Urdu Edition
ستر باکرہ حوریں
جب سے میرا مدرسہ کے ساتھ تعلق بنا تھاتب سے میں ایک اہم ترین سوال سے گتھم گتھا تھی، کیا مجھے اسلام کو خدا حافظ کہہ دینا چاہئے؟ اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے مجھے ایک اور سوال درپیش ہوتا کہ کیا اسلام کوئی مسئلہ لاینخل ہے یا پھر اسلام میں کوئی خاص چیز ہے جو اِس کواپنے جیسے معاصر مذاہب مسیحیت اور یہودیت سے زیادہ سخت گیر بناتی ہے۔ میرے باس کے چیلنج نے میرے سر کو دلدل تک دھکیلا ہوا تھا۔
جس بات نے مجھے پریشان حال کیا ہوا تھا وہ فقط نائجیریا میں زنا بالجبر کا شکار ہونے والی ایک لڑکی کی کہانی نہ تھی۔ آپ کسی بھی اسلامی ملک کو اٹھا کر دیکھ لیجئے، انسانی تضحیک کے جبر آپ کے دل و دماغ کو پکڑ لیں گے۔ پاکستان میں اوسطاً دو لڑکیاں روزانہ کے حساب سے غیرت کا قتل کے نام پر مرتی ہیں، مرنے والیوں کے قاتلوں کی اکثریت کے لبوں پر خدا کے نام کا ورد جاری ہوتا ہے۔ مالی اور موریطانیہ میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو جنس زدگی پر مجبور کر کے اُن کے مکروہ مسلمان آقا اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ سوڈان میں انسانی غلامی اسلامی فوج کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ یمن اور اُردن میں انسانی فلاح کا کام کرنے والے مسیحی کارکنوں کو سرعام گولیاں ماری گئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں جن مصنفین نے اقلیتوں کے حقوق کی وکالت کی انہیں یا تو جیلوں میں بند کر دیا گیا یا پھر سرے سے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ دستاویزی طور پر محفوظ ہے۔
ارے ہاں، میں مذہب کو ثقافت کے ساتھ پھر اُلجھا رہی ہوں، لیکن کیا واقعی؟ حتکہ ٹورونٹو، جس کی ثقافت بنگلہ دیش سے کہیں مختلف ہے وہاں ظالم و ناشائستہ اسلام ناچتا پھل پھول رہا ہے۔ اَب آپ میرے ساتھ رہئے گا، میں آپ کو بتاﺅنگی کہ میں کیسے یہ سب کچھ جانتی ہوں؟
موسس سے خط ملنے کے تھوڑے دنوں بعد میں نے ”کیوریر ٹیلی ویژن“ کا ایک پروگرام مسلمان ہم جنس پرستوں کے مسائل عیاں کرنے کےلئے بنایا۔ اِس پروگرام کی داستانوں میں ایک داستان پاکستان کے ایک ہم جنس مرد کی تھی جو لندن میں رہ رہا تھا اور دوسری داستان ایک ایرانی ہم جنس لڑکی کی تھی جو اپنے آبائی وطن ایران سے بھاگ کر وینکوورآگئی تھی۔
مریم، ہم جنس پرست لڑکی کو اپنے وطن میں مذہبی پولیس نے روئے زمین کی بدکار ہستی قرار دیا ہوا تھا۔ میں نے اپنے پروگرام میں ایران سے ا ٓ مدہ ایک وڈیو یہ حقیقت ثابت کرنے کےلئے نشر کی کہ اگر یہ لڑکی وہاں رہ رہی ہوتی اور گرفتار ہو جاتی تو اِس کے ساتھ کیا ہوتا۔ یہ ٹیپ دو ہم جنس عورتوں کو ایک ساتھ زندہ باندھے ہوئے دکھا رہی تھی، جن کو ایک سفید چادر پر لٹائے تازہ کھودے ہوئے گڑھے میں ڈالا جا رہا تھا۔ آدمیوں اور لڑکوں کا ایک ہجوم اُن کے گرد کھڑا تھااور مٹھی کی سائز کے پتھر اُن کے سروں پر مارنے کےلئے تیار تھا۔اکثر پتھر نشانے پر لگتے اور جہاں پر لگتے وہاں سے گہرے سرخ رنگ کے فوارے پھوٹتے۔ مریم نے بتایا کہ وہاں کے قانون کے مطابق پتھر مارنے والوں کو اپنی بغلوں میں قرآن ساتھ اڑسنا ہوتا ہے تاکہ پتھر مارنے کی قوت کم نہ ہو۔ یہ فرمان ہر وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ اپنی زندگی کے بارے ابھی بھی خوفزدہ مریم نے اپنی کہانی پردہ سکرین کے پیچھے رہ کر سنائی۔
عدنان ، ہم جنس پرست مسلمان شخص، کیمرے کے سامنے آنے کو تیار ہو گیا۔ وہ کہتا ہے کہ قرآن ہم جنس پرستی کے خلاف ہے، لیکن اُس نے اَب اِس قرآنی فرمان کو تسلیم کر لیا ہے ۔ وہ اپنے ساتھی لڑکے کو مسلمانوں سے ملانے ٹی وی پر نہ لایا، اُس کا ساتھی لڑکا اُس کی ماں سے پاکستان میں ملا تھا۔عدنان کا خیال ہے کہ مذہب کی قطعیت اپنی جگہ پر درست ہے لیکن اِس کا اطلاق روشن خیال لندن میں کسی صورت بھی ممکن نہیں، جہاں پر وہ اور اُس کا ساتھی لڑکا رہتے ہیں۔ یہ پروگرام لندن اسلامک کلچرل سنٹر کے ترجمان کے اِس تبصرے پر ختم ہوا کہ جب ہم جنس پرستوں کے بارے فیصلہ دینا ہو تو ہمیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اُس نے کہا کہ ظاہر تو یہی ہوتا ہے کہ اسلام میں ہم جنس پرستی کی گنجائش نہیںلیکن خدائے ذوالجلال کے دربار میںکچھ بھی ممکن ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اِس شو کے نشر ہونے کے بعد کیا ہوا؟وہ تمام شکایات جو میں نے ٹورونٹو ایریا کے مسلمانوں سے سنی ، میں سب سے زیادہ مشترک شکایت یہ تھی کہ یہ ہم جن پرست ”سور“ اور ”کتے“ جنہیں تم نے اپنے پروگرام میں پیش کیا، پروگرام بناتے وقت تمہیں ضرور یہودیوں نے باندھ کر رکھا ہو گا۔ کسی نے ایرانیوں کی سنگساری والی اُس نہائت قبیح ٹیپ کا تذکرہ کرنا گوارا نہیں کیا اور نہ عدنان کی اُس بات کا ذکر کیا جس میں وہ اپنی ہم جنس پرستی کو مذہب کی طرف سے دھتکارے جانے کو تسلیم کرنے کےلئے تیار ہے اور نہ اسلامی سنٹر کے ترجمان کی بات پر توجہ دی جب وہ ہر کسی کا فعل خداکے حضور حاضر ہونے کی بات کرتا ہے۔ اِن میں سے کوئی بات بھی اُن برافروختہ مسلمانوں نے غور طلب محسوس نہیں کی تھی جنہوں نے مجھے فون کئے یا خط لکھے۔ اِن سب نے ایک ہی بات پر توجہ مرکوز رکھی کہ ہم جنس پرست مرد اور عورتیں”ہم“ میں سے کسی صورت نہیں ہو سکتے۔ ”اُن“ کےلئے ہم جنس پرست قانونی طور پر کالا دھبہ تھے۔ یہ صورتحال عالمی شہرت رکھنے والے بڑے شہر ٹورونٹو کے سایہ عاطفت میں سامنے آئی ہے۔
میں جیسے جی متلا دینے والی کیفیت میں مبتلا تھی۔ مسلمان جس طرح کی ثقافت میں رہ رہے ہوں ، چاہے وہ پسماندہ ہو یا ڈیجیٹل اور جس طرح کی نسل سے اِن کا تعلق ہو، چاہے وہ تارکینِ وطن کےلئے ستر کی دہائی کی مسجد کے علمبردار ہوں یا پھر نئے ہزاریئے کے میڈیا سے جڑے ہوئے شہروں میں رہنے والے ہوں، اسلام شدید طور پر قبائلی مذہب کے طور پر ہی سامنے آیا ہے۔ کیا ہمیں کبھی اسلام کی تشکیل نو کی ضرورت محسوس ہوئی ہے؟
لیکن ”تشکیلِ نو“ سے ہماری کیا مراد ہے؟ سچ یہ ہے کہ میرے پاس تو اِس کا ایک خاکہ ہی تھا۔ میں جو جانتی ہوں کہ تاریخ میں مذاہب کے متقلدین ذہنی طور پر اُس طرح مویشیوں کے گلے کے طور پر کبھی بھی نہیں رہے جس طرح مسلمان رہے ہیں۔ مسیحی رہنما اپنے مرتبوں کے مطابق دانشورانہ ہمہ جہتی سے آگاہ رہے ہیں۔ جبکہ (مسیحی علماءمیں ) کوئی بھی دیگر مختلف النوع آراءکو رد کر سکتا ہے اور بہت سارے کرتے بھی ہیں لیکن کوئی مختلف النوع آراءکی کثرت کے وجود سے انکار نہیں کرتا۔ اور جہاں تک یہودیوں کا تعلق ہے، وہ اِس سارے ہجوم میں بہت آگے ہیں۔ یہودی تو دراصل اپنے مذہبی عقائد کے گردا گرد اختلافات کو تجزیوں اور مباحث کی تشکیل سے اپنی عبادت گاہ تلمود کے اندر لوگوں میں متعارف کراتے ہیں۔ اِس کے برعکس، مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر مانتی ہے جس کی صرف پیروی کرنا مقصود ہے، تفہیم کرنا نہیں، جس سے ہم اپنی سوچنے کی صلاحیتوں کا خود ہی گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔
حتکہ مغرب میں بھی مسلمانوں کو حسبِ معمول یہی پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن ہی خدا کی منشا کا آخری منشور ہے جس نے بائبل اور تورات کی جگہ لے لی ہے۔ بطور آخری منشور، اب یہی” مکمل“ مذہب ہے ۔ ۔ جس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا اور نہ اِس کی تفہیم ممکن ہے، بس اِس پر ایمان لانا ہے۔ یقیناً پیغمبر محمد نے جبرئیل فرشتہ سے جو پہلا لفظ سنا اور خدا کی جانب سے اُسے بولنے کا حکم ملا وہ تھا، ’اقرا‘۔۔ دیگر تمام تراجم میں اس کا مطلب ”پڑھ“ ہے۔ کوئی بھی طریقہ ہو، لفظوں کو اس طرح دہرانا کہ جیسے اُن کی جگالی کی جا رہی ہو ، ہماری اکثریت ہمیشہ سے کرتی آرہی ہے ۔ اچھا، اسی طرح کی جگالی کرنا ہی تفہیم کہلاتی ہو گی۔
اسلامی مبادیات کے دوسرے منبعہ حدیث کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہے۔ یہ احادیث پیغمبر محمد نے جو کچھ کہا اور ساری زندگی جس پر عمل کیا، اُس کی ”اصل“ عکاس ہیں۔ جن سوالات کے جوابات فوراً قرآن نہیں دیتا۔۔ یہاں لفظ ”فوراً“ پر غور کیجئے۔۔ اُن کے جوابات حدیث سے ملنا طے کر لیا گیا ہے۔ صدیوں کے عرصہ میں یہ احادیث جمع ہوئیں اور معتبر ترین علماءنے اِن احادیث کو ہماری ضرورت کے پیشِ نظر مرتب کیا۔ اَب ہمیں کیا کرنا ہے، اِن احادیث کے آگے خود کو جھکا دینا ہے (یا یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ اُن احادیث کے سامنے جنہیں ہمارے اماموں نے ہمارے لئے منتخب کیا ہے)۔ اوہ، اِس چھوٹے سے مسئلہ کے بارے میں کہ پیغمبر محمد ایک ذی عزت انسان تھے اور کسی بھی چیز کے بارے فیصلہ کرنے کے متعلق فطری غلطی کر جانے کا احتمال بھی رکھتے تھے؟ جیسا کہ احادیث خدا کے آخری نبی کی زندگی کو انسانیت پر آشکار کرتی ہیں، اِس لئے اِن احادیث کے بارے شک و شبہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
آپ دیکھ رہے ہیںکہ ہمیں ہماری پاکبازی کی ایکسپریس ٹرین کہاں لئے جا رہی ہے؟ ایک ایسی منزل جسے ذہن کی موت کہتے ہیں۔
جب زیادتی اسلام کی امان گاہ کے اندر سے جنم لے تو مسلمانوں کی ایک اقلیت جانتی ہے کہ کس طرح دلیل دینی ہے، ازسرِ نو جائزہ لینا ہے یا تجدیدِ نو کرنا ہے۔ یہ سب کچھ ویسا ہی اچھا ہے، جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ زیادتی تب تک نہیں ہو سکتی جب تک ہم اسلام کے اصل متن کے ساتھ سچے ہیں۔ ارے، کیا فرار کی منطق ہے!ذہن ِ رسا کی یہ گول مول تربیت روشن چراغوں کو کند ذہن بنانے کےلئے کافی ہے اور بہت ضرررساں بھی ہے۔
بلاشبہ ہر مذہب کے ساتھ چپکنے والے ہوتے ہیں جو اپنے مذہب کی نقالی کرتے رہتے ہیں۔ صرف عصری اسلام کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اپنی مرکزی تعلیمات کا نقال رہنا چاہتا ہے۔ بروس فیلر ایک امریکی مصنف ہے، انہوں نے اپنی کتاب ’ابراہیم: تین مذاہب کے دلوں تک کا سفر‘ پر کام کرتے ہوئے اِس امتیاز کابغور مطالعہ کیا۔ یروشلم میں فیلر الاقصیٰ مسجد کے امام شیخ ابو سنینا سے ملے۔ امام نے اسلام کی طے شدہ کاملیت پر زور دیا۔ امام نے لندن کی تیز دھار انگریزی بولتے ہوئے فیلر سے کہا کہ ”آپ کو ہر صورت آخری نبی کو ماننا ہو گا“ جسے خدا نے بھیجا ہے۔ بصورتِ دیگر خدا کی دھونک سے ” آپ لوگ مارے جاﺅ گے“ جس طرح ہٹلر نے خدا کی منظوری سے لاکھوں یہودیوں کو ”زندہ بھون“ دیا تھا۔ فیلر نے انٹرویو کو بیزاری کے ساتھ چھوڑ دیااور بعد میں اِس واقعہ کا تذکرہ مذہبی امور کے ماہر صحافی کے ساتھ کیا۔ ”بدقسمت سچ “ یہ ہے، صحافی نے کہا ” کہ شیخ سنینا اِس وقت اسلام کے مرکزی دھارے کی نمائندگی کرتے ہیں، آپ کو ایسے یہودی بھی ملیں گے جن کا یہود قومیت کے بارے ایسا ہی پیغام ہو گا لیکن بہت زیادہ تعداد میں نہیں، آپ کومسیحیت کے ایسے طرفداد ملیں گے لیکن ہنوز کم تعداد میں مگر یہ امام مسلمانوں کی اکثریت کی ترجمانی کرتا ہے، کم ازکم وہاں بسنے والے مسلمانوں کی ۔۔“ سنینا نے بہت سے مسلمانوں کے اذہان کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، صرف یروشلم میں ہی نہیں بلکہ ادھر ادھر بکھرے ہوئے مسلمان گروہوں کو بھی۔ مجھے میرے قصبے رچمنڈ کی ’اکیڈمی فار لرنگ اسلام‘ کی رپورٹ ۲۰۰۲ءکا حوالہ دینے کی اجازت دیجئے۔ اکادمی دعویٰ کرتی ہے کہ اسلام کے دو بڑے فرقوں، شیعہ اور سنی میں مشترکہ باتیں زیادہ ہیں۔ ایسا کیسے ہے؟ ”دونوں مطلق راستی اور قرآن کی کاملیت کی بات کرتے ہیں۔ دونوں محمد کو آخری نبی مانتے ہیں اور محمد کی تعلیمات اور عمل پر پیروی کرانے کےلئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں“۔ جب یہ تقلید تمام مسلمانوں تک پہنچتی ہے تو ہم میں سے اکثر اپنے تعصبات کو دریافت کرنے میں ناکام رہتے ہیں یا اس بات کو تسلیم کرنے میں کہ ہم میں کوئی تعصب ہے۔ ہم پختہ ایمان رکھتے ہیں اُن پر جن پر ایمان لانا فرض ہے، بس بات ختم ہو گئی۔
’کیویر ٹیلی ویژن‘ کے میزبان کی حیثیت سے مجھے ناپسندیدگی کی جو ڈاک ملتی وہ ظاہر کرتی کہ جو میں کہتی ہوں وہ ٹھیک ہے۔ میں نے جب بھی کبھی بائبل سے ہم جنس پرستی کے خلاف خیالات پڑھ کر سنانے والے مسیحیوں کو نشر کیا تو پروگرام دیکھنے والے ناظر مسیحیوں کو یقین ہوتا تھا کہ اِن خیالات کا توڑ کسی قابلِ قبول تفہیم کے ساتھ اسی پروگرام میں آئے گا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جب مسلمانوں نے مجھے چلا چلا کر نیچا دکھانا چاہا ۔ بظاہر ایسا نہیں تھا کہ وہ ہم جنس پرستی کے خلاف اسلام کی بنیاد پر بولتے تھے، اس موقع پرسبھی مذاہب کی بنیاد پر بولتے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم جنس پرستی کے خلاف آخری مسلمان تک بولتا ہے۔الفاتحہ ایک ایسا (ہم جنس پرست) ’کیویر‘ مسلمان گروہ ہے جس کی شاخیں شمالی امریکہ اور یورپ کے بڑے شہروں میں واقع ہیں۔ ٹورونٹو میں اِس کی عشائیہ تقریبات میں چند مسلمان والدین بھی شرکت کرتے ہیں۔
سو اگر بہت سارے مسلمان اسلام کے مرکزی دھارے کے تعصبات سے اتفاق نہیں بھی کرتے تو یہ مرکزی دھارے کے تعصبات کو چیلنج بھی نہیں کرتے۔ میں کسی کو کیسے بتاﺅں کہ کیوں ایک مسلمان نے بھی ’کیویر ٹیلی ویشن‘ کو قرآن کی متبادل اور نرم تفہیم کی غرض سے فون نہیں کیا اور خط نہیں لکھا؟
اِس پس منظر میں موسس کے چیلنج کی مخالفت کےلئے نہ صرف تیار نہ تھی بلکہ اِس چیلنچ کو آگے بھی بڑھانا چاہتی تھی۔ اس بات کا اندازہ کرنے سے پہلے کہ اسلام ناقابلِ تبدیل سخت گیر مذہب ہے، مجھے ”دوسروں“ کے بارے اسلام کے دائرہ کار میں جاننے کی ضرورت تھی۔۔ عورتوں کے معاملہ میں، اور یہودیوں و نصرانیوں کے معاملہ میں بھی۔ اور غلاموں کے بارے میں بھی۔اور ہر اُس شخص کے بارے میں جس کی وابستگی مسلمان دنیا میں آج دکھائی دینے والے ظلم و جبرکے ساتھ بے مثال بندھن میں بندھی ہوئی ہو۔ قرآن اپنے خدا کی مخلوق کے بارے یہاں کیا کہتا ہے؟ کیا کوئی شنوائی صاف صاف لفظوں میں یاحتکہ باتوں سے ورغلانے والے انداز میں ہی (خدا کے ہاں) کوڑوں سے پٹی زنا بالجبر کی شکار عورت کےلئے ہے، گواہان کے اُس مجمعے کی نسبت جس نے اُس کے ساتھ جرم ہوتے دیکھا؟ اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ قرآن عورتوں کو واقعی ہی امامت سے روکتا ہے؟
میں نے آئندہ چند ماہ تک قرآن کا ایک بار پھر مطالعہ کیا، آنکھیں کھول کر اور مدافعت کو اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں کم تر کر کے۔
شروع میں عورت کی بابت سوال درپیش تھا۔ خدا نے کس کو پہلے پیدا کیا۔۔ آدم یا حوا کو؟ قرآن اِس امتیاز پر مکمل طور پر خاموش ہے۔ خدا نے اکیلی روح میں زندگی پھونکی اور اُس کے بطن سے ساتھی پیدا کیا۔ کون روح ہے اور کون ساتھی؟ یہ بات غیر متعلقہ ہے۔
علاوہ ازیں، یہاں پر آدم کی پسلی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جہاں سے بائبل کے مطابق حوا پیدا ہوئی۔ قرآن یہ بھی نہیں کہتا کہ حوا نے آدم کو ممنوعہ پھل کھانے کی ترغیب دی۔ خلاصہ یہ ہے، یہاں پر آپ مردانہ برتری کا جواز نہیں ڈھونڈ سکتے۔ اصل میں صورتحال اِس کے سراسر مختلف ہے۔ قرآن مسلمانوں کو خبردار کرنے کےلئے یاددہانی کراتا ہے کہ تم لوگ خدا نہیں ہو، لہذا مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے اپنے حقوق طلب کرنے کے معاملے میںبرابر کے شریک ہیں۔ اور یہ مقام تو عورتوں کےلئے بظاہر سب سے بڑھ کر رتبہ دینے والا ہے، ”اپنی ماﺅں کی عزت کرو جن سے تم پیدا ہوئے ہو، خدا تمہیں ہمیشہ دیکھنے والا ہے“۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اُسی پارہ میں چند سطریں آگے قرآن مکمل متضاد بات کہتا ہے۔ قرآن کا کہنا ہے ، ”مردوں کو عورتوں پر اختیار ہے کیونکہ خدا نے ایک کو دوسرے پر برتر کیا ہے اور کیونکہ وہ اپنی دولت کو اُن پر خرچ کرتے ہیں، نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں۔۔۔ اور وہ جن سے تم نافرمانی کا خطرہ پاﺅ، اُن کو تنبیہہ دو، اُنہیں اپنے ساتھ نہ سلاﺅ اور اُن کو مارو۔“
مجھے اِس بات کی تشریح کرنے دیجئے، مار پیٹ کی مستحق ہونے کےلئے کسی عورت کا مرد کی نافرمانی کرنا ضروری نہیں، مرد کو عورت کی نافرمانی کا خطرہ محسوس کرنا ہی کافی ہے۔ مرد کا احساسِ عدم تحفظ عورت کےلئے مسئلہ ہے۔ آپے سے باہر نہ ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں بات کو ضرورت سے زیادہ ہی مبہم طور سے بیان کر رہی ہوںلیکن ابہام نہائت قبیح قوانین کے روزافزوں نشوونما کے ساتھ ہی چلتے ہیں۔ میں آپ کو ایک ٹھوس مثال دونگی۔ قرآن کی ایک سطر۔۔ کہ آدمی عورتوں پر حکم چلا سکتے ہیںکیونکہ ”وہ اپنی دولت اُن پر خرچ کرتے ہیں“، نے کائرو ڈیکلریشن کو بھی متاثر کیا۔ ۰۹۹۱ءمیں مسلمان ممالک نے ایک بظاہر خوش کن انسانی حقوق کے عہد نامہ کو تشکیل دیا۔ یقیناً اِس عہد نامے کی ایک شق مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کی تائید کرتی ہے لیکن دوسری شق مردوں کو اپنے کنبے کا کفیل قرار دیتی ہے۔ یہ شق مردوں کو بطور کفیل امتیاز تو نہیں بخشتی لیکن بلاتامل اعلان کرتی ہے کہ ”شوہر کنبے کی کفالت اور بہبود کے ذمہ دار ہیں“۔ اور جیسا کہ قرآن کا کہنا ہے کہ مرد کفالت کے کردار کی وجہ سے عورتوں پراختیار رکھتے ہیں۔۔ اَب باقی سارے معاملے کو آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں۔
نائجیریا میں زنا کی شکار عورت کے حوالے سے، قرآن کا ایک اقتباس میرے سر کو گھما دیتا ہے، ”عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں“ اِس کا متن ہے۔ ”تم اپنی کھیتیوں میں جاﺅ جب تم مطمئن ہونا چاہو، اچھے کام کرو اور اپنے خدا سے ڈرو۔۔“ ہا؟ عورت کے اندر گھس جاﺅ جب تم چاہو، اور پھر بھی نیک رہو؟ کیا عورتیں ساتھی ہیں یا جائیداد؟ ساتھی، قرآن کے ایک معروف دانشور جمال بداوی نے زور دیا۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ ’جنسی طور پر روشن خیال بنانے والی‘ یہ آیت مساج کی حمایت کرتی ہے۔ عورتوں کو بھی کھیتیوں کی طرح تخم کو اصلی انسان بنانے کےلئے گداز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ”کسان کا بیج اُس وقت تک بے معنی ہوتا ہے جب تک زرخیز زمین موجود نہ ہو جو اِس بیج کو نمو دیتی ہے“، بداوی نے اپنی روشن خیال توجیہہ کو نہائت مطمئن بخش پا کر مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ لیکن انہوں نے تو فقط اِن لفظوں کی توجیہہ پیش کی، ”اپنی کھیتیو ں میں جاﺅ“، اِن لفظوں کی کیا تشریح ہے، ”جب تم چاہو“؟ کیا اِس کا یہ مطلب نہیں کہ مالک مردوں کو حد سے زیادہ اختیارات دے رہا ہے؟
سوال پھر یہ ہے کہ خدا کس مثالی نمونہ کی وکالت کرتا ہے۔۔ آدم اور حوا برابر ہیں یا عورت زمین جوتنے والی کھیتی کی طرح ہے (میری ضرب کاری پر مجھے معاف کیجئے گا)۔
سچ یہ ہے کہ میں جانتی تھی کہ کونسی تشریح مجھے چاہئے لیکن میں اِس بات کے بارے یقین سے نہیں کہہ سکتی (اور ابھی بھی نہیں) کہ خدا کو کونسی تشریح مطلوب ہے۔ ایک ہی وقت میں بہت سارے تضادات کی موجودگی میں کوئی بھی نہیں جانتا۔ وہ جو عورت کو بودے جرم کی پاداش میں اُدھیڑ کر رکھ دینا چاہتے ہیں ، وہ بھی قرآن سے اِس کا ضروری جواز لے سکتے ہیں۔ لہذا وہ بھی قرآن سے جواز حاصل کر سکتے ہیں جو لڑکیوں کی امامت نہیں چاہتے۔ اور جو مساوات کی تلاش میں ہیں وہ بھی قرآن کی اعانت لے سکتے ہیں۔
اِس بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہ میں اپنے مذہب اسلام کو زناکی شکار کو کوڑوں کی ظالمانہ سزا کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کرتی ہوں ، میں نے نتیجہ اخذ کیا کہ میں اِن کولا پرواہی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر سکتی ۔ میں اس طرح بے نیازی کے ساتھ نہیں کہہ سکتی جیسا کہ میں نے بہت ساری حقوقِ نسواں کی حامی مسلمان عورتوں کو کہتے سنا کہ قرآن بذاتِ خود انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ میں بے توجہگی کے ساتھ اِس حقیقت کو نہیں پھلانگ سکتی کہ نائجیریا کے باکمال ججوں نے شرعی قانون کو نافذ کرتے ہوئے میرے شفاف ہمہ گیر مساوات کے حامل مذہب کے ساتھ اغلام بازی کی ہے اور یہ کہ قرآن عورتوں کے ساتھ شفاف مساوی سلوک نہیں کرتا اور یہ متنازعہ ہونے کی وجہ سے شفاف نہیں ہے۔ نوم چومسکی سے معذرت کے ساتھ، یہ مسلمان ہیں جو اللہ کے نام پر اپنی مرضی کو ایجاد کر لیتے ہیں اور قرآن کی بنیاد پر ہم جو فیصلے کرتے ہیں وہ خدا کے بنائے ہوئے نہیں ہیں، ہم نے وہ فیصلے اپنی آزاد رو مرضی سے بنائے ہیں۔
یہ سب کچھ مسیحیوں ااور یہودیوں پر آشکار ہے، لیکن یہ اُس مسلمان پر آشکار نہیں جس کی بطور مقلد پرورش ہوئی ہے۔۔ ہم میں سے اکثریت کی پرورش ایسے ہی ہوئی ہے ۔۔ کہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ ہمارے ’سیدھے راستے‘ کےلئے ہے اور یہ ہمارا فرض اور حق ہے کہ اِس کی تمثیل بنیں۔ یہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔ کیا آپ مجھے سنتے ہیں؟ ایک بہت بڑا، داڑھی والے چہرے جیسا جھوٹ۔کامل ہونا تو دور کی بات ہے، قران تو دقیق طریقے سے اپنے ساتھ ہی جنگ آرا ہے کہ مسلمان جو ’بمطابق کتاب حیات بسر کرتے ہیں‘ کے پاس کوئی گنجائش نہیں کہ وہ یا تو عمل کرنے والے بن جائیں یا کنی کترا جائیں۔ شاید اسی لئے یہ آسان بات ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنا تعصب کسی ایک آیت کو بنیاد بنا کر پیش کر سکتا ہے اور دوسری آیت کو نظر انداز کر سکتا ہے۔
اور آپس کی بات ہے کہ چاہے روشن خیال ہوں یا جہادیے، دونوں ایک جیسا کام کرتے ہیں۔ دونوں قرآن کی منفی آوازوں کی اس طرح پچکاری مارتے ہیں کہ ہمارے مخالف نے مثبت باتوں کو کس طرح اخذ کیا ہے۔ ہم سب کا اپنا منشور ہے، کسی کا زیادہ برابر ہے بہ نسبت دوسروں کے۔۔
مگر جب تک ہم یہ ثابت کرنے کے آخری کھیل میں گھرے ہوئے ہیں کہ ”میرے نظریہ عقائد کے ترپ کا پتہ“ ’اُن کے‘ نظریہ عقائد سے بہتر ہے، ہم اُس بڑے چیلنج کو نظروں سے کھو رہے ہیں۔ یہ بڑا چیلنج قرآن کی کاملیت کاکھلا سوال ہے تاکہ (اس سوال کی ) بھگدڑ کسی درست نتیجے کی طرف لے کر جائے اور جو یہ کہنا کہ قرآن کا ’اصل‘ یہ ہے، کہنا کم ہو جائے اور وقت کے ساتھ ساتھ قرآن لفظی تشریح کی بجائے لکھنے پڑھنے کی مشق بن جائے۔ اُس مرحلے پر، اسلام کی تشکیل نو ایک عام مسلمان کو یہ نہ بتائے کہ کیا نہیں سوچنا بلکہ اسلام کے ایک بلین سے زائد مقلدوں کو سوچنے کی اجازت دے۔ جیسا کہ قرآن مجموعہ تضادات ہے، کم ازکم جب یہ خواتین کے بارے کہتا ہے اور ہم خواتین کے پاس یہ سوچنے کا پورا حق ہے۔
اس خیال کو مزید آگے بڑھانے کی خاطرمجھے دیکھنا پڑا کہ آیا کہ قرآن کے دانستہ تضادات کا کوئی خاص سانچا ہے۔ آسانی کے ساتھ یوں لیجئے، کیا اسلام کی مذہبیات دیگر انسانی حقوق کے معاملات کے حوالے سے مبہم یا متضاد ہیں، جیسا کہ غلامی؟ اگر ایسا ہے،تو کیا اکیسویں صدی کے مسلمانوں کے پاس اکیسویں صدی اپنانے کی گنجائش ہے؟ میں نے سوڈان کے بارے سوچا اور بعد میں سوڈان سے باہر اِس کی غلاموں کی تجارت کے بارے پڑھا۔ خرتوم میں، ”طالبان طرز کی مسلمان ریاست صیہونیوں ،مظاہر پرستوں اور غیر عرب مسلمانوں پر خود ساختہ جہاد لاگو کر رہی ہے“ ۔ یہ الفاظ چارلس جیکبس کے ہیں، جو ’امریکن اینٹی سلیوری گروپ‘ کے صدر اور’ سوڈان کمپین‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ جیکبس کا کہنا ہے کہ خرتوم کی یورش نے سیاہ فام غلاموں کی تجارت کی یاد تازہ کر دی ہے، جس کو قریب ایک صدی قبل غلامی کے مخالف برطانویوں نے تقریبآ ختم کروا دیا تھا۔ ۔۔ اُس کے بعد غلاموں کے گلے تک کاٹ دئیے جاتے ہیں، لڑکوں، عورتوں اور بچیوں کے ساتھ اجتماعی زنا ہوتا ہے اور مزاحمت کی صورت میں اُن کے گلے کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ دہشت سے زندہ بچ جانے والے غلاموں کو شمال کی سمت بھیج دیا جاتا ہے جہاں اِن کو عرب آقاﺅں کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے، عورتیں داشتائیں بن جاتی ہیں، بچیاں گھریلو ملازمائیں اور لڑکے چرواہے۔۔
مجھے ایک بار مزید شمالی نائجیریا کا خیال آیا، ایک دوسری جگہ جہاں اسلامی گورنمنٹ عیسائیوں کو غلام بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ اچھا، میںمانتی ہوں کہ اِس بات کا تعلق مذہب سے زیادہ نائجیریا کی خانہ جنگی کی سیاست سے ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ روایتی طرز کی اس سیاست کو قرآن کی اعانت کے بغیر بھی لاگو نہیں کیا جاتا۔ کس حد تک اعانت؟ یہ میرا سوال تھا۔ میں منبعہ (قرآن) تک گئی اور میں نے یہ اقتباس پایا، ”تمہارے وہ غلام جو آزاد ہوناچاہیں، اُن کو آزاد کر دو اگر تم اُنہیں اُن کا اہل پاﺅ۔۔۔“
اوہو۔۔ میں نے اُس حصہ پر غور کیا اور رُک گئی۔ اِس کو قریب سے پڑھئے اور آپ کو اندازہ ہو گا کہ قرآن ہمیں تمام غلاموں کو آزاد کرنے کی ہدایت نہیں دیتا، صرف اُن کے بارے میںجن کے آقا یہ فیصلہ کریں کہ یہ بہتر طور پر قدم جمانے کے اہل ہیں۔ آپ کو یہ سب کچھ ہمارے معروضی احساسات کے مطابق کیسا لگ رہا ہے، ہمارے ضمیر کو کیسا لگ رہا ہے اور ہماری آزاد روی کو کیسا لگ رہا ہے؟ دوسرے لفظوں میںآج مسلمان قرآنی احکامات کے مطابق ساتویں صدی کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔۔ اگر وہ اس پر کاربند رہنا چاہیں۔ قرآن نائجیریا کے آئین سازوں کو حق دیتا ہے کہ وہ غلامی کے تازیانے کو ختم کر دیں۔ عورتوں کے بارے میں، غلاموں کے بارے میں، مسلمان جو فیصلے کرتے ہیں وہ اُن کے اپنے ہیں، اِن فیصلوں کو خدا پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔
کیا ایسا تو نہیں کہ اسلام مسلمانوں کی قرآن کے بارے اُن کے اپنے لئے اُن کی ذاتی تشریح کو قبول نہیں کرتا لیکن یہی تلاش اور جڑاﺅ ہی ”اپنے اسلام کو جاننے “ کےلئے واحد طریقہ ہو؟
اِس ادراک سے جیسے مجھے توانائی مل گئی ہو، میں انسانی حقوق کی ایک اور فائل کی طرف متوجہ ہوئی، غیر مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے بارے۔۔چونکہ اسلام یہودی و عیسائی روایت سے ماخذ ہے، قرآن یہودیوں اور مسیحیوں کے بارے بہت کچھ کہتا ہے۔ وہ ابراہیم پر ڈھیروں درود بھیجتا ہے، تینوں مذاہب کے دادا جان پر۔ یہ عیسیٰ کی بطور مسیحا ایک سے بار مدح خوانی کرتا ہے۔ عیسیٰ کی والدہ مریم کا کئی مقام پر مثبت الفاظ میں تذکرہ ہے۔ اپنی شروعات میں یہودیوں کو قرآن اعلیٰ مرتبہ قوم کے طور پر ہماری یاد دہانی کراتا ہے۔ ارفع و بلند تر؟ یہودی؟ میں نے اِس پر یقین کرنے کےلئے کئی انگریزی تراجم چھان مارے۔ اپنے مذہبی پرکھوں کو گرم ملائم خطابات سے نوازتے ہوئے قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کو تاثر دیتا ہے کہ مطمئن ہو جاﺅ اور اُنہیں ’کوئی خوف یا افسوس‘ نہیں ہونا چاہئے جب تک وہ اپنے مذاہب کے ساتھ ایماندار رہیں۔
دوسری طرف قرآن صاف صاف اسلام کو واحد ’سچے مذہب‘ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ناقابلِ فہم بات ۔۔ کیا یہ ہے؟ یہاں پر ایک سب سے اہم خیال ہے، جو وقت کی تقسیم سے بھی کہیں اہم ہے۔۔ اس سوال کا تعلق اس بات سے ہے کہ کیوں اسلام وجود میں آیا؟
مسلمان جس جس چیز پر ایمان لائے ہیں، ہزاروں برس قبل یہ سب کچھ یہودیوں پر عیاں تھا۔ یہ تب بھی تھا جب چند یہودیوں نے آشکار سچ سے انحراف کر لیا، بتوں کی پرستش شروع کر کے جیسے سونے کا بچھڑاجس سے انہوں نے اللہ کا قہر اپنے سر لے لیا۔ خالق کس قسم کا ہے جو ایک بھینس کے بچے سے حسد کرتا ہو؟ میں نے کہا ہے کہ خالق جومسلسل متحارب قبائل کو مشترکہ دین کے مرکزی نقطہ پر لانے کی کوشش کر رہا ہو۔ بھینس کی طرف واپس چلتے ہیں۔ بت پرستی کی نئی سرگرمی اس ضرورت کو جنم دیتی ہے کہ اولاد ابراہیم سے کسی کو صیہونی دنیا کو مالک کی سچائی بتانے کے واسطے بھیجا جائے۔ اِس طرح عیسیٰ کی آمد ہوتی ہے ، اور اسی طرح بائبل کی آمد بھی موسیٰ کی ہیبرو کتابوں کو اکٹھا کرتی ہے (عیسائیوں کےلئے پرانے عہد نامہ کے نام سے جانی جاتی ہے)۔ آخر کار اگرچہ عیسائیوں کے مخصوص گروہ نے عیسیٰ کو واحد اور واحد خدا کا انسانی قاصد کہنے کی بجائے خدا اور خدا کا بیٹا قرار دینا شروع کر دیا۔ بت پرستی نے ایک بار پھر پیچھے سے اس تصور کے سر یا سروں پر وار کرنا شروع کر دئیے۔
لہذا سن ۰۱۶ ءمیں خدا نے پیغمبروں کے ’پول‘ کا پھر دورہ کیا اور محمد کا انتخاب کیا، ابراہیم کی آل اولاد سے ایک اور، اُس تمام گندگی کو صاف کرنے کےلئے جو یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے عقائد پھیلانے کے دوران پھیلائی تھی۔اسی لئے اسلام اثر پذیری اور مقام کی خاطر اپنی بنیادی یہودی تعلیمات کو لے کر آتا ہے ۔ کچھ بھی ہو میں جہاں سے بھی قرآن کھولتی ہوں، میں بار بار دہرائے جانے والے پیغام سے دور نہیں ہوتی جس کے مطابق پہلے سے اُترے مذاہب کو ادب و احترام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔
اُس اہم ترین خیال کو خوش آمدید جس کا میں نے اشارہ وکنایہ میں چند منٹ پہلے تذکرہ کیا ہے: قبائلی خود سری سچ نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ میں نے قرآن کو مزید ایک بار ’دوسروں‘ کی آنکھ سے دیکھنے کےلئے پڑھا، میں نے جانا کہ مسلمانوں کو تمام یہودیوں سے دور رہنے کےلئے نہیں کہا گیا بلکہ اُن یہودیوں سے دور رہنے کےلئے کہا گیا جو اسلام کوبطور استحقاق غلط کہتے ہوئے پھبتی کستے تھے۔ اور مسلمانوں کو یہودیت سے انکار نہیں کرنا چاہئے بصورتِ دیگر ہم اپنے ہی مذہب کو رد کرنے والے ہونگے۔
اگر اسلام اور یہودیت ایک ہی مذہب ہیں، اِن کو الگ الگ شکل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح عیسائیت کو برقرار رکھنے کا جواز کیا ہے؟ یا پھر ہندوازم، بدھ ازم، سکھ ازم یا کوئی بھی خالی ازم جسے آپ خود بھر لیں؟ کیوں ہم ایک ہی جست میں تمام میثاقوں کو گنوا نہیں سکتے اور ایک دوسرے کو ایک ہی خالق کے کام کے طور پر دیکھنا شروع نہیں کر دیتے؟ قرآن دق کر دینے والے اِس سوال سے نہیں ہچکچاتا۔ قرآن کا کہنا ہے، کہ مختلف مذاہب زندہ رہ سکتے ہیں، لہذا انسان کو ’اچھے کام‘ کے مقابلہ کےلئے کوئی ترغیب ملتی رہنی چاہئے۔ قرآن مانتا ہے کہ اچھے کام اپنے آپ کو اِن جھگڑوں میں اُلجھا کر نہیں کئے جا سکتے کہ کون خدا کی مرضی کو ”سچے“ طریقے سے اپنا رہا ہے۔ آپ اور میں نہیں جان سکتے، ہمیں اِس انبار کو چیر کر نکلنا ہو گا۔ قرآن ہمیں یقین دہانی کراتا ہے کہ خدا ہمارے عقائدی جھگڑوں کا فیصلہ کر دیگا جب ہم اُس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس اثناءمیںاچھے کاموں کی دوڑ کاروبار نما فن کی طرح ہے کہ جیسے مذہبی مٹی کے ڈھیلے کو تراشنا شروع کیا جائے اور مسلسل تراشی ہوئی شے کی خوبصورتی کو بہتر کیا جائے۔ خدا کا دوسرے لوگوں کو پیدا کرنے کا دوسرا مقصداس مشق کو پھیلانا تھا تاکہ ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت کو ہم محسوس کریں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ اگر خالق ہمیں اس امتیاز کے استعمال کو سکھاناچاہے کہ شروعات کرنے کی بجائے مختلف سمتوں میں پیچھے ہٹنے کا جواز کیا ہے۔
مجھے اعتراف ہے کہ مجھے اس طرح کی تشریح پسند ہے لیکن تشریح کےلئے ہر بات کو اوپر اوپر سے ہی بیان کر دیا جاتا ہے کیونکہ قرآن مسلمانوں کو یہودیوں اورعیسائیوں کو دوست بنانے سے منع کرتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ”اُنہی جیسے“ ہو جائیں۔ قرآن انہیں ”غیر منصف“ لوگ بتاتا ہے جن کی ’خدا ر ہنمائی نہیں کرتا۔ یہاں پر سزا دینے، قتل کرنے اور غیر مسلمانوں پر مخصوص ٹیکس لاگو کرنے کی بات ہے جو اُنہیں مسلمان فاتحین کو جزیہ کے طور پر دینا ہے۔ یہاں پر کھولا دینے والی سچی بات یہ ہے کہ یہ اقتباسات اُن مسلمانوں کو وہ یقین دیتے ہیں جو باہمی عقیدے کے بھائی چارے پر تھو تھو کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کےلئے، غیر مسلمان جی تو سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ کسی طور بھی اُن کی سطح پر نہیں آ سکتے۔ اس سطح کے قریب بھی نہیں آ سکتے، اسلام باقی مذاہب کو ملا کر ایک مذہب نہیں ہے ، یہ تو کامل کے لفظ کی چوٹ لگاتے ہوئے اور ایک خدا کا پرچار کرنے والے آخری نبی کی بنیاد پر سب سے برتر ہے۔ قرآن کو اس طرح پڑھنے کا اختیار بھی ہے، کیا ایسا نہیں؟ لیکن ہم اس بات کی پرواہ کب کرتے ہیں کہ ہم نے اس طریقہ کو اختیار کرنا ہے۔
”رک جاﺅ“، آپ احتجاج کر سکتے ہیں۔ ”میں یہ تفہیم کسی صورت بھی استعمال نہیں کر رہی، میں اپنے ہمسائے کو حنوکہ منانے پر مکہ نہیں مارنا چاہتی لہذا مجھے یہودیوں کو پاش پاش کرنے والوں کے ساتھ شمار نہ کیجئے۔ میں لعنتی طور پر شریف النفس انسان ہوں“۔ جی ہاں، شاید آپ بھی ہیں۔ پھرشرافت سے باہر کون، اپنے آپ سے پوچھئے، کیا میں نے اسلام کے مرکزی اعتقاد کو چیلنج کرنے کا راستہ چنا ہے کہ اسلام عیسائیت اور یہودیت کو اُلٹا کر رکھ دیتا ہے؟ لہذا اس سارے عمل میں غلطاں ہم ایسی مذہبی نرگسیت کا شکار ہیں کہ زیادہ تر مسلمان دوبارہ نہیں سوچتے بلکہ ایک بار بھی نہیں سوچتے اُس ضیاع کے بارے میں جو ہمارے رویے کی وجہ سے دنیا پر مسلط ہو رہا ہے۔ ہم لاشعوری طور پر اس حقیقت کو مانتے ہیں، لیکن ریت سے سر نکال کر ’انتہا پسندوں‘ کی طرف اشارہ کرنے کو، اور بعض اوقات تو اتنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
کیا میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہوں؟ یہ واقعہ پڑھنے کے بعد مجھے بتائیے۔ سانحہ گیارہ ستمبر سے چند ہفتے قبل میں نے مسلمانوں کے ایک پینل میں”اسلامی دنیا کے تاثر پر بحث“ کی غرض سے شرکت کی۔ نرم خو لفظوں میں شکر ریزی کے انداز میںمیں نے دعوت کلام دیتے ہوئے موضوع چھیڑا، ”آئیے مغرب کے متعلق شکایات کا اظہار کریں“، میرے ساتھ پینل میں شرکاءشمالی امریکہ کے ’پاپ کلچر‘ کو حسبِ معمول سرزنش کرنا شروع ہو گئے: ہالی وُڈ ہمیں شدت پسندوں کے طور پر پیش کرتا ہے، شدت پسند ہمیشہ کالے دکھائے جاتے ہیں، اور ہر دوسری سطر میں اصولوں کا شکار ہونے والے بتائے گئے۔ میں نے ایک نہ رکنے والے مقرر سے بور ہو کر ایک دوسرا موضوع چھیڑا، کہ ہم مسلمان دوسروں کو زیادہ موقع نہیں دیتے کہ لوگ ہمیں بھاری بھر کم شے سمجھنے کی بجائے کچھ اور بھی جان سکیں۔ یہاں پر میں نے پوچھا کہ جب طالبان نے قبل اسلام زمانہ کے بدھا بت گرائے تب ٹورونٹو، مونٹریال اور وینکوور کے مسلمانوں نے افغانستان کی بامیان وادی کو کیوں نظر انداز کر دیا تھا؟” دین میں کوئی جبر نہیں ہے“، قرآن کا کہنا ہے۔ ہمیں طالبان سے کوئی توقع تو نہیں ہونی چاہئے کہ وہ یہ گیت گائیں گے لیکن مغرب میں بسنے والے مسلمانوں نے اس راگ کا انتخاب کیوں نہیں کیا ، ان کی اکثریت تو اِس موقع پر گونگی ہو گئی؟ اس احتجاج کے خلاف ہماری سڑکوں پر مسلمانوں کے جتھوں کی غیر حاضری کیوں تھی؟
میں نے توقف کیا۔
میری بات پر سارا ردعمل ایک مسلمان خاتون کا آیا، جو حقوقِ نسواں کی ایک زبردست حامی خاتون ہیں، اور کسی طور بھی اس سے کم نہیں۔ ”مانجی“ انہوں نے دیدے گھمائے۔ ”تمہیں پتہ ہے کہ فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟“ہائیں، معاف کرنا؟ جیسے کسی نے مجھے زمین کے اندر گھڑ دیا ہو یا میرے چو تڑوں کو نظامِ شمسی کے کسی حصے پر پہنچا دیا ہو جہاں پر ہم انصاف اور جواز کا فرق معلوم کرتے ہیں۔ میں اِس کو جواب دونگی، یہاں پر اسلامی حتمیت کی اُٹھان اور مشرق وسطیٰ کی ضدی سیاست کا آپس میں کچھ تعلق ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن تانے بانے کا یہ تعلق مغرب میں مذہبی بالا دستی کےلئے مسلمانوں کی خاموشی کا کیا جواز فراہم کرتا ہے، بدھا کے بتوں کو بموں سے گرانا، عورتوں کو کوٹنا، پتنگ بازی بند کروانا، طالبان مخالف کی سزائے موت؟
اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ جواب میں میری ’بہن‘ پیچھے ہٹ گئی۔ مغرب کے بارے اُس کی تمام سوچ نے نہ سوچنے والے سلام کی طرح سر سے پاﺅں تک برقعہ پہنا ہوا تھا۔ اگر خود کو حقوقِ نسواں کی حامی ظاہر کرنے والی عورت اپنی طرف سے یہی بہتر بات کر سکتی تھی تو میں یہ تصور کر کے لرز گئی کہ ہم کس طرف کو جا رہے ہیں۔
ہر کوئی سانحہ گیارہ ستمبر والے دن پر توجہ مرکوز کرتا ہے ۔ میں اُس کے بعد والے دنوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہوں۔ ہم مسلمانوں نے میڈیا، سیاستدانوں اور خود اپنے آپ کو اسلام کے بارے کیا یقین دہانی کرائی؟ روایتی چہروں کے ساتھ، ہم نے کہا کہ ہمارے مذہب کو ”ہائی جیک“ کر لیا گیا ہے۔ یہ درست ہے، امریکہ ہائی جیک ہو گیا ۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں، جرمنی۔ ہمیں بھی اپنی آزادی پسند ہے، آسٹریلیا۔ ہم اس مسئلے پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، کینیڈا۔ ہم بھی تمہارے ساتھ ہائی جیک ہو گئے ہیں۔
میں اس استعارے کو ہضم نہیں کر سکتی۔ یہ اِس بات کی دلالت دیتا ہے کہ جیسے اسلام خود ایک جہاز ہو جو انسانی حقوق کے کسی جنتی آسمان کی طرف خراماں خراماں رواں ہو اور گیارہ ستمبر کا واقعہ جیسے ہوا ہی نہ تھا، ائیر قرآنستان کے مسافر اپنے حیرت انگیز پتہ پر ایک ہلکے سے بمپ کی آواز کے ساتھ اُتر گئے ہوں، آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔ ہائی جیک ہو گیا۔ جیسے ہمارا مذہب مسلمانوں سے مرتکب ہونے والے فاش جرم کے باوجود بے قصور ہو۔ ہائی جیک ہو گیا۔۔ جذبات سے مغلوب لفظ جو مرکزی دھارے کے مسلمانوں کو اس ذمہ داری سے ماورا کرتا ہو کہ انہیں اسلام کی لفظی تصویر بننے سے بچنا ہے۔ پہلے اور سب سے اہم، خود پر تنقید کرنے سے یہ مراد ہونی چاہئے کہ ہم قرآن کی باعثِ کوفت باتوں کی طرف صاف طور پر آئیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے دہشت گردی کرنے کے بارے بتاتا ہے۔
میں نے گیارہ ستمبر کے بعد، مسلمانوں سے متعدد بار یہ بھجن سنا۔ قرآن صاف طور پر یہ بتاتا ہے کہ جہاد کب اور کب نہیں فرض اور دہشت گردوں نے بلاشبہ قوانین کو توڑا۔ اس طرح کی ایک آواز کا حوالہ دیتے ہوئے، اللہ ”صاف صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کسی معصوم انسان کا قتل ایسے ہی ہے کہ جیسے ساری انسانیت کا قتل ہو۔“ آرزو مندی کے ساتھ لپائی، میں کہتی ہوں۔ آپ کو وہ پارہ اور آیت معلوم ہے جو صاف صاف یہ بتاتی ہے؟ یہ اصل میں گول مول بات کرتی ہے، ”ہم نے اسرائیلیوں کیلئے یہ مقرر کر دیا ہے کہ جس نے انسان کو قتل کیا، سوائے سزا کا موجب قتل یا زمین پر برے کرتوت کا موجب قتل، ایسے ہی ہے کہ جیسے ساری انسانیت کا قتل کیا“۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس شق کی ”سوائے“ سے شروعات مسلمان جہادیوں کو اُن کے جہاد کا ایندھن فراہم کرتی ہے۔
مثال کے طور پر اُسامہ بن لادن نے ۰۹۹۱ءکی دہائی کے آخری حصہ میں پورے ریاست ہائے متحدہ کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں قرآن نے اُس کی معاونت کی۔ اس آیت کی طرف واپس آئیے، ”سوائے قتل برائے سزا یا زمین پر فساد برپا کرنے والوں کا“۔ کیا اقوامِ متحدہ کی عراق کے خلاف پابندیوں (جنہیں امریکہ کے مطالبے پر عائد کیا گیا تھا) کے نتیجہ میں آدھے ملین بچوں کا ”قتل“ ہوا ؟ بن لادن کا یہی کہنا ہے۔ کیا سعودی دھرتی پر امریکی فوجیوں کے بوٹوں کے نشان ”زمین پر فساد“ کی طرح ہیں؟ بن لادن کے ساتھ آپ اس معاملہ میں شرط لگا سکتے ہیں۔ کیا عام امریکی شہری کسی ”قتل“ یا ”فساد“ کے معاملے میں معصوم ہیں جب اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے اسرائیل ٹینک خرید کر فلسطینیوں کے گھر گراتا ہے؟ بن لادن کےلئے دماغ کی کمی نہ تھی۔ جیسا کہ اُس نے ۹۹۹۱ءمیں سی این این کو ایک انٹرویو دیا، ”امریکی حکومت نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے سلسلہ میں ایسے کام کئے ہیں جوبیحد غیر منصفانہ، گھناﺅنے اور مجرمانہ ہیں، یہودیوں کی ماتحتی کے نتیجہ میں امریکہ کا تکبر اس مقام پر آ گیا ہے کہ وہ عرب پر قابض ہو گئے ہیں، جو مسلمانوں کی سب سے مقدس جگہ ہے۔ زیادتی کی اِس اور دیگر وجوہات کی بناءپر ہم نے ریاست ہائے متحدہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے۔“
آپ اور میں اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ اخلاقی طور پر اسامہ بن لادن قدیم دور کے اُس انسان کی طرح ہے جس کا ماتھا کسی قدر کوتاہ اور دبا ہوا ہو ، جو اس نوعیت کے جہاد کی لہر شروع کر رہا ہے۔ لیکن کیا ہم اس بات پر متفق ہو سکتے ہیںکہ اُسے اور اُس کے صلہ کے طالب فوجیوں کو مذہب کی حمایت بھی حاصل ہے؟ میں یہ سب اس لئے پوچھ رہی ہوں کہ ہم ایمانداری سے صورتحال کو دیکھیں۔
یہ سب کیا ہے؟ کیا مجھے قرآن کے متشدد اقتباسات کے تناظر کو سمجھنا چاہئے؟ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں ، میں نے اچھے لکھنے والوں کا مطالعہ کیا جو اِن آیات کی ”اِن کے پس منظر“ میں تشریح کرتے ہیںاور میرا خیال ہے کہ یہاں پر گول مول بات کا ایک فینسی سا رقص ہے۔ اس رقص کی کوریوگرافی کسی سازش کے تحت نہیں ہے، بلکہ جڑوں میں بیٹھے اِس مفروضے کی بناءپر ہے کہ قرآن ایک کامل کتاب ہے، لہذا نفرت کی کوئی کامل ٹھوس وجوہات ہونگی، وہ نفرت جس کا بار بار اظہار ہوا ہے۔
ایک بلند پایہ دلیل پر غور کیجئے جو اسلام کو امن کا مذہب ”یقینی طور پر“ ثابت کرتی ہے۔
اس دلیل کے مطابق، جب خدا نے محمد کو اچھے اور برے وقتوں میں ہدایتیں دیںتو قرآن کی بری آیتیں صرف اُن برے وقتوں کی عکاس ہیںجو محمد نے اسلام کے پھیلاﺅ کے پچیس یا زائد برسوں میں دیکھے۔ محمد نے مکہ سے نئے مذہب کو پھیلانا شروع کیا، جہاں غلام بیواﺅں یتیموں اور غریب کارکنوں نے اُن کے غیر معمولی پیغام رحمت سے وابستگی کا آغاز کیا۔ خدا جانتا ہے کہ اِن بے خانماں لوگوں کو رحم کی بھیک عرب کے اخلاقی سطح پر زوال پذیر امیر دارالخلافہ میں اقتصادی مدد کی صورت میں دی گئی۔ شروع میں تو قرآن کی آگہی ہمدردی پر زور دیتی ہے۔
مگر دیکھتے ہی دیکھتے مکہ کے کاروباری اجارہ دارطاقتور سے طاقتور ہوتے چلے گئے۔ محمد اور اُن کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو سمیٹا اور اپنے بچاﺅ کی خاطر مدینہ ہجرت کر گئے۔ بنیادی طور پر یہیں سے قرآن کا پیغام رحم سے انتقام کی جانب مڑ گیا۔ مدینہ میں کچھ لوگوں نے مسلمانوں کی آمد کا استقبال کیا اور کچھ نے خوش آمدید نہ کہنے کا فیصلہ کیا۔ اُن میں سے جنہوں نے استقبال نہ کیا تھا وہ مدینہ کے ممتاز یہودی قبائل تھے جنہوں نے مکہ کے کافروں کے ساتھ مل کر محمد کو قتل کرنے کی سازش کی ہوئی تھی اور نو مسلموں کو ملیا میٹ کر دینا تھا۔ وہ کیوں اپنے مقصد میں ناکام ہوئے کیونکہ خدا نے محمد کو ہدایت دی کہ وہ اِن پر پیش قدمی کے طور پر حملہ کر دیں۔ دلیل کے مطابق یہ وہ مقام ہے جب قرآن میں طعن و تشنیع در آتی ہے۔ دلیل آگے چلتی ہے، انتقام ہی وہ جذبہ نہ تھا جس سے مسلمانوں نے شروعات کیں۔ انہوں نے تو فقط تحفظ ذات کی خاطر اِس کا سہارا لیااور صرف عارضی طور پر۔۔ اسلام کے پرانے”اصلی “ پیغام پر تو محمد نے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی تھی، یہ پیغام انصاف، برابری، اتحاد اور امن کا ہے۔
جذباتی طور پر کتنا تشفی بخش معاملہ ہے۔ میں اِن چیزوں کو ماننے میں راحت محسوس کرتی رہتی ، لیکن میں جتنا زیادہ پڑھتی اور تفکر کرتی رہی اُتنا ہی اِن چیزوں نے مجھے مشکوک کر دیا۔ قرآن پڑھنے کا آغاز کرنے والے پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ محمد پر کونسی آیت کب اُتری تھی۔ قرآن کی ترتیب سورہ کے سائز پر دکھائی دیتی ہے، لمبی سے چھوٹی سورتیں، وحیوں کی زمانی ترتیب کے لحاظ سے نہیں۔۔ کیسے کوئی پہلے اُترنے والی آیتوں کو الگ سے کرے، اور ان کو الگ سے قرآن کے ”اصلی“ پیغام کے ساتھ پڑھا جائے؟ ہمیں اس حقیقت کو ماننا پڑیگا کہ قرآن کا پیغام تمام خونی نقشے پر پھیلا ہوا ہے۔ رحم اور تذلیل، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ عورتوں کے بارے قرآن کے موقف کو دیکھئے۔ حق میں اور مخالفت میں آیتیں ایک دوسرے سے چند سطروں کے فاصلے پر ہیں۔ مذہبی بھائی چارہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ اس نام نہاد کامل ، بلا مباحث اور صاف کھرے متن میں کوئی چیز بھی مبالغہ آمیز نہیں۔ جبکہ قرآن کی کاملیت پر بے پناہ شبہات ہیں۔
ارے محترم، کیا میں حد کو پھلانگ گئی ہوں؟ میرا حد سے گزر جانا القاعدہ کی دہشت گردی کو بھی مات کر دیتا ہے۔ میرے سے مختلف، یہ لوگ قتل کرنے کےلئے باہر نکل آئیں گے۔ اگر ہم دم گھونٹنے والی مطلق العنانی کے ساتھ لڑنے میں مخلص ہیں تو ہم یہ پوچھتے ہوئے ڈر نہیں سکتے، کیا ہے کہ اگر قرآن کامل کتاب نہیں ہے؟ کیا ہے کہ اگر یہ مکمل طور پر خدا کی تصنیف کردہ کتاب نہیں ہے؟ کیا ہے کہ اگر یہ انسانی تعصبات کا معما ہے؟
آئیے اس امکان کو بھی ہم تھوڑی دیر کےلئے اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کو اسلحے سے بھرے جہاز مارنے والوں کے سرغنہ محمد عطاءنے اپنے گینگ کی جانب سے قتل کے نوٹ میں لکھا ہے، ”ہمارے لئے کافی ہے کہ قرآن کی آیات زمین اور سیاروں کے خالق کے لفظ ہیں۔۔۔“ عطا نے ایک بار نہیں بلکہ تین بار دلاسا دیتے ہوئے اس بات کی طرف رجوع کیا، ”تمام وہ چیزیں جن کا خدانے اپنے شہیدوں سے وعدہ کیا ہے“ ۔ خاص طور پر، ”کیا تم جانتے ہو جنت کے باغات اپنے تمام تر حسن کے ساتھ تمہارے منتظر ہیں اور جنت کی حوریں تمہارا انتظار کر رہی ہیں، تمہیں بلا رہی ہیں، ادھر آﺅ اگر تم خدا کے دوست ہو“۔
مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ پر دوسرے جہاں کی فلم کی اجنبی زبان کھول کر بیان کروں: عطا اور اُس کے ساتھ بمبار لڑکے جنت کی درجنوں باکرہ حوروں تک ہر پابندی سے ماورا پہنچ کی امید میں تھے۔ صرف وہی نہیں۔ گیارہ ستمبر سے ایک مہینہ قبل فلسطین کی مزاحمت کے نام پر دہشت گرد تنظیم حماس کے مجاہد بھرتی کرنے والے انچارج نے سی بی سی ٹیلی ویژن پر بتایا کہ وہ ہر امیدوار کو ستر حوریں نظر آنے کا لالچ دیتا ہے۔ یہ انزال کا ایک ایسا بلا رکاوٹ لائسنس ہے جو خود کو بم سے اڑانے کے صلہ میں ملے گا اور یہ ایک عرصہ سے کہا جا رہا تھاکہ قرآن نے مسلمان شہیدوں کےلئے اس انعام کا وعدہ کیا ہے۔
مگر جنت میںا یک مسئلہ کی وجہ کا بھی ہمیں علم ہوا ہے، ایک بشری غلطی جو قرآن میں سرزد ہوئی۔ نئی تحقیق کے مطابق شہداءاپنی قربانیوں کا جو صلہ توقع کر رہے تھے، وہ حوریں نہیں ہیں بلکہ میوے ہیں۔ وہ لفظ جس کو ماہرِ قرآنیات صدیوں سے ”کالی آنکھوں والی حوریں“ کہہ رہے تھے۔۔ ارے ۔۔۔ اُس کے درست معنی تو ”سفید میوے“ ہیں۔ (ہنسئے گا نہیں، بہرحال زیادہ نہیں۔ ساتویں صدی کے عرب میں میوے اچھے خاصے قیمتی ہونے کی وجہ سے جنت کا تحفہ شمار کئے جاتے تھے)۔ ابھی بھی ، حوروں کی بجائے میوے؟ پلیز، قرآن اس طرح کی غلطی کس طرح کر سکتا ہے؟
وہ تاریخ دان جنہوں نے یہ کیس بنایا، اُن کا نام ہے کرسٹوف لکسنبرگ جو مشرقِ وسطیٰ کی زبانوں کے ماہر ہیں۔ انہوں نے قرآن کی جنت کشی کو مسحیت کے علم کی کڑی میں دیکھا، مسحیت کا علم اسلام کی آمد سے صدیوں پرانا ہے جو ارامی زبان میں لکھا ہوا ہے اور اس زبان کو عیسیٰ بولتے تھے۔ اگر قرآن یہودو عیسائیت سے اثرات قبول کرتا ہے جو کہ پہلے مذاہب پر ایمان لانے کے دعوے کے عین مطابق ہے تب ارامی ہی انسانی ہاتھوں سے عربی میں ترجمہ ہوئی ہو گی۔ یا’ارے‘ کی صورت میں غلط طور سے ترجمہ ہوئی ہو گی اور کون جانتا ہے کہ اس طرح (میوے) جیسے کتنے لفظ۔۔۔۔
کیا عجب ہے کہ پوری آیات کا ہی غلط مطلب لے لیا گیا ہو؟ بطورایک ان پڑھ تاجرپیغمبر محمدنے نقل نویسوں پر دارومدار کیا اُن لفظوں کو قلمبند کرنے کےلئے جو انہوں نے خدا سے سنے۔۔کبھی کبھار تو پیغمبر خود اُن لفظوں کی تشریح کرنے کی جان توڑ کوشش کرتے تھے جو وہ خدا کی جانب سے سنتے تھے۔ اس طرح ”شیطانی آیات“ کا ایک سیٹ معرض وجود میں آیا، ایسی آیات جن میں کافر بتوں کی پوجا کی گئی تھی، اکٹھی ہو کر محمد تک پہنچیں اور قرآن میں اصل طور پر جگہ پا لی۔ پیغمبر کو بعد میں اِن آیات کو نکالنا پڑا، شیطان کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہ اُس نے چال چلی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ مسلمان علماءکو صدیوں تک اس کہانی کو قرآن کی کاملیت کے حوالے سے پرانے زمانے کے شکوک کے طور پر بیان کرنا پڑا۔ اب پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ ہم اِن شکوک کو واپس لائیں۔
کیا ہے اگر سادہ ظنِ کامل کی بجائے محمد عطاءکی دل کو کھینچ لینے والے سوالات کی روشنی میں پرورش ہوئی ہوتی ؟ اور سب سے کم تر، کیا ہے اگر کالج کا یہ طالبعلم جانتا ہوتا کہ لفظوں کی اصلیت۔۔ حیات بعد موت کے بارے بنیادی لفظ جانچے جا سکتے ہیں؟ اور یہ سب لفظ ”زمین اور سیاروں کے خالق کے لفظ“ نہیں ہیں؟ اور کہ خود کی ہلاکت کا حاصل انسانیت کے قتل کے علاوہ کچھ نہیں، تو وہ متذبذب نہ ہوتا؟ اور کہ جنت کا امکان خیالی پلاﺅ ہے، یقینی نہیں؟ ممکن تھا تب وہ اپنی حرکت سے باز آ گیا ہوتا۔ ممکن ہے۔ امکان توجہ کا طالب ہے۔
قرآن کے بارے سوالات اٹھانے کا مقصد الجھن کی تجدید کے بنیادی معاملے جیسا ہے کیونکہ یہ سارے ہڑ کی عداوت مول لینے جیسا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ ماننے والے نہیں ہیں کہ جوابات دے دئیے گئے ہیں یا یہ کہ یہ جوابات آپ کو دئیے گئے ہیں۔
گیارہ ستمبر کے بعد مہینوں تک تمام سوالوں سے بھی بڑے ایک سوال نے مجھے تنگ کیا، جیسا کہ قرآن اپنی مرضی کی گنجائش دینے کی جگہ بناتا ہے پھر کیوں اسلام کے عصری اہلِ بصیرت تنگ نظری کی طرف گرتے دکھائی دیتے ہیں؟ کیوں ان کی اکثریت فراخ دلی کی طرف مائل ہوئی؟مجھے قرآن سے ماورا جانے کی ضرورت محسوس ہوئی، مجھے مسلم تعصبات کے تشریحی اضطرار کے حفاظت کدے کو دھونڈنا تھا۔
یہ سب کرنے کےلئے مجھے اُن جھوٹوں کے چھلکے اُتارنا تھے جو ہمیں بتائے جاتے ہیں۔
حوالہ جات:
۱۔” پاکستان میں اوسطاً دو لڑکیاں روزانہ کے حساب سے غیرت کا قتل کے نام پر مرتی ہیں، مرنے والیوں کے قاتلوں کی اکثریت کے لبوں پر خدا کے نام کا ورد جاری ہوتا ہے۔“ حوالہ: ڈاکٹر رفعت حسین نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا، اِس بات کا تذکرہ نیوا ویلٹن اور لنڈا وولف کے ایڈیشنز ، Global Uprising:Confronting the Tyrannies of the 21th Century - Stories from a New Generation of Activists (Gabriola Island, British Columbia: New Society Publishers, 2001 کے صفحہ 214پر ہے۔
۲۔ ”مالی اور موریطانیہ میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو جنس زدگی پر مجبور کر کے اُن کے مکروہ مسلمان آقا اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔“ حوالہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، Freedom House and specific articles بشمول "Is Youssouf Male a Slave?" مائیکل فنکل، دی نیو یارک ٹائمز میگزین، نومبر ۸۱، ۱۰۰۲۔
۳۔ ” سوڈان میں انسانی غلامی اسلامی فوج کے ہاتھوں ہوتی ہے۔“ حوالہ: چارلس جیکبس، "Why Israel and not Sudan, is singled out" اخبار بوسٹن گلوب، اکتوبر۵، ۲۰۰۲۔
۴۔ ”بنگلہ دیش میں جن مصنفین نے اقلیتوں کے حقوق کی وکالت کی انہیں یا تو جیلوں میں بند کر دیا گیا یا پھر سرے سے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔“ حوالہ: روتھ بالڈوِن،”بنگلہ دیش میں طالبانائزیشن“، دی نیشن (آن لائن ایڈیشن، مئی ۸۱، ۲۰۰۲ء) دیکھئےwww.thenation.com
۵۔ ” آدمیوں اور لڑکوں کا ایک ہجوم اُن کے گرد کھڑا تھااور مٹھی کی سائز کے پتھر اُن کے سروں پر مارنے کےلئے تیار تھا۔“ اِس دل دہلا دینے والے منظر کو وڈیو پر دیکھنے کےلئے مصنفہ کی ویب سائٹ پر باب ۲ کے فٹ نوٹ میں جا کر متعلقہ بٹن کو کلک کیجئے۔
۶۔” ظاہر تو یہی ہوتا ہے کہ اسلام میں ہم جنس پرستی کی گنجائش نہیںلیکن خدائے ذوالجلال کے دربار میں کوئی چیز بھی ممکن ہے۔“ حوالہ: چارلس لی گائی ایٹن، ’کیویر ٹیلی ویژن‘، سٹی ٹی وی، اپریل ۸، ۱۰۰۲۔
۷۔ ”امام نے لندن کی تیز دھار انگریزی بولتے ہوئے فیلر سے کہا کہ’آپ کو ہر صورت آخری نبی کو ماننا ہو گا‘ ۔ حوالہ: بروس فیلر، ابراہام ، A Journey into the Hearts of Three Faiths (New York: William Morrow, 2002), p. 180.
۸ ۔ ”یہ امام مسلمانوں کی اکثریت کی ترجمانی کرتا ہے، کم ازکم وہاں بسنے والے مسلمانوں کی ۔“
۹ ۔ ”دونوں مطلق راستی اور قرآن کی کاملیت کی بات کرتے ہیں۔ دونوں محمد کو آخری نبی مانتے ہیں اور محمد کی تعلیمات اور عمل پر پیروی کرانے کےلئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں“۔ حوالہ: رپورٹ اگست ۔ دسمبر ۲۰۰۲، اکیڈمی آف لرننگ اسلام ، رچمنڈ، برٹش کولمبیا۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا وینکوور کے انتھراپولوجی میوزیم میں ’سپرٹ آف اسلام‘ کی نمائش کی تیاری کے موقع پر پیش کی جانے والی رپورٹ۔
۰۱۔ ”خدا نے اکیلی روح میں زندگی پھونکی اور اُس کے بطن سے ساتھی پیدا کیا۔“ حوالہ: قرآن، ۴:۱، مزید دیکھئے ۴:۷۵، یہاں کہا گیا، ”اُن لوگوں کےلئے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کئے، ہم اُنہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے پانی کی بہتی ندیاں ہوں گیاور جہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاکباز ازدواجی بندھن میں بندھے ہوں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہم اُنہیں ایک ایسے اعلیٰ مقام میں داخل کریں گے“۔ نوٹ کیجئے، مرد عورت کی جنس سے ماورا ساتھیوں کا یہاں بھی ذکر ہے۔
۱۱۔ ” کون روح ہے اور کون ساتھی؟ یہ بات غیر متعلقہ ہے“ نوٹ: جب ہم جنس پرستوں کے مخالفین نعرے لگاتے ہیں، ”خدا نے آدم اور حوا کو پیدا کیاہے، آدم اور سٹیو کو نہیں“، تو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قرآن شاید اِس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔۔۔
۲۱۔ ” اپنی ماﺅں کی عزت کرو جن سے تم پیدا ہوئے ہو، خدا تمہیں ہمیشہ دیکھنے والا ہے۔“ حوالہ: قرآن، ۴:۱
۳۱۔ ” اور وہ جن سے تم نافرمانی کا خطرہ پاﺅ، اُن کو تنبیہہ دو، اُنہیں اپنے ساتھ نہ سلاﺅ اور اُن کو مارو۔“حوالہ: قرآن، ۴:۴۳
۴۱۔ ”یقیناً اِس عہد نامے کی ایک شق مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کی تائید کرتی ہے لیکن دوسری شق مردوں کو اپنے کنبے کا کفیل قرار دیتی ہے۔“ حوالہ: کائرو ڈیکلریشن کی شقیں ۶ (اے) اور ۶ (بی) ، مزید دیکھئے : این الزبتھ مائر کی کتاب، Islam and Human Rights: Tradition and Politics (Boulder: Westview Press, 1999)
۵۱۔’ ’تم اپنی کھیتیوں میں جاﺅ جب تم مطمئن ہونا چاہو، اچھے کام کرو اور اپنے خدا سے ڈرو۔۔“ حوالہ: قرآن ۲: ۳۲۲
۶۱۔ ” انہوں نے مجھے سمجھایا کہ ’جنسی طور پر روشن خیال بنانے والی‘ یہ آیت مساج کی حمایت کرتی ہے۔“حوالہ: سی بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام ’ہاٹ ٹائپ‘ کے آن کیمرہ ڈسکشن کےلئے، جسے ۵مارچ ۳۰۰۲ءکو ریکارڈ کیا گیا تھا۔
۷۱۔” خرتوم کی یورش نے سیاہ فام غلاموں کی تجارت کی یاد تازہ کر دی ہے، جس کو قریب ایک صدی قبل غلامی کے مخالف برطانویوں نے تقریبآ ختم کروا دیا تھا۔ ۔۔ اُس کے بعد غلاموں کے گلے تک کاٹ دئیے جاتے ہیں، لڑکوں، عورتوں اور بچیوں کے ساتھ اجتماعی زنا ہوتا ہے اور مزاحمت کی صورت میں اُن کے گلے کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ دہشت سے زندہ بچ جانے والے غلاموں کو شمال کی سمت بھیج دیا جاتا ہے جہاں اِن کو عرب آقاﺅں کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے، عورتیں داشتائیں بن جاتی ہیں، بچیاں گھریلو ملازمائیں اورلڑکے چرواہے۔“ حوالہ: چارلس جیکبس، مضمون بعنوان ، Why Israel and not Sudan, is singled out، اخبار بوسٹن گلوب، اکتوبر ۵، ۲۰۰۲ئ۔
۸۱۔’ ’تمہارے وہ غلام جو آزاد ہوناچاہیں، اُن کو آزاد کر دو اگر تم اُنہیں اُن کا اہل پاﺅ۔۔۔“ حوالہ: قرآن، ۴۲:۳۳۔ ایک دوسرا حوالہ جہاں غلامی کے بارے مہر تصدیق مل سکتی ہے، ۴: ۵۲
۹۱ ۔ ”یہ عیسیٰ کی بطور مسیحا ایک سے بار مدح خوانی کرتا ہے۔ “ حوالہ : قرآن، ۳:۵۴ اور ۴: ۷۵۱
۰۲۔” اپنی شروعات میں یہودیوں کی قرآن اعلیٰ مرتب قوم کے طور پر ہماری یاد دہانی کراتا ہے۔“ حوالہ: قرآن، ۲:۷۴ اور ۲:۲۲۱
۱۲۔ ”پنے مذہبی پرکھوں کو گرم ملائم خطابات سے نوازتے ہوئے قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کو تاثر دیتا ہے کہ مطمئن ہو جاﺅ اور اُنہیں ’کوئی خوف یا افسوس‘ نہیں ہونا چاہئے جب تک وہ اپنے مذاہب کے ساتھ ایماندار رہیں۔ “ حوالہ: قرآن ۲:۲۶ اور ۵:۹۶
۲۲۔ ”دوسری طرف قرآن صاف صاف اسلام کو واحد ’سچے مذہب‘ کے طور پر پیش کرتا ہے۔“ حوالہ: قرآن، ۳:۹۱۔
۳۲۔ ” مختلف مذاہب زندہ رہ سکتے ہیں، لہذا انسان کو ’اچھے کام‘ کے مقابلہ کےلئے کوئی ترغیب ملتی رہنی چاہئے۔“ حوالہ: قرآن، ۴:۸۴
۴۲۔” قرآن مسلمانوں کو یہودیوں اورعیسائیوں کو دوست بنانے سے منع کرتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ”اُنہی جیسے“ ہو جائیں۔ قرآن انہیں ”غیر منصف“ لوگ بتاتا ہے جن کی ’خدا ر ہنمائی نہیں کرتا۔ یہاں پر سزا دینے، قتل کرنے اور غیر مسلمانوں پر مخصوص ٹیکس لاگو کرنے کی بات ہے جو اُنہیں مسلمان فاتحین کو جزیہ کے طور پر دینا ہے۔“ حوالہ: قرآن ۵:۱۵، ۱۶:۴، ۱۶:۷، ۷۴:۴، ۹۳:۱۷۔۳۷، ۹:۹۲۔ یہاں پر ۴: ۶۵ کے مقام پر دل دہلا دینے والی آیت ہے، جو یوں ہے۔ ”جو ہماری باتوں کو جھٹلاتے ہیں ، اُن کےلئے دہکتی ہوئی آگ ہے، جلد ہی اُن کی چمڑیاں وہاں جل جائیں ، پھر ہم اُنہیں نئی چمڑیاں دیں گے تاکہ وہ کئے کی سزا پا سکیں۔ بلاشبہ خدا سب سے بڑا اور حکمت والا ہے۔“
۵۲۔ ”سانحہ گیارہ ستمبر سے چند ہفتے قبل میں نے مسلمانوں کے ایک پینل میں”اسلامی دنیا کے تاثر پر بحث“ کی غرض سے شرکت کی۔“ حوالہ: سی ٹی وی کا پروگرام”دی چیٹ روم“، جو ۹۱جون ۱۰۰۲ءکو نشر ہوا۔
۶۲۔ ” دین میں کوئی جبر نہیں ہے“، قرآن کا کہنا ہے۔“ حوالہ: قرآن، ۲:۶۵۲
۷۲ ۔ ” روایتی چہروں کے ساتھ، ہم نے کہا کہ ہمارے مذہب کو ”ہائی جیک“ کر لیا گیا ہے۔“ نوٹ: یہ استعارہ مرکزی نوعیت کے پریس میں اتنا اعتبار پا گیاکہ اِس کا استعمال سانحہ گیارہ ستمبر کے ایک سال بعد بھی جاری رہا۔ مثال کے طور پر اخبار گلوب اینڈ میل کی ۷۱دسمبر ۲۰۰۲ءکی اشاعت میں شیما خان کا مضمون "The Language of Islam has been hijacked" ملاحظہ فرمائیے۔
۸۲۔” اس طرح کی ایک آواز کا حوالہ دیتے ہوئے، اللہ ”صاف صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کسی معصوم انسان کا قتل ایسے ہی ہے کہ جیسے ساری انسانیت کا قتل ہو۔“حوالہ: مقتدرخان، "A Memo to American Muslims"، اِس حوالے کو www.islamfortoday.com سے بھی ڈاﺅن لوڈ کر سکتے ہیں۔میں مسٹر خان کالپائی کی مثال کے طور پر حوالہ دینے پر معذرت خواہ ہوں، بہت زیادہ معذرت خواہ کیونکہ اُن کا کام فکر انگیز اور دیانتدارانہ دکھائی دیتا ہے۔ اِس معاملہ میں مسٹر خان بے ضرر طور پر دکھاتے ہیں کہ حتکہ بے باک مسلمانوں کی اکثریت کا بھی قرآن کی تشدد کےلئے حمایت کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔
۹۲۔” ہم نے اسرائیلیوں کیلئے یہ مقرر کر دیا ہے کہ جس نے انسان کو قتل کیا، سوائے سزا کا موجب قتل یا زمین پر برے کرتوت کا موجب قتل، ایسے ہی ہے کہ جیسے ساری انسانیت کا قتل کیا“۔ حوالہ: قرآن ، ۵:۲۳
۰۳ ۔ ”جیسا کہ اُس نے ۹۹۹۱ءمیں سی این این کو ایک انٹرویو دیا، ”امریکی حکومت نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے سلسلہ میں ایسے کام کئے ہیں جوبیحد غیر منصفانہ، گھناﺅنے اور مجرمانہ ہیں، یہودیوں کی ماتحتی کے نتیجہ میں امریکہ کا تکبر اس مقام پر آ گیا ہے کہ وہ عرب پر قابض ہو گئے ہیں، جو مسلمانوں کی سب سے مقدس جگہ ہے۔ زیادتی کی اِس اور دیگر وجوہات کی بناءپر ہم نے ریاست ہائے متحدہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے۔“حوالہ: "People in the News: Osama Bin Laden, CNN سی این این نے سانحہ گیارہ ستمبر کے بعد اِس انٹرویو کو متعدد بار نشر کیا۔
۱۳۔” ایک بلند پایہ دلیل پر غور کیجئے جو اسلام کو امن کا مذہب ”یقینی طور پر“ ثابت کرتی ہے۔“ نوٹ : میں جس دلیل کا حوالہ دے رہی ہوں وہ دلیل عبداللہ انعائم کی ہے جو ’نیو کوارٹرلی پرسپیکٹو‘ کی سرما ۲۰۰۲ءکی اشاعت سے بطور حوالہ لی گئی ہے جسے www.digitalnpq.orgسے مضمون "The Islamic Counter-Reformation" کے حصہ سے ڈاﺅن لوڈ کیا گیا۔
۲۳۔ ” قرآن پڑھنے کا آغاز کرنے والے پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ محمد پر کونسی آیت کب اُتری تھی۔“ حوالہ: بہت سارے مفکرین اِس نقطے کا سہارا لیتے ہیں بشمول ٹمپل یونیورسٹی کے محمود ایوبی۔ اُن کے اِس عمدہ باب "The Islamic Tradition," پر ایک نظر ڈالئے، جو اُن کی کتاب World Religions: Western Traditions مطبوعہ ڈان ملز اونٹاریو، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سن ۲۰۰۲ءکی اشاعت کردہ ہے۔ پروفیسر ایوب لکھتے ہیں،”قرآن کے اصل مرتبین نے سورتوں کو لمبائی کے اعتبار سے ترتیب دیا تھا اور اِس ترتیب نے یہ تعین کرنا ناممکن بنا دیا کہ قرآن کو زمانی اعتبار سے ترتیب دیا جا سکے“ (صفحہ ۷۵۳)۔
۳۳۔’ ’اُس نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ہمارے لئے کافی ہے کہ قرآن کی آیات زمین اور سیاروں کے خالق کے لفظ ہیں۔۔۔اِدھر آﺅ،اللہ کے ساتھیو“حوالہ: عطا کا نوٹ، Anti-American Terrorism: A Documentary Reader (Oxford, New York: Oxford University Press), pp.223-238 By Barry Rubin and JudithKolp Rubin۴۳۔ ”گیارہ ستمبر سے ایک مہینہ قبل فلسطین کی مزاحمت کے نام پر دہشت گرد تنظیم حماس کے مجاہد بھرتی کرنے والے انچارج نے سی بی سی ٹیلی ویژن پر بتایا کہ وہ ہر امیدوار کو ستر حوریں نظر آنے کا لالچ دیتا ہے۔“ حوالہ: ابنِ وراق، مضمون "Virgins? What virgins?" اخبار دی گارڈین، ستمبر ۲۱، ۲۰۰۲ئ۔
۵۳۔ ”یہ انزال کا ایک ایسا بلا رکاوٹ لائسنس ہے جو خود کو بم سے اڑانے کے صلہ میں ملے گا۔۔۔“ نوٹ: ٹورونٹو میں انٹیلی جنس افسروں نے ، جو دنیا بھر میں دہشت گردی کے ماہرین کے خلاف کام کرتے ہیں، مجھے بتایا کہ خودکش بمباراپنے چڈوں پر ایک سے زائد جانگھیے پہنتے ہیں یا اُس حصے کواخباروں سے بھر لیتے ہیں تاکہ اپنے اعضائے رئیسہ کو بارود کے اثر سے بچا سکیں۔
۶۳۔ ” انہوں نے قرآن کی جنت کشی کو مسحیت کے علم کی کڑی میں دیکھا، مسحیت کا علم اسلام کی آمد سے صدیوں پرانا ہے جو ارامی زبان میں لکھا ہوا ہے اور اس زبان کو عیسیٰ بولتے تھے۔“حوالہ اور نوٹ: جن دنوں میں یہ کتاب لکھ رہی تھی تب کرسٹوف لکسنبرگ کی کتاب The Syro-Aramaic Reading of the Koran صرف جرمن زبان میں دستیاب تھی، لہذا میں نے بہت سارے جرمن پروفیسروں پر انحصار کیا۔ میں نے اِس کتاب پر تبصرے اور مضامین بھی دیکھے ہیں، بشمول الیکزینڈر اسٹیلی کا مضمون، "Radical New Views of Islam and the Origins of Koran"، جو نیو یارک ٹائمز میں دومارچ ۲۰۰۲ءکو شائع ہوا تھا۔
بہرکیف ، ویب سائٹ www.badattitudes.com نے میوے/حوروں کو کہانی اِس تیز دھار سرخی کے ساتھ لگائی تھی، Good news for vegan martyrs!"، بعض اوقات آپ کو ہنس لینا چاہئے۔
۷۳ ۔ ”کبھی کبھار تو پیغمبر خود اُن لفظوں کی تشریح کرنے کی جان توڑ کوشش کرتے تھے جو وہ خدا کی جانب سے سنتے تھے۔“ حوالہ: مثال کے طور پر کیرن آرم سٹرونگ کی کتاب ’خدا کی تاریخ‘ میں صفحہ ۹۳۱ اور ۸۴۱ دیکھئے۔
۸۳۔ ” اور یہ حقیقت ہے کہ مسلمان علماءکو صدیوں تک اس کہانی کو قرآن کی کاملیت کے حوالے سے پرانے زمانے کے شکوک کے طور پر بیان کرنا پڑا۔“نوٹ: مسلمان علماءتو صدیوں تک حوروں کی تعداد کے بارے ہی آپس میں لڑتے رہے، اگر حساب ہی شفاف نہیں بن سکا، تب کوئی اور شے کیسے معروضی بن سکتی تھی، جیسا کے لفظوں کے معنی حتمی بن سکتے تھے؟
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




