Urdu Edition
ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
نومبر ٢٠٠١ءمیں،ہم سب قریب دو ماہ کی(سانحہ گیارہ ستمبر کی دل و دماغ کو) گھیر لینے والی تصویروں سے توجہ ہٹانا چاہ رہے تھے۔ تباہ شدہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی نہ ختم ہونے والی باتیں ہمارے ٹیلی ویژنوں پر چل رہی تھیں، ایک ایسی یاد کے طور پر جو نہ صرف ہلا دینی والی تھی اور جس کے بارے تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا۔ لوگوں کی شل کر دینے والی کیفیت میں کچھ کمی واقع ہوئی ، جو قدرتی امر تھا، اور ’یہ کیسے ہوا‘ پر مباحثوں کا تندوتیز سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک سوال تو فوراً ہی سامنے آ گیا کہ اسلامی دنیا کواس زیادتی کا کیا تدارک کرنا چاہئے؟
فوری طور پر شمالی امریکہ کی اسلامی تنظیموں نے مصالحانہ پریس نوٹ جاری کرنے کا ایک نہ ٹوٹنے والا سلسلہ شروع کر دیا۔ اخبارات کے مراسلاتی صفحات پر اِن کے رہنماﺅں کی سرخیاں لگنے لگیں۔ صبح و شام ’نسلی تعلقات ‘ کے ماہر دھڑے بازوں نے کیبل نیوز کے چینلز پر امریکہ اور اتحادیوں سے استدعا کرنا شروع کی کہ سانحہ گیارہ ستمبر کے نتیجہ سے پیدا ہونے والی ناآسودگی کو مسلمانوں کی طرف نہ نکالا جائے کیونکہ ہماری غالب اکثریت ’اچھے افراد‘ پر مشتمل ہے۔ یورپ سے میرے دوستوں نے وہاں کے میڈیا میں اسی طرح کی بھری ہوئی گھسی پٹی باتیں بطور مثال مجھے ای میل کیں۔ (۱)
مسلمان عملی طور پر پکار اٹھے،’اے بی بی سی، ہم تمہاری نشریات سے متفق ہیں، ہم مانتے ہیں کہ اسلام میں ہی کچھ ٹیڑھا پن ہے، آپ ہم سے مزید کیا چاہتے ہو؟دیکھو روٹرز، ہم جہادیوں کی مذمت کےلئے باہر نکل آئے ہیں، جاﺅ ہماری اس بات کا حوالہ دو۔ فوکس ، ہم تمہارے قدامت پسند دوستوں پر بحث کر رہے ہیں، اُن کی پیٹھ نہیں سلا رہے لہذا ہمیں ہمارے چوتڑ ڈھکنے (حیلہ تراشی) کا قصوروار نہ ٹھہراﺅ۔
لیکن میں ہم مسلمانوں کو چوتڑ ڈھکنے (حیلہ تراشی) کا قصور وار ٹھہراﺅنگی۔ اسلام کی حاشیہ بردار خامیوں کے بارے ہمارے تمام اعلانات کے باوجود مسلمانوں نے پورے دین سے ان خامیوں کو دور کرنے کےلئے کوئی بات کرنے سے شعوری طور پر گریز کیا۔ ۔ جیسے اسلام کی بنیادات کو چھوا نہ جا سکتا ہو۔
گیارہ ستمبر کے دو ماہ بعد میں نے وہ کچھ کیا جو میں جانتی تھی اور جو میں کر سکتی تھی۔ میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں (مسلمانوں کو) اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دی تھی(۲)۔ بہرحال مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ عیاشی تو ہے کہ وہ ریاستی جبر کے خوف کے بغیر سخت سوالات اٹھا سکیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی دو عمارتیں جو کنکری کی طرح ڈھینے کی مستحق نہ تھیں، اور (اسلام کی )وہ دو عمارتیں جو ڈھینے کی مستحق تھیں ، نے اطمینان بخش مگر تاحال اسلام کے نہ جانچنے والے حصہ کو اوپر اٹھانا شروع کر دیا، ایک عمارت کو آپ فریب کہہ سکتے ہیں اور دوسری کو خام خیالی کا نام دے سکتے ہیں۔
فریب، میں نے اِس کی وضاحت یوں کی، کہ آج اسلام کے عمل کے ساتھ وابستہ گھمبیر مسئلے کی نشاندہی کرنے کی بجائے ہم نے لاشعوری طور پر اسلام کو رومانوی بنانا شروع کر دیا۔ ہمارا سارا زور یہی پیغام دینے میں رہا کہ ہم ’دہشت گرد نہیں ہیں‘۔۔یوں ہم نے سب سے مشکل جہاد ،’ خود احتسابی ‘،سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو ورغلایا۔ اس سارے دباﺅ پر ہتھیار ڈالنے کے بچکانہ انداز کی یہ حد تھی۔ اس سے بھی بڑی حد خام خیالی کی عمارت میں یہ لوٹنیاں لینا تھی کہ مغربی دنیا پر ہماری عزت کرنا انسانی طور پرواجب ہے لیکن ہم پر مغربی اقدار کی قدروقیمت کرنا واجب نہیں جو ہمیں عزت دینے کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ میں نے اپنے ایک مضمون میں اس بات کی طرف اشارہ دیا کہ گیارہ ستمبر کے بعد ٹورونٹو سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان تنظیم نے کینیڈا کے سیاستدانوں سے اپیل کی کہ مسلمان مخالف کٹر پن کے خلاف بولا جائے۔ اس اپیل پر جن سیاستدانوں نے عمل کیا اُن میں کینیڈا کے ایک ہم جنس سیاستدان بھی تھے۔ میں نے لکھا کہ میں امید کرتی ہوں کہ یہ ہم جنس سیاستدان مسلمانوں سے بھی ویسے ہی ساتھ کی توقع کرسکتے ہیں کہ اگر کبھی کسی ہم جنس پرست کلب یا کتب خانے کو آگ لگائی گئی تو مسلمان بھی اُن کے حق میں بولیں گے۔
میں نے اپنے ساتھی مسلمانوں کےلئے اپنے نقطہ نظر کو اس طرح پیش کیا، کیا ہم مذہبی سطح پر ناپختہ ہیں کہ الگ تھلگ رہنے اور اپنے مذہب پر پیروی کرنے کی توقعات کی زنجیروں سے بندھے ہوئے ہیں یا پھر کبھی ہم مکمل شہری کی صورت میں بالغ ہو سکیں گے، اُس کثیر الثقافتی معاشرے کی تشریح اور تصورات کی حفاظت کےلئے جس کی بناءپر ہم اس مغربی دنیا میں اسلام پر عمل پیرا ہیں؟
جوابات کا سیلاب امنڈ آیا۔ غیر مسلمانوں نے مزید صاف گوئی کی تمنا کی۔ کچھ مسلمانوں نے بھی ایسی خواہش کا اظہارکیا، تاہم مسلمانوں کی اکثریت نے ایسی خواہش ہرگز نہ کی۔ کچھ نے مجھے مدرسے سے نالاں صدمہ کار کہا اور کچھ نے میری ذاتی زندگی کی طرف اشارہ کیا ۔لیکن جہاں تک وہ صدمے کی بات کرتے رہے تو کیوں میں نے اتنے بڑے صدمے کے بارے ہلکی سی آواز بھی اِن مسلمانوں سے نہیں سنی جو چند با ایمان مسلمانوں نے گیارہ ستمبر کو پہنچایا۔ وہ اُس تباہی و بربادی کے حوالے سے ہمارے مذہب کے کردار کے بارے کیا کہیں گے؟ کچھ بھی نہیں۔ ۔ دوسرے مجھے تابک توڑ حملے کرنے کا قصوروار ٹھہراتے ہیں لیکن مجھے اصلی اسلام نے ٹھکرا دیا ہے۔ بے شک میں ٹھکرا دی گئی ہوں لیکن میں اس پر ذرا بھی شرمندہ نہیں۔ مجھے ایک ایسے مرکزی دھارے کا حصہ بننے کی کوئی خواہش نہیں جو اخلاقی طور پر مفلوج اور دانشورانہ سطح پر انحطاط پذیر ہو۔(۳)
میں اگرچہ ہر خط پر مکالمہ نہ کرتی تھی۔ ایک مراسلہ نگار نے خاص طور پر مجھے بولنے پر ابھارا اور حالات کا گہری نظر سے جائزہ لینے پر مجبور کیا۔ میری اسلام کے بارے پیش کی گئی ”پریشان کن تصویر کشی“ پر پریشان اس مسلمان شخص نے مجھے ایک انتہائی تعمیری پہلو کے بارے تعلیم دیتے ہوئے پوچھا، کیا میں اجتہاد کے بارے جانتی ہوں؟ جہاد نہیں اجتہاد (اُس نے حتکہ تلفظ میں بھی میری مدد کی)۔ اجتہاد۔۔ اُس نے مجھے بتایا، اسلام میں آزاد خیالی کی ایک روایت رہی ہے، جس کے بارے اُس کا دعویٰ تھا کہ اجتہاد ہر مسلمان عورت مرد، ہم جنس پرست یا مخالف جنس پرست، بوڑھے ،جوان کو عصری صورتحال کے مطابق اپنے مذہبی عمل کو ہم آہنگ بنانے کی اجازت فراہم کرتا ہے۔
اجتہاد۔۔ اسلام کی ایک روایت۔؟ آزاد سوچ کے متعلق؟ میں نے اپنے آپ کو کوسا (لفظی طور پر) ۔ اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے میں نے لفظ ’اجتہاد‘ کو بعد از مدرسہ کے زمانہ کے مطالعہ کے تناظر میں یاد کیا۔ لیکن یہ لفظ تو بغیر کسی استقبالیہ بگل کے میرے مطالعے میں آیا تھا، کسی انقلابی تصور کی بجائے ایک خشک سے مذہبی قانون کے طور پر۔ علاوہ ازیں، مجھے تو یہ تاثر بھی ملا تھا کہ صرف مذہبی کارپردارہی قرآن کی تشریح میں مشغول رہنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اجتہاد کے بارے سیکھتے ہوئے مجھے اس سوال نے بھی اکسایا: مذہبی کارپردار کون ہوتے ہیں؟ میرا مطلب تھا، کیا قرآن نے مذہبی عملے کی کوئی خاص نشانی رکھی ہوئی ہے؟ بالکل نہیں۔ کیا قرآن کا بے اختیار پھیلاﺅ اپنے مواد کا خاص اور موقع و محل کی مناسبت سے تفہیم دینے کا انداز فراہم کرتا ہے؟ جی ہاں۔۔ لہذا کیا درحقیقت آزاد خیالی کا حق، اجتہاد کی روایت ہم سب کےلئے ہے؟ اس حق کو اپنے اوپر خود ہی ودیعت کرنے والے ، ’میرے فتوے پر عمل کرو‘ کہنے والے آیت اللہ اصل میں بدعتی و ملحد ہیں۔
معمول کے مطابق میں نے پھر اس موضوع پر پڑھنا، کھوجنا اور علماءسے گفتگو کرنا شروع کر دیا۔ اجتہاد کو کس نے روایت بنایا؟ کہاں اس پر عمل ہوا اور وہ معاشرہ کیسا دکھائی دیتا تھا؟ میں نے اس صورتحال کا کھوج لگایا: کچھ جاننے کا جذبہ اسلام کے سنہری دور میں زندہ تھا، قریب عیسوی ۰۵۷ اور ۰۵۲۱ کے دوران۔ اسلامی سلطنت کے عین مرکز عراق میں عیسائی اور مسلمان یونانی فلسفہ کو ازسرنو اجاگر کرنے کےلئے ایک ساتھ تراجم کیا کرتے تھے۔
سپین میں مغربی دنیا تک اسلام کی پہنچ کے بعد مسلمانوں نے ایک تاریخ دان کے بقول یہودیوں کے ساتھ ’برداشت کی ثقافت ‘ کو جنم دیا(۴)۔ اِن سب کمیونیٹیوں نے ہمیں ایک طرح سے عالمگیریت کے پیش رو دئیے جس سے ٹیکنالوجی، پیسے اور لوگوں کا باہم ملاپ ہوا۔ مسلمانوں نے غیر مسلمانوں کے ساتھ بھرپور انداز میں تجارت کی اور ایک ایسا نظام وضع کیا جس کے مطابق چیک مراکو میں لکھے جاتے تھے اور اُنہیں کیش شام میں کروایا جا سکتا تھا۔ تجارت کی اِس ریل پیل نے خیالات کی آپس میں آمدورفت کو بھی ممکن بنایا۔ مغربی تہذیب میں اسلام کی خدمات پر مجھے بھرپور روشنی ڈالنے کی اجازت دیجئے(۵)۔ گٹار، کھانسی کا شربت۔ یونیورسٹی۔موقا کافی۔ الجبرا اور ’اولے‘ کی آواز کا تعارف، جس کی بنیاد ’اللہ‘ ہے (اس ضمن میں آپ دوتونبیوں والے ساز مراکاز کو بھی موردِالزام قرار دے سکتے ہیں)۔
اجتہاد کی روح اور آغاز تو اپنے ہی ہاتھوں میں تھی۔جنوبی سپین کے شہر کورڈوبامیں ، مثال کے طور پر جنسی طور پر ایک انتہائی پُرکشش عورت ولادا نے ایک ادبی کیفے قائم کیا ہوا تھا(۶) جہاں لوگ خوابوں، شاعری اور قرآن کا ایک ساتھ تجزیہ کیا کرتے تھے۔ وہ اس پر بھی بحث کیا کرتے تھے کہ قرآن نے عورت اور مرد کو کیا قرار دیا ہوا ہے۔ وہ تو اس سوال پر بھی بحث کیا کرتے تھے کہ مرد کیا ہے اور عورت کیا ہے؟قرآن کی مختلف النوع اور فراخدل تشریحات نے ایسے دور کو جنم دیاتھا جب کوئی ہیجڑوں پراسلام کے اطلاق کی بھی بات کر سکتا تھا۔
اسی اثناءبغداد میں سلطنت کا مرکز جم گیا۔ یہاں پر اسلام کا خلیفہ بیٹھ گیا۔ چاہے انتخابات کے ذریعے یا پھر گلے کاٹ کر اور یا پھر اِن دونوں کے امتزاج سے، خلیفاﺅں نے پیغمبر اسلام کو مسلمانوں کے بڑھتے غول کی مذہبی رہنمائی کا حتمی رہنما مقرر کر لیا۔ بغداد میں نویں صدی کے خلیفہ المامون تھے جنہوں نے نام نہاد ’دانش کا ادارہ‘ قائم کیا(۷)۔ ٹمپل یونیورسٹی کے محمود ایوب کے بقول یہ ادارہ مغربی اور اسلامی دنیا میں اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ تھا۔ لیکن کورڈوبا کے ہمعصر وں کے خیالات کو کڑا قرار دے کر ختم نہ کیا گیا تھا۔ بغداد ستر لائبریریوں کا بھی گڑھ تھا۔ ہر ایک کےلئے ستر، آج کے مسلمان شہید کےلئے ستر حوریں جس کا اُسے وعدہ دلایا جاتا ہے۔ تب لائبرہریاں تھیں آج باکرہ حوریں۔۔ ترجیحات میں کیا تضاد آ گیا ہے، آپ اس بارے کچھ نہیں بولیں گے؟
یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے یہ فراخدلی کیسے پروان چڑھی تھی؟ یہ بات تہہ در تہہ ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحمل وبردباری نے اسلامی سلطنت بنانے اور اُسے قائم رکھنے میں بہترین کردار ادا کیا۔ اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے بہت سارے مسلمان فاتحین نے اس بنیادی اصول پر عمل کیا کہ اہلِ کتاب یہودیوں اور عیسائیوں کو دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی شہنشاہیت کی حکمت عملی کایہ اصول مسیحی شہنشاہیت کی نسبت کامیاب رہا۔ آئیے اس حقیقت کو بھی دیکھتے ہیں کہ کیتھولک کی صلیبی جنگوں نے یہودیوں اور بدعتی عیسائیوں کو اپنے مذہب کے مطابق عمل پیرا نہ ہونے دیا۔ مسلمانوں نے ایسا کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں غیر مسابقانہ علاقوں پر چڑھائی کے دوران مذہبی اقلیتوں سے کوئی مخالفت نہ ملی۔ لہذا مثال کے طور پر یہودیوں نے شادیانے بجائے جب مسلمانوں نے ۸۳۶ءمیں یروشلم کو فتح کیا اور ڈیوڈ شہر کو بائی زینٹینز سے چھینا جس نے یہودیوں کے مقدس مقامات کو کوڑے کرکٹ ڈھیر کرنے کی جگہ کے طور پر استعمال کر کے بے حرمتی کی ہوئی تھی۔ مسلمان فاتحین نے اِن مقامات سے گندگی کو صاف کیا اور یہودی خاندانوں کو زیارت کےلئے دے دیا۔
بعد میں یہودیوں نے مسلمانوں کے ساتھ تعاون ختم کرتے ہوئے ایک بار پھر کٹاﺅ کر لیا اور مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کا ساتھ دیا۔ کٹر کیتھولک آقاﺅں کے ہاتھوں ظلم و ستم کے شکار یہودیوں نے مراکو کے مسلمانوں سے التجا کی کہ انہیں آئبیرین پیننسولا لے کر آزادی دلوائی جائے۔ ایک بے ڈھنگا سا اتحاد معرضِ وجود میں آیا۔ مسلمانوں نے پوپ کی فوج کی حیرت انگیز کارروائی کو پاش پاش کر کے یہودیوں کو آزادی دلوائی۔ یہودیوں کی اکٹھی کی ہوئی جاسوس معلومات کو بنیاد بنا کر مسلمانوں نے ۱۱۷ءمیں سپین کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ (اسی راستے سے مسلمانوں کے کمانڈر طارق بن زیاد نے پہاڑوں کے سلسلہ کو عبور کیا جس کا موجودہ نام جبرالٹر ہے(۸)۔ عربی زبان میں جبرالٹر کے معنی ’طارق کا پہاڑ‘ ہے، یہ بہت سارے ’اولے‘ میں سے ’اولے‘ کا پہلا موقع تھا۔
اس سلطنت کا اصل کارنامہ دولت کے انبار لگانا نہیں تھا بلکہ صلاحیتوں کو جمع کرنا تھا۔ یہ سلسلہ عربوں کےلئے دوگنا ہو گیا جو ایک تجزیہ نگار کی نظر میں جنگجو تھے منتظم نہ تھے(۹)۔ لیکن جنگجوﺅں کے پاس اتنی ذہانت تھی کہ وہ آغاز سے آخر تک کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ لہذا مسلمان گورنروں نے سلطنت کی بھاگ دوڑ چلانے کےلئے اپنے اپنے شعبوں کے ارفع صلاحیتوں کے لوگ فائز کئے۔ انہیں ادھر ادھر پھیلی ہوئی کمیونٹیوں کی نزاکتوں اور مسائل کو قابو میں رکھنے کےلئے اپنے نائب درکار تھے۔ انہیں اپنے زمانے کے عالمی شہری چاہئے تھے۔ یہودیوں میں گھس کر دیکھئے اور بڑے تناظر میں دیکھئے۔ سپین سے عراق تک یہودی اعلیٰ سفارتکار، اعلیٰ فوجی حکام، عدالتوں کے اہلکاراور بینکار (آپ کوئی بھی اہم شعبہ دیکھ لیجئے) کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
مجھے یہ بھی دیکھنا پڑا کہ کیا یہودیوں نے بغداد کو اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ بنانے کا قدرتی انتخاب کیاتھا۔ یہ تب ہوا جب سن ۰۷ءعیسوی میں اسرائیلی سلطنت کے زوال کے بعد یہودیوں کے جتھے نے تلمود کی تعلیمات کےلئے دنیا کا مشہور مرکز بغداد میں قائم کیا۔ جب مسلمان بغداد پہنچے تب یہ پرانا بابلیون کا شہر پہلے ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ یہودی اشرافیہ سے بھرا پڑا تھا جن کو خلیفہ اپنی سلطنت کی مرکزی اسامیوں کےلئے استعمال کر سکتا تھا، جس کے نتیجہ میں بغداد کے ربیوں کےلئے اپنی تعلیمات کو سرعام دنیا بھر میں پھیلے یہودیوں تک پہنچانا آسان ہو گیا۔ اِن یہودیوں میں سے نوے فیصد مسلمان سلاطین کے زیر سایہ بس رہے تھے۔ (نویں اور دسویں صدی کے دوران یہودی سپین کی آدھی آبادی پر مشتمل تھے(۰۱)۔) ایک یہودی عالم کے بقول، اُس زمانے میں اظہار آزای کی سہولت کے شکرگزار ہیں کہ’ تلمود ی تعلیمات اور تورات کی تفاسیر یہودیوں کی زندگی میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئیں‘۔
آپ کو اس مطابقت سے محبت کرنا ہو گی کہ اسلام نے جیسے ہی اپنے سنہری دور کا آغاز کیا اُس نے یہودیوں کی فراست سے اثرات قبول کئے۔ یہودیوں نے بھی مسلم عرب ثقافت سے اثر قبول کرتے ہوئے اپنی شاندار روایات قائم کیں۔ ہیبرو کی سیکولر شاعری شمعول ہا نجد کے قلم سے پھوٹی جو ربی اور شوقیہ رزمیہ گو تھے جنہوں نے دو مسلمان فرماں رواﺅں کے دور میں سپین کی عدالتوں کے وزیراعظم کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ اِن باتوںکو ہضم کرنے کےلئے اپنا وقت لیجئے۔
اس میں سے کوئی بات یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اسلامی تمدن میں یہودیوں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ بہت تھا۔ خدا کےلئے ایسا نہ سمجھئے۔ گیارھویں صدی کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں کے ظلم و جبر نے تحمل وبردباری کی فضا کو مٹا کر رکھ دیا۔ لیکن اس کے باوجود ثقافتی نفوذپذیری فوراً ختم نہیں ہو جاتی۔ تینوں ابراہیمی مذاہب کو ماننے والوں نے ایک ساتھ زندگیاں بِتائیں، ازسرنو آباد ہوئے اور باہم شادیاں رچاتے رہے، زبان سے لے کر فلسفوں کی داستانیں تک باہم مدغم ہوئیں۔
میں آپ کو بتاتی ہوں کس کا کام بھرپور توانا تھا۔ میں موسس بن مامون کی بات کر رہی ہوں جنہیں میمونائیڈز بھی کہتے ہیںجو ایک اعلیٰ مرتبہ یہودی فلسفی، ربی، طبیب اور ماہرِ مذہبیات تھے۔ اُن کا زیادہ تر کام عربی زبان میں شائع ہوا ہے۔ (اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون نے دوپہر کے کھانے کے وقفوں کے دوران عربی سیکھی(۱۱) تاکہ وہ میمونائیڈز کے کام کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔) اور ابھی تک میمونائیڈز روحانی طور پر زیادہ مشہور نہ تھے۔ وہ پہلے شخص ہونے کے ساتھ ساتھ جنہوں نے مذہبی قوانین کو عام یہودیوںکےلئے مرتب کیا (اپنی کتاب مشنہ توریٰ جو انہوں نے ہیبرو زبان میں لکھی) ، ایک اچھے ڈاکٹر بھی تھے جنہوں نے جیوش کلاسیک ’جنجال سے نکلنے کی گائیڈ‘ بھی لکھی۔ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ نت نئے خیالات کی جنونیت ذہنی الجھاﺅ کا محرک بن سکتی ہے، میمونائیڈز نے چاہا کہ یہودی گونگے بہرے بنے بغیر روحانی اصولوں کو اپنائے رکھیں۔ اُن کی کتاب ’جنجال سے نکلنے کی گائیڈ‘ سے درج ذیل اقتباس اُن کی دانشورانہ دیانت کو ظاہر کرتا ہے۔ ”یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ اُس چیز کو پسند کرے جس سے وہ مانوس ہے اور جس کے ساتھ وہ پلا بڑھا ہے اور ہر اُس چیز سے ڈرتا ہے جو اُس کےلئے نامانوس ہو۔ ہمہ جہت مذاہب اور اُن کی ایک دوسرے کےلئے برداشت اس حقیقت کا نتیجہ ہے لوگ اُن تعلیمات کے ساتھ مخلص ہیں جو انہیں دی جاتی ہے(۲۱)۔“
اُن کے کام کو ایک چیز اور لائقِ اعتبار بناتی ہے کہ میمونائیڈز اُس ہنگامی دور میں زندہ تھے جب جھگڑالو مسلمانوں نے کورڈوبا پر قبضہ کر لیا تھاجو میمونائیڈز کی جائے پیدائش بھی تھا۔ عیسوی ۰۵۱۱ءکے قریب میمونائیڈز اور اُس کا خاندان شمالی افریقہ کو ہجرت کر گئے اور بعد میں مصر سے آج کے اسرائیل چلے گئے۔ مصر میں وہ صلاح الدین کی اعلیٰ کمان کے طبیب مقرر ہو گئے، صلاح الدین مسلمان فوج کے وہ ہیرو تھے جنہوں نے پاپائے کلیسا کی یورش کے پہلے ہلے کو ناکام بنا دیا تھا۔ اسلامی انتہا پسندی کی آمد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ، جو سپین سے ہوئی۔۔ اگر کہیں اور نہیں ہوئی تھی۔۔ میمونائیڈز اپنے مذہب یا تہذیب کی مطلقیت کی طرف رجوع کر سکتے تھے۔ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ مصر میں انہوں نے طب کی پریکٹس جاری رکھی اور ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرتے رہے۔ وہ اپنے دروازے پر ہر وقت قطار میں کھڑے مریضوں کی نگہداشت کرتے رہے، اپنی یہودی کمیونٹی کے ساتھ مطالعہ و تحقیق کاکام کرتے رہے اورانہوں نے دنیا کے وسیع تر مفاد کےلئے لکھا۔ ایسے لوگوں کا یہ ایک ایسا نہ رکنے والا تخلیقی وفور تھا جس نے سنہری دور کو جگمگایا، اگرچہ یہ سنہری دور دھندلانا شروع ہو گیا تھا۔
میمونائیڈز کے ایک مسلمان ہمعصر تھے جو اُن سے نو سال بڑے تھے۔۔ فلسفی، طبیب، ریاضی دان اور کورڈوبا کے رہنے والے ابنِ رُشد (جو اپنے لاطینی نام ایوروس سے جانے جاتے ہیں)۔ سپین میں ابن رشد غوروفکر کی آزادی کے معمار تھے جسے میمونائیڈز نے دور مشرق تک بے مثل بنایا ہوا تھا، مذہب پرستوں کا جرات کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے۔ ۔ مشرقِ وسطیٰ میں وحشی اسلام کی چڑھائی کے ساتھ ہی ابن رشد نے موقف اپنا لیا کہ ’فلسفی بہتر طور پر قرآن کی تمثیلی آیات کوسمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ اُن کی تربیت منطقی انداز میں ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی کوئی مذہبی ہدایت نہیں کہ اِن آیات کی لفظی تشریح ہونی چاہئے(۳۱)۔‘ انہوں نے بات پر یہاں آمین پڑھ دی۔
اور کیوں یہاں پر بات ختم کر دی؟ اُس وقت کے کسی بھی یورپین دانشور، مسلمان یا کسی دوسرے سے زیادہ ابن رشد مرد اور عورت کی برابری کےلئے بولے۔ انہوں نے اپنے ایک تجزیہ میں کہا، ”عورت کی صلاحیت کا ہمیں ابھی اندازہ ہی نہیںکیونکہ اُن کی تنزلی بچے کوجنم دینے، اُس کی پرورش کرنے اور چھاتیوں سے دودھ پلانے تک کر دی گئی ہے(۴۱)“۔ انہوں نے زمانے کی تہذیب و تمدن کو متنبہ کرتے ہوئے پشین گوئی کی کہ عورت کو ’مرد پر بوجھ‘ سمجھنا ’غربت کی ایک وجہ‘ ہے۔ اس طرح کی جرات مندی کے سبب ابن رشد اعلیٰ مسلمان قیادت پر ایک ’بوجھ‘ بن گئے۔ اُس قیادت نے انہیں ملک بدر کر کے مراکش بھیج دیااور تیرھویں صدی سے کچھ قبل ابن رشد مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے۔
جب میں نے یہ جاننا شروع کیا کہ ابن رشد کے روشن دماغ کو کس چیز نے متاثر کیا تھا، میں نے تحقیق کا آغاز کیا کہ ایسا کیوں ہوا تھا؟ کیسے مسلم سپین آزاد خیالی کی جنت سے قدامت پرستی کی طرف ڈھلا؟ کب باقی اسلامی ریاستوں نے بھی غوروفکر پر پابندی لگائی؟ کیسے اسلام کے سنہری دور کے تابوت پر تالے پڑھے اور اس کا نتیجہ آج ہم سب کےلئے کیا نکلا؟
پہلے سب سے اہم باتیں سامنے آئیں۔ یہ معلوم ہوا کہ مسلم سپین مذہبی غارت گروں کے ہاتھوں اندھا ہو گیا۔ المتامد، سویلی کے مسلمان گورنر کو کیسل کے عیسائی بادشاہ کی دھمکیوں کے خلاف اپنی مملکت کو مستحکم کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ الفانسو کو دور رکھنے کےلئے المتامد کو مراکش کے المراود مسلمان آہنی بازوﺅں کی مدد طلب کرنا پڑی۔ یہ تو سچ ہے کہ المراود نے الفانسو کی خوب خبر گیری کی لیکن بعد میں وہ مذہبی سچائی کی بنیاد پر آپے سے باہر ہو گئے جس کی المتامد کو بالکل توقع نہ تھی۔ المراود کو مسلم سپین کی آزادیوں سے نفرت تھی جو اُن کے خیال میں ناپاک تخلیقی رویہ کا نتیجہ تھیں۔ وہ یہودیوں کو لائقِ حقارت جانتے تھے، عورتوں کی مذمت کرتے تھے، بحث و مباحثے سے کراہت محسوس کرتے تھے اور جنونی مذہبی اجارہ داری کو فرض گردانتے تھے۔ میری بات پر یقین کیجئے، ابن رشد کی جلاوطنی سے ان گرگٹوں کے عزم کا آغاز نہ ہوا۔ یہ قدامت پرست بہت آگے تک گئے۔ کیا آپ نے کبھی الغزالی کا نام سنا ہے؟ یہ بغداد میں مقیم ایک مفکر تھا جس نے روشن خیال مسلمان دانشوروں کو بے ربطی کا موجب ٹھہرایا، ایک ایسا موقف جس کے ساتھ المراود معانقہ کر سکتے تھے، مگر نہیں؟ بلکہ المراود نے الغزالی تک کو حد سے زیادہ لبرل قرار دیا، جنہوں نے اُس کے کام کو سرعام جلایا۔ انہوں نے مسلمان صوفیوں کی لگام کھینچی جو قرآن کو لفظی انداز میں پڑھنے کی بجائے بطور تمثیل پڑھا کرتے تھے۔
آپ کو بتاﺅں کہ میں نے اس ساری داستان سے کیا اخذ کیا؟ مسلم سپین حریص عیسائیوں کی وجہ سے نہیں لڑکھڑایا۔ عیسائیوں نے یقینی طور پر اس کے حصے بخرے کئے لیکن وہ ظالم جنہوں نے مسلم سپین کو گرایا وہ مسلمان ہی تھے۔ اور آپ کو بتاﺅں کہ اس ساری داستان سے مجھے کیا سمجھ آئی؟ مسلمان یورپی نو آبادیت کے چھا جانے سے قبل ایک دوسرے کی آزادی پر مارشل لا مسلط کر رہے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و جبر روا رکھ رہے تھے۔
میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمارے مسائل کا آغاز گھٹیا صلیبی جنگوں سے نہیں ہوا۔ ہم خود ہی اپنے لئے مسائل کھڑے کرنے والے ہیں۔ آج تک مسلمان سفید آدمی کو وسیع پیمانے پر توجہ ہٹانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے وسیع پیمانے پر توجہ ہٹانے کی کوشش کہ ہم کبھی بھی محکوم ہونے کی حالت میں نہیں تھے، مغرب نے ہمیں محکوم بنایا۔
میں اس نقطہ کو بغداد کے ذکر کے بعد مزید بیان کرونگی۔ آپ کو نویں صدی کا خلیفہ المامون یاد ہے؟ اُس نے اسلام کے ایسے مسلک کو اپنایاجو عقلیت پسندی کو فروغ دیتا تھااور ہر اُس خیال سے پہلوتہی برتتا تھا کہ قرآن ایک الہامی منبع ہے۔ اِن سب سے بڑھ کر المامون کا مذہبی مسلک ہر شخص کی آزاد خیالی پر زور دیتا تھا۔
حیران کُن حد تک آزاد خیالی اور حقیقت پسندی کے انکاری افسران کی المامون نے عدالتی تحقیقات شروع کیں ، جنہوں نے اُس کی اسلامی تشریح سے اختلاف کیا، اُن میں سے کچھ کو کوڑے مارے گئے اور کچھ کو پابندِ سلاسل کیا گیا۔ المامون کا ایک جانشین تو ایسا تھا جس نے المامون کی اسلامی تعلیمات کو نہ ماننے والے کو سزائے موت سنادی(۵۱)۔اور کون تھا، کیا مسلمان ہی اِن ظالمانہ کارروائیوں کے ذمہ دار نہ تھے؟ کیا رومن چرچ ذمہ دار تھا؟ دوبارہ دیکھئے۔ یہودی ذمہ دار تھے؟ معاف کیجئے گا۔ ایم ٹی وی ذمہ دار تھا؟ بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ حساب لگائیے کون باقی بچتا ہے؟
تین دہائیوں پر مشتمل جبری’ آزاد خیالی ‘ پہلے المامون کے دور میںجاری رہی پھر اُس کے ایک بھتیجے کے دور میں ۔۔ بعد میں ایک خلیفہ نے اس پالیسی کو بدل کر رکھ دیااور میدان ایک نئی پشت در پشت مذہبی حکمرانی کےلئے وسیع و عریض چھوڑ دیا۔ اس خلیفہ نے فرمان جاری کیا کہ اہلِ اسلام کو ’کیسے پوچھے بغیر‘قرآن کی ہر بات کو ماننا پڑے گا(۶۱)۔ قصہ مختصراً ہم یہ جاننے والے کون ہوتے ہیں کہ خدا نے کیسے خاص قوانین کو لاگو کیا کیونکہ ہم بُری طرح خود کو خدا کے ساتھ جوڑنے میں نااہل ہیں۔ نااہل ہیں اپنی ’اصل‘ کو سمجھنے میں، ہم سری کرنے میں اور ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اُس کا ہر اتارا ہوا لفظ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس پر کاربند ہوں۔ ظاہر ہے، ہر شخص اس پر کاربند نہ ہو سکا۔ ابن رشد اِس کی مثال تھے، اُن کے ساتھ چند دیگر توہین کے مرتکب ہونے والے بھی تھے جنہوں نے اُس کی پیروی کی۔ تاحال اپنے اردگرد دیکھتے ہوئے ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ ’کیسے کے بارے نہ پوچھو‘ والی قدامت پرستی شادیانے بجا رہی ہے۔ اور یہ بڑھ چڑھ کر شادیانے بجا رہی ہے کیونکہ اَب اس کو سیاسی وابستگی بھی حاصل ہے۔ آزادانہ سوچنے کا جذبہ سلطنت کے کچھ گروہوں میں قائم رہا لیکن اجتہاد کی روایت کو قصداً نیست و نابود کر دیا گیا۔ آپ مجھ سے یہ پوچھنے میں بالکل نہ ہچکچائیے کہ یہ کیسے ہوا ۔
اس کا جواب دینے کےلئے مجھے وہ منظر نامہ پیش کرنا ہو گا کہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کے اندر اس بات پر قبائلی و خاندانی عداوتیں ہوئیں کہ کون عیسوی ۲۳۶ءمیں پیغمبر کا جانشین ہے۔ کچھ نے اُن کے جوان داماد اور چچیرا زاد بھائی علی پر زور دیا۔ زیادہ مسلمانوں نے محمد کے پرانے ساتھی ابوبکر پر مہر تصدیق ثبت کی۔ اِن خون آشام فسادات نے اسلام کو فرقہ بندی کی صورت سے دوچار کر دیا۔ شیعہ(علی کو چاہنے والے) سنیوں کی اکثریت (سنہ یعنی پیغمبر کی روایات پر چلنے والوں) سے الگ ہو گئے۔ آئندہ قریب ۵۷۲ برسوں تک یہ فرقہ بندی اندر ہی اندر لاوے کی طرح کھولتی رہی۔ یہ لاوا عیسوی ۹۰۹ءمیں شدت کے ساتھ پھٹ پڑاجب شیعوں کے ایک بکھرے ہوئے گروہ نے سنیوں کی سلطنت میں اپنی الگ حکومت کا اعلان کر دیا۔ شیعوں کے آناً فاناً اعلان نے مسلم سپین کے حاکم کو موقع دیا کہ وہ اپنے مخالفین پر ’اہلِ ایمان کا کمانڈر‘ ہونے کا دعویٰ کریں، قصہ مختصراً اُس نے خود کو خلیفہ بنا لیا۔ اس دوران ایسی افراتفری مچی کہ بغداد کی سلطنت زوال پذیر ہو گئی۔
آئندہ کچھ نسلوں تک بغداد ایک چیز کو بند کرنے پر مامور ہو گیا۔۔ اجتہاد کی راہیں اور جس کے نتیجہ میں آزاد فکری کی روایت بھی ختم ہو گئی۔ دنیا بھر کی مسلم اقوام کو نفاق سے بچانے کے بھیس میں بغداد کی اشیرباد کے حامل علماءنے اسلام میں مباحث کو منجمد کرنے کا مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا۔ اِن علماءکو اپنے سرپرستوں کی مکمل اعانت حاصل تھی اور یہ علما تب خوشی کے گیت آزادی کے ساتھ چہچہا نہیں سکتے تھے جب اُن کے آقا المیہ گیت سننا چاہتے تھے۔ لہذا اُن کے سیاسی محرکات کے تناظر میں مسلمان ہر اُس بات کو پہلے سے جانتے تھے جو اصل میں وہ جاننا چاہ رہے ہوتے تھے۔ اگر کسی کو کوئی نیا سوال درپیش ہوا؟ تب سنی فرقہ کے چار موجود مسالک اس سوال کا جواب دے سکتے تھے۔ ان مسالک کو ایسے نت نئے سوالات کبھی درپیش ہوئے تھے جو آپ کو ہوئے ہوں؟ تب یہ پرانی آیات سے علامتیں بیان کرتے ہیں۔ کسی قسم کے موجد کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔
ہم آج اکیسویں صدی میں ایک ہزار سال پرانی حکمت عملی کے مضمرات میں سلطنت کو گرنے سے بچانے کی خاطر جی رہے ہیں۔ مگر میرے پاس آپ کےلئے ایک خبر ہے، اُس اسلامی سلطنت کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔ میں دوبارہ دہراتی ہوں، اسلامی سلطنت گئی۔ ہم آج کی دنیا میں زندہ ہیں۔ اور اجتہاد کی راہیں، ہمارے اذہان بہت سارے معاملات میں بند ہو گئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیوں’سچے‘ مسلمان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو ختم کرتے جا رہے ہیں جب کچھ نہ سوچنے کا طے شدہ قانون ، عراق سے سپین تک مسلمان دھرتیوں کی بقاءکو قائم رکھنے والا۔۔ کیوں کانوں کو پھاڑ دینے والا تصفیہ طلب مسئلہ بنا ہوا ہے۔ میرے دوستو، اپنے سروں کو ہلائیے۔ اس سلطانی حکمت عملی نے جو واحد کامیابی حاصل کی تھی وہ مسلمانوں پر مسلمانوں کے ہٹیل ظلم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا، تفہیم کو پابندِ سلاسل کرنا تھا۔
مجھے مزید واضح کرنے دیجئے۔ جیسے ہی اجتہاد کے دروازے بند ہوئے، سوچنے کا حق مفتی کا استحقاق بن گیا۔ مفتی جسے ہم وکیل مولوی کا نام دے سکتے ہیں جو ہر شہر اور ملک میں پائے جاتے ہیں۔ ”آج کے زمانے میں“، محمود ایوب کا کہنا ہے، جو مفتی حضرات ’قانونی آراءجاری کرتے ہیں‘اُن کو فتویٰ کہتے ہیں، جو اُن کے مسلک کے اصولوں کے پیشِ نظر ہوتے ہیں۔ معروف فتوﺅں کے مجموعے کو بھی اکٹھا کیا گیا ہے جو نسبتاً کمتر تخلیقی یا کمتر صلاحیتی مفتی صاحبان کےلئے ایک رہنما کتابچے کے طور پر کام آتا ہے(۷۱)۔ کمتر تخلیقی؟ کمتر صلاحیتی؟ کس سے؟ آپ سے یا مجھ سے؟ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ اُن کے ایک دوسرے کے بارے فیصلوں کی وضاحتوں کی تعبیریں کرنے کی بجائے ہم اجتہاد کے دروازوں کو خود کیوں نہیں کھڑکھڑاتے اور اُن پر پڑے قفل کیوں توڑ نہیں ڈالتے؟
ایک اور مثال دیکھئے، ہم بیکار کی چیزوں سے کیسے ارادت مندی کر لیتے ہیںجیسے شریعہ کا قانون۔۔ مجھے یہی بتایا گیا کہ شریعہ میں اسلام کی اعلیٰ قدروں کی ترجمانی ہے، بہت سارے مسلمان شریعہ کو انتہائی مقدس جانتے ہیں۔ اوئے ہوئے۔۔’ شریعہ کا انبار‘، ایڈووکیٹ ضیاءالدین سردار لکھتے ہیں، ’سابقہ ججوں کی آراءکے علاوہ کچھ بھی نہیں‘۔ دوسرے لفظوں میں شریعہ کا سنی فرقہ کے چاروں مسالک سے متعلق ہے۔شریعہ کو اسلامی سلطنت کے دنوں میں تیار کیا گیا، تب سے اب اس کے فیصلوں کا انطباق کیا گیا۔ ’یہی وجہ ہے‘، سردار کہتے ہیں، ’جب کبھی بھی شریعہ کو نافذ کیا جاتا ہے۔۔یہ اپنے اُس وقت کے سیاق و سباق کے مطابق نہیں جب اُسے تشکیل دیا گیا اور جب یہ ہم تک پہنچی ۔۔۔مسلمان معاشرے قرونِ وسطیٰ کے زمانے کو اپنانا چاہتے ہیں‘۔ ہم یہ صورت سعودی عرب میں دیکھتے ہیں ، ایران میں، سوڈان میں اور افغانستان میں جب یہ طالبان کے ماتحت تھا(۸۱)۔
یہاں تک کہ جہاں شریعہ کا نفاذ نہیں ہوتا وہاں بھی اُس کی پیروی ہو رہی ہوتی ہے۔ حال ہی میں فلسطین میں طلباءنے دوسری منزل پر واقع اپنے کلاس روم کی کھڑکی سے ایک استاد کو نیچے پھینک دیا۔ اُس کا جرم کیا تھا(۹۱)؟ ابتدائے اسلام کی تاریخ کی توضیع کرنا۔ وہ بچ گیا لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ فلسطین تحقیق کو اس طرح حقارت کے ساتھ رد کر کے اپنی آبادی کی دانش کو بچا سکیں گے۔ اور اُس کے بعد چیچن حامیوں کی ایک ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں(۰۲)جو شریعہ کی پیروی کو ذرا اور فخر کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ یہ ویب سائٹ میمونائیڈز کے ارفعٰ کام کو گالی دینے کے انداز میں کتابچہ ”قیدیوں کو مارنے کی الجھن کے حوالے سے ایک گائیڈ“ پیش کرتی ہے۔ میرے ذہنی سلجھاﺅ کا آپ اندازہ کر سکتے ہیںجب مجھے( اس ویب سائٹ کی وساطت سے) یہ معلوم ہوا کہ کافروں کو مارنے ( بلاشبہ، یقینی) کی اجازت ہے۔ ۔جب تک کہ امام یا اُس کا نائب اُس کو بخش دینے کا فیصلہ نہ دے دیں۔ اُف، کم ازکم اَب مجھے اس مسئلہ کے بارے سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جب میں نے یہ جاننا چاہا کہ پیروی اسلام کی قدر کیسے بنی تب میں ایک اور سوچ کے جنجال میں پڑ گئی۔ اگر ہمیں پیروی ہی کرنا ہے تب ہم ظلم واستبداد کی بجائے تحمل و بردباری کی کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہمارے ہاں نقل کرنے کی کوئی صحتمند مثال نہیں ۔۔ اخ۔۔پیروی ۔۔ جس طرح مسلمانوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ اسلام کے سنہری دور میں سلوک کیا؟ تب کیوں ہماری اکثریت غیر مسلموں کےلئے صاف نظر آنے والے زہریلے احساس کے کنویں میں گر گئی ہے؟
اِن سولات کے جواب میں مجھے اُس سے بھی زیادہ ملا جو میں نے کوشش کی تھی۔ کیونکہ میں نے جس طرح ٹٹولا مجھے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی یہودیوں اور عیسائیوں کےلئے برداشت ہمیشہ ہی نازک اندام رہی ہے۔ سنہری دور میں یہ برداشت حقارت کے نچلے درجے پر تھی، قبولیت کی سطح پر نہ تھی۔
مصر میں پیدا ہونے والی ایک یورپین اسکالر نے میرے اس خواب آلود تصور کہ مسلمانوں نے تاریخی طور پر ’دوسروں‘ کے ساتھ کیا سلوک کیا، پر گڑھوں ٹھنڈا پانی ڈال دیا۔ بیٹ یی یور اس یورپین سکالر کا نام ہے۔ یہ اُن کا قلمی نام ہے جو انہوں نے اس لئے اپنایا کہ وہ جو دلیلیں دیتی ہیں وہ مسلمانوں کو برافروختگی کے دوروں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یی یور نے یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف نظریہ اسلام کی جملہ منافرت کو بیان کرنے کےلئے لفظ ’حصار (حفاظت)‘ کوہررُخ سے پیش کیا ہے(۱۲)۔ ’کیوں ’حفاظت‘؟ یہ لفظ ’حصار‘ سے نکلا ہے ، اُن لوگوں کےلئے عربی کی اصطلاح جو اہلِ کتاب ہیں۔۔ جن کی مسلمان معاشروں میں حفاظت اُن کا استحقاق ہے۔
حفاظت؟ آئیے ہم اس اصول کی تہہ تک جاتے ہیں۔ کیوں یہودیوں اور عیسائیوں کو مخصوص حفاظت کی ضرورت تھی اگر وہ الکتاب سے تعلق رکھنے والے ہمارے جیسے ہی لوگ تھے، وہ مسلمانوں جیسے حقوق اور فرائض کے مستحق تھے؟ یہ ایک مسئلہ تھا۔ مسلمان معاشروں میں یہودیوں اور عیسائیوں (کسی ایک کو الگ کر کے بھی دیکھ لیجئے) کو عزت نفس کے شعبہ میں برابری کے سلوک کے ضمن میںمشکل دور کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس کی وضاحت: تاریخ میں رقم ہے کہ مسلمانوں کے دورِ حکومت میںیہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی حفاظت خریدنا پڑی، ایک خاص طرح کے لازمی ٹیکس کو ادا کرنے کی صورت میں، جو انہیں اپنی زندگیاں بچانے کی خاطر ہر صورت ادا کرنا ہوتا تھا ۔۔ اس ٹیکس کو جزیہ کا نام دیا گیا اور قرآن بقائے امن کی خاطر اس ٹیکس کو لاگو کرتا ہے۔ کیا یہ عزت نفس کو بھڑکانے والی بات نہیں؟ جی ہاں، پیغمبر محمد نے ثابت کیا کہ لوگ یہاں پر بھی اپنی مرضی سے کام لے سکتے ہیں۔ جب امن عامہ کو کوئی خطرہ لاحق نہ تھا، انہوں نے اس ٹیکس کو لاگو نہ کیا۔ پھر بھی اس ٹیکس کو رکھنے کی محض ضرورت مجھے ”بلیک میلنگ“ نظر آتی ہے۔ لیکن یی یور کی تحقیق نے اس الزام کی توضیع کی ہے۔ اِن باتوں پر غور کیجئے جب پیغمبر نے یہودی کسانوں کے ایک گروہ کو تب حکم دیا جب اُن کی فصلوں کے ذخائر کو پیغمبر کے فوجیوں نے مدینہ کے شمال میں خیبر کے مقام پرلوٹ لیا تھا۔ وہ لکھتی ہیں ، ”پیغمبر نے یہودیوں کو اُن کی زمینوں میں کاشت کاری کی اجازت دی تھی لیکن فقط مزارع کی حیثیت سے(۲۲) ۔ انہوں نے آدھی فصل کی پہنچ کا مطالبہ کیا تھااور یہ حق اپنے پاس رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں انہیں نکال باہر کریں۔“ یہاں پر میں پیغمبر پر تنقید نہیں کرنا چاہ رہی بلکہ صرف اسلام کی اصل ریاستی سیاست جو انہوں نے اپنائی ، بیان کر رہی ہوں۔
یہ بتانا عین انصاف کا تقاضہ ہے کہ دیگر تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر نے یہودی ہمسایوںکےلئے لائق مداح انداز میں تحمل و بردباری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہودیوں کے مقدس روزے کے دن کے موقع پر اُن کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ انہوں نے مسلمانوں کی باجماعت نمازوں کا جمعہ کے روز سے، جو یہودیوں کے سباتھ کے آغاز کا روز ہے، آغاز کیا۔ انہوں نے اصل میں یروشلم کوقبلہ ٹھہرایا نہ کہ مکہ کو۔ کیا اچھا تاثر تھا۔ لیکن ہمیں اس سوال کو بھی کریدنا ہے: کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ اپنے زمانے کے ایک عظیم سیاستدان کافقط تاثر ہی تھا اور اُن کا ضرورت سے زیادہ اصرار اسلام کے اندر مخفی کسی مہلک شے سے ہماری توجہ ہٹانا تھا۔
میں اس سوال پر ایک اچھے مقصد کےلئے زور دے رہی ہوں۔ ایک پریشان کن اور فیصلہ کن دستاویز سامنے آئی، یہ پیغمبر کی وفات کے زیادہ برسوں بعد کا واقعہ نہیں۔ یہ فرمان جاری ہوا کہ غیر مسلمان کھڑے ہو جائیں گے جب مسلمان بیٹھنا چاہیں گے اور یہ کہ غیر مسلمان اپنی عبادت گاہوں کی مرمت یا بدلی نہیں کرائیں گے، یوں وہ اپنی عبادت گاہوں کو گلتے سڑتے دیکھیں۔ عدالت میں مسلمانوں کے احکام ِ پاک کی غیر مسلمانوں کےلئے یہ کارگزاری تھی۔ اَب آپ کو وحشت انگیز صورت معلوم ہوئی۔ اس دستاویز کو ’معاہدہ عمر‘ کا نام دیا گیا۔ عمر کون تھے؟ پیغمبر محمد کے دوسرے خلیفہ۔۔ میں نے جو پڑھا ہے اُن کے مطابق ہر لحاظ سے ایک نفیس اور مفکر ساتھی ۔۔ یہ ایک معمہ ہے کہ اس طرح کے مسلسل فوق البشر واجب التعمیل احکامات کے ضمن میں اُن کا نام کیوں وابستہ (یا بدنام)کیا جا رہا ہے۔ اور اس کا یہ حصہ واضح نہیں، اس لئے دوبارہ یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیوں مسلمانوں نے نابردباری کو بردباری پر معاہدہ عمر کے تحت فوقیت دی؟ میں نے اس کو ’معاہدہ‘ کا نام خود دیا ہے تاکہ اس سوال کو اپنے ’ریڈار‘ پر رکھوں۔
اب میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ معاہدہ عمر کا شروع اسلام میں بہت برا تاثر پڑا اور بات بہت آگے تک بڑھی۔ نویں صدی کے اختتام پر ایک معروف ماہر قانون نے اس معاہدہ کو بنیاد بناتے ہوئے مسلمان گورنروں کو تجویز دی کہ وہ غیرمسلمانوں کے ساتھ اس کے مطابق سلوک کریں۔ اُس عالم نے ایک گرما گرم معاہدے کا نقشہ کھینچ دیا۔ اس معاہدے کی یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے کچھ شرائط پر نظر ڈالئے(۳۲)۔
٭تم مسلمانوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے گلی کے درمیان میں کھڑے نہیں ہو سکتے ا ور مارکیٹ کی نشستوں پر نہیں بیٹھ سکتے۔ ۔۔
٭ تمہیں خود کو اپنی کاٹھیوں اور زینوں سے مختلف دکھائی دینا ہو گا۔ ۔۔
٭تمہیں سر پر اوڑھنے والے صافے پر اپنا ’مارکا‘ لگا کر خود کو جدا کرنا ہو گا۔۔۔
٭تمہیں اپنے کپڑوں کے گرداگرد پیٹی باندھنا ہو گی، اپنے جبے اور دیگر کپڑوںکے اوپر بھی تاکہ یہ پیٹیاں کپڑوں کے اندر چھپی ہوئی نہ ہوں۔
استعمار پسندی، اس کے علاہ کیا ہے؟ یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر عبدل عزیز ساجیدینا کا اعتراف ہے کہ ان پابندیوں کو مسلمان قانون دانوں اور ججوں نے جبراً لاگو کیا بطور’الوہی نازل ہونے والے نظام کی نسلی منافرت پر مبنی شقوں‘ کی صورت(۴۲)۔۔ نسلی منافرت۔ الوہی عنایت۔ نظام۔ اگر آپ کو اس سارے سلسلہ میں کوئی دوسرا لفظ نہیں سوجھتا تو لفظ نظام پر ذرا دیر کےلئے رک جائیے۔ یہ آپ کو گٹھ جوڑ کے پورے کلچر کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ جس کا نام ڈمی ٹیوڈ ہے۔
اسلام کے سنہری دور کے پانچ سو سالہ عرصہ کے دوران معاہدہ عمر تمام کتابوں میں موجود رہا ، جس کی بناءپر مسلمانوں کی بردباری کا حال نازک ہی رہا جس کا اشارہ میں نے پہلے دیا تھا۔ مجھے اس پر مزید روشنی ڈالنے دیجئے: بہت سارے یہودی اور عیسائی اپنے آپ کو گومگو کی حالت میں دیکھتے رہے۔ وہ نرم خوئی سے کام لیتے ہوئے مسلمان گورنروں کو اس مسئلہ پر عوامی رائے لینے کی درخواست کر سکتے تھے ، اس معاملے میں گورنروںکے ناراض ہونے کا خدشہ تھا، لیکن اگر مسلمان حاکم عوامی رائے لینے پر آمادہ ہوجاتے تب بھی غیرمسلمانوں پرمعاہدہ عمر کی شان کی خلاف ورزی کرنے پر قہر ٹوٹ پڑنے کا خدشہ تھا۔ اس صورت میں اُن کے خاندانوں اور کمیونٹیوں کو قیمت چکانا پڑتی۔
میں آپ کو شموئیل ہا نجد اور اُن کے بیٹے کی مثال دینا چاہتی ہوں۔شموئیل کے بارے آپ کو یاد ہو گا کہ وہ سپین میں دو مسلمان بادشاہوں کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ایک بھاری بھرکم تخلیقی شخصیت، شاعر، فوجی کمانڈر اور عالم دین ہونے کے باوجود انہیں امتیازی نشان کو نمائش کے طور پر آویزاں کرنا پڑا۔ ہیبرو یونین کالج کے مجلہ ریوون فائرسٹون نے اس واقعہ کو شائع کیا، ”جب شموئیل کا ۵۵۰۱ءمیں انتقال ہوا، اُن کے بیٹے یوسف کو اُن کی جگہ اُن کے عہدہ پر فائز کر دیا گیا(۵۲)۔ اگرچہ وہ اپنے باپ کی طرح قابل تھا مگر وہ خودسرتھا اور اس طرح کی چیزوں کو ناپسند کرتاتھا۔ اُس کے ’دبے‘ رہنے والے رویے کے فقدان کے سبب اُسے تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور آخرکار ۶۶۰۱ءمیں اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا اور گریناڈا کی یہودی کمیونٹی کا قتل عام ہوا۔ تکنیکی طور پر یوسف اور اُس کے باپ دونوں نے مسلمانوں پر بااختیار ہو کر،بڑے عوامی عہدوںکو قبول کرنے کی شکل میں، ’معاہدہ‘کو توڑاتھا ۔ اس حقیقت کو تب تک نظر انداز کیا جاتا رہاجب تک شموئیل نے اپنے ساتھ عاجزی کے رویے کی مثال قائم رکھی، تب تک بادشاہت مجموعی طور پر اِن کے ساتھ رضا وراضی رہی۔ تاہم جب تناﺅ نے جنم لیا اور یوسف نے اپنی ذات کی تحقیر کرنے سے انکار کر دیا تب اُس نے ’ڈھیما (حصار)‘ کی خلاف ورزی کی، اُس کو بھی مار دیا گیا اور اُس کی کمیونٹی کو بھی تباہ و برباد کر دیا گیا۔
اس کے باوجود مجلہ فائرسٹون اپنے قارئین کو ”اسلام کے زیرسایہ یہودیوں کے بڑے عہدوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی نسبتآ بہتر صورتحال کے متعلق“، بات نظرانداز کرنے کا نہیں کہتا(۶۲)۔ بہت سارے (یہودی) دانشور اُن سے متفق ہیں۔ ایک پروفیسر نے تو اس بات کی طرف بھی اشارہ کیاکہ قرون وسطیٰ کی مسلمان عرب دنیا میں یہودی ہمسایوں کے ساتھ کلنک کے ٹیکے جیسا سلوک نہیں کیا جاتا تھاجبکہ عیسائی یورپ میں گرجا فعال سطح پر عیسائیوں اور یہودیوں کے باہم تعلق کی حوصلہ شکنی اس طرح کرتا تھا کہ چرچ نے یہودیوں کو محدود علاقوں میں رہنے کی اجازت دی ہوئی تھی۔ ’یہودیوں کا علاقہ‘ یا’ فقط یہودیوں کی گلیاں‘، عیسائیوں کے ذہنوں میں شبے اور دہشت کو عام کیا گیا تھا(۷۲)۔ (فائر سٹون میں) اسکالرز کا یہ نقطہ نظر بھی تھا، اِدھر اُدھر چند قتل عام کی وجہ سے اسلام کو موردِ الزام نہ ٹھہراﺅ۔ اس کی بجائے صورتحال کا قرونِ وسطیٰ کے عیسائی دور سے موازنہ کیا جائے جس کا مقصد یہودیت کا مکمل خاتمہ نظر آتا تھا۔
میں توازن کے خیال سے اس دلیل کو مان لیتی ہوں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ توازن کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیتی ہوں کہ ہمیں اُن مانوس ذکی الحس طریقوں کو بھی معمولی گرداننا نہیں چاہئے جو معاہدہ عمر میں اپنائے گئے ہیں۔ شمالی افریقہ میں یہودی اور عیسائی اپنے کندھوں پر سور اور بندروں کی تصویروں سے مزین بلے لگاتے تھے۔ انہیں یہ علامتیں اپنے گھروں کے دروازوں کے باہر بھی آویزاں کرنا ہوتی تھیں۔ بغداد، اسلام کے دانش کدے میں ’ڈھمی‘ لوگوں کواپنے پہننے والے کپڑوں پر پیلے رنگ کے نشانات لگانا ہوتے تھے، ویسا نشان نازیوں نے دوبارہ نکالا تھا۔ مجھے توقع ہے کہ اِن تفصیلات نے آپ کوبات سجھانا شروع کر دی ہو گی۔ انہوں نے میری بھی اسی طرح مدد کی۔ مجھے یہ بات سمجھ آنا شروع ہو گئی کہ کیسے اسلام ایک الگ تھلگ دین کی صورت اختیار کرتا گیا اور اکثر اوقات حقارت کا اظہار کرنے والے دین کے طور پر۔ اگر کوئی سوچ بچار پر پابندی کو نسلی منافرت کے طویل عرصہ پر مبنی عمل کے ساتھ ملائے تو کیا نتیجہ نکلے گا؟ تقلید اور ناروادار رویہ۔۔ اِن سب سے اوپر آپ کو نارواداری کی تقلید حاصل ہو گی۔
’یہاں پر رک جاﺅ!‘ آپ میں سے کچھ دہاڑیں گے۔ ’کتنی بار مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مجھے یہودیوں اور عیسائیوں کی تذلیل بالکل پسند نہیں؟ میں نہیں چاہتی کہ وہ میرے شہر میں پیلے ستاروں کے بلے لگا کر پھریں، اوکے؟تمام مسلمانوں پر ’نارواداری کی تقلید‘ کا نفاذ نہ کیجئے۔ ’براہِ مہربانی‘۔ لیکن نارواداری کی تقلید پیلے بلوں سے بھی بہت نیچے تک جاتی ہے۔ میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتی جو اس نظام سے مکمل طور پر ماورا ہو جو اس نارواداری کی تقلید کی اعانت کرتا ہے۔
جیسا کہ میں دروں بینی کی دعوت دے رہی ہوں۔ میں آپ کو اپنی مثال دونگی۔ میں کتوں سے خوفزدہ ماحول میں پلی بڑھی کیونکہ اسلام نے مجھے تعلیم دی کہ کتے گندی مخلوق ہیں۔ اگر تمہیں اِن کو چوکیدار کی حیثیت سے رکھنے کی ضرورت ہے تو اپنے ناک بند رکھو۔ کسی حالت میں بھی تمہیں اِن پر ہاتھ نہیں پھیرنا چاہئے اور صرف ان کو پالتو جانور سمجھو۔ اور کالے کتے؟ وہ تو صاف اور خالص مافوق الفطرت شے ہیں۔ میںاچھا خاصہ اپنے بیسویں کے عشرے میں تھی جب میں نے پہلی بار کتے کو چھوا اس توقع کے بغیرکہ میں خدا کی حدود کو کاٹ نہیں رہی۔
اس بات کا نارواداری کی تقلید سے ٹھیک ٹھاک تعلق ہے۔ احادیث ۔۔ جو پیغمبر محمد کے اقوال اور عملیات کی تفصیلات ہیں۔۔ میںکالے کتوں کا تمام تر تذکرہ عورتوں اور یہودیوں کی کم حیثیت کے ساتھ ساتھ آتا ہے۔ اگر ہم معروضی نہ ہوں تو یہ احادیث کالے کتوں کو ’دوسروں‘ کے ساتھ حاشیہ بردار کر کے دشنام طرازی کرتے ہوئے لعنت بھیجتی ہیں۔ اگر ہم احادیث کے بارے سوالات نہ اٹھائیں اور تعصب کی نوعیت کے بارے اپنی آنکھیں نہ کھولیںتب ہم آسانی سے اُس نظام کو متعارف کرا سکتے ہیں جو خدا کی کروڑوں مخلوقات کو کمتر درجہ دے حتکہ ماورائے فطرت مخلوقات کو بھی۔
کیا یہ نظام پاگلانہ نہیں ہو گا، کیا ایسا نہیں؟ مگر اس کے عواقب یہی ہیں۔ یوسی ایل اے کے پروفیسر برائے اسلامی قانون خالد ابو الفدل کا تجربہ سنئے۔ وہ ایک نومسلم کو جانتے ہیںجس کو ملا نے حکم دیا کہ وہ اپنے پالتو کتے کو کھائی میں پھینک دے۔ اس نومسلم نے دیکھا کہ وہ کتے کو جہاں بھی چھوڑ آتا ہے وہ دوبارہ اُس کی دہلیز پر مڑ آتا ہے۔ اُس شخص نے ملا سے پوچھا کہ اس کتے کا کیا کروں جو جانے کا نام ہی نہیں لیتا ۔
اس کو بھوکا چھوڑ دو، ملا نے جواب دیا۔
جب الفدل نے یہ بے رحمانہ کہانی سنی، وہ سرکشی پر اُتر آئے۔ کویت میں پیدا ہونے والے اور مصرسے اسلامی قانون کے تعلیمیافتہ عالم اصل حوالوں اور ابتدائی تفاسیر میں یہ جاننے کےلئے مستغرق ہو گئے کہ ملا کے پاس یہ بات کہنے کےلئے کوئی ٹھوس بنیاد ہے؟ اور انہوں نے تب یہ دریافت کیا کہ کیسے کتے، عورتیں اور یہودی گھٹیا انداز میں ایک ساتھ کمتر سمجھے جاتے ہیں(۸۲)، پیغمبر محمد نے ایسا نہیں کہا، وہ تو بظاہر کتوں کی موجودگی میں نماز پڑھنے کی اجازت دے کر کتوں کےلئے اچھی مثال چھوڑ رہے تھے لیکن بعد کے اسلامی دانشوروں کا یہ کیا دھرا ہے۔ شریعہ لاءکی تشکیل کی طرح، کتوں (یہودیوں اور عورتوں) کی تذلیل کا انتخاب بھی کیا جا سکتا تھا۔ خدا نے اس کا انتخاب نہیں کیا، خدا کے اوتاروں نے اس کا انتخاب کیا۔ ہم میں سے اکثر ان چیزوں کو اپنی زندگیوں کےلئے مول لیتے ہیں لیکن ہمیں اس میں سے کسی چیز کو اپنانا نہیں ہے۔ الفدل اور اُن کی بیوی گریس نے تین بے یارومددگار پلوں کو گود لیا ہوا ہے، اُن میں سے ایک کالے رنگ کا ہے۔ اِس پر مستزاد یہ کہ گریس اکثر گھر میں امامت کرا رہی ہوتی ہیں۔ اجتہاد کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے خالق کی محبت کو انسانی قوانین پر حاوی رکھا ہے۔
دیکھئے، ہمیں اجتہاد کے جذبے کا مظاہرہ کرنے کےلئے انعام یافتہ دانشور ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمیں ضرورت ہے اسلام کے بارے اپنے سوالات کو کھل کر بیان کر دینے کی۔۔ اور ہم سب کے پاس سوالات ہیں جو ہمارے تحت الشعور کے نہاں خانے میں چھپے بیٹھے ہیں۔
گاہے گاہے ہم نے اپنے سوالات پر عمل بھی کیا ہے۔ بزدلی کی بات ہے۔ بہت زیادہ بزدلی کی بات ہے۔ مصر میں ایک سو سال قبل مارکسزم، لادینیت اور نظریہ ارتقاءپر مباحثے منعقدہوئے ۔ ایک محقق کے مطابق قریب پچاس روزنامے اور دوسو ہفتہ وار مجلے ایک بار مفت تقسیم ہوئے جس میں والٹئیر جیسے تیزطرارلامذہب دانشور تک کے حوالے تھے۔ اس موقع پر مذہبی اصلاحات کا معاملہ بھی منظرعام پر آیا۔ انیسویں صدی میں یورپ کے ساتھ سیاسی مصالحت کے سبب یہ اصلاحات متاثر ہوئیں اور یہ دانشورانہ نشاطِ ثانیہ نوآبادیت مخالف تقریروں اور عرب اتحاد کے سیاسی دباﺅ نے ملیا میٹ کر کے رکھ دی، کیونکہ اِن سب کے معنی تھے کہ مغرب کی ہر شے کو رد کر دو۔ اور ۰۲۹۱ءکے عشرے تک اکثر سوالات معدوم ہو کر ایک سرگوشی کی صورت اختیار کر چکے تھے۔ اس دوران ایک مصری نے مسلم بھائی چارہ کےلئے اپنے عہد کی القائدہ بنائی۔ شروعات کے عمل سے برادرانہ دہشت گردی میں ڈھلنے والی کارروائی کا سہارا دو باتوںپر تھا، قرآن اور ریوالور۔ کسی سوال کی اجازت نہیں تھی۔
نارواداری کی تقلید کی تازہ مثال یہودیت مخالف پاگل پن ہے جو مصر میں بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ جاننا مشکل ہے کہ اس تھوڑی سی جگہ کے اندر کس کس بات پر روشنی ڈالی جائے، لہذا میں آپ کو ہنسانے کی خاطر ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ ۰۹۹۱ءکے اواخر میں اسرائیل نے مصر کو دوستانہ سطح پر کاشتکاری کی ٹیکنالوجی فراہم کی، بائیبل کے اس مذہبی اجتہاد کے ساتھ کہ اپنی تلواروں کو پھالوں میں ڈھال دو۔ آہا، امن امن۔اس کے ساتھ مصر کے اخبارات نے زہریلے بیجوں اور سرطان زدہ کھیروں کی داستانیں شائع کرنا شروع کر دیںجو بھولے بھالے کسانوں کو فراہم کئے گئے تھے۔ افواہوں نے مصر سے جنم لینے والی اس تحریک سے زور پکڑ لیاکہ قصوروار اسرائیلی دو خبیث اشیاءکو فروخت کر رہے ہیں۔ چیونگم جو خواتین میں جنسی شہوت کی ہلچل مچا دیتی ہے اور جینیاتی طور پر تیارکردہ پھل جو شوہروں کے تخم کو جڑ سے کاٹ دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اُس عرب ملک میں ہوا جس کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ۹۷۹۱ءسے ہے۔
اُردن دوسرا واحد ملک ہے جس کا اسرائیل سے معاہدہ امن ہے۔ لیکن اُردن کے متعدد اخبارات بشمول گورنمنٹ کے دو روزناموں کے، نے گیارہ ستمبر کو یہودیوں کی کارروائی قرار دیا۔ پڑھئے، ایک اردنی اخبار نے کیا چھاپا، اس کا ترجمہ مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے (انگریزی میں)کیا ہے ۔ ”یورپ کے یہودیوں نے امریکہ ہجرت کرنے کا ارادہ اس خیال سے کیا کہ امریکہ کے دارالحکومت، بینکوں، سٹاک مارکیٹ، میڈیا اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کے سیاسی کنٹرول کو کلیتاًحاصل کیا جائے اور انہوں نے ایسا کیا۔ یہودی امریکی فوج میں گھسے خاص طور پر فضائیہ میںاور انہوں نے اپنے پائلٹوں کو جہاز لے کر جانے کےلئے تیار کیا۔ یہودی جانتے تھے کہ امریکی فوج میں بھرتی ہونے والوں کے شناختی کارڈ پر مذہب کا خانہ نہیں ہوتا۔ یہودیوں نے اس طرح جہازوں کو قبضے میں لیا، جس طرح اخبارات، ریڈیو، ٹیلیویژن اور بینکوں کا سرمایہ اور سٹاک مارکیٹ اُن کے قبضے میں پہلے سے تھی ۔ یوں انہوں نے سیاسی فیصلہ بندی پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔اب بش کیوں اس حقیقت کو نظرانداز کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، جاننے کےلئے تفتیش کی جائے گی؟ بش، اس کے پیچھے یہودی ہیں، یہودی!“
آپ سمجھتے ہیں کہ کس بات نے میرے رونگٹے کھڑے کئے وہ یہ کہ یہ جھرلو سازشیں ایک ’معتدل‘ عرب ملک کے میڈیا میں شائع ہوئی ہیں؟ یہ سچ ہے کہ مغرب کے بارے مسلمانوں کا یہی رویہ ہے۔ مجھے اگر مزید ثبوت کی ضرورت پڑی تو یہ مجھے ایک خط کی صورت میں ملا جو گیارہ ستمبر کے بعد میرے اخباری مضامین کے حوالے سے مجھے لکھا گیا تھا۔ ”میں خود کو ایک لبرل مسلمان سمجھتا ہوں“، مراسلہ نگار نے اپنے خط کے آغاز میں لکھا، اِس خط نے میرے تمام کام کو تباہ کر کے مجھے رولا کر رکھ دیا جو کام میں روشن خیالی کے ضمن میں کر رہی تھی۔ تمام مسلمانوں نے جو کام کیا وہ ’اسلام کے صحیح اور سچے پیغام‘ کو فروغ دینے کےلئے کیا۔ یہ ’صحیح اور سچا پیغام کیاتھا‘؟ مراسلہ نگار نے اُس کو نظرانداز کرتے ہوئے ، اپنی توجہ فقط یہ بتانے کےلئے وقف کی کہ یہودی ذرائع ابلاغ کو چلا رہے ہیں اور ’میرے کالم سیدھے یہودی تنظیموں سے آ رہے ہیں‘۔ اس لبرل مسلمان نے مجھے یقین دہانی کروائی۔ ”میں تمہیں اپنی تحریریں خود سنسر کرنے کو نہیں کہتا لیکن تمہارے جیسے مسلمان کے خیالات جب غیر مسلمان اور صیہونی بروئے کار لاتے ہیں تو تمہیں خود سے سوچنا چاہئے۔“
مسٹر صحیح اور سچ نے ایک بات صحیح ثابت کی۔ صیہونی اصلاحات کے بارے میری شائع شدہ اپیلوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ایک ایسی صحافی کی صورت میں جو کھلے دروازوں کی شہرت رکھتی ہو، مجھے ۲۰۰۲ءکے موسم گرما میں اسرائیل کے دورہ کی دعوت ملی۔ اس پیشکش پر غوروفکر کے دوران میرے ساتھ ایک امتیازی واقعہ پیش آیا۔ مسلمان عورتوں کے ساتھ اُسی ہولناکی سے پیش آتے ہیںجس طرح اُن کا رویہ یہودیوں کے بارے ہے۔ ہم ابھی بھی اپنے جغرافیائی ناسوروں اور جامد دانش کی ذمہ داری عورتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر نہیں ڈالتے۔ کیا کوئی صاف ذہن رکھنے والااسرائیل کو اس حوالے سے دیکھنا چاہے گا کہ اسلام کی اصلاحات کی کلیدی کنجی اسرائیل کے پاس ہے؟
میں نے اسرائیل جانے کی پیشکش کو دو شرائط پر قبول کیا: مجھے ہر وہ سوال اٹھانے کی اجازت ہوگی جو میں چاہونگی اور مجھے اپنے سفر کی روئیداد لکھنے میں مدد درکار ہو گی۔ یہ وہ شرائط ہیں جو میں عرب اور مسلمان تنظیموں کے سامنے رکھتی ہوں جب مجھے اُن کی طرف سے اس قسم کے سفر کی پیشکش ہوتی ہے۔ اِن عرب اور مسلمان تنظیموں نے تو کبھی مجھے جواب نہیں دیا۔ لیکن میرے صیہونی میزبان نے میری شرائط کو قبول کیااور یقین دہانی کرائی کہ میں اپنے سفر کی ہمسفر ہو سکتی ہوں اور ہونگی ۔ تب میں نے خود سے دوبارہ استفسار کیا، کیا مجھے جانا چاہئے؟
مجھے مسٹر خاکی یاد آئے اور کیویر ٹیلیویژن کے وہ ناظرین یاد آئے جو ہم جنس پرست مسلمانوں کو یہودیوں کے ”سور“ اور ”کتے“ کہتے ہیں۔ میں نے حقوقِ نسواں کی حامی اُس مسلمان خاتون کو یاد کیا جس نے طالبان کے بارے بات کرنے سے بچنے کےلئے مجھ سے یہ پوچھا تھا، ”فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے“۔اَب اُس لبرل مسلمان نے میرے رونگٹے کھڑے کر دئیے تھے جس نے مجھے اصلاحات کے بارے سوچ بچار کرنے سے متنبہ کیا تھا کیونکہ (بقول اُس کے) یہودی تنظیموں کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
مستقل ہمارے (مسلمانوں ) چہروں پر یہودی عرب مسئلہ کے طاری رہنے کی بناءپر میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے خود سے اسرائیل جا کر دیکھنا چاہئے کہ کیا اسرائیل مسلمانوں کے نہ حرکت کر سکنے والے غصہ وبرہمی کےلئے کس طرح موجب ہے۔ میں اُس غصہ و برہمی کی بات کر رہی ہوں جس کی بنیاد پر ہم اپنی حالت سے بری الذمہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔۔ حتکہ مغرب میں رہنے کے باوجودجہاں ہم اپنے اعمال پر غائر نظر ڈالنے کی اُس آزادی کے حمام میں ہیں جس میں باقی سب بھی ہیں۔ اگر ہم مسلمان ذہن کی نارواداری کو الٹ کر دیکھیں تو ہمیں اپنی آنکھوں پر چڑھے تعصب اور حیرت کے چشموں کو ہٹانا ہو گا: کیا واقعتاً اسرائیل وہ بھوت ہے جسے ہم نے باہر نکال کر رکھا ہوا ہے؟
صیہونی میرے ساتھ تھے جنہوں نے میرے لئے جہاز کی ٹکٹ لی تھی۔
حوالہ جات:
۱ ۔ ”یورپ سے میرے دوستوں نے وہاں کے میڈیا میں اسی طرح کی بھری ہوئی گھسی پٹی باتیں بطور مثال مجھے ای میل کیں۔“نوٹ: اگر آپ میرے دوستوں پر یقین نہ کرنا چاہیں تو برطانیہ کے معروف اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی باقاعدہ کالم نگار یاسمین علی بھائی براﺅن پر یقین کر لیں۔ وہ لکھتی ہیں، ”اُس پورے عرصہ کے دوران بی بی سی کے برطانوی مسلمانوں کے بارے پروگراموں میں کسی بھی خطرناک واقعہ کے بیان سے تن دہی کے ساتھ اجتناب برتا گیا کیونکہ سانحہ گیارہ ستمبر کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ بکھرے ہوئے برطانوی مسلمانوں کے بارے مثبت نوعیت کا عوامی اثر چھوڑا جائے۔ اسلام آگہی ہفتہ کے دوران دوسرے ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اچھا محسوس ہونے والامواد پیش کیا“۔ اَب آپ خود دیکھ سکتے ہیں، ”مسلمان برطانوی میڈیا کے سر الزام دھرتے ہوئے غلط بات کہنے کے مرتکب ہو رہے ہیں،“ اخبار دی انڈیپینڈینٹ ، اگست ۶۲، ۲۰۰۲ئ۔
۲۔ ”میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں (مسلمانوں کو) اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دی تھی۔“اِس کی مثال دیکھنے کےلئے میری ویب سائٹ دیکھ لیجئے۔
۳۔ ”مجھے ایک ایسے مرکزی دھارے کا حصہ بننے کی کوئی خواہش نہیں جو اخلاقی طور پر مفلوج اور دانشورانہ سطح پر انحطاط پذیر ہو۔ “نوٹ: میں سمجھتی ہوں کہ یہ لڑنے جھگڑنے والے الفاظ ہیں۔ مگر میں مرکزی دھارے کے مسلمانوں کے بارے اپنی اِن آراءکہ وہ ’ اخلاقی طور پر مفلوج اور دانشورانہ سطح پر انحطاط پذیر ‘ ، پر قائم ہوں۔ یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے اسٹوڈنٹس نیوز پیپر کی اشاعت فروری ۰۱، ۳۰۰۲ءکے شمارہ کی ایک داستان کا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔ اِس داستان میں بتایا گیا ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی ایک ”منگنی کی تقریب“ میں شریک ہوتے ہیں۔ دونوں جھجھکے ہوئے ہیں مگر خوشگوار نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ مسلمان، اِس داستان میں بتایا گیا ہے، ”دوسرے مسلمان طالبعلموں کے بارے جانتی ہے کہ انہوں نے تقریب میں نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے“۔ اخبار اس طرح لکھتا ہے کہ وہ بتاتی ہے، ”لوگ اُس کلنک کے ٹیکے کے بارے متفکر ہوں جو اُن کے ناموں پر لگ سکتا ہے یا اُن کے گروہ پر لگ سکتا ہے اگر وہ اُن خاص گروہوں کے ساتھ مل بیٹھیں جو اُن کے مرکزی دھارے میں قابلِ قبول نہیں ہیں۔“ کیوں ایسی تقریب میں شرکت کرنے والوں کے ناموں پر کلنک کا ٹیکہ لگے گا؟ کیوں یہودیوں کے ساتھ بات چیت مرکزی دھارے کے اسلام کو قبول نہیں، جب تک کہ وہ مرکزی دھارا اخلاقی یا دانشورانہ سطح پر یا پھر دونوں لحاظ سے قابلِ افسوس نہ ہو؟
۴ ۔ ”سپین میں مغربی دنیا تک اسلام کی پہنچ کے بعد مسلمانوں نے ایک تاریخ دان کے بقول یہودیوں کے ساتھ ’برداشت کی ثقافت ‘ کو جنم دیا۔“حوالہ: Maria Rosa Menocal, The Ornament of the World: How Muslims, Jews, and Christians Created a Culture of Tolerance in Medievel Spain (Boston: Little, Brown, 2002).
۵۔ ”مغربی تہذیب میں اسلام کی خدمات پر مجھے بھرپور روشنی ڈالنے کی اجازت دیجئے۔ “George Raphael, "A is for Arabs," www.salon.com, January 8, 2002. Ole!" is traced to "Allah!" by Murad Wilfried Hoffman, Religion on the Rise: Islam in the Third Millennium (Beltsville, Maryland: Amana, 2001), p. 3.
۶ ۔ ”جنوبی سپین کے شہر کورڈوبامیں ، مثال کے طور پر جنسی طور پر ایک انتہائی پُرکشش عورت ولادا نے ایک ادبی کیفے قائم کیا ہوا تھا جہاں لوگ خوابوں، شاعری اور قرآن کا ایک ساتھ تجزیہ کیا کرتے تھے۔ “ حوالہ اور نوٹ: Her full name was Wallada bint-al-Mustakfi. See Tariq Ali, The Clash of Fundamentalisms: Crusades, Jihads and Modernity (London, New York: Verso, 2002), p. 56.
۷۔ ”بغداد میں نویں صدی کے خلیفہ المامون تھے جنہوں نے نام نہاد ’دانش کا ادارہ‘ قائم کیا۔ ٹمپل یونیورسٹی کے محمود ایوب کے بقول یہ ادارہ مغربی اور اسلامی دنیا میں اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ تھا۔ “نوٹ: Mahmoud Ayoub, "The Islamic Tradition," Willard G. Oxtoby, ed., World Religions: Western Traditions (Don Mills, Ontario: Oxford University Press, 2002) p. 395.
۸ ۔ ”اسی راستے سے مسلمانوں کے کمانڈر طارق بن زیاد نے پہاڑوں کے سلسلہ کو عبور کیا جس کا موجودہ نام جبرالٹر ہے۔ عربی زبان میں جبرالٹر کے معنی ’طارق کا پہاڑ‘ ہے۔“حوالہ: (اِس کے علاوہ بھی) Tariq Ali, The Clash of Fundamentalisms, p. 34.
۹ ۔ ”یہ سلسلہ عربوں کےلئے دوگنا ہو گیا جو ایک تجزیہ نگار کی نظر میں جنگجو تھے منتظم نہ تھے۔“حوالہGeorge Raphael, "A is forArabs," www.salon.com, January 8, 2002.۰۱۔ ”یہودی سپین کی آدھی آبادی پر مشتمل تھے۔“حوالہ: Khalid Duran, Children of Abraham: An Introduction to Islam for Jews (Hoboken, New Jersey: Ktav Publishing House/American Jewish Committee, 2001), p. 100.
۱۱ ۔ ”اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون نے دوپہر کے کھانے کے وقفوں کے دوران عربی سیکھی تاکہ وہ میمونائیڈز کے کام کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔“حوالہ: Khalid Duran, Ibid., p. 105.
۲۱۔” ہمہ جہت مذاہب اور اُن کی ایک دوسرے کےلئے برداشت اس حقیقت کا نتیجہ ہے لوگ اُن تعلیمات کے ساتھ مخلص ہیں جو انہیں دی جاتی ہے۔“حوالہ: Khalid Duran quoting Maimonides, Ibid., p. 103.
۳۱۔ ” ایسی کوئی مذہبی ہدایت نہیں کہ اِن آیات کی لفظی تشریح ہونی چاہئے۔‘ ‘حوالہ: اِسی طرح کے خیالات کا اظہار ابنِ رشد نے ایک سے زیادہ حوالوں میں کیا ہے، مثال کے طور پر دیکھئے، Decisive Treatise on the Connection between Law and Wisdom, translation and notes by Charles E. Butterworth (Provo, Utah: Brigham Young University Press, 2001). ، یہ بھی دیکھئے، The Incoherence of the Incoherence, translation and notes by Simon van den Bergh (London: M. Luzac, 1954).
۴۱۔ ”انہوں نے اپنے ایک تجزیہ میں کہا،’عورت کی صلاحیت کا ہمیں ابھی اندازہ ہی نہیںکیونکہ اُن کی تنزلی بچے کوجنم دینے، اُس کی پرورش کرنے اور چھاتیوں سے دودھ پلانے تک کر دی گئی ہے‘۔“Ibn Rushd quoted by Tariq Ali, The Clash of Fundamentalisms, p. 66.
۵۱۔ ” المامون کا ایک جانشین تو ایسا تھا جس نے المامون کی اسلامی تعلیمات کو نہ ماننے والے کو سزائے موت دے دی۔“نوٹ اور حوالہ: ابن رشد کے جس بھتیجے کا میں ذکر کر رہی ہوں، ابنِ وراق کے مطابق وہ الوتھک تھا۔ ابن وراق کے لفظوں میں، الوتھک نے ایک مذہب پرست کی گردن کاٹنا چاہی جس نے سرکاری الوہی حکم کو مانا نہیں تھا۔ خلیفہ اِس میں کامیاب نہ ہو سکا اور آخرکار اُس کو یہ فرمان ختم کرنا پڑا“۔ Ibn Warraq, Why I Am Not a Muslim (Amherst, New York: Prometheus Books, 1995), p. 248.
۶۱ ۔ ” اس خلیفہ نے فرمان جاری کیا کہ اہلِ اسلام کو ’کیسے پوچھے بغیر‘قرآن کی ہر بات کو ماننا پڑے گا۔“حوالہ: Mahmoud Ayoub, The Islamic Tradition," World Religions: Western Traditions, p. 398.
۷۱ ۔ ”معروف فتوﺅں کے مجموعے کو بھی اکٹھا کیا گیا ہے جو نسبتاً کمتر تخلیقی یا کمتر صلاحیتی مفتی صاحبان کےلئے ایک رہنما کتابچے کے طور پر کام آتا ہے۔ “حوالہ: Mahmoud Ayoub, Ibid., p. 392.
۸۱۔ ”ہم یہ صورت سعودی عرب میں دیکھتے ہیں ، ایران میں، سوڈان میں اور افغانستان میں جب یہ طالبان کے ماتحت تھا۔“حوالہ: Ziauddan Sardar, "Islam: Resistance and Reform," New Internationalist, May 2002. Download from www.newint.org.
۹۱۔ ” اُس کا جرم کیا تھا؟ ابتدائے اسلام کی تاریخ کی توضیع کرنا۔ “حوالہ اور نوٹ: Alexander Stille, "Radical New Views of Islam and the Origins of the Koran," New York Times, March 2, 2002.۔ویسٹ بینک سے دوصحافیوں اور ایک انسانی حقوق کے وکیل نے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔پروفیسر کا نام سلیمان بشیر ہے، اُس کی کتاب پر تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔ Arabs and Others in Early Islam, in the International Journal of Middle East Studies, Vol. XXXII, No. 2, May 2000, pp. 277-79.
۰۲ ۔ ”اور اُس کے بعد چیچن حامیوں کی ایک ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیںجو شریعہ کی پیروی کو ذرا اور فخر کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ “www.qoqaz.com. At last check, its homepage streamed video of people and places being blown up.
۱۲۔ ” یی یور نے یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف نظریہ اسلام کی جملہ منافرت کو بیان کرنے کےلئے لفظ ’حصار (حفاظت)‘ کو گھما پھرا کر پیش کیا ہے۔“حوالہ: Bat Ye'or, Islam and Dhimmitude: Where Civilizations Collide (Madison, New Jersey: Farleigh Dickinson University Press, 2002).
۲۲ ۔ ”پیغمبر نے یہودیوں کو اُن کی زمینوں میں کاشت کاری کی اجازت دی تھی لیکن فقط مزارع کی حیثیت سے ۔ انہوں نے آدھی فصل کی پہنچ کا مطالبہ کیا تھااور یہ حق اپنے پاس رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں انہیں نکال باہر کریں۔“ حوالہ: Bat Ye'or, Ibid., p. 37.
۳۲۔ ” اس معاہدے کی یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے کچھ شرائط پر نظر ڈالئے۔ “حوالہ: یہ نقطے عبداللہ عزیز سچدینا کی دین ہیں۔ The Islamic Roots of Democratic Pluralism (Oxford, New York: Oxford University Press, 2001), p. 67.
۴۲۔ ” ان پابندیوں کو مسلمان قانون دانوں اور ججوں نے جبراً لاگو کیا بطور’الوہی نازل ہونے والے نظام کی نسلی منافرت پر مبنی شقوں‘ کی صورت۔“حوالہ اور نوٹ: Abdulaziz Sachedina, Ibid., p. 65.، سچدینا واحد مسلمان اسکالر نہیں جو یی یور کے اِس دعوے کو مانتے ہیں کہ ’حصار‘ کا تصور اسلام میں رہا ہے۔ خالد دوراں لکھتے ہیں، ”پہلے مسلمان فاتحین بحیرہ روم اور اُس کے پرے علاقوںکے پِسے ہوئے لوگوں کےلئے تسلی بخش پیغام بن کر آئے۔بعد کی صدیوں میںتاہم مسلمان حکومتوں نے بعض اوقات اُن لوگوں کی اکڑ نکال دی جو ناجائز قابض تھے۔ ایک دفعہ جن اُن کا سیاسی اقتدار جم گیا، کچھ مسلمان حاکموں نے اقلیتوں کے ساتھ جابرانہ سلوک شروع کر دیا(صفحہ ۶۰۱)۔مگر ڈیوراں کے لفظ ’کچھ‘ پر غور کیجئے۔ ڈوراں ’حصار‘ کو اسلام کی قدر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اکثر ’ڈمی‘ قوموں کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا تھا۔۔(صفحہ ۹۰۱)۔ مجھے اِس بارے شک ہے۔
۵۲ ۔ ”جب شموئیل کا ۵۵۰۱ءمیں انتقال ہوا، اُن کے بیٹے یوسف کو اُن کی جگہ اُن کے عہدہ پر فائز کر دیا گیا۔“حوالہ: Reuven Firestone, Children of Abraham: An Introduction to Judaism for Muslims (Hoboken, New Jersey: Ktav Publishing House/American Jewish Committee, 2001), p. 56.
۶۲ ۔”اس کے باوجود مجلہ فائرسٹون اپنے قارئین کو ”اسلام کے زیرسایہ یہودیوں کے بڑے عہدوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی نسبتآ بہتر صورتحال کے متعلق“، بات نظرانداز کرنے کا نہیں کہتا۔“حوالہ:Reuven Firestone, Ibid, p. 57.
۷۲۔” یہودیوں کا علاقہ‘ یا’ فقط یہودیوں کی گلیاں‘، عیسائیوں کے ذہنوں میں شبے اور دہشت کو عام کیا گیا تھا۔“حوالہ: Mark Cohen, Under Crescent and Cross: The Jews in the Middle Ages (Princeton: Princeton University Press, 1994), p. 126.، اس کتاب میں پہلے کوہن لکھتے ہیں، ”عربوں اور عرب نواز مصنفین کا رجحان اسلامی رواداری کے طے کردہ اصول کے حوالے سے لکیر کے فقیر انداز میں رہا اور یہی رجحان باہم مذاہب کی نظر فریبی کے حوالے سے بھی رہا(صفحہ ۶۲۱)“۔
۸۲ ۔ ”اور انہوں نے تب یہ دریافت کیا کہ کیسے کتے، عورتیں اور یہودی گھٹیا انداز میں ایک ساتھ کمتر سمجھے جاتے ہیں۔“نوٹ: الفدل اپنا یہ نقطہ کئی میڈیا میں اپنے انٹرویوکے دوران بیان کر چکے ہیں۔ اُن کے کام کو دیکھنے کےلئے www.scholarofthehouse.org.پر جائیے۔
۹۲ ۔” ایک محقق کے مطابق قریب پچاس روزنامے اور دوسو ہفتہ وار مجلے ایک بار مفت تقسیم ہوئے جس میں والٹئیر جیسے تیزطرارلامذہب دانشور تک کے حوالے تھے۔“حوالہ: "News from Egypt: Tried and Found Guilty of Deriding Islam," posted on www.secularislam.org.، اِس صفحہ پرمڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ مصری صحافی فتح ماہ فاراگ کی رپورٹ پیش کرتا ہے جو الاحرام ویکلی، اشاعت تین اگست ۰۰۰۲ءکےلئے ہے۔ فاراگ لکھتے ہیں کہ انور مگھیتھ ، جو مصر کے جدید نقطہ نظر کے محقق ہیں، نے لکھا ہے کہ کس طرح ۹۸۸۱ءمیں پچاس اخبارات تھے جو ۹۰۹۱ءمیں بڑھ کر چوراسی ہو گئے جبکہ ہفت روزہ کی تعداد دو سو کے لگ بھگ تھی، جن میں سے اکثریت کھلے دل کے ساتھ متنوع خیالات کو زیربحث لاتے تھے بشمول اُن کے جو صاف طور پر مذہب کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔“
۰۳۔”ا س کے ساتھ مصر کے اخبارات نے زہریلے بیجوں اور سرطان زدہ کھیروں کی داستانیں شائع کرنا شروع کر دیںجو بھولے بھالے کسانوں کو فراہم کئے گئے تھے۔ افواہوں نے مصر سے جنم لینے والی اس تحریک سے زور پکڑ لیاکہ قصوروار اسرائیلی دو خبیث اشیاءکو فروخت کر رہے ہیں۔ چیونگم جو خواتین میں جنسی شہوت کی ہلچل مچا دیتی ہے اور جینیاتی طور پر تیارکردہ پھل جو شوہروں کے تخم کو جڑ سے کاٹ دیتے ہیں۔“حوالہ اور نوٹ: Bernard Lewis, "Muslim Anti-Semitism," The Middle East Forum, June 1998, p. 3 of online version. Download at ، www.meforum.org.، اس طرح کی کہانیاں فلسطین میں بھی لکھی گئیں۔ عرب صحافی خالد ابو تومہے لکھتے ہیںکہ آخری انتفادہ کے آغاز کے مہینوں میں نوجوان فلسطینی مرد اور عورتوں کو بدعنوان بنانے کےلئے اسرائیل پر ادویات پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ اسرائلیوں پر فلسطینی دکانوں میں جنسی شہوت ابھارنے والی چیونگم پھیلانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ الزام لگانے کا مقصد یہ تھا کہ اِس بناءپر فلسطینی عورتوں کو طوائفیں بنایا جا سکے۔ جب تناﺅ مزید بڑھ گیا تو فلسطینی حکام نے اِس بار اسرائیل پر ایسی تابکار کمرپیٹیاںپھیلانے کا الزام لگایا جن سے سرطان پھیلتا ہے۔ See Khaled Abou Toameh, "How the war began," Jerusalem Post, September 19, 2002.
۱۳۔” یورپ کے یہودیوں نے امریکہ ہجرت کرنے کا ارادہ اس خیال سے کیا کہ امریکہ کے دارالحکومت، بینکوں، سٹاک مارکیٹ، میڈیا اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کے سیاسی کنٹرول کو کلیتاًحاصل کیا جائے۔۔کہ گیارہ ستمبر کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، جاننے کےلئے تفتیش کی جائے گی؟ بش، اس کے پیچھے یہودی ہیں، یہودی!“Al-Sabil newspaper, as quoted by MEMRI in A New Anti-Semitic Myth in Middle East Studies: The September 11 Attacks Were Perpetrated by the Jews, Washington, D.C., 2002, p. 31. MEMRI provides the original Arabic versions of all its sources. Download this report at www.memri.org.
۲۳ ۔” ”میں خود کو ایک لبرل مسلمان سمجھتا ہوں“، مراسلہ نگار نے اپنے خط کے آغاز میں لکھا، ۔۔۔۔۔۔ اس لبرل مسلمان نے مجھے یقین دہانی کروائی۔ ”میں تمہیں اپنی تحریریں خود سنسر کرنے کو نہیں کہتا لیکن تمہارے جیسے مسلمان کے خیالات جب غیر مسلمان اور صیہونی بروئے کار لاتے ہیں تو تمہیں خود سے سوچنا چاہئے۔“حوالہ: Email dated May 19, 2002.
۳۳ ۔ ”صیہونی میرے ساتھ تھے جنہوں نے میرے لئے جہاز کی ٹکٹ لی تھی۔“ نوٹ: اسرائیل جانے سے پہلے چند ماہ کے دوران میں نے کئی عرب، فلسطینی اور مسلمان تنظیموں سے رابطہ کیا کہ مجھے مشرقِ وسطیٰ صحافیانہ مشن پر بھیجا جائے تاکہ میں معاملات کو غیر صیہونی تناظر میں دیکھ سکوں۔ کسی ایک نے بھی میری درخواست پر جواب نہ دیا۔
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




