Urdu Edition
میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
گزشتہ چالیس برسوں کے دوران لاکھوں مسلمانوں کی طرح میرے خاندان نے بھی مغرب کی طرف ہجرت کی۔ ہم ١٩٧٢ءمیں کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ایک متوسط طبقے کے مضافاتی علاقے رچمنڈ میں پہنچے۔ میں تب چار برس کی تھی۔ ١٩٧٢ءاور ١٩٧٣ءکے دوران لاکھوں جنوبی ایشیائی مسلمان یوگنڈا سے اُس وقت ہجرت کر گئے تھے جب فوجی آمر جنرل عیدی امین دیدا نے افریقہ صرف کالوں کے لئے قرار دے دیا تھا۔ اُس نے ہم جیسے بھوری رنگت والوں کو بمشکل چند ہفتے دئیے کہ یا تو ہم ملک چھوڑ جائیں یا پھر مرنے کےلئے تیار رہیں۔ مشرقی افریقہ میں عمریں بِتانے والے مسلمانوں کو انگریزوں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو انہیں جنوبی ایشیا سے اپنی افریقی نو آبادیاتی کالونیوں میں ریلوے کی پٹریاں بچھانے لائے تھے۔ چند ہی نسلوں کے بعد اِن میں سے بہت سے مسلمان کھاتے پیتے تاجر بننے کے قابل ہو گئے۔ میرے باپ اور اُس کے بھائیوں نے کمپالا کے قریب مرسڈیز بینز کی ڈیلرشپ قائم کی۔ انہوں نے یہ فائدہ انگریزوں کی طبقاتی تبدیلی کے نتیجہ میں اٹھایا لیکن ہم نے اِس نوعیت کا فائدہ اپنے نوکر کالوں کو پہنچانے کی شاید ہی کبھی کوشش کی ہو۔
بلکہ مجموعی طور پرمشرقی افریقہ میں مقیم مسلمانوں نے کالوں کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا باپ ہمارے گھریلو ملازم توماسی کو اتنی بری طرح پیٹتا تھا کہ اُس کی کالی سیاہ پسلیوں پر چمکدار نیل پڑ جاتے تھے۔ اگرچہ مجھے، میری دو بہنوں اور ماں کو توماسی کا خیال رہتا تھا، اگر ہمارا باپ ہمیں توماسی کے زخموں کی مرہم پٹی کرتے دیکھ لیتا تو وہ ہمیں مارتا۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے گھر کے علاوہ ملازموں کے ساتھ ایسا سلوک بہت سارے مسلمان گھرانوں میں ہوتا تھاجس کی بھاری قیمت ہمارے خاندان کے افریقہ چھوڑ دینے کے بعد کافی عرصے تک مسلمان گھرانوں کو چکانی پڑی۔ اِسی لئے جب میں لڑکپن کی عمر میں آئی تو میں نے مشرقی افریقہ رشتہ داروں کے ہاں جانے کے موقع کو گنوانا ہی مناسب سمجھا۔ ”اگر میں تمہارے ساتھ گئی“ میں نے اپنی ماں کو متنبہہ کیا” تو تمہیں معلوم ہے کہ میں اپنی موٹی آنٹیوں اور موٹے ’انکلوں‘ سے پوچھوں گی کہ وہ اپنے ملازموں کو عملی طور پر غلام کیوں بنا لیتے ہیں“۔ ماں کا مشرقی افریقہ کا دورہ اپنے پرانے رشتہ داروں سے ملنے کےلئے ہوتا تھا، کسی انسانی حقوق کی تحریک کے سلسلہ میں نہیں ہوتا تھا۔ سو اُس کو اپنے دورہ کے دوران پریشان و پشیمان کرنے کی بجائے میں اِدھر (کینیڈا میں) گھر پر ہی رہتی تھی۔
جب ماں اُدھر دورہ پر ہوتی تو میں اکثر یہ سوچتی کہ گھر سے کیا مراد ہے۔ میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گھر وہ جگہ ہے جہاں میری عزتِ نفس قائم رہتی ہے اور ضروری نہیں کہ گھر وہ جگہ ہو جہاں میرے آباﺅ اجداد رہتے ہوں۔ تبھی یہ بات مجھ پر روشن ہو گئی تھی کہ نوآبادیاتی بخار کے بعدحب الافریقہ کے نعرہ ” افریقہ فقط برائے کالوں“ نے براعظم سے ہمارا صفایا کر دیا تھا، جہاں میں پیدا ہوئی تھی۔ اکثر مسلمانوں نے اپنے سے زیادہ کالی رنگت والوں کی عزتِ نفس مجروح کر رکھی تھی، ہم نے آبائی افریقیوں کے حقوق کو بُری طرح پامال کر رکھا تھا۔ براہِ مہربانی اَب مجھے یہ نہ بتائیے کہ ہم نے نوآبادیاتی بے رحمی انگریزوں سے سیکھی تھی کیونکہ اِس طرح ایک سوال جنم لے گا کہ ہم نے کالوں کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی وہ گنجائش کیوں نہ دی جوانگریزوں نے ہمیں دی تھی؟
میں توماسی کی مثال دیتے ہوئے آپ کے نقطہ اعتراض پر معذرت خواہ نہیں ہونگی۔ میں جانتی ہوں کہ آپ میں سے اکثر بھی غلامیت کی مخالفت کریں گے۔ لیکن یہ اسلام نہیں ہے جس نے ہر شخص کو توقیر دینے والے میرے عقیدے کو جلا بخشی، یہ (کینیڈا کا) وہ جمہوری ماحول تھا جہاں میں اور میرے خاندان نے ہجرت کی تھی، رچمنڈ جہاں ایک چھوٹی عمر کی مسلمان لڑکی کی منگنی ہو سکتی تھی، شادی کے لئے نہیں، میںابھی وضاحت کرتی ہوں۔
اپنی (کینیڈا) آمد کے کچھ برس بعد جب ہمارے خاندان کے یہاں پر کچھ قدم جم گئے تو میرے باپ نے بچوں کی نگہداشت کی مفت سہولت ’روز آف شیرون بیپٹسٹ چرچ‘ میںڈھونڈی( یوں کہئیے کہ یہ مفت سہولت اُن تارکینِ وطن اور مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کےلئے تھی جو مراعات کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہمیشہ ڈھونڈے رکھتے ہیں)۔ ہفتہ کے روز جب میری ماں گھر گھر ’اے وَن‘ کی مصنوعات بیچنے جاتی تو بچوں سے دوستانہ تعلق نہ رکھنے والا میرا باپ ہم بچوں کو چرچ پھینک جاتا۔ وہاں ایک جنوبی ایشیائی عورت جو ’بائیبل اسٹڈی‘کی نگران تھی ،مجھے اور میری بہنوں کے ساتھ وہی پیار بھرا برتاﺅ کرتی جو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کیا کرتی تھی۔ اُس نے میرے اندریہ اعتماد پیدا کیا کہ میرے سوالات بہت اہم ہیں۔ اگرچہ سات سالہ لڑکی کی حیثیت سے میں جو سوالات اٹھاتی تھی وہ سادہ سے تھے۔ عیسیٰ کہاں سے آئے تھے؟ وہ کس زمانے میں رہے؟ وہ کیا کام کرتے تھے؟ اُنہوں نے کس کے ساتھ شادی کی؟ اِن سوالات نے کسی کو پریشانی میں نہیں ڈالا لیکن میرا مسئلہ سوالات کرتے رہنا تھا اور مزید سوالات کرتے رہنا تھا۔۔ اِن کے جواب میں مجھے ہمیشہ ایک مسکراہٹ ملی۔
ممکن ہے مجھے اِنہی سوالات کے نتیجہ میں آٹھ سال کی عمر میں سال کا بہترین کرسچئین ایوارڈ کا انعام ملاہو۔ میرا انعام ایک سو ایک بائیبل کہانیوں کی خوبصورت تصویروں والی کتاب کی صورت میں تھا۔ میں اَب پیچھے مُڑ کر دیکھتی ہوں اور خدا کا شکر اداد کرتی ہوں کہ میں ایسے ماحول میں پلی بڑھی جہاں قرآن ہی میری پہلی اور واحد کتاب نہ تھی جیسا کہ اکثر ایمان والوں کا یہ واحد خزانہ ہوتی ہے جو انہیں زندگی میں میسر ہوتا ہے۔ ’ایک سوایک بائیبل کہانیوں‘ میں مرصع تصویریں تھیں، ’ایک سو ایک قرآن کہانیاں‘ کیسی ہو سکتی ہیں؟تب میں نے کوئی ایسی کتاب نہ دیکھی تھی۔ آج اسلام سے متعلقہ بچوں کی کتابوں کی کوئی کمی نہیں ہے بشمول یوسف اسلام (سابق کیٹ سٹیونز) کی کتاب ”اے فور اللہ“ کے۔۔
آزاد خیال معاشروں میںاپنی ذات کو نئے سرے سے دریافت کرنے اور اعتقاد کے ارتقاءکی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
بہترین کرسچئین ایوارڈ ملنے کے تھوڑا عرصہ بعد میرے باپ نے مجھے اِس گرجا سے باہر نکال لیا۔ ایک مدرسہ، اسلامی مذہبی اسکول وہاں جلد کھلنے والا تھا۔ یہ چھوٹی سی متحیر لڑکی زیادہ عرصہ انتظار نہ کرسکتی تھی۔ میں نے معصومیت کے ساتھ سوچا کہ اگر میرا اتوار کا اسکول (گرجا) میری کارکردگی کو ماپ سکتا تھا تو یہ مدرسہ بھی ایک دلچسپ جگہ ہو گی۔
اِس اثناءمیں ، میرے ساتھ ساتھ ایک نئی دنیا بھی ظہور پذیر ہو رہی تھی۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری تعلیم و تربیت میں اہمیت کی حامل ایک نئی تعمیر شدہ عمارت، لینسڈاﺅن سنٹر کھل گئی۔ رچمنڈ کے اسکاٹش بانیوں کے نام باہر کنداں ہو گئے۔۔ برِج ہاﺅس، میکنائر، برنٹ، سٹیوسٹن جیسے نام۔۔ جلد ہی مجھے ہندی، پنجابی، اُردو، چینی، کورین اور جاپانی زبانوں کے لفظوں کو ارد گرد سننے کا موقع ملنے لگا۔ اِن زبانوں نے عیبردین سنٹر کے اندر کسی غلاف کی طرح گھیراﺅ کیا ہوا تھا، یہ سنٹر کچھ سالوں بعد تعمیر ہوا ، ایشیائی نمائندگی کے ضمن میں اِس سنٹر کا شمالی امریکہ کی بڑی عمارتوں میں شمار ہونے لگا۔
اِس ساری تعمیروترقی سے پہلے ہی یہ بات سوچتی رہتی تھی کہ رچمنڈ ہر اُس شخص کی آمجگاہ ہے جو بھی نیا کام کرنا چاہتا یا نئی بات سوچنا چاہتا تھا۔ جب میں دسویں جماعت میں تھی تو میں نے جے این برنٹ سیکنڈری اسکول کی طلبہ کی صدارت کا انتخاب لڑا۔ ایک سال قبل میں ”ہوم روم“ کی نمائندگی کا چناﺅ اِس لئے ہار گئی تھی کہ ایک متعصب شخص نے میرے خلاف ووٹ اِس بناءپر ڈالا کہ وہ ایک ’پاکی‘ کو اپنی جماعت کا انچارج نہیں بنانا چاہتا تھا۔ اِس کے ایک سال بعد طلبہ کی اکثریت نے اِسی ’پاکی‘ کو بڑی شان سے اپنا رہنما چن لیا۔ اَب رچمنڈ میں نسل پرستی نے میرے ارادوں پر بند تو نہ باندھالیکن مجھے اپنی رنگ ونسل کے بارے جاننا پڑا۔
میرے ’اسٹوڈنٹ باڈی‘ کے صدر بننے کے چند مہینوں بعد اسکول کا وائس پرنسپل میرے لاکر کے پاس سے گزر رہا تھا اور جب اُس کی نظر ایران کے انقلابیوں کے پوسٹر پر پڑی ،جو میں نے اپنے لاکر پر چسپاں کیا ہوا تھا ،تو وہ ششدر ہو کر رُک گیا۔ یہ پوسٹر مجھے ایک انکل نے فرانس سے بھیجا تھا، اِس پوسٹر میں ایک عورت سیاہ چادر اوڑھے جہاز کے پروں کو توڑ رہی تھی۔ جہاز کا بایاں پر سوویت ہتھوڑے اور آری سے رنگا ہوا تھااور دایاں پر امریکہ کے ستاروں اور پٹیوں سے رنگا ہوا تھا۔
”یہ مناسب نہیں ہے“ اُس نے مجھے محتاط کیا۔ ”اِس کو اُتار دو“
میں نے ساتھ والے لاکر کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک امریکی جھنڈا لٹک رہا تھا۔ ” میرے ساتھ والی اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہے “ میں نے پوچھا ” تو میں کیوں نہیں؟“
”کیونکہ تم ہماری جمہوری قدروں کو اہمیت نہیں دے رہی، اور تمام طلبہ کی صدر ہونے کے ناطے تمہیں اِس بات کو بہترسمجھنا چاہئے“۔
میں اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے اِس بات کا ادراک نہیں تھا کہ میں (اسلامی) حتمیت کو اُگل رہی تھی۔ تب میں نے اِس امر پر غور نہیں کیا تھاکہ پروپیگنڈے کے نتیجہ پر جنم لینے والے جعلی گروہ کا کسی آزاد معاشرے میں رہنے والے فخریہ گروہ سے فرق ہوتا ہے۔ میں تو مختلف پن پر وکالت کرنا چاہتی تھی کہ ستارے سے مزین بینر دیگر ہائے نقطہ نظر کو مجروح نہیںکرتا۔ لہذا میں نے بحث کی، ”کیا میں جمہوری قدروں کی اہمیت کو گھٹا رہی ہوں؟اور جو آپ مجھے یہ بتا کر جمہوری اقدار کی حمایت کر رہے ہیں کہ میں اپنے نقطہ نظر کو بیان نہیں کر سکتی، مگر؟“میں نے لاکر پر ڈھکے امریکی جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا، ”کوئی دوسراکیسے کر سکتا ہے؟“
ہم نے ایک دوسرے کو گھورا۔ ”تُم ایک بُری مثال قائم کر رہی ہو؟“وائس پرنسپل نے کہا۔ اُس نے اپنی تنی گردن کو پیچھے کیا اور چل پڑا۔
آپ وائس پرنسپل کو داد دیں کہ اُس نے برنٹ جونئیر اسکول میں مختلف آراءکو پنپنے دیا۔ یہ بات اِس لئے بھی قابلِ تحسین ہے کہ اُس نے ایونجلیکل مسیحی ہونے کے باوجود ایسا ماحول قائم کیا۔ اُس نے اپنے ذاتی عقائد پر پردہ نہ ڈالا لیکن اِن کو اپنے طالب علموں پر بھی مسلط نہ کیا، اُس وقت بھی نہیں جب طلبہ کونسل کی صدر خمینی کی مذہبیت کی حامی نکلی اور اُس وقت بھی نہیںجب طلبہ نے اسکول کی نیکروں کے لئے مہم شروع کی کہ یہ نیکریں سائز میں چھوٹی ہونی چاہئے تاکہ ٹانگیں زیادہ نظر آسکیں، جبکہ وائس پرنسپل نسبتاً لمبی نیکریں چاہتا تھا۔ ہمارے ساتھ گرما گرم بحث و تمہید اور کچھ تکنیکی توقف کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے اکثریت کی خواہش کو ماننا پڑا۔ آپ کتنے کٹر( ایونجلیکل) مسلمانوں کو جانتے ہیںجو دوسروں کا ایسا نقطہ نظر برداشت کر سکتے ہوں جو اُن کی مرضی کے خلاف ہو؟ میرے وائس پرنسپل کو ببلک اسکول سسٹم کے آگے اپنی زبان بند کرنا پڑی لیکن ایسا نظام ایک باہمی رضا مندی سے جنم لیتا ہے جہاں لوگ مختلف عقائد، وابستگیوں اور خیالات کے ہوں اور مختلف راہیں ایک ہی مقام پر اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ کتنے مسلمان ممالک اِس طرح کے ملاپ کو گوارا کر سکتے ہیں؟
اے خدا، میں اِس معاشرے سے محبت کرتی ہوں۔ میں اِس لئے اِس سے محبت کرتی ہوں کہ یہ ہمیشہ کےلئے نامکمل ہے،جہاں حتمی جوابات ابھی معلوم نہیں ہوئے، اگر وہ کوئی ہیں تو۔۔ مجھے اِس ہر لحظہ بدلتی دنیا سے محبت ہے جہاں انسانوں کی کاوشوں کی اہمیت ہے۔
لیکن گھر میں میرے باپ کے ہر لمحہ تیار گھونسے نے ہمیں تابعداری کے گھریلو اصولوں کی طرف جبراً مائل رکھا۔ رات کے کھانے کے وقت بالکل ہنسنا نہیں، جب میں تمہاری جمع کی ہوئی رقمیں اٹھا لوں تو اپنا منہ بند رکھو۔ جب میں تمہیں پشت پر ماروں تو یاد رکھو اگلی بار اس سے بھی سخت ماروں گا۔ جب میں تمہاری ماں کو بُری طرح پیٹوں تو پولیس کو مت بلانا۔ اگر پولیس آ بھی گئی تو میںانہیں واپس چلے جانے پر قائل کر لونگا اور تمہیں معلوم ہے کہ پولیس والے چلے جائیں گے اور جیسے ہی وہ واپس جائیں گے تو میں تمہارے کان کے ٹکرے ٹکرے کر دونگا۔ اگر تم نے سوشل سروس والوں کو بلانے کی دھمکی دی تو میں تمہارے دوسرے کان کو بہرا کر دونگا۔
ایک دفعہ میرا باپ چھری پکڑ کر پورے گھر کے اندر میرے پیچھے بھاگا، میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر بھاگنے میں کامیاب ہو گئی اور پوری رات میں نے چھت کے اوپر گزاری۔ میری ماں کو میری حالت کا کچھ علم نہیں تھا کیونکہ وہ ایک ائیر لائن کمپنی کے قبرستان میں کام کر رہی تھی۔ مجھے اب یاد نہیں کہ میں اپنی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی ماں کی کس یقین دہانی کے نتیجہ میں چھت سے نیچے اُتری تھی۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے اسکول اور ’روزآف شیرون بیپٹسٹ چرچ‘ اور بہت سالوں بعد ایبرڈین سنٹر کو اس لئے پسند کیا کہ مجھے اُن کی چھتیں پسند تھیں۔ میں اِن گھونسلوں میں بیٹھی ممکنہ حد تک کھلے ذہن کے ساتھ دنیا کا جائزہ لیتی رہتی۔ مشرقی افریقہ کی مسلمان کمیونٹی جہاں سے میں آئی تھی وہاں تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھا جا سکتا تھا؟سیاست میں کردار ادا کرنے کا سوچاجاسکتا تھا؟ سیاست میں عہدہ لینے کی بات ہی نہ کیجئے۔ جب میں تین برس کی تھی تو مجھے بصیرت دینے کےلئے دانے دار کالی و سفید تصویر دکھائی گئی جس میں ایک دلہن نے اپنے سر کو ڈھانپا ہوا تھااور جس نے اپنے ہاتھ باندھے ہوئے تھے، آنکھیں نیچے جھکی ہوئی تھیں اور ٹانگیں صوفہ سیٹ سے لٹکی ہوئی تھیں۔ میں یہی سمجھ سکتی ہوں اگر ہم مسلمان ملک یوگنڈا میں رہ رہے ہوتے تو میںسخت نوعیت کی ہراست کا شکار ہوتی۔ ایک طے شدہ صورت میں انسان کس قدر بُری طرح جکڑا ہوتا ہے؟
یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ (مسلمان) تارکین وطن نے رچمنڈ کا مدرسہ انسانی حقوق اور آزادی کی دھرتی میں بنا کر آمریت کی راہ کیوں چنی؟ نو برس سے چودہ برس کی عمر تک میں ہفتے کا روز مدرسہ میں گزارا کرتی تھی۔ مدرسہ کی کلاسیں نئی تعمیر شدہ مسجد کی اوپر کی منزل میں ہوتی تھیں جو مشرقِ وسطیٰ کی طرز تعمیر کی بجائے کسی بڑے سے مضافاتی گھر کی مانند تھی۔ البتہ مسجد کے اندر اسلام کا مخصوص ماحول ہر جا شدت کے ساتھ نظر آتا تھا۔ مرد اور عورتیں مسجد میں مختلف دروازوں سے داخل ہوتے تھے اور اپنی اپنی درست سمتوں میں کھڑے ہو جاتے۔ مسجد کے ہال کو لکڑی کی ایک عارضی دیوار سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جس کے نتیجہ میں عبادت کے دوران دونوں جنسوں کی بھی علیحدگی ہو جاتی۔ اِس دیوار میں ایک دروازہ بھی رکھا گیا تھا جو مردوں اور عورتوں کے حصے کو ملاتا۔ یہ دروازہ عبادت کے بعد استعمال ہوتا جب مرد مسجد کے لنگر سے مزید کھانا طلب کرتے ہوئے اپنے برتن دروازے کی طرف بڑھاتے، اِس دوران مرد دیوار پر زور کے ساتھ دستک دیتے اور چند سیکنڈوں کےلئے کسی عورت کے بازو کا انتظار کرتے جو کھانے سے بھرا برتن واپس کرتی۔ مسجد میں مرد عورتوں کو نہ دیکھتے اور عورتیں مردوں کو نہ دیکھتیں۔ اگر ہمیں مختصر زندگیاں عطا کر کے اِسی طرح کرنے کو کہا گیا ہے تو میں تو پھر بڑی نعمت سے محروم ہو گئی۔
مدرسہ اِس سے بھی اوپر کی منزل پر تھاجس میں جلے ہوئے بھورے رنگ کے قالینی ٹوٹوں سے ایک یبوست زدہ فضا طاری رہتی جس کے اوپر چمکدار بتیوں کی روشنی پڑتی، لڑکیوں اور لڑکوں کے حصے کو الگ الگ کرنے کیلئے ایک مصنوعی سی دیوار کو کھڑا کیا گیا تھا جسے حسبِ ضرورت ہلا جلا دیا جاتا۔ جہاں بڑے سے کمرے میں کلاسیں اکٹھی ہوتی تھیں وہاں ایک تقسیم لڑکوں لڑکیوں کو الگ الگ کر دیتی۔ اِس سے بھی پُری تقسیم ذہن اور روح کی ہو چکی تھی۔ میں نے ہفتے کی کلاسوں سے یہ سیکھا کہ اگر آپ مذہبی ہیںتو سوچنا بند کر دیں اور اگر آپ سوچتے ہیں تو مذہبی نہیں ہو سکتے۔ یہ سادہ سا تجزیہ میرے بے پناہ تجسس کو اُبھارتا جو مجھے رچمنڈ کے مدرسے نے عطا کیا تھا۔ اِسے آپ تہذیبوں کا میراذاتی ٹکراﺅ قرار دے لیجئے۔
اِس کا حل صرف یہ بات تسلیم کر لینا نہیں کہ ایک سیکولر دنیا ہے اور ایک غیر سیکولر دنیا اور ہر ایک کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے۔ اِس منطق کے لحاظ سے طے شدہ غیر سیکولر ’روز آف شیرون بیپٹسٹ چرچ‘ کو چاہئے تھا کہ میرے سوالوں کو جھٹک دیتا لیکن اُس نے تو میرے تجسس کو سراہا۔ برنٹ جونئیر اسکول ، جو ایک سیکولر ادارہ ہے، وہاں میرے سوالوں نے وائس پرنسپل کے اعتقاد کو بیزار تو کیا لیکن کسی نے میرا منہ بند نہ کیا۔ اِن دونوں جگہوں پر فرد کی انفرادیت برقرار رہی لیکن میرے مدرسہ میں ایسا نہیں تھا۔ میں اِس کے اندر پولیسٹر کی سفید چادر پہنے ہوئے داخل ہوئی اور جب کچھ گھنٹوں بعد باہر نکلی تو میرے سر کے بال سیدھے ہو چکے تھے اور دل کو بھی ’سیدھا‘ کر دیا گیا تھا، جیسے میرے سر کے اوپر چڑھے کنڈوم نے مجھے غیر محتاط عقلی و دانشمندانہ کام سے محفوظ کر لیا ہو۔
مدرسہ کے بارے مزید سننے سے پہلے مجھے مدرسہ کے اُستاد کے بارے کچھ بتانا انصاف کا تقاضا لگتا ہے، ہم اپنے اُستاد کو مسٹر خاکی کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ ایک مخلص مسلمان تھا جس طرح کے یہ ہوتے ہیں۔ اِس پتلے دبلے ’بردر،‘ بہترین تراشی ہوئی داڑھی ( خاص طور پر صاف ستھرا) ہونڈا منی کومپیکٹ (جو میانہ روی ظاہر کرتی تھی)،نے ویک اینڈ کےلئے اپنی خدمات (جذبہ ایثار کو ثابت کرتے ہوئے) مسلمان امیگرینٹس بچوں کی مذہبی تعلیم کےلئے وقف کی ہوئی تھیں کہ کہیں یہ بچے کثیر الثقافتی معاشرے کی اقدار میں اپنی مذہبی تعلیمات کوفراموش نہ کر بیٹھیں۔ یہ کوئی اتنا آسان کام نہیں تھا جب سے مختلف عمروں کے طلبہ نے مدرسہ آنا شروع کیا تویہ اپنی آمدہ بلوغت کے خوف سے ڈرے ہوئے تھے، جولڑکپن کی نئی پھوٹتی مونچھوں کو غسل خانو ں میں خود ہی دیکھتے ، اور یہ صرف لڑکیاں تھیں۔ میں ایک طرح سے مذاق کر رہی ہوں۔
ہم میں سے اکثر نے مدرسہ کو کچھ سیکھنے کی جگہ نہ پایا بلکہ ایک ایسے تالاب کی مانند پایا جہاں سے مچھلیاں اپنے مستقبل کے ساتھی تلاش کرتی ہیں۔ کیونکہ زیادہ بکنے والی لڑکیوں کو شوہر نہیں ملا کرتے اس لئے میری سہیلیاں مسٹر خاکی سے شاذ ہی بحث کیا کرتی تھیں۔ مگر میرا مسئلہ کیا تھا؟ کیا میںایک روزکسی کی بیوی نہ ہوناچاہتی تھی ؟ مجھے اب موقع نہ دیجئے۔ میرا مسئلہ، مدرسے کی حدود کی ہمہ جہت دنیا تھا۔ میں کسی چیز کے اپنے اوپر تھوپنے کی بجائے اُس کی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیتی تھی۔
مسئلہ اُس نصابی کتاب’اپنے اسلام کو جانو‘ سے شروع ہوا جسے میں ہر ہفتے اپنے اسکول بیگ کے اندر رکھتی تھی۔ اِسے پڑھنے کے بعد مجھے ’اپنے‘ اسلام کے بارے جاننے کی مزید ضرورت محسوس ہوتی۔ کیوں لڑکیوں پردن میں پانچ وقت نماز لڑکوں سے کہیں کم عمر ہونے پر پڑھنافرض ہو جاتی ہے؟ اِس کی وجہ یہ ہے، مسٹر خاکی نے مجھے بتایا کہ لڑکیاں چھوٹی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں اور اُن پر نو سال کی عمر میں عبادت واجب ہو جاتی ہے جبکہ لڑکوں پر یہ حد تیرہ سال کی عمر پر لاگو ہوتی ہے۔
”پھر لڑکیوں کو جلد بلوغت کے صلہ میں امامت کیوں نہیں ملتی؟ میں پوچھتی۔
”لڑکیاں امامت نہیں کر سکتیں؟“
”آپ کا کیا مطلب ہے؟“
”لڑکیوں کو اجازت نہیں ہے۔“
”کیوں نہیں؟“
”اللہ نے ایسا کہا ہے؟“
”اُس نے اِس کی کیا وجہ بتائی ہے۔“
”قرآن پڑھو“
میں نے کوشش (قرآن پڑھنے) کی، اگرچہ مجھے قرآن پڑھنا اِس لئے مصنوعی لگا کیونکہ مجھے عربی نہیں آتی تھی۔ کیا آپ یہاں پر میری تائید کےلئے اپنا سر نہیں ہلائیں گے؟اکثر مسلمانوں کو اِس بات کا قطعی علم نہیں کہ جب ہم قرآن کو عربی میں پڑھ رہے ہیںتو وہ کیا کہتا ہے۔ بات یہ بھی نہیں ہے کہ ہم کند ذہن ہیں۔ عربی زبان دنیا کی خوش آہنگ زبانوں میں سے ایک زبان ہے لیکن مدرسہ کی ہفتہ وار کلاسوںمیں ہم اِس زبان کی باریکیوں کو سمجھ نہ سکتے تھے۔ مثال کے طور پرلفظ ’حرام‘ ممنوع یا نیکی میں سے کوئی ایک معنی بھی دے سکتا ہے، اِس کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ کس بات پر زور دیا گیا ہے، ممنوع بمقابلہ نیکی۔ ہم یہاں پر ذو معنویت کی بات نہیں کر رہے۔ اِسی طرح عربی کا لفظ حصار گرفتاری یا حفاظت دونوں کے معنی دے سکتا ہے۔ عربی زبان سے وابستہ خاصیتوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے کچھ حقائق کو بھی شامل کر لیجئے۔ میرے معاملے میں، ایک متشدد باپ جو مذہب کو عام طور پر دکھاوے کے طور پر استعمال کرتا ہو اور ماںجو اپنے کام کی شفٹ کے بعد گھریلو معاملات کو انتہائی خلوص کے ساتھ سہارا دیتی رہتی تھی۔ اِن حالات میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں عربی سیکھنا ہمارے خاندان کی ترجیح نہ بن سکا۔ اُدھر مسٹر خاکی کا میرے تمام سوالوں کا کل جواب ”قرآن پڑھ لو“ مجھے اِس طرح چپٹا سا محسوس ہوتا جیسے چادر کے نیچے جکڑے میرے بال چپٹے ہو گئے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ”قرآن پڑھ لو“ والے اِس جواب نے میرے اندر مزید سوالات کو جنم دیا۔ کیوں میں مستقل طور پر جھوٹ موٹ قرآن عربی میں پڑھتی رہوں جب میرے لئے اِس کے کوئی معنی ہی نہیں اور نہ یہ میرے دل کے تاروں کو چھوتا ہے؟ ہم اِس پر شبے کا اظہار کیوں کرتے ہیں کہ قرآن کا ہر انگریزی ترجمہ اِس کے اصل مواد کو مجروح کرتا ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اگر قرآن ایک سیدھی صاف گو کتاب ہے جیسا کہ اِس کے مبلغین ہمیں بتاتے ہیں تو پھر اِس کی تعلیمات ہزاروں زبانوں میں بآسانی ہو جانا چاہئیں؟ آخر کار ، یہ بدنامی بھی کیوں ہمارے سر آتی ہے جنہیں عربی نہیں آتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں عرب مسلمان بیس فیصد کے لگ بھگ ہیں؟ ترجمہ باقی قریباًاسی فیصد مسلمانوں کےلئے ہے جو عرب نہیں۔ ”اپنے اسلام کو جانو“وہ بے نیازی کے ساتھ کہتے۔
کونسا اسلام؟ کیا یہ مذہب ہے یا مسلک؟
اچھا چھوڑیے، تھوڑا وقفہ کیجئے۔
میرے اِس بنیادی سوال کو مسٹر خاکی کےلئے پھر اُٹھائیے: کیوں لڑکیاں امامت نہیں کرا سکتیں؟ اِس بات کو جانتے ہوئے کہ قرآن کا حکم کسی دوسری کتاب میں بھی دہرایا گیا ہو گا، جستجو کی عبادت کرتے ہوئے میں نے مدرسہ کی لائبریری تک رسائی کی کوشش کی۔ میرے اِس دورہ کےلئے اہتمام کیا گیا۔ لائبریری الماریوںکی ایک قطار کی شکل میں تھی جنہیں مسجد کے مردانہ حصے کی سیڑھیوں کے اوپر رکھا گیا تھا ، جو عورتوں کی دسترس سے باہر تھا اُن سے کسی قسم کی پیشگی اجازت لئے بغیر۔۔ گیارہ سال اور لازمی بلوغت کی عمر پر پہنچنے کے سبب میں بالغ مردوں کے ساتھ میل جول نہ رکھ سکتی تھی۔ لہذا مجھے ایک لڑکے کی مدد لینا پڑی جو بارہ سا ل یا اُس سے کم عمر ہونے کی وجہ سے لازمی بلوغت کی عمر سے کم تر تھا جو میرے لئے سیڑھیاں پھلانگتا اور جب میں لائبریری میں تلاش شروع کرتی تو میرے لئے اجازت طلب کرتا۔ جیسے ہی مجھے اندر جانے کا سبز اشارہ ملتا، سب مردوں کو کمرہ خالی کرنا ہوتا تب میں سیڑھیوں پر کھڑی ہو سکتی اور الماریوں میں پڑے بازاری پمفلٹوں میں سے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرتی۔ اگرچہ مجھے بہت محدود وقت ملتا کیونکہ مرد واپس کمرے میں آنے کےلئے میرے باہر جانے کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ میں ہر بار لائبریری سے کچھ پمفلٹ لے جاتی لیکن اُن کے متن پر عمل کرنا ناممکن ہوتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم اِن پمفلٹوں کے مصنفین کن اسکولوں سے پڑھے ہوئے تھے۔ مسجد و مدرسے کے اندر دو سالوں کی تلاش و بسیار لاحاصل ثابت ہوئی۔ جب میں تیرہ برس کی ہوئی تو احساس ہوا کہ مجھے اپنے سوالوں کے جواب کےلئے مسٹر خاکی اور مدرسہ سے کنارہ کشی کرنا پڑے گی۔
میں شاپنگ مال کی بھیدی ہو چکی تھی، میرا مشن کیا تھا؟ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈھونڈنا جو مجھے لینسڈاﺅن سنٹر سے مل گیا۔ خدا میرے شہر کے بازارِ عقائد پر مزید مہربانی کرے۔ معلومات کی آزادی نے مسٹر خاکی کو ڈرایا ہوا تھالیکن یہی وہ آزادی تھی جس نے اُس کی ایک طالبہ کو اُس کے مذہب کی معلومات ڈھونڈنے پر اُکسایا ہوا تھا جو معلومات اُس کا مدرسہ فراہم نہ کر سکا تھا۔
لڑکیاں کیوں امامت نہیں کرا سکتیں، اِس بارے مجھے کیا جواب ملا، میں آپ کو فوری نہیں بتاﺅں گی۔ کیونکہ اگر ملا اور مدرسہ کے اساتذہ بزعم خود جواب دیتے ہیں تو قرآن تو نہیں دیتا۔ میں جو آپ کو ابھی بتا سکتی ہوں کہ اِس اثناءمیں الیکشن کا زمانہ ہو، ڈرامہ ریہرسل کا دور رہا ہو، والی بال کی مشقیں ہو رہی ہوں، یونیورسٹی جانے کی بات ہو، یونیورسٹی کے اندر ہوں یا باہر ہوں،مذہب کی بنیادات کو سمجھنے کے راستے پر گامزن میرے دماغ کے بالائی حصے میں یہ ” زنانہ سوال“سوار رہا (کہ لڑکیاں کیوں امامت نہیں کرا سکتیں؟)اِس مرحلے پر اِس جواب کوافشاءکرنااپنی جوانی کی زندگی کی طرف جست لگانے کی بات کرنے کے مترادف ہے۔پہلے مجھے کسی اور معاملے سے نپٹنا ہے۔
یہودیت کا معاملہ۔۔ یہ دوسرا سوال تھا جو مجھے مدرسہ کی پڑھائی کے دوران مضطرب کئے رکھتاکیونکہ (پڑھائی کے دوران) یہودیوں کی سیاہ کاری کا باقاعدہ تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ مسٹر خاکی نے ہمیں پڑھاتے ہوئے سپاٹ چہرے کے ساتھ واضح کیا کہ یہودی مولا کی عبادت کرتے ہیں، اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور اُن کی بت پرستی میری پاکبازی کو ضائع کر دے گی اگر میں اُن کے ساتھ گھومی پھری۔ ”مسٹر خاکی، کس سیارے پر بستے ہیں؟“ مجھے حیرت ہوئی۔ کیا مسٹر خاکی اپنے علاقے کے گردونواح سے بے بصیرت تھے؟ رچمنڈ، سطح سمندر سے نیچے کا مضافاتی شہر، جو ایشائیوں کے کاروباری اثرات میں زیادہ ڈوبا ہوا تھا نہ کہ یہودیوں کے مالی ذخائر کے انبار میں۔ اگر اُن دنوں رچمنڈ میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ بھی تھی تو مجھے اُس کا بھی علم نہیں تھا۔
مزید براں، ہو سکتا ہے کہ میں یہودیوں کی طاقت کے سبب اُن کی ایجنٹ تھی کیونکہ میں ہر بار تاریخ کے حوالے سے مسٹر خاکی کے پُر جوش اسباق کے دوران یہودیوں کے بارے سوالات کر کے دخل اندازی کی موجب بنتی تھی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پوچھا کہ کیوں پیغمبر محمد نے اپنی فوج کو یہودیوں کے ایک پورے قبیلے کو مارنے کا حکم دیاتھا جبکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ قرآن اُن پر امن کا پیغام لے کر آیا تھا۔ مسٹر خاکی اِس بات کو برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے مجھے مار ڈالنے والی حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنا ہاتھ لہرا کر غصیلہ اشارہ دیااور تاریخ کی کلاس کو ختم کر دیا، اگلی کلاس قرآن کے مطالعہ کی شروع کر دی۔ میں اپنے ’منہ پھٹ‘ منہ کے ساتھ دیکھتی رہ گئی۔
ایک سال بعد میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ خریدا۔ مسٹر خاکی اور میں ایک دوسرے سے کھچے رہنے لگے۔ اَب تک میں نے کوئی ایسی چیز نہ پڑھی تھی جو مجھے قائل کرتی کہ ’یہودی سازش‘ بھی کوئی شے ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ قرآن کو جذب کرنے کےلئے ایک سال کا عرصہ بمشکل ہی کافی ہے اور چودہ برس کی عمر میں ذہنی بلوغت ہونے میں ابھی بہت سی کسر رہتی ہے۔ ابھی میں مکمل طور پر مسٹر خاکی کے یہود مخالف وعظوں کو رد نہ کر سکی تھی۔میں تب اِس بات کا فیصلہ کرنے والی کون ہوتی تھی کہ وہ بکواس سے بھرا ہوا شخص ہے، جب تک کہ اصل باتوں کی تہہ تک نہ پہنچ لیتی؟سو میں نے انہیں چیلنج کیا کہ وہ ثابت کریں کہ یہودی پلاٹ کیا ہے؟ لیکن انہوں نے جو کہا وہ حد تھی”یا تو تم اِس بات کو مانو ورنہ دفع ہو جاﺅ، اگر تم دفع ہو جاتی ہو تو تم تمام اچھائیوں سے دور ہو جاتی ہو“۔
”واقعی؟ یہ بات ہے؟“
”یہی بات ہے!“
پولیسٹر کی چبھنے والی چادر کے نیچے کنپٹیوں کے زور سے پھڑکنے اور گردن پربہتے پسینہ کے ساتھ میں اُٹھ کھڑی ہوئی۔ میں نے مردانہ اور زنانہ حصے کی پارٹیشن کو جیسے ہی عبور کیا تو میں تمام لڑکوں کو اپنا آپ دکھانے کےلئے اپنے سر سے چادر ہٹا سکتی تھی لیکن میں نہیں چاہتی تھی کہ کسی قسم کی حقارت یا ذلت میرے پیچھے بھاگتی کیونکہ مسٹر خاکی اَب کوئی فتنہ بھی کھڑا کر سکتے تھے۔ میں اگر اُس وقت کچھ کرنے کا سوچ سکتی تھی تو میں نے یہ کیا کہ میں نے مدرسے کا بھاری آہنی دروازہ غصے کے ساتھ کھولا اور چلائی، ”جیسس کرائسٹ“، نجات کا ایک مقبول نعرہ، میرا اُس وقت یہی مطلب تھا۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ عیسیٰ بھی تو یہودی تھے۔
آپ کو ابھی بھی حیرت کا سامنا ہے کہ مدرسہ سے اخراج کے بعد کچھ عرصہ تک میں کیوں تمام مذاہب کو کوستی رہی اور اپنے آپ کو ہر بندش سے آزاد شمالی امریکی کے طور پر محسوس کرتی رہی؟ ایک حد تک تو شناخت کی ناگزیریت میرے اندر سرایت کر گئی تھی۔آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔ ہم میں سے اکثر مسلمان مسلمان نہیں رہتے جب ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیںلیکن چونکہ ہم مسلمان پیدا ہوئے ہیں، اس لئے ”ہم مسلمان ہیں“۔
میرے مدرسے نے میری ماں کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی، اگرچہ میری ماں میرے ساتھ ایک عرصہ سے رہ رہی تھی وہ مسٹر خاکی سے معافی مانگنے کے ضمن میں مجھے کہہ سکتی تھی لیکن اِس کا کوئی امکان نہیں تھا اور نہ ہی اُس نے اپنے ساتھ مسجد جانے کےلئے مجھے مجبور کیاتھا۔ مزید کچھ برسوں تک میں خود ہی مسجد جاتی رہی۔ مسجد واحد جگہ رہ گئی تھی جو میرے مسلم پن کی کمزوری کے نقشے پر موجود تھی۔ میں خدا سے محبت کرتی تھی اور میں مدرسے کے گناہوں کی سزا مسجد کو نہ دینا چاہتی تھی، جب تک یہ بات میرے اندر نہ بیٹھ گئی کہ مدرسہ جس سے مجھے کراہت آنے لگی تھی، اُسی مسجد کی توسیع ہے۔ مسجد جانے سے مجھے مسلمان ہونے کی شناخت تو مل رہی تھی لیکن اِس کے ساتھ ساتھ مجھے ایک اور شے کی قربانی دینا پڑ رہی تھی، جو میری شناخت کےلئے بہت مقدس تھی، وہ شے تھی غوروفکر۔۔
میں آپ کو ایک اور واقعہ سناتی ہوں۔ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک خیرات بھی ہے۔لہذا ایک شام اِس بات کی منظوری کی گھنٹی میرے کان میں پڑی جب شام کو مسجد کے زنانہ حصے سے لاﺅڈ اسپیکر پر ملا جی مسجد کے مردانہ حصے پر چلا رہے تھے کہ ہمیں سمندر پار اپنے مسلمان بہنوں اور بھائیوں کےلئے چندہ اکٹھا کرنا ہے، ہمیں چند دنوں کے اندر اندر اپنے چیک تیار کرنے کا کہا گیا۔ وقفے کے دوران میں نے خواتین ’مددگار‘ کی ایک رُکن سے پوچھا کہ یہ رقم کہاں بھیجی جائے گی۔ اُس نے ایک بھاری بھرکم نام والی اسلامی تنظیم کا نام بتایا۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ چندہ کس کام کےلئے خرچ ہو گا۔ ”اپنے مسلمان لوگوں کی خوراک کےلئے“ اُس نے جواب دیا۔ مجھے ٹی وی پر نشر ہونے والی کئی صحافتی تفصیلات یاد آئیں جس میں کچھ مسیحی خیراتی اداروں میں غبن کے واقعات ہوئے تھے۔ میں نے (انہی خبروں کو یاد کرتے ہوئے) پھر پوچھاکہ ہمیں اِس بات کا کیسے یقین ہو گا کہ جو رقم ہم جس کام کےلئے دے رہے ہیں وہ اُسی پر خرچ ہو گی۔”یہ رقم مسلمانوں کےلئے جا رہی ہے“ وہ کھٹاک سے بولی۔ ” تمہارے لئے یہی جاننا کافی ہونا چاہئے۔“
کیا آپ اس طرح چندہ دیں گے؟ میں تو نہیں دے سکتی۔میرا جھگڑا چندہ دینے کا نہیں تھا بلکہ معلومات فراہم نہ کرنے سے تھا۔ میں صرف اس بات پر کیوں اکتفا کر لوںکہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں صرف اُن کو ہی میرا چندہ پہنچے گا؟ یہ فقط مسلمان ہونے کے وصف سے ہے؟ یا پھر ہر مسلمان ہی نیک ہے؟مذہب کے بارے بات کرنے یا میرے سوالات اٹھالینے سے کونسا جرم سرزد ہو گیا؟ یا پھر ایسے سوالات کرنا بذاتِ خود ایک جرم ہے؟ میری پریشان حال ماں قطعی اِس بات سے پریشان نہیں ہوئی جب میں نے اُس کو بتایا کہ میں اپنے گھر گا چندہ نہیں دونگی۔ کیونکہ ویسے بھی کون اِس بات کی پرواہ کرتا ہے کہ ایک بھوکے آدمی کا مذہب کیا ہے اور علاوہ ازیں میرے لئے وہ سارا منصوبہ (چندے والا) ہی مشکوک تھا جو ہمارے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اِس کی بجائے، میں نے سوچا کہ میری خیرات کسی ایسے غیر مذہبی خیراتی ادارے کو جانا چاہئے جس کی کارگزاری کو میں خود جان سکوں۔
جوں جوں مجھے مسجد مدرسے کی طرح ہی نظر آنے لگی، میں نے وہاں جانا کم کر دیا۔ میں نے اپنے لئے مذہب کی مرکزیت کو بھی کم کرنا شروع کر دیااور خدا کے ساتھ اپنا ذاتی تعلق جوڑنے کا آغاز کر دیاچہ جائیکہ اُس کو کسی مذہبی وسیلے سے ڈھونڈا جائے۔ اِس رجحان کے ساتھ میں نے گوشہ نشینی میں نماز پڑھنا شروع کر دی(”اکیلے سر جھکا کر“جیسا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر سماجیات رابرٹ پُٹمین کا کہنا ہے)۔ کئی سالوں تک میں ہر روز صبح جلدی اٹھتی اور کانپتی ہوئی ایک سرد غسل خانے میں گھس جاتی۔ میری تارکِ وطن ماں کا یہ عقیدہ تھا کہ بل زیادہ نہ آئیں اور بجلی وگیس زیادہ استعمال ہو ( جو کہ ممکن نہ تھا)۔ اپنے پاﺅں، ہاتھ، بازو اور چہرے کو ڈھونڈنے کے بعد میں راہداری میں ریشمی جاءنماز کو کھولتی، اُس کو قبلہ رخ کرتی اور عرب دھرتی کی طرف سجدہ کرتی جسے میرے آباﺅ اجداد چھو سکیں، میں دس منٹ تک نماز میں مگن رہتی۔ یہ نظم و ضبط قائم کرنے کی مشق ہے اور خاص طور پر جب آپ دن میں مزید دو بار اپنے آپ کو صاف کرتے ہیں اور نمازوں کے چار مزید ’سیٹ ‘ ادا کرتے ہیں۔
اِسی لئے جسم کے اُن حصوں کو دھونا، جن کے بارے حکم دیا گیا ہے، اور اِس کے ساتھ ساتھ مخصوص آیات پڑھنے کے پورے عمل کے بعد فرشتوں پر غیر مشروط ایمان لانا، وہ بھی دن کے مقررہ اوقات پر، ذہن کو اطاعت و اطاعت گزاری کی تنزلی کاعادی بناتا ہے۔ اگر آپ نے یہی طریقہ کار اپنے والدین اور والدین کے والدین میں نہیں دیکھا تو پھر تومیرے دوست آپ بہت غیر معمولی قسم کے مسلمان ہیں ۔ مجھے اِس بات کا بھی احساس ہونے لگا کہ تقویٰ کی جن تعلیمات سے میرا آغاز ہوا تھا وہ تو مجھے اَب کوئی رٹی رٹائی شے لگنے لگی ہے، اور یہ احساس مجھے مجبور کرنے لگا کہ میںاپنی معمول کی روایتی نماز کو کسی اور قسم کی خود آشنا عبادت سے بدل لوں جو مجھے دن بھر اپنے خالق سے گفتگو کرنے کا صاف گو، بے تکلف اور غیر رسمی انداز دے۔ یہ ایک پھڑ پھڑاتا ہوا احساس تھا لیکن میں کہہ سکتی تھی کہ یہ میرے اپنے الفاظ تھے۔
اُس مرحلے پر میرے لئے جست لگاتے ہوئے یہ اعلان کرنا مشکل نہ تھا کہ اسلام تھوک کا مال ہے اور اپنی مسلمان شناخت سے باہر نکل جاتی۔ آپ کو معلوم ہے کس چیز نے مجھے روکے رکھا؟ انصاف کی منزل کی طرف سرگرداں سفر نے۔۔ میرا ہمیشہ سے یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ اسلام کو سمجھنے کا مناسب موقع دیا جائے، میرے مغربی طرزِ فکر کے مطابق کسی بھی چیز کو پرکھنا ہوتا ہے۔میں نے اسلام کو ظاہراً نظر آنے سے زیادہ اِس کے اندر کی شخصیت کو دریافت کرنا چاہا۔ اِس کی ایک وضاحت کرونگی جب میں تیرہ برس کی تھی تو میری ایک بدمزاج کزن کے حوالے سے میری ماں نے مجھے تلقین کی کہ میرا رویہ اُس کے ساتھ اچھا ہونا چاہئے۔ ”وہ اپنا خاندان ہے“ ماں نے کہا، ”وہ ہمارا خون ہے“۔میں نے دوسری طرف منہ کر کے کہا کہ خون میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اِس موقع پر متعلقہ سوال یہ بنتا تھا کہ کیا میں اِس طرح کی بدمزاج لڑکی کو اسکول میں اپنی سہیلی بنا سکتی تھی جو میری رشتہ دار نہ ہوتی۔ خیر اِس بات کو جانے دیجئے۔ اپنی کزن کو پسند کرنے کے حوالے سے اپنی توانائی خرچ کرنا ایک لغو بات ہو گی اور مجھے اپنے دستیاب وقت میں کرنے کو بہتر چیزیں پڑی ہیں۔ اگرچہ ماں اس بات کو سمجھتی تھی لیکن میرے ساتھ متفق نہ ہوتی تھی۔ اُس کے لئے اپنے خاندان کا ہاتھ اوپر تھا، میرے لئے سلسلہ نسب اُس طرح اہم نہ تھا جس طرح شخصیت تھی۔
میں مذہب کو بھی اِسی معیار پر پرکھتی تھی۔ یہ فیصلہ کرنے کےلئے کہ مجھے اسلام پر عمل کرنا ہے، مجھے یا تو اِس کی خصوصیات دریافت کرنا ہونگی اور یا خصوصیات کی کمی کو جاننا ہو گا۔ اور مجھے یہ ساری دریافت خود سے ہی کرنا ہو گی، مسجد کو بیچ سے نکال کر اور اُس کے راست باز پرگراموں کو بھی بیچ سے نکال کر، اسلام کو اندر سے خود ہی کھوجنا ہو گا۔ ممکن ہے کہ قرآن یہودیوں کی توہین کرتا ہو اور عورتوں کو مطیع بناتا ہو۔ یا پھر ممکن ہے کہ مسٹر خاکی ایک نالائق اُستاد ہو۔ ممکن ہے کہ خدا (قرآن میں ) حکم دیتا ہو کہ ہر شخص کو عربی بولنی چاہئے۔ یا پھر ممکن ہے کہ یہ انسان کا اپنا بنایا ہوا قانون ہو تاکہ تمام مسلمانوں کو اپنا مطیع بنایا جائے۔ ممکن ہے کہ مذہبی باتوں سے انحراف کے نتیجہ میں خدائے پروردگار کی توہین ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خدا کی تخلیقی قوتوں کا اعتراف کر رہے ہوں جب ہم انہیں خود سے استعمال کرتے ہیں۔ میں کوئی بات جانتی نہیں تھی ۔ لیکن متبادل کا کھوج نکالے بغیرباہر نکل جانا ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ بھاگ کھڑے ہوں۔
اچھی بات یہ تھی کہ میں جانتی تھی کہ میں دنیا کے ایسے حصے میں رہ رہی ہوں جو مجھے کھوج لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ اُس آزادی کا شکریہ جو مغرب نے مجھے عطا کی تھی، سوچنے کی، تحقیق کرنے کی، بولنے کی، تبادلہ خیال کرنے کی، بحث و مباحث کی، چیلنج کرنے کی، چیلنج ہونے کی اور پھر سے غوروفکر کرنے کی۔۔ میں اپنے مذہب کو اُس روشنی تلے پرکھنے کےلئے تُلی ہوئی تھی جو روشنی مجھے مدرسے کے تنگ نظر عالمِ خرد مسلمان ماحول سے نہ مل سکی تھی۔ مجھے اسلام اور مغرب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا بھی مقصود نہیں تھا ، بلکہ اِس کے برعکس مغرب نے میرے لئے سردست اسلام کا انتخاب کرنا ممکن بنایا ہوا تھا۔ اَب یہ اسلام پر تھا کہ وہ مجھے اپنے اندر سموئے رکھتا۔
میں نے کبھی بھی مذہب کو سر پر سوار نہیں کیالیکن ایک سوال بار بار ابھرتا اور میں اُس کے جواب کی تلاش میں صرف ایک مقام پر یہ سوچ کر گئی کہ شاید مجھے وہاں سے اِ س کا جواب مل جائے۔ تصور کیجئے، ١٩٨٠ اورشروع ۰۹۹۱ کے انٹر نیٹ کے زمانہ کی پبلک لائبریری کا۔ میں نے اسلام کے بارے جو زیادہ پڑھا ہے وہ اسی لائبریری کی درسی کتابوں سے کشید کیا ہوا ہے۔ بہت سارے حوالہ جات اور چھوٹے چھوٹے خدشات۔۔ پھر چودہ فروری ١٩٨٩ کو ایران کے آیت اللہ خمینی نے ”شیطانی آیات“ کے مصنف سلمان رُشدی کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ بعد میں اِس فتویٰ کو رُشدی نے (چودہ فروری کی مناسبت سے) غیر مضحکہ ویلنٹائن کہہ کر مغربی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اِس مذہبی حکومت کے خلاف ڈھکے چھپے کہنے کی بجائے ٹھوس اقدام کرے۔ مغرب میں بہت سارے لوگوں نے اِس (رشدی کے خلاف فتویٰ) موت کے وارنٹ کے خلاف آواز اٹھائی اور میں اِس آواز کی اہمیت کو تسلیم کرنے میں متامل رہی۔ پبلک لائبریری میں اِس فتویٰ کے خلاف میں جو تجزیے دیکھتی رہی اُن تجزیوں میں مسلمانوں کے غصے کے حوالے اطمینان کا پہلو پایا جاتا تھا۔ یہ تجزیے یہ پوچھنے سے قاصر رہے کہ اگر قرآن ایسی ہی اَن چھوئی کتاب ہے، جیسا کہ الہامی کتاب ہوتی ہے اور ہمیں اِس کو تراشیدہ بت کی طرح ماننا ہے ۔ مذہبی احترام کے چکر میں مغربی دنیا نے غوروفکر کی راہیں منتشر کر دیں، مغربی دنیا جس سے میں پیار کرتی تھی۔ کیا اِس دنیا کا کثیر الثقافتی معاشرہ اپنا ذہن کھو بیٹھا تھا؟
اِس بحرانی موقع پر، میرا خیال ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ میں یہ اِس لئے کہہ رہی ہوں میرے لائبریری کے دوروں کا وہ زمانہ ایڈورڈ سعید کا زمانہ بھی ہے۔ وہ امریکی عرب دانشور ہے جس نے ١٩٧٩ءمیں ”اورینٹلزم“ (مشرقی تہذیب کا مطالعہ)کی اصطلاح مسلمانوں کو مغرب کی طرف سے نوآبادتی نظام میں جکڑنے کے فرض شدہ رویے کے پیشِ نظر برتی اورجس کے مطابق مغرب کی جانب سے مسلمانوں کو مشرق کی انوکھی مخلوق بتایا گیا ہے۔ ایک جبری نظریہ ( ایڈورڈ سعید کا) جو یہ رتی بھر نہیں بتاتا کہ اِسی سامراج مغرب نے ایڈورڈ سعید کی کتابوں کو چھاپا، دنیا بھر میں پہنچایا اوراِن کتابوں کو فروغ دیا۔
ایک عشرے کے اندر اندر ایڈورڈ سعید نے ایک طیش کی صورت میںشمالی امریکہ اور یورپ کے نوآورد طلبہ کوسرگرم کارکنوں میں ڈھال دیا۔ ایڈورڈ سعید کےلئے اُن کی پوجا نے اسلام کے بارے میں دیگر مباحث کے راستے کو روک دیا۔ اُسی زمانے میں سلمان رُشدی کی کتاب ’شیطانی آیات‘ شائع ہوئی، ایڈورڈ سعید کے شاگرد مشرقی تہذیب کے دلدادہ کی حیثیت(آپ انہیں نسل پرست بھی کہہ سکتے ہیں) سے رشدی کی مذمت کےلئے اِس لئے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ اُن کےلئے کوئی بھی ایسی شے ناگوار تھی جو مسلمانوں کے جتھے کو ناگوار تھی۔ میرے تجربے کے مطابق پبلک لائبریری بھی اِس ناگواریت سے نہ بچ سکی۔
١٩٩٠ءکی دہائی کے وسط کے بعد میں نے مغرب اور اسلام پر ایمان دوبارہ لانا شروع کر دیا۔ خدا کا شکر ادا کیجئے کہ انٹر نیٹ عام ہو گیاتھا۔انٹر نیٹ پر ویب سائٹیں بنانے کے عمل کے ساتھ خود ساختہ سنسر کا رویہ بے معنی ہوتا چلا گیا۔ ۔ کوئی بھی ایسی بات کہہ سکتا ہے جو آپ کہنا نہیں چاہتے۔۔ انٹر نیٹ ایسا مقام بن گیاجہاں دانشورانہ خطرات مول لینے والے بالآخر بخارات کی طرح پھیل گئے۔ انہوں نے اُن تمام خیالات کی ازسرنو تجدید کرنا شروع کر دی جن خیالات نے مغرب کو تہذیب کا ایک سرگرم گہوارہ بنایا تھا، مغرب کی کھوج سے محبت، بشمول اپنے ہی تعصبات کی کھوج ۔ اور جیسا کہ ناقدین اسلام کی بھی گہری جانچ کرتے ہیں، میں نے اپنے مذہب پر ہونے والے چند منہ توڑ اعتراضات کے حوالے سے کام شروع کر دیا۔
ہم میں سے کتنے یہ بات کس حد تک جانتے ہیں کہ اسلام ”یہودیوں کا عطا کردہ“ تحفہ ہے۔ خدا کی تخلیق کی اہمیت، خدا کا فطری اور اکثر اوقات پُراسرار انصاف، خدا کی مخلوق ہونے کے ناطے اچھے اور بُرے کی تمیز کرنے والی ہماری قدرتی صلاحیتیں، ہماری زمینی زندگیوں کا مقصد، حیات بعد الموت کی لامحدودیت، یہ اور اِس طرح کی بڑی بڑی مذہبی باتیں یہودیت سے اسلام تک پہنچیں۔ اِس کھوج نے میرے دماغ کو اُڑا کر رکھ دیا کیونکہ اِس کے نتیجہ سے یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا یہود مخالف ہونا ناواجب ہے۔ اگر کوئی حقیقت ہے تو ہمیں یہودیوں کا ممنون ہونا چاہئے نہ کہ اُن سے متنفر۔
جب تک میں نے خود علم حاصل نہ کر لیا تب تک مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ مسلمان اُسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی عبادت یہودی اور مسیحی بھی کرتے ہیں۔ قرآن بھی اِس حقیقت کی تائید کرتا ہے۔ اگرچہ سچ یہی ہے، مجھے برطانوی مذہبی دانشور کیرن آرم سٹرونگ کی تازہ کتاب تب پڑھنے کا موقع ملا جب میرا ذہن مدرسے کا بھی تربیت یافتہ تھا (اُب آپ کو کیا بتاﺅں کہ ”ڈی پروگرامننگ“ بھی کتنے مراحل سے گزر کر ہوتی ہے)۔ آرم سٹرانگ اِس بات پر زور دیتی ہیںکہ پیغمبر محمد نے پوری دنیا کےلئے کسی نئے خدا کو متعارف کرانے کا دعویٰ نہ کیا تھا۔ اُن کا ذاتی مقصد عربوں کو ”ہدایت شدہ“ ابراہیم کے خاندان کی طرف لانا تھا، پہلے پیغمبر جن کو یہ الہامی ادراک ملا تھا کہ صرف ایک مطلق العنان خدا ہے۔ مدرسے میں اپنی تعلیم کے دوران میں نے تاریخ کے اسباق کے دوران کبھی ابراہیم کا نام نہ سنا تھا۔ نمایاں طور پر یہ بتانے سے بھی نظر انداز کیا جاتا رہا کہ ابراہیم کی نسل نے ہی یہود قوم بنائی تھی۔ خدا کی وحدانیت کے تمثیل کاروں کے طور پر یہودیوں نے ہی مسیحیوں کےلئے بنیادات فراہم کی تھیں اور بعد میں انہی بنیادات کی بنیاد پر مسلمان نمودار ہوئے۔ لہذا آپ دیکھئے ، مسلمانوں نے ایک خدا کو ایجاد نہیں کیا، انہوں نے اُس کو اللہ کا نیا نام دیا۔ اللہ ”دی گوڈ“ کا عربی نام ہے، یہودیوں اور مسیحیوں کا گوڈ۔۔
مدرسہ کی تعلیمات میں اِس حقیقت کو کب تسلیم کیا جاتا تھا؟ بلکہ یوں تھا کہ جیسے اسلام سے قبل دنیا میں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اگر اسلام سے پہلے تمام تجربات کو صفر شمار کر لیا جائے تب مسلمانوں کے اپنے اصول و ضوابط اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ اگرچہ ہم میں سے اکثر یہ مانتے ہیں اسلام تاریخوں کے باہم ملاپ کی پیداوار ہے ، مکمل خالص ضابطہ حیات کی بجائے، اگر ہم واقعی ہی سمجھتے ہیں کہ روحانی طور پر ہم دوغلے ہیں، کیا ہم میں سے اکثر ’دوسروں‘ کو بھی تسلیم کرنا چاہیں گے؟ میں اِس بات پر بھی حیران ہونا شروع ہوئی تھی کہ ہم باہر کے اثرات کو تسلیم کرنے میں کیوں متامل ہیں سوائے یہ کہ مغرب کو نو آبادیت کے زخموں پرموردِ الزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔ جو اپنی جگہ پر ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے، کیا اسلام دنیا کے باقی مذاہب کی نسبت زیادہ تنگ نظر نہیں؟
یہاں پر تھوڑ پھوڑ کر دینے والے موضوعات کا ایک جہان ہے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں جب بھی لوگ بحث کے دوران اِس بات پر متفق ہوئے کہ اسلام میں برداشت نہ کرنے کا جھکاﺅ ہے تو مجھے خبردار کیا گیا کہ مذہب کو ثقافت کے ساتھ نہ اُلجھاﺅ۔ ”عورتوں کی سنگساری کا تعلق قبائلی رسومات سے ہے اور اِس کا لینا دینا اسلام کے ساتھ نہیں“، ایک مسلمان عورت نے مجھے ایک عشائیے میں یہ بات سمجھائی۔ میں مذہب سے برگشتہ بنی کھڑی رہی۔ اگر اسلام میں اتنی ہی لچک ہے تب اُسے اچھی رسموں کو اپنانا چاہئے، نہ کہ بُری رسومات کو، کیا یہ درست نہیں؟ لہذا میری مسجد کا طریقہ کار میرے شہر رچمنڈ کی جمہوری روایات جیسا کیوں نہیں؟ ایک ایسی جمہوریت جس نے مسلمانوں کو مسجد بنانے کی اجازت دی۔
میرے اندر صرف ایک ماڈرن مسلمان ہی نہیں تھا جو مجھے اِن مسائل سے زور آزما رکھتا بلکہ ٹیلی ویژن کی صحافی ، میزبان اور مبصر کی حیثیت نے بھی مجھے عوام کے اسلام کے بارے عمومی سوالات نے’ فرنٹ لائن‘ پر لا کھڑا کیا تھا۔اپنے گھروں کے کمروں میں رکھے ٹیلی ویژن پر میرا چہرہ دیکھنے والے عوام الناس کو دکانوں، ریسٹورانوں اور ’سب وے‘ کی گاڑیوں میں مجھ تک اپنی آواز پہنچانے کی کوئی جھجھک نہ ہوتی کہ” اگر تم داڑھیوں کے خاتمے اور چادروں کی مخالفت کی بات کرنے والی مسلمان ہو تو خدا تمہارا حامی و ناصر ہو، لیکن جہاں تک تم اسلام کے ساتھ منسلک رہو گی تو اسلام کے جھنڈے تلے پائی جانے والی کٹر مذہبیت کا کیا جواز پیش کرو گی؟“خاص طور پر یہ لوگ پوچھتے ، ”کیا ایک ہی وقت میں تم مسلمان اور حقوقِ نسواں کی حامی کیسے ہو سکتی ہو؟“
”نیز ایک کٹر مسلمان کوکیا شے خود کش بمبار بناتی ہے؟“
”کیا زیادہ مسلمان کھل کر بات کیوں نہیں کرتے؟“ ”تمہیں کھل کر بات کرتے ہو ئے ڈر نہیں لگتا؟“
”اور یہ کیسے ہے کہ میں نے آج تک کسی پادری ، ربی یا مولوی کے بارے کوئی لطیفہ نہیں سنا؟“
جب سے مجھ پر یہ آخری ذہنی حملہ ہوا، میں نے بہت سنجیدگی سے اِس بات کی کھوج لگائی اور میرا خیال ہے کہ میں کچھ معاملے کی تہہ تک پہنچی ہوں۔ یہاں پر مجھے ایک فوری انحراف کرنے دیجئے۔
اسلام کی ”ضرورت سے زیادہ ہنسنے “ کے خلاف معروف تعلیمات ہیں۔ مذاق نہیں، ایک کتابچہ بعنوان ”مسائل اور اُن کا حل“کے مصنف شیخ محمد صالح المناجید اِن تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہیں، ”اگرچہ مسلمان سے تند مزاج ہونے کی توقع نہیں ہے لیکن ہنسی کی فراوت اِس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ہم مسلمان ظرافت اور ٹھٹھے سے گمراہ ہو جاتے ہیں جس سے ہمارے کردار اور طہارت میں کمی واقع ہو جاتی ہے ۔“
مجھے اپنے ایک عزیز ’انکل‘ یاد ہیں جنہوں نے نئے سال کی رات کو مجھے متنبہ کیا کہ اتنا نہ ہنسو کہ تباہی یقینی طور پر آ پکڑے۔ اِن باتوں کی بناءپر ’انکل‘ اور شیخ (مصنف) دونوں میرے دل سے اُتر گئے۔ اگر ہنسی کا کالا جادو اتنا ہی مجرمانہ ہے تو خواب آور اور موسیقی زدہ عربی زبان ، جب اونچے سروں میں پڑھی جائے تو اُتنی ہی دھمکا دینے والی ہونی چاہئے۔
اِس بات کے قطع نظر کہ میں نے اسلام کے اِس احمقانہ طرزِ عمل کا سرسری سا جائزہ لیاتھاکیونکہ کسی نے پادری، ربی اور مولوی کے لطائف کے بارے کانٹے دار بات کہی تھی لیکن میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ مجھے لوگوں کا جستجو کرنا پسند ہے۔ سالہا سال سے اِسی جستجو نے میری ذات کی پرورش کی ہے۔ مجھے جوں جوں( اپنے کام کے حوالے سے) نمایاں ہونے کے مواقع مل رہے ہیں، لوگ اِس سماجی مسئلے یا بین الاقوامی رجحان کے بارے جاننے کے لئے اُتنے ہی متمنی نظر آ رہے ہیں،اور مجھے اِن لوگوں کو اُتنا ہی زیادہ بتانا پڑ رہا ہے کہ کیوں میں اُس مذہب کے ساتھ منسلک رہنے کی مصیبت جھیلی جا رہی ہوں جو مذہب بین الاقوامی افراتفری اور انسانی آزاری کا موجب بنا ہوا ہے۔ لوگ بجا ہی پوچھتے ہیں، خاص طور پر دو سوال جنہوں نے میری دنیا کو بھی ہلا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ دونوں سوالات بہتری کےلئے ہیں لیکن درد سے خالی نہیں۔
پہلا سوال یہ ہے، ”تم ہم جنسیت پرستی کو اسلام کے ساتھ کس طرح موافق کہو گی؟“
میں واضح طور پر ہم جنس پرست عورت ہوں۔ میں نے ”باہر“ ہونے کا انتخاب اس لئے کیا کہ میری پرورش ایک ایسے تکلیف دہ گھریلو حالات میں ایک ایسے باپ کے زیرِ سایہ ہوئی جو خوشیوں کو قابلِ نفرت جانتا تھا، میں اَب اپنی متفقہ محبت کو تباہ نہیں کرناچاہتی جس نے مجھے جوانی میں فرحت عطا کی۔ میں اپنی پہلی ”گرل فرینڈ“ سے تب ملی جب بیس اور کچھ برس کی تھی اور چند ہفتوں بعد میں نے اپنی ماں کو اپنے تعلق کے بارے بتایا۔ اُس نے جواب میںویسا ہی عظیم تاثر چھوڑا جیسی کہ کوئی عظیم ماں ہوتی ہے۔ لہذا یہ سوال کہ آیا کہ میں مسلمان اور ہم جنس پرست ایک ہی وقت میں ہو سکتی ہوں ، نے بمشکل مجھے کوئی تصفیہ طلب جواب دیا۔ وہ مذہب تھا۔ یہ میری خوشی تھی۔ میں جانتی تھی کہ مجھے کونسی شے زیادہ چاہئے تھی۔ میں نے اسلام کا بیچ بیچ میں مطالعہ جاری رکھا، عورت کے ساتھ رہنے کا باریک بین ہنر بھی سیکھتی رہی (جس کے بارے ایک الگ کتاب بنتی ہے)، ٹیلی ویژن پر پروگرام پیش کرتی رہی، اور عمومی طور پر شمالی امریکہ کے بیس اور کچھ برس کے فرد کی ہمہ جہت زندگی بسر کرتی رہی۔
جب میرے ٹیلی ویژن کے پروگرام نے مجھے مزید عوامی اور مقبول بنا دیاتو میری اسلام اور ہم جنسیت کو موافق کرنے کی امیدوں کو پہلے سے بھی سرگرم بنا دیا۔ ناظرین مجھ سے اِن دو شناختوں کے بعید ازامکان جوڑ کے بارے وضاحت چاہتے تھے۔ میں اپنی ذہنی و جذباتی کیفیت کے سنجیدہ دور میں گم تھی، حتکہ اپنے پیار کی خاطربالآخر اسلام چھوڑ دینے کے امکان پر بھی دل کو مائل کر رہی تھی۔ ارے، پیار پر کسی چیز کو قربان کر دینے سے عمدہ کیا بات ہو سکتی ہے؟ لیکن ہر دفعہ میں دین کی صف سے خروج کے دہانے پر پہنچی لیکن خود کو روک لیتی تھی۔ کسی خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ساتھ غیر جانبداری کے خیال سے ۔۔ ایک سوال میں فقط خیال آوری کےلئے ادب کے ساتھ پیش کرتی ہوں، اگر ہر شے جاننے والا، تمام طاقت رکھنے والا خدا مجھے ہم جنس نہ بناناچاہتا تب اُس نے میری جگہ پر کوئی اور کیوں نہ پیدا کیا؟
۸۹۹۱ءکے بعد خود کو بیان کرنے کے ناموافق دعوے تقریباً روز ہی وقوع پذیر ہونے لگے۔ اُس برس میں نے ”کیویر ٹیلی ویژن“ کی نظامت کا آغاز کیا تھا، یہ ہم جنس مرد اور عورتوں کی طرزِ حیات کے حوالے سے ایک بے مثال ٹی وی اور انٹر نیٹ کا سلسلہ تھا۔ یہ شو لوگوں کے بارے تھا، عریانیت کے بارے نہیں تھااور اِس کے باوجود مسلمانوں نے مسیحی بنیاد پرستوں کے ساتھ مل کراسکرین پر میری موجودگی کے خلاف رِٹ دائر کی۔ یہ سچ ہے میں اِس سے کم توقع بھی نہیں کرتی تھی۔ لیکن کیا میں اتنی ہی بھولی تھی کہ میں کچھ مکالمہ کی امید رکھتی تھی، خالص مذمت کی بجائے؟
یقین کیجئے، میں نے مکالمہ قسم کی شے کرنے کی کوشش کی۔ متنوع مزاج ہونے کی وجہ سے ، بشمول نقطہ ہائے نظر کے حوالے سے متنوع مزاج ہونے کے باعث میں نے کبھی اپنے مخالفین کو بے کار نہیں گردانا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں انہیں باقاعدگی سے اپنے پروگرام میں پیش کرتی ہوں۔ مثال کے طور پر، ”میں آپ کو یہ بتانے کےلئے لکھ رہی ہوں کہ واحد اور اصل خدا، بائبل کے خدا، نے دکھ کے ساتھ واضح کیا ہے کہ تمام اغلام باز (مراد ہم جنس پرست اور اُن جیسے منحرفین سے ہے) اپنے بگاڑ، جنسی بے راہ روی اور شیطانی ہوس پرستی کے سبب اپنی انسانیت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اِسی لئے وہ کریہہ مخلوق بن چکے ہیں اور انسان نہیں رہے اور اِن کو کتابِ مقدس اور عظیم پادری کے حکم کے مطابق سزائے موت دے دینا چاہئے۔
مسلمانوں کی اکثریت جنہوں نے ”کیویر ٹیلی ویژن“ کو فون کئے یا ای میل بھیجیں، نے مسیحیوں کے اِن خیالات سے اتفاق کیا( سوائے اُس حصہ کے جس میں واحد اور اصل خدا کی بات کی گئی تھی، جو صرف بائبل کا خدا تھا)۔ ابھی تک کسی فرد واحد مسلمان نے بھی میرے اُس جوابی دعوے کا جواب نہیں دیا۔ ۔ بحث میں بار بار کیا جانے والا میرا نوکیلا حملہ، پھر قرآن کیوں ایک مقام پر تو ہم جنسیت کو رد کرتا ہے اور دوسرے مقام پر دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ بھی بنایا ہے شاندار بنایا ہے؟ “مجھ پر تنقید کرنے والے اِس حقیقت کی کیسے وضاحت کریں گے کہ وہ کتاب، جس پر وہ نہائت محتاط طور پرایمان لاتے ہیں، میںخدا نے قصداً دنیا کے تنوع کا اہتمام کیا ہے؟وہ سوال کہ ہم جنسیت اسلام کے خلاف ہے، نے میرے عقیدے کی ٹھیک ٹھاک پڑتال کی۔ غوروفکر کے اِس سارے عمل سے گزرنے کے ساتھ میں نے یہ سیکھا کہ صحت مند تبادلہ خیالات ممکن ہے اگر ہم اس بات کا کم خیال کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیںاور اِس بات کا زیادہ کہ خدا خود کس مقام پر ہے۔
اَب میں دوسرے سوال کی طرف آتی ہوں جس کا بتانے کاوعدہ میں نے آپ سے کیا تھا۔ مجھ سے یہ بات گیارہ ستمبر کے سانحہ سے کئی ماہ پہلے پوچھی گئی اور اِس سوال نے میرے عقیدے کو ہلا کر رکھ دیا۔
دسمبر ٢٠٠٠ءمیں ایک دفتری لفافہ ”کیویر ٹیلی ویژن“ کے دفتر میری میز پر پہنچا ۔ یہ لفافہ میرے باس موسس زنیمر کی جانب سے تھا۔ کرسمس کی چھٹیوں سے پہلے میں اپنے پروگرام کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ اقساط مکمل کرنے پر جُتی ہوئی تھی ، اور اَب ایک دم سے خود کو خالی الذہن پا رہی تھی اور اپنے کام سے (تھوڑی دیر کےلئے) بھاگ جانے کے بارے محسوس کر رہی تھی۔ سو اِسی کیفیت میں میں نے یہ لفافہ کھولا اور ایک اخباری تراشہ باہر نکالا۔ اِس اخباری تراشے میں ایجنسی فرانس پریس کی ایک خبر تھی۔
لڑکی کو ایک سو اسی کوڑے مارنے کا حکم
ّّ۔۔ صیف ( نائجیریا) ایک سترہ سالہ حاملہ ، جسے ایک
اسلامی عدالت نے شادی سے قبل مجامعت کرنے پر
ایک سو اسی کوڑے مارنے کی سزا سنائی ہے ۔
” لڑکی چند دنوں میں بچہ جننے والی ہے“، یہ بات
لڑکی کے گھر والوں نے گزشتہ روز بتائی۔
باریہ ابراہیم ماگازو نے عدالت کو ستمبر میں بتایا کہ
اُس کو تین آدمیوں کے ساتھ مجامعت کرنے پر مجبور
کیا گیا جو اُس کے باپ کے دوست ہیں۔ لڑکی نے
سات گواہ پیش کئے۔ لڑکی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ
وہ آئندہ چند روز میں بچہ جننے والی ہے ۔ اور اُس کے کم ازکم
چالیس روز بعد اُسے یہ سزا دی جائے گی۔
موسس نے مرتعش سرخ روشنائی کے ساتھ لفظ ”اسلامی“ کے گرد دہرا دائرہ کھینچا ہوا تھا،تعداد ۰۸۱ کے نیچے لکیر کھینچی تھی اور اپنے قلم کے ساتھ حاشیوں پر تلمودی انداز میں یہ فقرہ لکھا تھا۔
ارشاد
اِن دنوں مجھے یہ بتاﺅ کہ
تم اِس پاگل پن، عورت کے اعضائے رئیسہ کو کاٹنے کو
اپنے مذہب اسلام کے ساتھ
کس طرح مطابقت کرو گی
موسس
اوہو۔ کیا یہ واقعہ میری تسلی کرانے کے واسطے ”کیویر ٹیلی ویژن“ کے ناظرین کےلئے کافی نہ تھا کہ مجھ سے پوچھ سکیں کہ مجھے اپنے جنسی رجحان اور مذہبی رجحان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے؟
کیا میرے باس کا اخلاقی طور پر میرے اوپر بوجھ لادنا ٹھیک تھا؟ خاص طور پر جب میں ذہنی طور پر اپنے کام کے آخری مراحل میں تھی؟
میں نے لفافے کو ایک طرف کیااور اِس آدمی سے نپٹنے کا سوچا۔ لیکن اگلے چند گھنٹوں میں موسس کے چیلنج نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ آپ بتائیے کہ یہ بات آپ کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑتی؟ زنا کی شکار اس جواں سالہ لڑکی کی کہانی ہر مناسب شخص کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ اِس کیس کی تفصیلات کچھ بھی ہوں، اِس خبر سے عقلیت پسندی کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ عورت، جس کی عزت کو پہلے ہی لوٹ لیا گیا، اَب وہ سات گواہوں کی بیان کردہ تفصیلات کے عذاب سے بھی گزرے۔ سات (دیکھنے والے)، اور وہ ابھی بھی ایک سو اسی کوڑوں کی مستحق ہے۔ یہ لعنتی بات کیسے ممکن ہے کہ میں ایک بنیادی بے انصافی کی اپنے مذہب اسلام کے ساتھ مطابقت کروں؟
میں تو اِس مسئلے کو نپٹنے کےلئے منہ کے بل سامنے آ رہی تھی، حالتِ دفاع میں نہیں، نہ زبانی کلامی بلکہ مکمل دیانتداری کے ساتھ۔۔
سانحہ گیارہ ستمبر کی بناءپر دنیا نے تو لنگر اٹھا لئے تھے، میں نے اس واقعہ کے ایک برس سے بھی کچھ قبل ایک ’دھتکاری مسلمان‘ کے طور پر اپنی زندگی کے ایک نئے باب میں داخل ہونے کےلئے خود کو تیار کر لیا تھا۔
حوالہ جات:
۱۔” آج اسلام سے متعلقہ بچوں کی کتابوں کی کوئی کمی نہیں ہے بشمول یوسف اسلام (سابق کیٹ سٹیونز) کی کتاب ”اے فور اللہ“ کے۔۔“ نوٹ: ایک سو ایک بائیبل کہانیوں کی طرز پر اَب کمال سید کی تحریر کردہ بہترین قرآن کہانیاں بھی دستیاب ہیں۔ www.fadakbooks.com پر جائیے اور ’بچوں کی کتابیں‘ کے بٹن کو کلک کیجئے۔
۲۔ ”اِن زبانوں نے عیبردین سنٹر کے اندر کسی غلاف کی طرح گھیراﺅ کیا ہوا تھا، یہ سنٹر کچھ سالوں بعد تعمیر ہوا ، ایشیائی نمائندگی کے ضمن میں اِس سنٹر کا شمالی امریکہ کی بڑی عمارتوں میں شمار ہونے لگا۔“ حوالہ: اخبار گلوب اینڈ میل، ستمبر ۰۱، ۲۰۰۲ءکی اشاعت، مصنف البرٹ وارسن، ’ایک نئے مال کے اندر مشرق مغرب گلے ملتے ہیں‘ بی سی میں ایشین سنٹر جس کو وسیع صارفین کی توجہ حاصل کرنے کےلئے ازسرِ نوتعمیر کیا گیا۔
۳۔ ”اِس رجحان کے ساتھ میں نے گوشہ نشینی میں نماز پڑھنا شروع کر دی(”اکیلے سر جھکا کر“جیسا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر سماجیات رابرٹ پُٹمین کا کہنا ہے)۔“ نوٹ: یہ اشارہ کتاب ' Bowling Alone' (نیویارک سے Simon & Schuster کی سال 2000ءکی اشاعت کردہ ہے) کی طرف ہے۔ رابرٹ پُٹمین نے امریکہ میں بھائی چارے کی کم ہوتی صورتحال کے حوالے سے یہ کتاب لکھی ہے۔
۴۔ ”وہ امریکی عرب دانشور ہے جس نے ۹۷۹۱ءمیں ”اورینٹلزم“ (مشرقی تہذیب کا مطالعہ)کی اصطلاح مسلمانوں کو مغرب کی طرف سے نوآبادتی نظام میں جکڑنے کے فرض شدہ رویے کے پیشِ نظر برتی اورجس کے مطابق مغرب کی جانب سے مسلمانوں کو مشرق کی انوکھی مخلوق بتایا گیا ہے۔“ نوٹ: ایڈورڈ سعید کی کتاب ’اورینٹلزم‘ دیکھئے ( نیویارک، Vintage Books, 1979)
۵۔” ہم میں سے کتنے یہ بات کس حد تک جانتے ہیں کہ اسلام ”یہودیوں کا عطا کردہ“ تحفہ ہے؟“نوٹ: یہ شاندار پیرا تھامس کاحل کی کتاب سے ہے، The Gifts of the Jews: How a Tribe of Desert Nomads Changed the Way Everyone Thinks and Feels (New York: Nan Talese/Anchor books, 1998)
۶۔ ”جب تک میں نے خود علم حاصل نہ کر لیا تب تک مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ مسلمان اُسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی عبادت یہودی اور مسیحی بھی کرتے ہیں۔ قرآن بھی اِس حقیقت کی تائید کرتا ہے۔“ حوالہ : قرآن، ۹۲: ۶۴ اور ۲؛۶۳۱ بھی دیکھئے۔
۷۔ ” لہذا آپ دیکھئے ، مسلمانوں نے ایک خدا کو ایجاد نہیں کیا، انہوں نے اُس کو اللہ کا نیا نام دیا۔ اللہ ”دی گوڈ“ کا عربی نام ہے، یہودیوں اور مسیحیوں کا گوڈ۔۔“ حوالہ: کیرن آرمسٹرونگ، خدا کی تاریخ: یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی چار ہزار سالہ جستجو۔ (نیویارک ۔ A.A. Knopf، 1994)، صفحہ ۱۴۱، قرآن بھی دیکھئے، ۹۲: ۱۶۔۳۶
۸ ۔” اسلام کی ”ضرورت سے زیادہ ہنسنے “ کے خلاف معروف تعلیمات ہیں۔ مذاق نہیں، ایک کتابچہ بعنوان ”مسائل اور اُن کا حل“کے مصنف شیخ محمد صالح المناجید اِن تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہیں۔“ نوٹ اور حوالہ، کتاب کا اصل نام ’شکوہ وہولول‘ ہے، اِسے www.islam-qa.comسے ڈاﺅن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اِس ویب سائٹ کے مطابق شیخ محمد صالح المناجید ایک’ معروف اسلامی لیکچرر اور مصنف ‘ہیں، جن کا” مقصدِ حیات اسلام کے بارے کسی کے سوال کا بھی ذہین اور کامل جواب دینا ہے۔۔ اور لوگوں کے عمومی اور ذاتی سماجی مسائل کا حل پیش کرنے میں مدد کرنا ہے۔“
۹۔ ” اگر ہنسی کا کالا جادو اتنا ہی مجرمانہ ہے تو خواب آور اور موسیقی زدہ عربی زبان ، جب اونچے سروں میں پڑھی جائے تو اُتنی ہی دھمکا دینے والی ہونی چاہئے۔“ نوٹ: ذہن میں رکھئے کہ قرآن میں قرا ¾ت سے مراد اونچی آواز میں پڑھنا ہے۔ ۰۱ ۔ ”پھر قرآن کیوں ایک مقام پر تو ہم جنسیت کو رد کرتا ہے اور دوسرے مقام پر دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ بھی بنایا ہے شاندار بنایا ہے؟ “ حوالہ: قرآن ۲۳: ۶۔۷۔ آیت یوں ہے، ”وہی تو ہے جو ہر شے کو جانتا ہے جو مخلوق کی فہم سے باہر ہواور ہر اُس شے کو بھی جو ہر پیدا ہونے والی شے کے حواسوں اور ذہنوں میں ہے، وہی تو ہے تمام جہانوں کا مالک جس نے جو کچھ بنایا، شاندار بنایا۔“ پھر قرآن میں ۶۲:۸۳ میں دیکھئے، ”ہم نے صرف آسمانوں اور زمین کو ہی نہیں پیدا کیا بلکہ اِن دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ، وہ سب کچھ بھی۔“ ۳:۱۹۱ اور ۳:۸۴ کے مقام پر بھی ایسی ہی آیات ہیں، جن میں سے آخری آیت میں کہا گیا ہے، ”خدا جسے بنانا چاہتا ہے بناتا ہے“۔
۱۱ ۔ ”مجھ پر تنقید کرنے والے اِس حقیقت کی کیسے وضاحت کریں گے کہ وہ کتاب، جس پر وہ نہائت محتاط طور پرایمان لاتے ہیں، میںخدا نے قصداً دنیا کے تنوع کا اہتمام کیا ہے؟“ نوٹ: میری ایک سخت گیر ناقد واحدہ والیانتی ہیںجو کینیڈین اسلامک کانگریس کی نائب صدر ہیں۔ جب اُن سے میرے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے میرے اسلامی معیارات کو یکسر رد کر دیا کیونکہ اُن کے بقول ہم جنس پرست مسلمان قسم کی کوئی شے نہیں ہو سکتی۔ اِس کے باوجود ایک ٹیلی ویژن چینل پر انہوں نے اقرار کیاکہ ہم کیا ہیں، ہم جو کچھ بھی ہیں، سب خدا کے مظہر ہیں۔ ”اور خدا کی تخلیق کو مکمل طور پر سمجھنا ایک راز ہے“ ( کرسچئین ٹیلی ویژن اسٹیشن ، نومبر ۳۲، ۲۰۰۲ کا پروگرام ”فیتھ جرنل“) ۔ یہ اعتراف کرنے کے بعد کیسے وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہیں کہ میں راندہ درگاہ ہوں؟ واحدہ، خدا کے سربستہ ”راز“ کا معاملہ کہاں گیا؟
۲۱۔” شادی سے قبل مجامعت کرنے پر ایک سو اسی کوڑے مارنے کی سزا “، حوالہ: اخبار گلوب اینڈ میل، دسمبر ۷، ٢٠٠٠ء
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




