Urdu Edition
ایک خط
میرے ساتھی مسلمانوں!”اے ایمان والو، انصاف کو قائم رکھو، خدا کو حاظر ناظر جان کر گواہی دو، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، یا تمہارے والدین اور اولاد کے خلاف ہی ہو۔۔۔“ (القرآن، ۴:۵۳۱)
مجھے آپ کے ساتھ دیانتدار ہونا ہے۔
اسلام ہمیشہ میرے ساتھ ایک نازک شے کے طور پر رہا ہے، میں ہر وقت اسی تذبذب کا شکار رہی ہوں کہ خود ساختہ اللہ کے مشیروں کی طرف سے اگلا حکم نامہ کیا آتا ہے۔
جب میں اپنے مذہب کے ذہنی رکھوالوں کے جاری شدہ فتوﺅں پرغور کرتی ہوںتو انتہائی ہزیمت کا سامنا ہوتا ہے۔ کیا آپ کو نہیں ہوتا؟ میں نے ایک سعودی دوست سے سنا کہ اُس کے ملک کی مذہبی پولیس نے ایک عورت کو دیلنٹائن کے دن کے موقع پر سرخ لباس پہننے پر گرفتار کر لیا تھا، میں تب سے سوچتی ہوں کہ مہربان خدا نے کب خوشی اور انبساط کو قانون سے بالا کیا تھا؟جب میں زنا کی شکار عورتوں کو پتھروں سے سنگسار کرنے کی خبریں پڑھتی ہوںتو حیران ہوتی ہوں کہ ہماری اکثریت کیسے پتھر کی طرح خاموش ہے؟
جب غیر مسلمان ہم سے (اس طرح کی زیادتیوں کے خلاف) بولنے کی اپیل کرتے ہیں تو میںآپ کا یہ واویلا سنتی ہوں کہ ہمیں دوسرے مسلمانوں کے رویے کی وضاحت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن جب ہم مسلمانوں کو کسی مسئلے پرغلط طور سے سمجھا جاتا ہے تو ہم اُس مخصوص مسئلے کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ہم غیر اقوام کو اپنے بارے میں ہم سے مختلف انداز میں سوچنے کی رعایت ہی نہیں دینا چاہتے۔
علاوہ ازیں جب میںاپنے مسلمانوں کی خامیوںکا برملا اظہار کرتی ہوں توروایتی مسلمان جو ہر موڑپرگھسی پٹی باتوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں، مجھ پر پیش اُفتادگی کا الزام لگاتے ہوئے مجھے غدار قرار دیتے ہیں۔ لیکن غدارکس بات کی؟ اخلاقی قدروں کی غدار؟ مشترکہ انسانی اقدار کی غدار؟شعور کی غدار؟
البتہ میں بیباک ہوںاور آپ کو میری بیباکی کا عادی ہونا ہو گا۔ میں اپنے اس خط میں ایسے سوالات اُٹھا رہی ہوںجنہیں ہم زیادہ عرصہ چھپا نہیں سکتے۔ ہم سب کیوںفلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین ہونے والے معاملات میں یرغمال بنے بیٹھے ہیں؟ اسلام میں یہودیت کے خلاف ہٹ دھرم رویہ کیوں ہے؟ مسلمانوں کا استحصال کرنے والا اصل میں امریکہ ہے یا سعودی عرب؟ ہم مسلمان کیوں عورتوں کی قابلیتوں کو، جو خدا کی نصف تخلیق ہیں، تباہ کرنے کو تُلے بیٹھے ہیں ؟ ہم کیسے اتنے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم جنس پرست معاشرہ بدر یا موت کے سزاوار ہیں؟ جبکہ قرآن کا کہنا ہے کہ خدا نے جو جو چیز بنائی ہے ، شاندار بنائی ہے؟اگرچہ قرآن تو اِس سے بھی زیادہ کہتا ہے لیکن قرآن کو اِس طرح رَٹ کے پڑھنے کا کیا فائدہ، جبکہ اِس انداز کے ساتھ پڑھنے میں قرآن کے اندر تضاد اور ابہام ہے؟
کہیں اَب آپ کو دل کا دورہ تو نہیں پڑنے والا؟ اگر ایسا ہے تو جلدی کیجئے۔ کیونکہ اگر ہم اسلام کے اندر استعمارپسندوں کے خلاف بیباکی کے ساتھ نہیں بولتے تو ہم لوگ اِس کھیل سے باہر چلے جائیں گے۔ اِن انتہا پسندوں کا راستہ تباہی کی بند گلی کی طرف لے جانے والا ہے جس میں مزید تشدد ہے، مزید غربت ہے اور مزید اکلاپا ہے۔ کیا ہم خدا کی بنائی ہوئی اِس دنیا میں اپنے لئے ایسا انصاف تلاش کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہم میں سے اکثر ایسا سرعام کیوں کہتے ہیں؟
میں آپ سے اکثر یہ سنتی ہوں کہ ہم مسلمان متشدد ردِعمل کا شکار ہیں۔ فرانس میں، مسلمان ایک ایسے مصنف کو عدالت میں لے گئے جس نے اسلام کو ”سب سے زیادہ احمقانہ دین“ قرار دیا ہے۔ بظاہر یہ مصنف نفرت پھیلا رہا ہے لہذا ہم نے اپنے حق کا استعمال کر دیا، اگرچہ ہماری اکثریت اپنے اِس حق کا استعمال اپنے اسلامی ممالک میں نہیں کر سکتی۔ لیکن کیا فرانسیسی مصنف یہ لکھنے میں غلط ہے کہ اسلام کو اَب بالغ نظر ہونا چاہئے ؟ اور قرآن کی یہودیت کے بارے نفرت کے اظہار کے بارے آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جو مسلمان یہودیوں کے خلاف نفرت کو قرآن کا حوالہ دے کر درست قرار دیتے ہیں، وہ خود کو مقدمے کےلئے تیار سمجھتے ہیں؟ اور کیا یہ طریقہ کار متشدد ردعمل والا نہیں؟ تو پھر کیا چیز ہمیں خود کو ہی حق پر قائم قرار دئیے رکھتی ہے اور باقی ساری دنیا کو نسل پرست سمجھنے پر مائل رکھتی ہے؟
ہم اپنی واضح خاموشی اور خود ترحمانہ شور کی بدولت اپنے خلاف ہی سازش کئے جا رہے ہیں۔ ہم ایک بحران کا شکار ہیں اور ہم پوری دنیا کو اِس بحران میں اپنے ساتھ کھینچنا چاہتے ہیں۔ اگر کبھی اسلامی انقلاب کی ضرورت تھی تو آج سے بہتر کوئی وقت نہیں تھا۔ ہم خدا کی خوشنودی کے واسطے، اِس انقلاب کےلئے کیا کر رہے ہیں؟
آپ حیران ہونگے کہ آپ سے اِس طرح بات کرنے والی میں کون ہوں؟ میں ایک ’دھتکاری‘ مسلمان ہوں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مسلمان ہونے سے منکر ہوں، اِس کا صرف یہ مطلب ہے کہ میں اللہ کے نام پر تشکیل کئے جانے والی مسلح فوج میں شرکت کرنے سے انکاری ہوں۔ میں دھتکارے ہونے کی اصطلاح اصل میں ’ریفیوزنک‘ سے لے رہی ہوں۔۔ یعنی سوویت یونین کے زمانے کے سوویت یہودی جو مذہبی اور شخصی آزادی کے دلدادہ تھے، اُن کو اِن کے کمیونسٹ آقاﺅں نے اسرائیل ہجرت کرنے سے جبراً روک رکھا تھا۔ اِن دھتکارے ہوئے یہودیوں کی سوویت یونین چھوڑنے کی کوششوں کے نتیجہ میں بہت سے ہلاک ہوئے اور بہت سوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وقت کے ساتھ اِن مستقل مزاج منکروں کی ذہنوں کو غلام بنانے کے نظام کے خلاف کاوشوں نے ایک حتمی نظام کو ختم کرنے میں مدد دی۔
اسی طرح میں نئے ریفیوزنک کو سلام کرتی ہوں، یہ وہ اسرائیلی فوجی ہیں جنہوں نے ویسٹ بینک اور غزہ میں فوجی قبضے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ اُسی بااصول اختلاف کے جذبے کے تحت ہمیں مسلمانوں کے ذہنوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے۔ آج اسلام میں مسئلہ ہی یہ ہے کہ لفظی تعبیر مرکزی دھارے تک پہنچ رہی ہے اور دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔
آپ کو مجھے یہ یقین دہانی کرانا ہو گی کہ جو کچھ میں کہہ رہی ہوں وہ ’صحیح‘ اسلام نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ درست ہوں گے۔ اِسی لئے میں یہ کھلا خط آپ کو لکھ رہی ہوںکیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم مسلمان اُس سے بھی زیادہ ہمدرد اور غوروفکر کرنے والے ہیںجتنا علماءہمارے بارے میں کہتے ہیں۔ مگر ایک دیانتدارانہ بحث کےلئے میں آپ کو اسلام کے حوالے سے صاف ذہن ہو کر آگے آنے کا کہتی ہوں تاکہ آپ با ضمیر اسلام کایوں دفاع کر سکیںکہ کیا یہ اسلام کی اصل شکل ہے یا اسلام ایک آئیڈیل شے ہے؟ آئیے یوں دیکھتے ہیںکہ ہر آئیڈیل شے خوبصورت ہے۔کمیونزم بطور ہمہ گیر مساوات ایک آئیڈیل شے ہے۔ سرمایہ داری بذاتِ خود آئیڈیل ہے۔ امریکی آئین سب کو آزادی اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے، یہ بات آئیڈیل ہے۔ مسلمان جانتے ہیں کہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ ضمیر رکھنے والے لوگوں کی حیثیت سے ہمیں اسلام کے حقائق پر بھی بات کرنا ہو گی۔
میں سمجھتی ہوں کہ پیغمبر محمد نے اصل اور آئیڈیل میں فرق روا رکھا تھا۔ جب اُن سے دین کی تعریف کرنے کو کہا گیا تھا تو انہوں نے بارہا کہا تھا کہ مذہب وہ طریقہ ہے جس سے ہم دوسروں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ایک بھرپور تعریف تھی، سادہ لیکن سہل پسندی کے بغیر۔ اور اَب اُس تعریف کے ساتھ، ہم مسلمان جس طرح دوسروں کے ساتھ پیش آتے ہیں، زبانی جمع خرچ کے ساتھ نہیں بلکہ عملی طور پر، یہی اسلام ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمارا اطمینان ہی اسلام ہے۔ اِس کے یہ بھی معنی ہیں کہ اسلام کی اچھی باتوں کو قائم کرنے کےلئے طاقت ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے، یعنی وہ جو عورتوں کے انسانی حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، ایسا کرنے کےلئے ہمیں اپنے انکار ی رویے کو ختم کرنا ہو گا۔ اِن باتوں پر زور دینے کےلئے اسلام میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم اپنے مذہب کی حقیقت کی سطح سے گرد ہٹا رہے ہیں اور اسلام کی قالین کو بطورآئیڈیل پیش کر رہے ہیں، لہذاٰ اپنے آپ کو اپنے جیسے انسانوں بشمول اپنے ساتھی مسلمانوں کی ذمہ داری سے آزاد ہونا ہو گا۔ اَب دیکھئے کہ میں کیوں جدوجہد کر رہی ہوں؟
یہ کھلا خط لکھتے ہوئے میں یہ کہنا نہیں چاہتی کہ باقی مذاہب مسائل سے پاک ہیں۔ ایسا بہت مشکل ہے۔ فرق یہ ہے کہ عیسائیت کے مسائل کے بارے کتب کو آزادی میسر ہے۔ یہودیت کے مسائل کے بارے کتب کی بھی کمی نہیں۔ ہم مسلمانوں کو اختلاف رائے کے شعبہ میں آگے بڑھنے کےلئے ابھی بہت کام کرناہے۔
کس کی اجازت کے ہم منتظر ہیں؟
حوالہ جات:
۱۔ ”میں نے ایک سعودی دوست سے سنا کہ اُس کے ملک کی مذہبی پولیس نے ایک عورت کو دیلنٹائن کے دن کے موقع پر سرخ لباس پہننے پر گرفتار کر لیا تھا۔“ حوالہ: میرے دوست اور’ریفارم اورینٹیڈ سعودی انسٹی ٹیوٹ ‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی الاحمد ۔ اُن کے تاثرات مجھ تک ڈاکٹر امل القہتانی کی چار جون ۲۰۰۲ءکو امریکی کانگریس کو دی جانے والی بریفنگ کی تفصیلات کے ذریعے پہنچے، اِس موقع پر انہوں نے سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کی بے ضابطگیوں کو بھی کھل کر بیان کرتے ہوئے کہا تھا، ”جنہوں نے ویلنٹائن ڈے منایاتھا، اُن کو گرفتار کر لیا گیا تھا، دکانداروں کو سرخ گلاب بیچنے سے منع کر دیا گیا تھا، اُن خواتین کو مذہبی پولیس متاویٰ نے ہراس کیا جنہوں نے سرخ لباس پہنے ہوئے تھے اور بعض کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اُن طالبات کو اسکول سے نکال دیا گیا جو ویلنٹائن ڈے پر لگنے والی پابندی کو توڑنے کی مرتکب ٹھہریں۔ دوسرے لفظوں میں سعودی عرب میں محبت کو گناہ قرار دے دیا گیا تھا۔“
۲۔ ”ہم کیسے اتنے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم جنس پرست معاشرہ بدر یا موت کے سزاوار ہیں؟ جبکہ قرآن کا کہنا ہے کہ خدا نے جو جو چیز بنائی ہے ، شاندار بنائی ہے؟“ حوالہ : قرآن ، ۲۳: ۶۔۷۔ پہلی سورہ میں اِس ضمن میں اِس سے بھی زیادہ کہا گیا ہے۔
۳۔ ”فرانس میں، مسلمان ایک ایسے مصنف کو عدالت میں لے گئے جس نے اسلام کو ”سب سے زیادہ احمقانہ دین“ قرار دیا ہے۔“ حوالہ: مائیکل ہولی بیک، لائر، ستمبر ۱۰۰۲ء، صفحہ ۴ آن لائن ٹرانسکرپٹ۔ اِسے www.lire.fr سے ڈاﺅن لوڈ کیا گیا تھا۔
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




