Urdu Edition
ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
میں نے اس کتاب کا اس انداز کے ساتھ ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے جس طرح ایک مشکل ، حساس اور اہم کتاب کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ارشاد نے اِس کتاب میں جہاں دانشورانہ اور فلسفیانہ استدلال وزبان کا اظہار کیا ہے وہاں کہیں کہیں شمالی امریکہ کی روزمرہ بے تکلفانہ زبان و لہجے سے بھی کام لیا ہے، کسی بھی مترجم کو زیادہ دقت کا سامنا روزمرہ کے محاورہ کے ضمن میں ہی کرنا پڑتا ہے۔ ترجمہ کے معاملہ میں کسی لفظ، جملے یا پیرا کو ایک سے زیادہ معنی یا انداز میں پیش کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، اُسی گنجائش کی بناءپر کسی ناقد یا قاری کو مترجم سے مختلف انداز بھی سوجھ سکتا ہے، جس میں کوئی حرج یا مضائقہ والی بات نہیں ۔اُردو زبان میں انگریزی کے متعدد لفظوں اور محاوروں کا استعمال اَب خود ترجمے سے زیادہ قابلِ فہم بن چکا ہے، اِکا دُکا مقامات پر بات کی روانی اور اثرپذیری کو قائم رکھنے کےلئے لفظ کے لفظی ترجمے اور معنی سے گریز کیا ہے۔مصنفہ نے اپنی کتاب کے ہر باب کے حوالہ جات اپنی ویب سائٹ www.irshadmanji.com پر شامل کئے ہوئے ہیں۔
مصنفہ، ارشاد مانجی، تب چار برس کی تھیں جب اُن کا خاندان ۲۷۹۱ءمیں یوگنڈا سے ہجرت کر کے کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ایک متوسط طبقے کے مضافاتی علاقے رچمنڈ میں پہنچا تھا ، اُس وقت فوجی آمر جنرل عیدی امین دیدا نے افریقہ صرف کالوں کے لئے قرار دے دیا تھا۔ ارشاد کے آباﺅاجداد کا ہندوستان سے تعلق ہے۔ ارشاد نے برٹش کولمبیا کی یونیورسٹی سے تاریخ میں بی اے ہونرز کی ڈگری حاصل کی۔وہ کینیڈاکے صحافتی و دانشورانہ حلقوں میں بیحد فعال اور مقبول ہیں۔ ارشاد ٹی وی اونٹاریو کے پروگرام ”بِگ آئیڈیاز“ کی میزبان ہیں۔ ارشاد ”کیویر ٹیلی ویژن“ کی میزبان بھی رہ چکی ہیں۔ روزنامہ ”آٹوا سٹیزن“ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں، اِس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بیسیوں لیکچر دے چکی ہیں اور اِسی ضمن میں ہمہ وقت مصروفِ کار ہیں۔ ٰؒ
ان کی اِس کتاب کے فرانسیسی، اطالوی، برازیلین، ہسپانوی، فِنش، جرمن، ڈچ، عربی اور اُردو زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں، اِس وقت اِ س کتاب کا شمار شمالی امریکہ اور یورپ میں بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والی کتب میں ہوتا ہے۔ ارشاد کی اِس کتاب سے قبل۷۹۹۱ءمیں پہلی کتاب Risking Utopia: On the Edge of a New Democracy کے ٹائیٹل کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ ارشاد نے اپنی کتاب”آج اسلام کے مسائل“ میں دیانتداری کا پیغام دیتے ہوئے آج کے اسلام کو درپیش مسائل کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کیا ہے اور اِن کے حل کےلئے اجتہادی فکر اور اجتہادی آپریشن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ارشاد کے مخالف کٹر اسلامی انتہا پسند اِس کتاب کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں لیکن اگر اِس کتاب کو مکمل پڑھا جائے تو ایسا تاثر ہرگز نہیں ملتا بلکہ یہ کتاب آج کی جدید دنیا میں اسلام کے اجتہادی امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔ لہذاٰ اِس کتاب کو، اسلام کےلئے تنقید کا پہلو نکالنے والے یا اسلام کی تشکیلِ نو کرنے والے، دونوں نظر انداز نہیں کر سکتے۔
طاہر اسلم گورا
- ترجمہ، مصنفہ اور کتاب کے بارے چند سطریں
- پیش لفظ
- ایک خط
- میں کیسے’ دھتکاری مسلمان‘ بنی؟
- ستر باکرہ حوریں
- ہم نے کب غوروفکر کرنا چھوڑ دیا؟
- دروازے اور کمر پیٹیاں
- کون کس کو گمراہ کر رہا ہے؟
- اسلام کا نچلا پوشیدہ حصہ
- اجتہاد کا عمل
- دیانتداری کی ستائش میں
- مغرب کےلئے خدا تیرا شکر
- حوالہ جات و قابلِ مطالعہ
- تشکرات
Documentary

Irshad's PBS Documentary: Faith Without Fear follows my journey around the world to reconcile Islam and freedom.
Learn More and View Clips...
Buy Now in the USA
Buy Now in Canada
Get Involved

Irshad is pioneering efforts throughout the world to promote Muslim reform and moral courage. To join her mission, first get informed about all that she's doing.
Click here for concrete actions you can take to support Irshad's work.
Get Updates
Want to sign up for Irshad's confidential mailing list?
Click here to go to the subscribe page.
![]()
Click here to see photos of Irshad's latest
events and read her newsletters.
Around the Web
Join conversations about Muslim reform and moral courage around the web.
Click the links below to get involved:




