Urdu Edition
پیش لفظ
ڈاکٹر خلیل محمد
سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی
آئیے ایک صاف حقیقت کا سامنا کریں: مجھے ارشاد مانجی سے نفرت کرنی چاہئے۔ اگر مسلمان اُس کی سنتے ہیں تو وہ مجھ جیسے لوگوں کو سننا بند کر دیں گے، ایک امام جس نے روایتی اسلامی یونیورسٹی میں سالہا پڑھایا ہو۔
وہ مرد ذات کے اختیار کو للکارتی ہے اور اسلام کے بارے وہ کچھ کہتی ہے ، جو میری خواہش ہے کہ سچ نہ ہو۔ وہ منہ پھٹ ہے اوراسلام کے موقف کو تہہ در تہہ بیان کرتی ہے۔ اُس کو موت کا کوئی خوف نہیں، سوائے ا ُس موت کے جو کسی کے ذہن کو بند کرنے سے آتی ہے۔ وہ ہم جنس ہے اور میرے مدرسے نے یہ بات رفتہ رفتہ میرے ڈی این اے میں بٹھائی ہے کہ اللہ ہم جنس پرست مرد اور عورت سے نفرت کرتا ہے۔ مجھے یقیناً اِس عورت سے نفرت کرنا چاہئے۔
مگر جب میں اپنے اندر جھانکتا ہوں اور غور کرتا ہوں تو میں ایک پریشان کُن نتیجہ پر پہنچتا ہوں: ارشاد سچ بول رہی ہے اور میرا خدا مجھے سچ کی تائید کرنے کا حکم دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ مجھے اُس کا ساتھ دینا ہے۔
اگرچہ یہ اِس کی وجہ نہیں ہے کہ میں اِس کتاب کا پیش لفظ لکھ رہا ہوں۔ میں ایسا اس لئے کر رہا ہوں کہ اپنی منافقت کا مظاہرہ کرتے چلے آنے کی تلافی کر سکوں۔ میں نے انتہا پسند ی کے اسلام اور دہشت گردی کی مخالفت کرتے رہنے پر اکثر اپنی بہادری کو سراہا ہے۔ میں اِس ضمن میں اپنی ستائش کو کم اہمیت کا نہیں ٹھہراﺅنگا کیونکہ میں جو کرتا ہوں اُس کےلئے جرات کی ایک خاص مقدار چاہئے۔ البتہ ارشاد کی مدافعت کےلئے، جب اُس کی ضرورت ہو، مردانہ ہارمون کی عظیم قربانی میں کمی نہیں ہونی چاہئے۔
حال ہی میں مجھے یہ موقع ملا لیکن میں اِس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہو گیا۔ میں ابھی ایک کانفرنس سے گھر لوٹا ہوں جہاں میں نے مسلمانوں سے یہ اپیل کر کے تموج پیدا کیا کہ مسلمان صیہونیت مخالفت سے ماورا ہو کر آگے بڑھیں۔ چند مسلمانوں نے یہ راست قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، وہ مجھے ملے کہ جان سکیں کہ میں نے ٹھیک سے کیا کہا ہے۔ گفتگو کے دوران کسی نے ارشاد کا تذکرہ کیا۔ اُس گروہ نے اُس کا بطور مصیبت کھڑی کرنے والی ہم جنس پرست لڑکی کا مذاق اُڑایا۔ اور وہاں پر میں ایک حلال مرغی کی طرح بیٹھ گیا، خاموش اور ساکن، ابھی ایک اور مسئلہ نہ سہڑنے کی خاطر۔ میں ، ”عورتوں کا ”حمایتی اور محافظ“ مردساتویں صدی کے الوہی فرمان، جو مجھے مدرسہ کے اساتذہ نے سالوں سے بتایا ہوا ہے، سے یوں دب گیا کہ ایک لفظ بول نہ سکا۔
یہ وہ گھڑی تھی جب میں نے سوچا کہ اِس تمام لغویات کو اَب ختم ہونا چاہئے۔ کیا میں مسلمان ہوں یا نہیں؟ کیا میں سچ کی پرواہ کرتا ہوں یا نہیں۔ اِسی لئے میں اَب اعلان کرتا ہوں، فقط اُن مسلمانوں کےلئے نہیں جن سے میں ملا تھابلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئے یہ اعلان ہے : میں ارشاد مانجی کی حمایت کرتا ہوں۔ وہ ہم سے وہ کچھ کروانا چاہتی ہے جو تمام مقدس کتابیں ہم سے کرواناچاہتی ہیں: قبائلی رویوں کا خاتمہ کر دو، اپنی آنکھیں کھولو اور استحصال کے خلاف اُٹھ کھڑے ہو جاﺅ چاہے یہ استحصال قصیدے پڑھ کر حقیقت کا رنگ دینے والے اماموں، شیوخ، ملاﺅں، پروفیسروں یا اسلام میں اپنا کوئی بھی مقام اور نام تعین کر لینے والے کا کیوں نہ ہو۔
شاید ہی کبھی کسی مسلمان نے سرعام وہ کہا ہو جو ہم میں سے اکثر جانتے ہیں مگر کہنے کی ہمت نہیں۔ ارشاد اُن کچوکوں کو واپس نہیں لیتی جب وہ یہودیوں کی مخالفت کرنے والوں کو ننگا کرتی ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اُن کو جو اسلام کی خرابیوں کو مغرب کی نو آبادیت کے سر تھوپتے ہیں، جبکہ وہ اسلام کی اپنی استعماریت کی تاریخ کو بھول جاتے ہیں اور اللہ کے نام پر مسلسل ہونے والی انسانی زیادتیوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اپنی پوری کتاب کے دوران، ارشاد اِس خداوندی حکم کی تابعدار رہتی ہے : ”اے ایمان والو، انصاف کو قائم رکھو، خدا کو حاظر ناظر جان کر گواہی دو، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، یا تمہارے والدین اور اولاد کے خلاف ہی ہو۔۔۔“ (القرآن، ۴:۵۳۱)
خدا کی اطاعت کرتے ہوئے ارشاد ملاﺅں کو بھی مات دے دیتی ہے۔ اجتہاد، اسلام میں آزاد فکری کی روایت، کی سب سے زیادہ زحمت طلب شرطِ اول یہ ہے کہ اجتہاد پر یقین رکھنے والا اسلام کے تمام نئے مفکروں کے بارے آگاہ ہو۔ اِس لحاظ سے ارشاد بہت سارے علماءسے کہیں آگے ہے۔ درحقیقت اُس کی کتاب جدید مسلمان مفکرین کے خیالات کی بنیاد رکھنے کا فریضہ سرانجام دے سکتی ہے۔ یہ زاویہ اپنی ذات کے اسیرعلماءکی انا کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے کیونکہ اُس نے سختی کے ساتھ ہماری اور ہمارے مذہبی اداروں کی حمایت میں لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ ارشاد کا کام اُن نصابی تھیوریوں کے مطالعہ کے زمرے میں نہیں آتاجو ناقابلِ فہم ناپید جناتی زبان کے ستونوں سے ٹیک لگائے ہوئے ہوتی ہیں۔ اور نہ یہ کتاب اسلام کےلئے کوئی رومانوی غنائیہ گیت پیش کرتی ہے جس کے معنی صرف ماننے والوں کےلئے ہوں۔ اِس کی بجائے ارشاد کی دیانتداری، انداز اور واضح پن کتاب کو بذاتِ خود ایک اعلیٰ درجے تک لے آتا ہے۔
آپ کا بطور قاری اِرشاد کے تمام تجزیوں سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ میں بھی نہیں ہوں۔ بلکہ یہی ارشاد کا مقصد بھی ہے۔ مختلف رائے کی توقع کرنے سے ہی آزاد فکری پروان چڑھے گی اور یہی بات ارشاد دوبارہ اسلام میں متعارف کروانا چاہتی ہے۔
یہاں پر میں کہوں گا۔ ارشاد مانجی کےلئے اپنی حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے میں خود کو آزاد محسوس کرتا ہوں۔
میں تقریباً بات برائے بات کہتا ہوں۔ ارشاد! تم نے ایک ایسی کتاب ، جو مجھے لکھنی چاہئے تھی، لکھ کر میرا مردانہ پن چھیننے کی جرات کیسے کی؟
تعارف دیباچہ نگار:
ڈاکٹر خلیل محمد سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی میں مذہب کے اُستاد ہیںاور یونیورسٹی کے ’سنٹر فار اسلامک اینڈ عریبک اسٹڈیز‘ کے بنیادی فیکلٹی رکن ہیں۔ وہ امام کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں اور اُن چند اسلامی دانشوروں میں سے ایک ہیں جو اسلام کے سنی اور شیعہ فرقوں میں قابلِ قبول ہیں۔
ڈاکٹر خلیل محمد، گوانا، جنوبی امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میکسیکو، کینیڈا، سعودی عرب، موریطانیہ، شام اور یمن کے روایتی اسلامی اداروں اور مغربی یونیورسٹیوں سے تعلیم پائی۔ میکسیکو سے مذہب اور نفسیات میں گریجویشن کرنے کے بعد انہیں سعودی عرب سے وظیفہ ملا اور انہوں نے ریاد کی محمد بن سعود یونیورسٹی کے کلیات الشریعہ میں داخلہ لے لیا۔ شمالی امریکہ میں واپسی پر مذہب ( کنکورڈیا یونیورسٹی میںخاص طور پر اسلام اور یہودیت) کی ماسٹر ڈگری لینے کے دوران انہیں بے شمار فیلو شپ اور ایوارڈ ملے۔ بعد میں انہوں نے’ میگ گل‘ سے اسلامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ وہ برانڈیس یونیورسٹی کے اسلامی علوم میں پہلے ’کرافٹ حیت“ کے بعد از ڈاکٹریٹ فیلو ہیں۔
مساجد، جامعہ الیہود اور گرجا گھروں میں خطابات کے علاوہ، ڈاکٹر خلیل محمد شمالی امریکہ اور عرب دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے ہیں۔ وہ اسلامی قانون کے ماہر ہیں اور اُن کے بارے مزید تفصیلات www.forpeoplewhothink.orgپر مل سکتی ہیں۔
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




