروشلم کو مسلمانوں کےلئے کھول دیا، دوسرا ٹمپل لولا لنگڑا ہی رہا۔ مسلمانوں نے کبھی اس کی مرمت نہیں کی۔ جبکہ قدامت پسند یہودیوں کےلئے یہ جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہئے۔ ٹمپل کی ازسرِ نو تعمیر مسیحا کا کام ہے جس کا وہ ابھی بھی انتظار کر رہے ہیں۔ تب تک مغربی دیوار یہودیوں کےلئے مرکزی نیوکلیس کا فریضہ سرانجام دیتی رہے گی۔۔ ماضی کی بغیر چھت والی، مستقبل، طاقت اور پستی کی یاد۔۔
میں وہاں تک تیزی سے پہنچ گئی کیونکہ مغربی دیوار یروشلم کے مسلمان حصہ سے ملحق ہے۔ پہلے تو میں حیران رہ گئی کہ یہودی مسلم اشتراک تو ٹمپل ماﺅنٹ کے ساختیاتی ڈیزائن میں بھی موجود ہے۔ بعد میں مجھے ایک اخباری مضمون بھی دیکھنے کو ملا(۷۱) جو یہ پرانی شکایت کر رہا تھا کہ یہ اشتراک یہودیوں کےلئے کسقدر وبال ہے کہ انہیں مغربی دیوار میں پانی رسنے کی مرمت کےلئے بھی وقف سے استدعا کرنا پڑتی ہے۔ امن کی خاطر، آپ نے دیکھا کہ اسرائیل نے ٹمپل ماﺅنٹ کی بحالی کے اختیار کا بڑا حصہ مسلمانوں کو دے رکھا ہے۔ ہم خود مختاریت کی بات نہیں کر رہے صرف انتظامی کنٹرول کی بات کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کا کنٹرول دیوار کے تمام تر حصے تک پہنچ جاتا ہے اور دیوار کے پیچھے ہر شے کا احاطہ کئے ہوتا ہے جیسا کہ ’ڈوم آف دی راک‘ کا ٹوٹا ہوا ستون۔ آپ اسرائیلی قبضے کو بہت ساری توڑ پھوڑ کا الزام دے سکتے ہیں، مگر اُس توڑ پھوڑکا نہیں۔
میں نے ایک پنسل کسی سے پکڑی اور خدا کے حضور ایک گذارش گھسیٹی، پھر ہجوم میں سے جگہ بناتی ہوئی دیوار تک پہنچ گئی ۔ جیسا کہ میں نے ایک خالی درز ڈھونڈنے میں وقت صرف کیا اُس نے میری دعا کو گرفت میں لے لیا۔ مجھے احساس ہوا کہ کسی یہودی نے مجھے پیچھے سے پکڑا ہوا ہے۔ اس کے باوجود مجھے یہ دخل درمعقولات نہیں لگا۔ مجھے لگا کہ میں اپنی ہی جگہ پر ہوں۔ پہلے سے کہیں زیادہ وجدانی طور پر میں جانتی ہوں کہ میرا خاندان کونسا ہے۔
مجھے بتائیے کہ کیا میں حد سے زیادہ پُرتپاک ہوں لیکن میں اتنا سمجھتی ہوں کہ جب میں ’خاندان‘ کہتی ہوں تو میرے ذہن میں پیغمبر محمد یا ابراہیم کی تصویر نہیں ہے بلکہ وہ چھوٹا بچہ ہے جس کی جانب میں بھاگتی ہوں درحقیقت وہ میرے اندر گھسا چلا آتا ہے۔ ۔۔صبح سویرے۔ ’ڈوم آف دی راک‘ کی جانب جاتے ہوئے میرا گائیڈ مجھے پرانے شہر کے یہودی رہائشی علاقے سے لے گیا۔ ہم اجتماع کے ایک سیلن زدہ مقام میں داخل ہوئے جو پتھروں سے سنوارا گیا تھااور جہاں بچوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ بچے ادھر اُدھر چڑھ اُتر رہے تھے۔ میرے گائیڈ نے مجھے بتایا کہ یہ وہ میدان ہے جس کے بارے قدامت پسند مائیں سمجھتی ہیں کہ یہاں اپنے بچوں کو لیجانا پُرتحفظ ہے، خاص طور پر یشیوا (مذہبی اسکول) کے بعد۔ چند سیکنڈ بعد(۸۱) ایک لڑکا کِپا پہنے ، (کِپا کی) عبادت گاہوں پر پیچدار تالے مقفل نظر آ رہے تھے اور اُس کی عبادت کی شال کی دھاریاں اُس کی کھلی کالی پینٹ پر جھلکی جا رہی تھیں ، ایک نکر پر مڑا اور میرے اندر ہل سا پھیر دیا۔ وہ ایک پتلے سلور رنگ کے اسکوٹر کو چلا رہا تھا، جو ایک آگے بڑھتے ہوئے معاشرے کی علامت ہے اور اس علامت کو قدامت پسندی بڑھاوا دے رہی ہے۔ حتکہ لفظ پرست یہودیوں کو جدیدیت سے الگ تھلگ رہنے کی ضرورت نہیں ہے، اس سے زیادہ مواقع اور جذبے کیا ہونگے جو مرکزی یہودیوں کو میسر ہیں؟
جب میں نے اس کا ذکر ولولے کے ساتھ اپنی سیکولر یہودی دوست کے ساتھ کیا تو اُس نے اپنا قصہ مجھے سنایا۔ برطانیہ میں پلنے بڑھنے اور اپنے یہودی ورثے سے دوری کے باوجود ازابیل کرشنرنے نوخیزی کی عمر میں اسرائیل پہنچنے پر خود کو ہر قسم کی مہم جوئی کےلئے تیار رکھا۔ یوں مغربی دیوار کے مقام پر ایک قدامت پسند یہودی نے اُس کا انتخاب کیا اور یشیوا میں مفت تعلیم کی پیشکش کی۔ محتاط لوگوں کےلئے یہ پیشکش سنسی خیز ہوتی ہے لیکن ازابیل بھی ایک پستول نکلی۔ وہ وہاں پہنچ گئی۔ ’وہاں کا ماحول شاندار تھا(۹۱)‘ اُس نے مجھے یروشلم کے ایک ریسٹورانٹ میں بتایا۔ ’لوگ مخلص اور دھنی تھے اور انہوں نے میرے سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی، ”پوچھتی رہو“ وہ مجھے شہ دیتے تھے۔ آخرِ کار وہ میرے سوالات کا جواب نہ دے سکے، لہذا انہوں نے مجھے ربی کے پاس بھیجا۔ کچھ ہفتوں بعد میں نے فیصلہ کیا مجھے یشیوا کا تو پتہ چل گیا ہے اور کچھ اور جاننے کےلئے یشیوا کو چھوڑ دیا۔ یہ ایک عمدہ تجربہ تھا، کسی نے مجھے مفسد قرار نہیں دیا۔ ‘ آج وہ یروشلم رپورٹ میگزین کی سینئرنامہ نگار ہے، ازابیل عوام میں ایک ابھرتی ہوئی روشن صحافی کے طور پر جانی جاتی ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ یشیوا کا ہر طالبعلم ایسا نہیں ہو سکتا۔ اسرائیل کے ایک طویل عرصہ سے غیر ملک میں مقیم نامہ نگار جم لیڈرمین ایک اہم پس منظر پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’کٹر ربیوں نے اپنے مقلدین پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی بندش لگا رکھی تھی(۰۲) اس بناءپر کہ جو کچھ وہ انٹرنیٹ سے حاصل کرتے تھے۔ اور حال ہی میں وہ اِس کو قائم کرنے میں متفق ہوئے ہیں جس کو وہ یونیورسٹی کہتے ہیں۔ مگر۔۔۔ انہوں نے خاص طور پر تاریخ، ادبیات، نظریہ ارتقاءکو زیربحث لانے والے سائنسی علوم جیسے بیالوجی اور آسٹروفزکس، اور فلسفہ پڑھانے پر بندش لگا دی ہے۔‘ میں اس محاذ کے منظرنامہ کو تھوڑا اور بیان کرونگی۔رواج کی پیروی کرنے کا دباﺅ ہر جگہ اپنے عقیدے پر اصرار کا موجب بنتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ انسان کی سرشت کا حصہ ہے۔ اسرائیل بطورمعاشرہ جو مختلف کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کو میں احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ اسرائیلی معاشرہ اپنے شہریوں کو پوچھنے اوراپنے تجربات مجتمع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہاں حقوق نسواں کی کوئی حامی دیوار گریہ تک رسائی کے برابر حق کے مسئلہ پر حکومت پر دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔یہاں ایک نوعمر لڑکی بدنامی کا داغ لئے بغیر یشیوا کو چھوڑنے کا سوچ سکتی ہے۔ یہاں ایک یہودی مدرسے کا لڑکا آج کی تجارتی مقبول چیز کے استعمال کا علمبردار ہو سکتا ہے۔یہاں لوگ اپنی صلاحیتوں کا بہت ساری چیزوں کے لئے استعمال کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں جیسا کہ وہ خود خدا کی بہت ساری صفات کی عکاسی کر رہے ہوں۔
فلسطینی علاقوں کا سفر جاری و ساری ہے۔ خیر ایک علاقہ تو بہرحال ہے، ویسٹ بینک۔ ناشتے پر ہمیں ایک سفارتکار نے’ بریفنگ‘ دی جو براہ راست فلسطینیوں کے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہ اُن پر اعتماد رکھتا تھا۔ ” یہ وہ لوگ ہیںاگر انہیں اُن تک چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنی سمت کا تعین کرنا جانتے ہیں(۱۲)“، اُس نے بتایا۔ تاہم ’اُن تک چھوڑ دیا جائے‘ کا صاف مطلب ہے کہ اسرائیل کا فوجی قبضہ ختم ہو جانا چاہئے۔ اُس نے اشارہ دیا کہ اس کایہ بھی مطلب ہے کہ فلسطینی قیادت کی آمریت کو ایسی حکومت سے بدل دیا جائے جو اس بات کی قطعی پرواہ نہ کرے کہ اِن کا آئین کیا کہتا ہے اور کوئی پرواہ نہیں کہ یہ حکومت قومی مقصد (عرفات کے )سے کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔ ’فلسطینی بہت اعتبار سے اسرائیل سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں ۔ وہ اسرائیلیوں کی تقلید کرنا چاہتے ہیں‘، سفارتکار نے ہمیں ہمراز بنایا جب ہم اُس کی بلٹ پروف گاڑی میں ڈھیر ہوئے۔ ’میرے ڈرائیور نے مجھے ایکبار کہا‘، ”ہمیں یہاں (فلسطین میں) کیا چاہئے، وہی قانون کی بالا دستی جو اسرائیل میں ہے۔“ عوام کی تمنا اُسی (ڈرائیور) کی بازگشت ہے۔فلسطینیوں کی رائے کا تجزیہ کرنے والے خلیل شیکاکی کے مطابق، ’جب فلسطینیوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کس قسم کی جمہوریت کے مداح ہیں اور چاہتے ہیں تو آج کے روز تک اسرائیلی جمہوریت سرفہرست آتی ہے۔‘
ہمارے سفارتکار نے محسوس کیا کہ وہ اَب تک بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔ مزاج میں سراسیمگی، تربیت میں محتاط پن کے ساتھ وہ رمالا کے آدھ گھنٹے کے سفر کے دوران خاموش رہے۔ ایسا نہیں تھا کہ کوئی بات قابلِ بحث نہیں تھی۔ ہم نے اپنی پہلی سرحدی چوکی سے باہر ایک ٹریفک سگنل پر بریک لگائی۔ سڑک کے کنارے ایک بڑا سا بورڈکھڑا تھا جس پر بچوں کی تصویریں لپی تھیں۔ عربی زبان کی ایک سطر نعرے کے طور پر نمایاں تھی۔ میں نے سفارتکار سے اِس سطر کے ترجمہ کے بارے پوچھا جو صبح سے ہمارے لئے ڈرائیوری کر رہا تھا۔ پہلے تو اُس نے نہ سننے کا تاثر دیا، پھر نہ دیکھنے کا اور آخر کار ’قریب سے دیکھنے کےلئے‘ اپنی گردن آگے نکالی، اس موقع پر ٹریفک سگنل بدل گیا اور ہم نے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا دی۔ یہ اُس روز کا واحد غچہ نہیں تھا۔
ہم رمالا اُس روز پہنچے تھے جب اسرائیلی فوج نے کرفیو اُٹھایا تھا تاکہ اسیکنڈری اسکولوں کے طلباءامتحان دے سکیں۔ گلیاں خریداری کرنے والوں سے بھر گئیں جو اگلے ہفتے بھر کا راشن خریدنے کےلئے وقت ختم ہونے سے پہلے بھاگم دوڑ کر رہے تھے۔ گھوڑوں سے جتی ایک گاڑی ایک پرانی جیگوار کار اور نئی اوڈی کار کے درمیان کھڑی تھی۔ ”یورپین کمیشن کے مالی تعاون سے“ بہت ساری حجرہ نما عمارتوں کے باہر یہ لکھا تھا۔ یہ خستہ حال تھیں اور کچھ کے تو تختے بھی اٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے گاڑی سڑک کنارے کیچڑ میں کھڑی کی، اس سڑک کے آخر پر ہماری منزلِ مقصود ایک سفارتی ادارہ تھا۔ باہر سے یہ عمارت کسی بات کا پتہ نہ دیتی تھی، اندر سے اس کی بنت انتہائی بھس بھری تھی۔
میں توقع کے عین مطابق اپنے احساس کی چبھن کو روک نہ سکی۔ ہم وہاں پر سرگرم فلسطینیوں سے ملنے آئے تھے جن میں راجہ شہھادے ایک مصنف، وکیل اور غیرجانبدار انسانی حقوق کی تنظیم ’الحق‘ (انصاف) کے بانی ہیں۔ میں نے اُن کی موجودگی کےلئے کہا تھا، کم از کم وہ پرنٹ میڈیا سے تو تعلق رکھتے تھے، وہ ایک ایسی نرت اٹھتی انگلی ہیں جو’ دوسروں‘ کو قصوروار ٹھہرانے کےلئے بیٹری سے چلتی ہے۔ کسی صفحہ پر (اپنی کتاب کے) شہھادے نے ایک نازک سے فرق کو دکھانا چاہا۔ میں اُس سے اُس کی تازہ کتاب ’گھر میں اجنبی: مقبوضہ فلسطین کا ایسا دور‘ کے بارے بات چیت کرنا چاہتی تھی۔ یہ کتاب اُس کے باپ کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے ۔ اُس کا باپ عزیز پہلا نمایاں فلسطینی تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور دو ریاستوں کی بنیاد پر حل بھی پیش کیا تھا۔ شہھادے کے بقول عرفات کے ایک مصاحب نے عزیز کو ایک عربی ریڈیو میں ’قبیح ترین غدار‘ کے نام سے پیش کیا تھا۔ ’تمہیں اپنی غداری کی قیمت چکانا ہو گی(۲۲)‘ ایک بھاری بھرکم آواز نے فرمان جاری کیا تھا۔ ’ہم تمہیں ختم کر دیں گے، ہمیشہ کےلئے خاموش کر دیں گے، دوسروں کےلئے عبرت کی مثال بنا دیں گے۔‘ فلسطین کی انجمن وکلاءنے عزیز کا وکالت نامہ واپس لے لیا۔ کچھ سالوں بعد وہ مشکوک طور پر قتل ہو گیا۔ میں نے اندازہ لگایاکہ شہھادے کی بیباک کتاب شہھادے کی اس خواہش کا پتہ دیتی ہے کہ وہ امن کی راہ میں حائل آبائی رکاوٹوں پر مزید بات کرنا چاہتا ہے۔
جب ہم عمارت کے اندر پہنچے تھے تب وہ نہیں تھا بلکہ دو دیگر سرگرم سیاسی لوگ تھے۔ پہلے ڈاکٹر علی جرباوی ،ایک سیاسی تجزیہ نگار، نے تاریخ کا ایک طویل لیکچر دیا، پھر انہوں نے دل کو’ چھو‘ لینے والے دلائل سے ہمیں پرچایا۔ ’ہمیں اپنے ساتھ مذاق نہیں کرنا چاہئے۔ یہاں پر کوئی نرم قبضہ نام کی شے نہیں ہے۔ قبضے کا مطلب ہے کہ اپنی شناخت کھو دینا۔ آپ نے سرحدی چوکیوں پر دیکھا جہاں سے آپ گزر کر آئے ہیں، ہم تو حرکت تک کر نہیں سکتے۔‘
’خود کش بم دھماکے بند کروائیے، تب ہر کوئی نقل و حرکت میں ہو گا‘۔ کمرے میں موجود ایک صحافی بولا۔ ڈاکٹر جرباوی نے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ دھماکوں کے وبا بننے سے پہلے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کہیں زیادہ تھی۔ انہوں نے اپنی چھاتی کی جیب سے ایک سبز رنگ کا پاس باہر نکالا۔ ’میں اس کو اپنے ساتھ رکھتا ہوںجہاں بھی جاتا ہوں۔ کسی دوسرے شہر میں لوگ کسی دوسرے رنگ کا پاس ساتھ رکھتے ہیں۔ ہماری گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں دوسرے رنگوں کی ہیں۔ یہ نسلی عصبیت ہے(۳۲)۔‘پھر کیوں، کسی نے جملہ معترضہ کے طور پر کہا، عرفات ۰۰۰۲ءکے موسم گرما میں ایک آزاد ریاست کے سب سے سنہری موقع سے بھاگ گیا تھا۔۔ ایک ایسا منصوبہ جسے امریکی صدر بل کلنٹن نے فلسطینیوں کی اکثریت کی خواہش کے مطابق پیش کیا تھا؟ ڈاکٹر جرباوی نے اس پیشکش کو ایک دھوکے کا نام دیا اور کہا کہ یہ بنتوستان بنانے کی کوشش تھی یا نیم خود مختار کالونیاں بنانے کی سعی تھی جیسا کہ جنوبی افریقہ کے نسلی عصبیت والے عہد میں موجود تھیں۔ اگر یہ سب صحیح ہے تو ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں عرفات نے متبادل پیشکش میز پر نہ رکھی؟ کیوں اُس نے اِس عمل کو صریحاً رد کر دیا اور اپنے لوگوں کو مزید معاملہ کرنے کے امکان سے نکال باہر کیا؟
ایک تنازعہ والے مباحثہ کے دوران راجہ شہھادے کمرے میں دبے پاﺅں داخل ہوئے۔ اُس نے نیچی آواز میں ایک افسردہ و بے کیف سا انداز اپنائے رکھا۔ عبدالمالک الجابر، ایک دوسرے سرگرم سیاسی کارکن جو سارا وقت ڈاکٹر جرباوی کے ہی ہمنوا رہے، یہ یقین دلانے کےلئے بولے کہ نسلی عصبیت کا معاملہ ہماری مشکلات کی وادی تک ہی نہیں ہے۔ ’میری بیوی کے پاس یروشلم کی آئی ڈی ہے اور جب اُس نے اسرائیل خاص میں ہماری بیٹی کو جنم دیا(۴۲)۔۔۔‘ اُس نے اپنے نومولود بچے کی ہیلتھ انشورنس کے فارم پُر کرنے کے ضمن میں بیوروکریسی کے چکروں کی تفصیلات فراہم کیں۔ اُن کی کہانی کا سبق یہ تھا کہ نسلی عصبیت کے حالات نے عربوں کےلئے اسرائیل میںبھی آزار پیدا کئے ہیں فقط ویسٹ بینک یا غزہ کی پٹی کی بات نہیں ہے۔ ’ہم یروشلم کے باسی ہیں اور ہم تمام ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن نسلی منافرت کی بناءپر ہمارے حقوق سے انحراف کے راستے موجود ہیں ‘۔ اُس نے بتایا۔
وہ ٹھیک کہتا ہے۔ جمہوریت کسی ملک میںاقلیتوں کو ضرر پہنچانے کے حق میں نہیں۔ مثال کے طور پر دیکھئے، کتنے زیادہ فوجی رنگروٹ امریکہ کے ہائی اسکولوںکے اسکاﺅٹوں میں سے ہیں جو زیادہ تر ہسپانوی النسل ہیں۔ اسرائیل بھی نسل پرستی کا ارتکاب کرنے سے ماورا نہیں جیسا کہ ’ہارٹز‘ اِس بارے چھاپنے والوں میں سرفہرست ہے۔ تاہم تین ماہ کے طویل اور پیچیدہ طریقہ کار کے بعد الجابر اور اُس کی بیوی کو اپنی بیٹی کی ہیلتھ انشورنس کا اندراج کرانے میں کامیابی ہو گئی۔ لہذا کیا اِن کے حقوق آخرکار نہ ملے؟ یہ کوئی بال کی کھال اتارنے والی بات نہیں ہے اور نہ گورنمنٹ کو نسلی عصبیت کا ذمہ دار ٹھہرانے والی ہے۔
البتہ میرے پاس فوری نوعیت کے سوالات ہیں۔ اِن تین فلسطینیوں میں سے دو نے فریضے کے طور پر رٹی رٹائی باتیں بیان کیں، کیا تیسرے نے بھی ایسا کیا؟ یاپھر کیا ہم کچھ نہ کچھ سنیں گے۔۔ اِس بارے میں کہ کیسے ہمارا اُن کے خلاف کرخت دو لخت ہو جانا، یہودی بمقابلہ عرب، دونوں لوگوں کی مضحکہ خیز ی؟ تمام آنکھیں شہھادے پر تھیں۔ جھجھکو سا، وہ اپنی کتاب کھولنے لگا۔ ’اتاترک کے پٹھے! میں نے خاموشی سے داد دی۔‘
’صفحہ ۳۷۱‘، شہھادے نے اعلان کیا(۵۲)۔ اُس نے پڑھنا شروع کیا۔ ’نظریہ اور بلڈوز اس دھرتی کی نحوستیں ہیں۔ پہلی شے تحریک دیتی ہے اور دوسری ایک دن میں وہ کچھ ممکن بناتی ہے جوکئی آدمی مہینوں میں بھی نہیں کر سکتے‘۔ شہھادے نے اگلے چند منٹ اُس ٹیکنالوجی اور ایجنڈا کے بارے باب پڑھتے ہوئے لگائے جو فلسطینیوں کو بے دخل کرتے وقت اسرائیلیوں کے پاس تھے۔ اُس کی کتاب کو دو بار پڑھنے کے بعد اور کئی اہم پیراگراف کو عملی طور پر ذہن نشین کر لینے کے بعد میں نے غور کیا کہ اِن حالات میں شہھادے اہم حصہ تک پہنچنے سے پہلے رک جاتا ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جہاں اُس کا باپ کہتا ہے کہ فلسطین کا پائیدار حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، کسی پر بمباری کے نتیجہ میں نہیں۔ اُس کا ٹھیک ٹھیک یہ کہنا تھا، ’فقط سیاسی حل ہی کام آ ئے گا(۶۲)‘۔ ’اور جلدی قبل اس کے کہ کچھ بولنے کو باقی نہ رہے‘۔ سیاسی حل اور جلدی، بعینہ یہی موقع عرفات کے پاس تھا لیکن اُس نے اُس سے فائدہ نہ اٹھایا۔
میں ششدر تھی کہ شہھادے نے بات کو کہاں سمیٹا ہے۔ میں اس بات کو بھی سمجھتی ہوں کہ یہ باب خاص طور یہ جانتے ہوئے ختم ہوتا ہے کہ کیوں ایک بے لاگ دانشوردو ہم وطنوں کے سامنے خود کو سنسر کرتا ہے۔ فلسطین میں رہتے ہوئے، وہ اپنی کتاب میں جگہ جگہ لکھتا ہے، ’یہ سماج تباہی، حوصلہ شکنی کو ہوا دیتا ہے اوراُن کو کھا جانے والے متشدد حسد سے نیچے لاتا ہے جو آگے بڑھتے ہیں۔ یہ وہ سماج ہے جو تمہاری چاپلوسی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ تمہاری بیشتر توانائیاںایسے کام کرنے میں خرچ ہونگی جو تمہارے اعمال کو عوامی پذیرائی بخشیں کیونکہ تمہاری بقاءسماج کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھنے پر مشروط ہے(۷۲)‘۔ مجھے تل ابیب میں میوزیم کی نگران کی بات یاد آئی کہ ” یہ اُس کی احتیاط پسندی ہے کہ میرے ہم منصب نے میرے فون کا کبھی جواب نہیں دیا“۔ کل شکار کنندگان کے ساتھ مل کر چلنے سے انکار کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے جسے شہھادے کے باپ نے ادا کیا۔وہ ایک متحرک اور عوامی جذبے کے انسان تھے جنہیں کبھی آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔وہ ایک مثالی انسان بن چکے تھے(۸۲)۔۔‘میں اُن کے بیٹے سے پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا وہ اپنے بارے میں بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ مگر مجھے اپنا سوال سفاک سا محسوس ہوا۔ یہی کافی اہم تھا کہ اُس صبح جب رمالا کے لوگ گھوم پھر سکتے تھے، راجہ شہھادے نے آدھے سچ کے راستے سے ماورا ہو کر جرات کا اظہار کیا۔
ہماری ملاقات ایک دم اُس وقت ختم ہو گئی جب فلسطینیوں کو یاد آیا کہ اُنہیں اپنا پیام پہنچانے کےلئے اتنا ہی وقت ملا تھا اس سے پہلے کے کرفیو دوبارہ لگ جائے۔ ہم نے کمرے کو خالی کیا، بھوک لگی ہوئی تھی اور تھوڑے مضطرب بھی تھے کیونکہ منتظمین نے لنچ پر ہیم اور چیز کے سینڈوچز تیار کئے ہوئے تھے۔ ہیم اور چیز(۹۲)! صحافیوں کے ایک ایسے گروہ کےلئے جس میں ایک مسلمان اور چند یہودی شامل تھے۔ یہ لنچ سفارتکاری کے ایک گوشے میں دیا گیا تھا۔ اندازہ کیجئے۔
ہماری آپس میں اِس مڈبھیڑ کے دوران کہ اِس کھانے کے ساتھ کیا کیا جائے، میں ایک طرف ہٹ کر میگزین ریک پر رکھے مجلوں کی طرف بڑھ گئی۔
وہاں پر ۰۹۹۱ءکی دہائی کے وسط کے زمانہ کی رپورٹیں، مطالعے اور نصابی مجلے پڑھے تھے۔ میں نے چند ایک سے اپنا بیگ بھرا تاکہ میں وہاں کا نقطہ نظر بھی جان سکوں اور ہاں میں ٹوہ میں بھی تو لگی رہتی ہوں۔ یہ میرا متجسس پن ہی ہے کہ میں ائرپورٹ کے گرداگرد کتب خانوں کو چھان رہی تھی۔ یہ کتب خانے اِس بات کا عکس ہوتے ہیں کہ کوئی معاشرہ اپنے لوگوں کے لئے کس طرح کے خیالات رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
اُس رات واپس ٹورونٹو کی فلائٹ سے قبل میں بن گوریون ائرپورٹ میں داخل ہوئی، رمالا میرے سر پر سوار تھا ۔۔ اور کوشش تھی کہ ایسی کتب ڈھونڈ لوں جن میں اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حوالے سے مواد ہو۔ میں نے ایسی فقط دو کتب دیکھیں، ایک جو نسبتاً غیر جانبدار تھی اور دوسری عربوں کےلئے بالعموم ہمدردانہ تھی۔ اسرائیل اپنی حدود میں تاریخ دانوں کو سولات کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس لئے اُس کے قومی ائرپورٹ پر ایسی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ جائیے اور خود جائزہ لیجئے۔ جبکہ میں ابھی تک ویسٹ بینک میںسرگرم فلسطینی کارکنوں کے شدت کےساتھ عائد کئے گئے نسلی عصبیت کے الزامات کو سر سے جھٹک نہ سکی تھی۔ دن چڑھتا تھا اور گزر جاتا تھا، اِن گزرتے دنوں کو معلوم ہے کہ میں نے کیا دیکھا: جوان اسرائیلی عورتیں اور مرد اپنی چھاتیوں پر گنوں کو باندھے ہوئے ہیں۔ سرحدی چوکیوں کے درمیان دھول اڑاتی میلوں لمبی سڑکیں پیدل چلنے والوں کےلئے ہیں۔ روکھے فوجی جو عربی کا ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے چاہے انہیں آتا بھی ہو۔ شناختی کارڈ، کاٹ دار تاریں، مسلح ٹینک، پھیلتی ہوئی یہودی آبادیاں جو مضافاتی لگتی ہیں اور جنہیں ختم ہوتے سالہا سال لگیں گے اور تب تک فلسطینیوں کےلئے انصاف میں بھی اتنی ہی تاخیر ہوتی جائے گی۔ میں انسانی اخلاقیات میں ڈوبی ہوئی تھی مگر صورتحال مجھ پر آشکار ہوتی جا رہی تھی۔
جہاز میں میں نے رمالا سے اٹھائی ہوئی مطبوعات میں سے ایک کو کھولا جو ’فلسطینی مطالعہ کا مجلہ‘ کا ایک شمارہ تھا۔ اس پر ۷۹۹۱ءکی تاریخ تھی، وہ برس جب امن کی راہ کے وعدے میں ہنوز ایک برس تھا۔ پہلے مضمون میں لکھا تھا کہ جنہوں نے اسرائیل کی بنیاد رکھی انہوں نے جمہوریت کو دبا کر ایسا کیا۔ مصنف نے ایک یہودی رہنماچیم ویزمان کا ذکر کرتے ہوئے اُس کے اعتراف کا حوالہ دیا، ”ہم اپنے مقدمہ کا دارومدار عربوں کی اجازت پر نہیں رکھ سکتے، اگر اُن سے اُن کی اجازت کا پوچھا گیا تو وہ قدرتی طور پر ناں کر دیں گے(۰۳)۔“میں اِس مضمون کو جتنا پڑھتی گئی مجھے مصنف کی تلخی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔
میں نے اِسی مجلہ میں ایک ایسے شخص کا ’اعتراف‘ بھی پڑھا جو غزہ سے کئی برس بعد واپس لوٹا تھا۔ ۷۹۹۱ءمیں ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ اگر خود مختار فلسطین معرضِ وجود میں آ بھی چکا ہوتا اور وہ شخص آزادی کے بعد واپس اپنے وطن لوٹتا۔ وہ کیا دیکھتا، ایک ایسا معاشرہ جہاں ایمانداری کی قلعی کی گئی ہوتی(۱۳)، پرانی رنجشوں کوباہر نکالنے کےلئے مواقع ڈھونڈے جاتے۔ ’یہاںنئی نئی سفیدی کی ہوئی دیواریں ہیں۔۔ دیواریں جو ایک فلسطینی کے سیدھا اسرائیلی گولی لگنے سے مارے جانے کے بعد، فقط چند دنوں بعد تمام معلوم اور نامعلوم تنظیموں تعزیتی پیغامات سے پلاسٹر کر دی گئی ہیں جو اُس کو ہیرو اور شہید قرار دے رہی ہیںاور اُس کے قاتلوں کو ہولناک انجام کی دھمکی دے رہی ہیں۔ سچائی اور چمکتی ہوئی سفید دیواروں کو قربان کر دیا گیا ہے، جبکہ یہ طے ہے کہ مرنے والے کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ شہیدوں کی پیاس نہ بجھنے والی ہے، یہ ایک مستقل جذبہ ہے۔‘
حتکہ نسبتاً پُرامیدی کے دور میں مرنے کی خواہش نے فلسطینی مسلمانوں کو مرنے کی خواہش نے اپنے قبضہ میں لیا ہوا تھا، ایسا کیوں؟ ہمارے اعتراف کرنے والے کے بقول، ’یہ خواہش قبضے کی سختیوں کی وجہ سے ہی نہیں تھی‘، پھر ممکن ہے کہ اپنی ذات کے دروں بین مشاہدے کو رد کرنے کی وجہ سے ہو۔ اس بات نے ’قدروں کو ڈھا دیا جن کے ساتھ سماجی عہدوپیمان وابستہ ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کوہر قسم کی تنقید سے ماورا کر لیناکیا خود اعتمادی کی انتہا نہیں ہے کہ خود کو خول میں بند کر لیا جائے اور باقی دنیا سے اپنا رابطہ منقطع کر لیا جائے۔ اِس کی قیمت بہت گراں ہوتی ہے‘۔
مجھے یہ جاننے میں اَب دقت نہ رہی کہ کیسے مسلمانوں نے قرآن کی تنبیہ سے اپنا عہد توڑا، ’خدا اُن لوگوں کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت آپ نہیں بدلتے(۲۳)‘۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے مجھے یقین دلایا کہ کمیونٹی کے عیوب کو نشر کرنے میں کوئی پریشانی نہیں۔ وقف نے مجھے دکھایا کہ منہ بند رکھنے میں بہت ہزیمت ہے۔ چاہے وہ پٹیوں کی صورت میں ہو اور چاہے کسی اور شکل میں۔ جہنم میں جائیں یہ منہ بند رکھنے والے۔ ہم مسلمان اپنے آپ کو اور کیا کچھ نہیں بتا رہے تاکہ ہم ظلم کی حمایت کرتے رہیں اور زندگی گزارتے رہیں؟
حوالہ جات:
۱ ۔ ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔
۲ ۔ اخبار Ha'aretz newspaperکے مدیر Micahel Handelsalz کے ساتھ تل ابیب میں مورخہ ۵ جولائی ۲۰۰۲ءکو ملاقات
۳ ۔ Conversation with Nehama Guralnij, curator of the Tel Aviv art museum, Tel Aviv, July 5, 2002.
۴۔ Tovah Lazaroff, Alisa Rose and Melissa Radler, Lapid remark against religious US immigrants sparks anger," Jerusalem Post, July 9, 2002. The parliamentarian in question is Yosef "Tommy" Lapid, leader of the avowedly secular Change Party. لیپڈ ایرئیل شیرون کی حکومت میں تب سے وزیرانصاف چلے آ رہے ہیں۔
۵۔ "A racist bill," Ha'aretz editorial, July 9, 2002.
۶ ۔ "Be quiet, bye-bye," Ha'aretz editorial, June 24, 2002
۷ ۔ Andree Aelion Brooks, "Renaissance woman," Ha'aretz, June 24, 2002.
۸ ۔Note: See, for example, Arieh O'Sullivan, "IDF 'Spokesman' is a woman," Jerusalem Post, July 9, 2002.
۹ ۔ ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔
۰۱ ۔ Ron Edelheitسے مورخہ July 6, 2002کویروشلم میںبات چیت
۱۱۔ میرا دورہ سات جولائی ۲۰۰۲ءکو ہوا۔
۲۱ ۔ Khaled Abu Toameh, "How the war began," Jerusalem Post, September 19, 2002.
یہ سارا مضمون پڑھنے کے لائق ہے لیکن مجھے ایک اقتباس پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ ”فلسطینی اتھارٹی کے وزیر مواصلات اماد فالوجی نے گیارہ اکتوبر ۱۰۰۲ءکو اعتراف کیا کہ تشدد کا منصوبہ شیرون کی ’اشتعال انگیزی‘ سے کہیں قبل جولائی میں بنا لیا گیا تھا۔ وزیر موصوف کا کہنا تھاکہ جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ انتفادہ شیرون کے مسجدِ اقتصیٰ کے ناقابلِ قبول دورہ کی وجہ سے شروع ہوا، غلط ہے۔ چاہے یہ دورہ ایک ایسی لاٹھی کی صورت ہوتا جو فلسطینیوں کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ کر رکھ دیتا۔ اِس انتفادہ کا منصوبہ پیشگی اُس وقت ہی بنا لیا گیا تھاجب صدر عرفات کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات سے لوٹے تھے جہاں اُنہوں نے مذاکرات کی میز کو صدر کلنٹن کے سامنے اُلٹا کر رکھ دیا تھا۔ عرفات کلنٹن کے سامنے ہٹ دھرم اور ایک چیلنج کے طور پر رہے۔ انہوں نے امریکی شرائط کو امریکہ کے دل میں بیٹھ کر رد کر دیا تھا۔ “
عرب صحافی تومہے نے مجھے بتایا تھا کہ” مجھے فلسطینیوں کے گندے رویوں کو بیان کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر میرے حقائق کا کبھی بھی جواب نہیں دیا گیا، ایک بار بھی نہیں“۔ یکم جولائی ٢٠٠٣ءکو یروشلم میں بات چیت۔
۳۱ ۔ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔
۴۱۔ ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔
۵۱۔ میں جس ایجنسی کا حوالہ دے رہی ہوں وہ ©”United Nations Relief and Works Agency for Palestine Refugees in the Near East ©“ ہے ، اسے UNWRA بھی کہتے ہیں۔ ۶۱۔ ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔
۷۱۔ Etgar Lefkovits, "Wakf to investigate Western Wall leak," Jerusalem Post, July 8, 2002.
۸۱۔ ویب سائٹ پر تصویر دیکھئے۔
۹۱۔ Isabel Kershner, conversation in Jerusalem, July 8, 2002.
۰۲۔ Interview with Jim Lederman, Jerusalem, July 9, 2002.
۱۲۔ میں اُس سفارتکار کو جانتی نہیں، جس کی ہمارے ساتھ گفتگو اُس کے فرض کا حصہ تھی، کسی سے تعلق کی نسبت کی وجہ سے نہیں تھی۔ یہ گفتگو ۸جولائی ۲۰۰۲ءکو ہوئی۔
۲۲۔ Raja Shehadeh quoting Arabic radio in Strangers in the House: Coming of Age in Occupied Palestine (South Royalton, Vermont: Steerforth Press, 2002), p. 68.
۳۲۔ ڈاکٹر علی جرباوی سے رملہ میں ۸جولائی ۲۰۰۲ءکو بات چیت
۴۲۔ عبدل مالک الجابر سے رملہ میں ۸جولائی ۲۰۰۲ءکو بات چیت
۵۲ ۔ Raja Shehadeh reading from Strangers in the House, p. 173.
۶۲۔ کتاب Strangers in the House میں عزیز شہھادے کا تذکرہ
۷۲۔ Raja Shehadeh, Ibid., p. 176
۸۲۔Raja Shehadeh, Ibid., p. 176
۹۲۔جب میں نے مشعل کو یہ داستان سنائی تو اُس نے فوری طور پر میرے اوپر قہقہہ لگایا۔” اگر تم اتنی ہی غیر راسخ العقیدہ ہوتو۔۔“ اُس نے میرے اوپر پھبتی کسی، ”پھر کیوں تم سور کا گوشت نہیں کھاتی؟“میں یقین سے کہہ نہیں سکتی کہ میرے پاس کوئی مناسب جواب ہے۔
۰۳۔ ولید خالیدی نے چیم ویزمان کا حوالہ یہاں دیا ہے: "Revisiting the UNGA Partition Resolution," Journal of Palestine Studies, Issue 105, Autumn 1997, p. 15
۱۳ ۔ Hassan Khader, "Confessions of a Palestinian Returnee," Ibid., pp. 89-90
۲۳۔ قرآن ، ۱۳:۱۱
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




