photo

Book

book cover

The Trouble With Islam Today: A Muslim's Call for Reform in Her Faith. Published in more than 30 countries and languages.

Learn More

Buy the US paperback
Amazon | Barnes & Noble

Audio Book

Audio Book

The Trouble With Islam Today, narrated in English by Irshad Manji, with music by Deeyah and Gary Justice.

Buy Now

Free Translations

For where the book is banned, censored, or difficult to access:

button
button
button_lang button button

Reformist Quran

2.jpeg

A progressive, 21st-century translation -- in English. The U.S. publisher bailed on it after the Prophet Muhammad cartoon riots. But fear didn't stop the translators.

Read and interpret for yourself.

Urdu Edition

ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں


 

میں نے اس کتاب کا اس انداز کے ساتھ ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے جس طرح ایک مشکل ، حساس اور اہم کتاب کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ارشاد نے اِس کتاب میں جہاں دانشورانہ اور فلسفیانہ استدلال وزبان کا اظہار کیا ہے وہاں کہیں کہیں شمالی امریکہ کی روزمرہ بے تکلفانہ زبان و لہجے سے بھی کام لیا ہے، کسی بھی مترجم کو زیادہ دقت کا سامنا روزمرہ کے محاورہ کے ضمن میں ہی کرنا پڑتا ہے۔ ترجمہ کے معاملہ میں کسی لفظ، جملے یا پیرا کو ایک سے زیادہ معنی یا انداز میں پیش کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، اُسی گنجائش کی بناءپر کسی ناقد یا قاری کو مترجم سے مختلف انداز بھی سوجھ سکتا ہے، جس میں کوئی حرج یا مضائقہ والی بات نہیں ۔اُردو زبان میں انگریزی کے متعدد لفظوں اور محاوروں کا استعمال اَب خود ترجمے سے زیادہ قابلِ فہم بن چکا ہے، اِکا دُکا مقامات پر بات کی روانی اور اثرپذیری کو قائم رکھنے کےلئے لفظ کے لفظی ترجمے اور معنی سے گریز کیا ہے۔مصنفہ نے اپنی کتاب کے ہر باب کے حوالہ جات اپنی ویب سائٹ www.irshadmanji.com پر شامل کئے ہوئے ہیں۔

 

مصنفہ، ارشاد مانجی، تب چار برس کی تھیں جب اُن کا خاندان ۲۷۹۱ءمیں یوگنڈا سے ہجرت کر کے کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ایک متوسط طبقے کے مضافاتی علاقے رچمنڈ میں پہنچا تھا ، اُس وقت فوجی آمر جنرل عیدی امین دیدا نے افریقہ صرف کالوں کے لئے قرار دے دیا تھا۔ ارشاد کے آباﺅاجداد کا ہندوستان سے تعلق ہے۔ ارشاد نے برٹش کولمبیا کی یونیورسٹی سے تاریخ میں بی اے ہونرز کی ڈگری حاصل کی۔وہ کینیڈاکے صحافتی و دانشورانہ حلقوں میں بیحد فعال اور مقبول ہیں۔ ارشاد ٹی وی اونٹاریو کے پروگرام ”بِگ آئیڈیاز“ کی میزبان ہیں۔ ارشاد ”کیویر ٹیلی ویژن“ کی میزبان بھی رہ چکی ہیں۔ روزنامہ ”آٹوا سٹیزن“ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں، اِس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بیسیوں لیکچر دے چکی ہیں اور اِسی ضمن میں ہمہ وقت مصروفِ کار ہیں۔ ٰؒ

 

ان کی اِس کتاب کے فرانسیسی، اطالوی، برازیلین، ہسپانوی، فِنش، جرمن، ڈچ، عربی اور اُردو زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں، اِس وقت اِ س کتاب کا شمار شمالی امریکہ اور یورپ میں بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والی کتب میں ہوتا ہے۔ ارشاد کی اِس کتاب سے قبل۷۹۹۱ءمیں پہلی کتاب Risking Utopia: On the Edge of a New Democracy کے ٹائیٹل کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ ارشاد نے اپنی کتاب”آج اسلام کے مسائل“ میں دیانتداری کا پیغام دیتے ہوئے آج کے اسلام کو درپیش مسائل کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کیا ہے اور اِن کے حل کےلئے اجتہادی فکر اور اجتہادی آپریشن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ارشاد کے مخالف کٹر اسلامی انتہا پسند اِس کتاب کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں لیکن اگر اِس کتاب کو مکمل پڑھا جائے تو ایسا تاثر ہرگز نہیں ملتا بلکہ یہ کتاب آج کی جدید دنیا میں اسلام کے اجتہادی امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔ لہذاٰ اِس کتاب کو، اسلام کےلئے تنقید کا پہلو نکالنے والے یا اسلام کی تشکیلِ نو کرنے والے، دونوں نظر انداز نہیں کر سکتے۔

 

طاہر اسلم گورا